اے خاک نشینو! اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار
ایک کہاوت ہے، پیاز بھی کھائی اور جوتے بھی کھائے۔ زیادہ تر لوگ اس کہاوت کو جانتے ہیں، لیکن بہت کم لوگوں کو ہی پتہ ہے کہ اس کے پیچھے کی کہانی کیا ہے۔ایک مرتبہ کسی مجرم کو  بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا ۔ بادشاہ نے سزا سنائی کہ غلطی کرنے والا یا تو سو پیاز کھائے یا سو جوتے۔ سزا منتخب کرنے کا موقع اس نے غلطی کرنے والے کو دیا۔ غلطی کرنے والے شخص نے سوچا کہ پیاز کھانا زیادہ آسان ہے، اس لئے اس نے سو پیاز کھانے کی سزا چنی۔اس نے جیسے ہی دس پیاز کھائے، ویسے ہی اسے لگا کہ جوتے کھانا آسان ہے تو اس نے کہا کہ اسے جوتے مارے جائیں۔ دس جوتے کھاتے ہی اسے لگا کہ پیاز کھانا آسان ہے،اس نے پھر پیاز کھانے کی سزا چنی۔ دس پیاز کھانے کے بعد اس نے پھر کہا کہ اسے جوتے مارے جائیں۔ فیصلہ نہ کر پانے کی وجہ سے اس نے سو پیاز بھی کھائے اور سو جوتے بھی۔ یہیں سے یہ کہاوت مشہور ہوئی۔ آج کانگریس پارٹی کے لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انا کے معاملے میں اس نے سو جوتے بھی کھائے اور سو پیاز بی۔
انا ہزارے کی تحریک آزاد ہندوستان کی سب سے بڑی تحریک  بن گئی ہے۔ انا کو ملک کے کونے کونے سے عوام کی حمایت مل رہی ہے۔ آج سرکار کے ساتھ ساتھ ملک کی سبھی سیاسی پارٹیوں کے سامنے یہ تحریک سب سے بڑا چیلنج  ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہر سیاسی پارٹی انا کی تحریک کو سمجھنے میں بھول کر رہی ہے۔ یہ تحریک صرف  جن لوک پال کی تحریک نہیں ہے۔ یہ تحریک پچھلے 20 سالوں سے چل رہی لبرلائزڈ معیشت کے خلاف ہے۔ یہ 20  سالوں کے سرکاری منصوبوں  اور پالیسیوں کے خلاف عوام کا فیصلہ ہے۔ سرکار ترقی کے اعداد و شمار دکھا کر بھرم پھیلانے کو گڈ گورننس کہنا پسند کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شہر رہنے کے لائق نہیں رہے۔ کچھ میٹرو شہروں کو چھوڑ کر ملک میں کہیں پربھی   24گھنٹے بجلی نہیں ہے۔ دہلی جیسے شہر میں صاف پانی نہیں ہے۔ چھوٹے شہروں میں بہتر طبی سہولیات نہیں ہیں۔ نوجوانوں کا مستقبل تاریکی میں ہے۔ عام آدمی کی زندگی دو زخ ہو گئی ہے۔ کسی بھی اسپتال میں جایئے، وہاں ڈاکٹر گِدھوں کی طرح مریضوں سے پیسے لوٹتے مل جائیں گے۔ سرکاری دفتروں میں بغیر رشوت کے کوئی کام نہیں ہوتا ہے۔ حکومت نے پورے ملک کو ایک ایسے بھنور میں ڈال دیا ہے، جہاں زندہ رہنا ہی ایک ابھیشاپ بن گیا ہے۔ لوگ پورے نظام سے تنگ آ چکے ہیں۔ لوگوں میں ناراضگی ہے کہ حکومت ان کی پریشانی اور دکھ درد کو ختم کرنا تو دور، اسے سمجھنے کی بھی کوشش نہیں کر رہی ہے۔ یہی انا کی تحریک کی حمایت کی بنیاد ہے۔ اس تحریک میں شہری متوسط طبقہ بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔ اس لئے کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ اناّ کی تحریک انٹرنیٹ کے ذریعہ پھیلی ہوئی تحریک ہے۔ ملک چلانے والوں، تمام سیاسی جماعتوں اور صنعت کاروں کو ہوشیار ہو جانا چاہئے، کیونکہ اگر اس تحریک میں دہی اور قبائلی عوام شامل ہو گئے تو یہ مان لیجئے کہ اس ملک کی جمہوریت خطرے میں آ جائے گی۔ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ تحریک صرف جن لوک پال کے لئے تو یہ ان کی ایک بڑی بھول ہوگی۔ جن لوک پال اس تحریک کا صرف فوری سبب  ہے اور وہ بھی اس لئے، کیونکہ کانگریس پارٹی کے لیڈروں اور وزیروں نے لوک پال کے معاملہ میں سیاسی فیصلے نہ کر کے انتظامی فیصلے لینے کا جرم کیا ہے۔
کانگریس پارٹی کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ لوک پال قانون بنانے کے معاملہ میں اس نے ٹیم انا کے ساتھ دھوکہ کیا، ملک کے عوام کے سامنے جھوٹ بولا۔ جب جنتر منتر پر اناّ کی تحریک شروع ہوئی اور ایک جوائنٹ کمیٹی بنائی گئی تو حکومت نے یہ وعدہ کیا کہ دونوں فریق مل کر لوک پال بل کا مسودہ تیار کریں گے۔ دونوں فریقوں کے درمیان کئی بار بات چیت ہوئی، لیکن جب حکومت نے لوک پال بل تیار کیا تو اس نے ٹیم انا کے مشوروں کو درکنار کر دیا۔ اس کا حل نکل سکتا تھا، اگر وزیراعظم نے اس میں ثالثی کی ہوتی ۔ سول سوسائٹی کے مشوروں کو لوک پال میں شامل کر کے پارلیمنٹ میں ان پر الگ ووٹنگ کرائی جا سکتی تھی۔ اگر ایسا ہوتا تو انا بھوک ہڑتال پر نہیں جاتے، لیکن حکومت نے سخت رخ اپنایا۔ حکومت کی طرف سے انا کی ٹیم کو واضح الفاظ میں کہہ دیا گیا کہ آپ جو بھی مشورے دینا ہیں، اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے دے سکتے ہیں۔ اقتدار کا نشہ کہئے کہ قانون کے جانکار ہونے کا غرور، کپل سبل نے جب بھی اپنی زبان کھولی وہ ایک تانا شاہ نظر آئے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ، پرنب مکھر جی، کپل سبل، چدمبرم اور منیش تیواری بولتے چلے گئے، انا ہزارے کی عوامی حمایت بڑھتی چلی گئی۔ سپریم کورٹ کا وکیل ہونے اور عوام کا نمائندہ ہونے میں ایک فرق ہوتا ہے۔ جمہوریت میں سیاسی سوالوں کا جواب آئین اور سی آر پی سی کی دفعات سے نہیں دیا جاتا ہے۔ اس سے ٹی وی چینلوں پر ہونے والے بحث کو تو جیتا جا سکتا ہے، لیکن یہ عوام کے دلوں پر راج کرنے کا راستہ بالکل نہیں بن سکتا۔ موجودہ حکومت میں وکیل سے وزیر بنے لوگوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ کانگریس کے ترجمان اور وزیر بحث کرتے گئے اور لوگوں کی ناراضگی بڑھتی چلی گئی۔ٹیم انا ّ کے پاس بھوک ہڑتال کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔ ویسے بھی انا پہلے ہی یہ کہہ چکے تھے کہ اگر حکومت نے جن لوک پال بل کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا تو وہ بھوک ہڑتال کریں گے۔ یہاں حکومت سے ایک اور چوک ہو ئی۔ حکومت نے لوک پال کا پورا کریڈٹ خود لینے کے چکر میں اپوزیشن کو اس معاملہ سے دور ہی رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس ایشو پر کوئی ایک رائے نہیں بن سکی۔ جب اناّ نے بھوک ہڑتال کا اعلان کیا، تب لوک پال کے ایشو پر کانگریس پارٹی کی میٹنگ ہوئی۔ کئی بڑے لیڈراس میں شامل تھے۔ اس میٹنگ میں وزیر دفاع اے کے انٹونی، وزیر اطلاعات و نشریات امبیکا سونی اور وزیر برائے دیہی ترقیات جے رام رمیش نے عوام کے جذبات کو اہمیت دینے کی بات کہی تھی، لیکن وزیر مالیات پرنب مکھر جی ، وزیر داخلہ چدمبرم نے اسے نکار دیا۔ کپل سبل نے قانونی موقف رکھا تھا۔ اس میٹنگ میں شامل ہوئے پارٹی کے لیڈر عوام کے موڈکو سمجھ نہیں سکے۔ حکومت نے اناّ کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ کسی بھی نظریہ سے اسے سیاسی فیصلہ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ کیونکہ رائے عامہ انا کے ساتھ تھی۔ کانگریس نے خود اپنے پیر پر کلہاڑی مار لی۔
کانگریس پارٹی کے ایک ترجمان ہیں منیش تیواری۔ پہلے ان کے اس بیان کو دیکھئے۔ کانگریس کی ایک اسپیشل پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ ہم کشن بابا رائو عرف انا ہزارے سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ تم کس منھ سے بدعنوانی کے خلاف بھوک ہڑتال کی بات کرتے ہو۔ اوپر سے نیچے تک تم بدعنوانی میں خود ملوث ہو۔ اس کے علاوہ منیش تیواری نے انا کو ایک دماغی مریض بتایا۔ منیش تیواری کے اسی بیان نے انہیں ویلن بنا دیا۔ ملک کے عوام کے ساتھ ساتھ کانگریس پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ منیش تیواری سے ناراض ہیں۔منیش تیواری عوام کی نظروں سے تو گرے ہی، اب پارٹی بھی ان کا ساتھ نہیں دے رہی ہے۔ انہیں میڈیا سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ وہ مایوس ہیں، کیونکہ پارٹی کے سینئر لیڈران نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انا ہزارے پر حملہ کرنے کا فیصلہ منیش تیواری نے نہیں،بلکہ لیڈران نے لیا تھا۔ انا نے جب جے پرکاش پارک میں دفعہ 144نافذ ہونے کے باوجود بھوک ہڑتال کرنے کا اپنا فیصلہ سنایا تو صحافیوں نے کانگریس کے ترجمان سے اس پر ردعمل مانگا۔ پارٹی کی جانب سے جواب یہ ملا کہ تمام سوالوں کا جواب اتوار کو اسپیشل کانفرنس میں دیا جائے گا۔ عام طور پر کانگریس پارٹی اتوار کو پریس کانفرنس نہیں کرتی ہے۔ منیش تیواری نے انا کو ایک ہی سانس میں فاشسٹ ، مائونواز اور انار کی پسند قرار دیا۔ منیش تیواری نے جس لہجہ میں انا پر حملہ بولا ، جیسی ان کی باڈی لینگویج تھی، اس سے کانگریس پارٹی کی شبیہ اقتدار کے نشہ میں چور ایک مغرور پارٹی کی بن گئی۔ 14اگست یعنی اتوار کی اسپیشل پریس کانفرنس کانگریس پارٹی کے گلے کی پھانس بن گئی۔
اس غلطی کے باوجود کانگریس سنبھل سکتی تھی، لیکن وہ اپنے غلط فیصلہ کو صحیح ثابت کرنے کے چکر میں ایک کے بعد ایک غلطیاں کرتی چلی گئی۔ پہلے اناپر بدعنوانی کا الزام لگایا گیا۔ کانگریس کو لگا کہ جس طرح اس نے بابا رام دیو پر الزام لگا کر ان کی تحریک …..
کی ہوا نکال دی تھی، وہی حال انا کا ہوگا، لیکن یہ حکمت عملی ناکام ہو گئی۔ کانگریس پارٹی یہ نہیں سمجھ سکی کہ انا بابا رام دیو نہیں ہیں۔ بابا رام دیو کی طرح ان کے پاس ہزاروں کروڑوں کا سامراج نہیں ہے۔ انا واقعی میں فقیر ہیں، ایک سنت ہیں۔ اس پریس کانفرنس کے بعد کانگریس کو سنبھلنے کا دوسرا موقع 15اگست کو ملا، جب وزیراعظم منموہن سنگھ نے لال قلعہ سے ملک کو خطاب کیاپورے ملک کی نظریں منموہن سنگھ پر ٹکی ہوئی تھیں کہ وہ اپنے بھاشن میں انا کو کیا کہنے والے ہیں۔ بدعنوانی اور مہنگائی پر وزیراعظم سے جو امید تھی وہ اس کے برعکس بولے سرکار نے سنبھلنے کے بجائے اور غلطی کردی۔ منموہن سنگھ نے لال قلعے سے انا پر حملہ کردیا۔ انھوں نے کہا کہ ان کے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ وہ ایک جھٹکے میں بدعنوانی اور مہنگائی کو ختم کر دیں گے۔ ایسے بیان دے کر حکومت عوام میں غلط پیغام دیتی ہے ۔ وزیراعظم کے پاس اگر جادو کی چھڑی نہیں ہے تو کیا آنکھیں بھی نہیں ہیں؟ ان کی کیبنٹ کا ایک ساتھی ایک لاکھ 76ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ کر دیتا ہے اور انہیں اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔ جبکہ اب پتہ چل رہا ہے کہ اس گھوٹالہ کے دوران اے راجا کی طرف سے ہر فیصلہ کے بارے میں وزیراعظم کے دفتر کو خط لکھ کر بتایا جا رہا تھا۔ کیا وزیراعظم یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ انہیں معلوم نہیں ہے۔ اگر وزیراعظم کو یہ معلوم نہ ہو کہ کس وزارت میں کیا چل رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ دہلی میں سرکاری مشینری کوبرباد ہو چکی ہے۔کیا ہر وزارت کے جوائنٹ سکریٹری کا وزیراعظم کے دفتر سے رشتہ ختم ہو گیا ہے؟ منموہن سنگھ کو ملک کے عوام کو یہ بتانا چاہئے کہ آخر وزیراعظم کے دفتر کا کام کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے عوام نے منموہن سنگھ کی تقریر کو درکنار کر دیا۔لوگوں کی ناراضگی بڑھ گئی۔ انا نے عوام کے موڈ کو سمجھا اور انھوں نے پلا ماسٹر اسٹروک 15اگست کی شام کو کھیلا، جب وہ اچانک راج گھاٹ پہنچ گئے۔ پورا ملک انا کو دیکھ رہا تھا۔ چھٹی کا دن تھا، لوگ ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہے۔ تھوڑی ہی دیر میں وہاں بھیڑ جمع ہونے لگی۔ انا کو کچھ کہنے کی بھی ضرورت نہیں پڑی۔ بس اٹھنے سے پہلے ان کی آنکھوں سے کچھ آنسو گرے اور پورے ملک میں اناّ کی لہر دوڑ گئی۔
15اگست کی رات پر امن طریقہ سے گزر گئی۔ 16اگست کی صبح انا ہزارے کی راجدھانی دہلی کے میور وہار میں حراست میں لے لیا گیا۔ یہاں دفعہ 144نافذ نہیں ہوئی تھی۔ پولس نے انا اور ان کے ساتھیوں سے یہ کہا کہ آپ کو سینئر پولس افسران کے پاس جانا ہے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو ان سے موبائل فون اور باقی سامان نکال کر باہر رکھنے کو کہا گیا اور پھر انہیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ پولس نے گرفتاری کی وجہ یہ بتائی کہ انا اور ان کے ساتھیوں سے دہلی میں قانونی نظم بگڑنے کا خطرہ ہے۔ حکومت نے انا کی گرفتاری کو دہلی پولس کی کارروائی بتا کر اپنی گردن بچانے کی بھرپور کوشش کی، لیکن حکومت کی اس دلیل پر کسی نے یقین نہیں کیا۔ لوگوں کو لگا کہ انا کے ساتھ انصاف نہیںہوا ہے۔ملک بھر میں لوگ سڑکوں پر آنے لگے۔ کئی کمپنیوں نے اپنے دفتر بند کر دئے۔ ایک کے بعد ایک کئی تنظیمیں اس تحریک سے جڑتی چلی گئیں۔بڑی تعداد میں بچے بوڑھے، طلبا، نوجوان اور خواتین راجدھانی دہلی کی سڑکوں پر نکل پڑے۔
یہاں انا نے ایک ماسٹر اسٹروک کھیلا۔انھوں نے انتظامی کارروائی کا جواب ایک سیاسی چال سے دیا اور جیل کے اندر ہی بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ ایک طرف پارلیمنٹ میں حکومت کو اپوزیشن کی مار پڑ رہی تھی، دوسری طرف ملک کے عوام سڑک پر کھڑے تھے۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن وزیراعظم کا بیان چاہ رہی تھی، لیکن حکومت نے اس کے مطالبہ کو ٹھکرا دیا۔ چاروں طرف سے گھرنے کے باوجود حکومت کا رویہ نرم نہیں ہوا۔ پارلیمنٹ نہیںچلی، لیکن اگلے دن تک حکومت پر اتنا دبائو پڑا گیا کہ کانگریس کے کور گروپ نے یہ فیصلہ لیا کہ وزیراعظم بیان دیں گے، لیکن وزیراعظم سے ایک بڑی بھول ہو گئی۔ پارلیمنٹ میں انھوں نے یہ کہہ دیا کہ انا نے جو راستہ چنا ہے ، وہ جمہوریت کے لئے نقصان دہ ہے۔ وزیراعظم کے بیان نے آگ میں گھی کا کام کیا۔ عوام کا حکومت سے بھروسہ اٹھ گیا۔ تحریک اور تیز ہو گئی۔ کانگریس کے لیڈر متعددمقامات پر غیر ذمہ دارانہ بیان دیتے نظر آئے۔ پورا واقعہ دیکھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ کانگریس پارٹی میں کوئی سیاسی فیصلہ لینے والا ہے بھی یا نہیں۔
عوامی حمایت دیکھ کر مرکزی حکومت سہم گئی۔ تحریک کے تیور کو دیکھتے ہوئے انا کی رہائی کا حکم دے دیا گیا۔ اس کے بعد انا نے سب سے بڑا فیصلہ تب لیا، جب انھوں نے کہا کہ وہ اپنی شرائط پر جیل سے باہر جائیں گے۔ وہ جیل کے اندر بھوک ہڑتال کرتے رہے۔ جیل کے باہر عوام ان کی حمایت میں سڑکوں پر اترتے رہے۔ انا کی تحریک جنگل کی آگ کی طرح ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہروں میں پھیل گئی۔ انا لوک پال بل کے پارلیمنٹ میں پاس ہونے کے لئے تحریک چلا رہے ہیں۔ حکومت اور ٹیم اناّ کے درمیان بات چیت ہوتی رہی۔ پہلے دہلی پولس نے انہیں بھوک ہڑتال کے لئے تین دنوں کا وقت دیا تھا، بعد میں پولس نے انا کو بھوک ہڑتال کے لئے رام لیلا میدان اور 15دنوں کا وقت دے دیا۔ انا جب جیل سے باہر نکلے تو عوامی جم غفیر امنڈ پڑا ۔ پانچ پانچ کلو میٹر تک پیر رکھنے کی جگہ نہیں تھی۔ انا کی ایک جھلک پانیکے لئے لوگ بارش میں بھیگ کر انتظار کرتے رہے۔ رام لیلا میدان پہنچتے ہی انھوں نے اعلان کر دیا کہ جب تک حکومت جن لوک پال بل کو پارلیمنٹ میں پاس نہیں کراتی ہے،تب تک یہ تحریک چلتی رہے گی، بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔
1950میں برطانیہ کے ڈبلیو ایچ مورس جونس نے جدیدیت ، روایت اور سنتوں یا سینٹلی اڈیم کو ہندوستانی سیاست کی تین اہم بنیاد یں بتایا تھا۔ ہندوستان کے آئین، پارلیمنٹ اور عدالت کو جدید اور سیاست میں ذات اور فرقہ کو روایت سے جوڑا تھا، لیکن مورس جونس نے سنتوں کے کردار کو انوکھا بتایا۔ انھوں نے ہندوستان میں قربانی دینے والے سنتوں کااہم کردار بتایا تھا۔ اس زمرے میں مہاتما گاندھی، ونوبا بھاوے، رام منوہر لوہیا اور جے پرکاش نارائن کو شمار کیا جا سکتا ہے، جن کی زندگی قربانی اور جدوجہد کی کہانی ہے۔ یہ لیڈر لوگوں کے دلوں میں اس لئے بسے، کیونکہ لوگوں کو لگتا تھا کہ یہ تو سنت ہیں۔ انا ہزارے کی سادگی اور فراخ دلی لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئی۔ لوگوں کو انا میں گاندھی دکھائی دیتے ہیں، ونوبا بھاوے نظر آتے ہیں ، جے پی دکھائی دیتے ہیں۔ کانگریس پارٹی کے لیڈران اور حکومت کے وزیروں کو انا میں ایک بدعنوان، فاشسٹ ، مائونواز اور انارکی پسند نظر آیا ۔ لیڈروں اور ملک کے عوام کے نظریہ میں اگر اتنا بڑا فرق جہاں ہوگا، وہاں تو تحریک ہونا طے ہے۔ اس کے باوجود اگر اقتدار کاتکبر لیڈران کے سر پر چڑھ کر بولے گا تو انقلاب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
یہ بات کہنی پڑے گی کہ پارلیمنٹ کے باہر پورے ملک میں جو نظارہ تھا، اس سے پارلیمنٹ کا جواز ہی ختم ہو گیا، کیونکہ جمہوریت میں تو ممبران پارلیمنٹ عوام کے نمائندے ہیں۔ جب عوام خود ہی سڑک پر اتر کر جن لوک پال کا مطالبہ کرنے لگیں تو انہیں نمائندوں کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ کئی لوگ یہ مانتے ہیں کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے۔جب 70کی دہائی میں جے پرکاش نارائن کی تحریک شروع ہوئی، تب بھی حالات یہی تھے۔ جے پرکاش نارائن پر بھی کانگریس پارٹی غیر ملکی ایجنٹ اور انارکی پسند ہونے کا الزام لگا رہی تھی۔ سابق وزیر اعظم آنجہانی چندر شیکھر اس وقت کانگریس میں تھے۔ وہ اندرا گاندھی سے ملے اور کہا جے پرکاش نارائن کے خلاف اس طرح کے بیان سے کانگریس کو بچنا چاہئے۔ اندرا گاندھی تلملا اٹھیں، لیکن چندر شیکھر نے دو ٹوک کہا کہ فقیر اور راجا کے درمیان جب بھی جنگ ہوتی ہے تو جیت ہمیشہ فقیر کی ہوتی ہے ۔ اس لئے فقیر اور سنتوں سے نظریں جھکا کر بات کرنی چاہئے۔ آج ملک میں ویساہی ماحول ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ کانگریس پارٹی میں آج کوئی چندر شیکھر نہیں ہے۔ ملک کے عوام کو انا کا شکریہ ادا کرنا چاہئے ، کیونکہ انھوں نے پریشانی سے دوچار ملک کو جگانے کا کام کیا ہے۔ اس تحریک میں جو لوگ شامل ہو رہے ہیں، وہ خوش قسمت ہیں، جو لوگ اب تک شامل نہیں ہوئے ہیں، ان کے پاس موقع ہے۔ انا کی تحریک لوک پال تک ہی محدود نہیں رہنے والی ہے۔ آنے والے دنوں میں عدالتی نظام میں اصلاح کے لئے تحریک چلے گی، انتخابی اصلاح کے لئے تحریک چلے گی۔ گھر میں بیٹھنے کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ ہمیں نظام میں تبدیلی کے لئے سڑکوں پر اترنا ہوگا۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *