عوامی ایجی ٹیشن کے نتیجے میں وادی کا تعلیمی شعبہ سب سے زیادہ متاثر

Share Article

damiوادی کشمیر مسلسل چار ماہ سے انتہائی پر آشوب حالات سے دوچارہے۔ یہاں زندگی کا ہر شعبہ معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ہڑتالوں اور کرفیو کی وجہ سے کشمیر ہر دن 130کروڑ روپے کے خسارے سے دوچار ہورہا ہے۔ یہ سلسلہ 8جولائی سے جاری ہے۔ معاملہ صرف اقتصادی نقصان کا ہی نہیں ہے بلکہ تباہی و بربادی کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ پھیلا ہوا ہے۔اب تک ایک سو سے زائد افراد ، جن میں بیشتر نوجوان تھے ، مارے جاچکے ہیں۔ 13ہزارافراد زخمی ہیں، جن میں سینکڑوں نوعمر لڑکے اور متعدد لڑکیاں اپنی آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔پولیس اب تک پتھرائو کرنے کے الزام میں 11ہزار نوجوانوں کو گرفتار کرچکی ہے۔جن میںشامل 500سے زائد افرادکو بد زمانہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت بُک کیا گیا ہے۔
یہ ایکٹ بنیادی طور پر جنگل کے اسمگلروں کو عدالت میں پیش کئے بغیر دو سال کے لئے جیل میں بند رکھنے کے لئے بنایاگیا تھا،مگر اب اس کا اطلاق پتھرائو کرنے کے الزام میں گرفتار نوجوانوں یہاں تک کہ بچوں پر بھی کیا جارہا ہے۔اس کی ایک مثال شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ کے تجمل رسول میر کی دی جاسکتی ہے۔ ساتویں جماعت کا یہ طالب علم سکول ریکارڈ کے مطابق 13سال کی عمر کا ہے۔ پولیس نے اس لڑکے کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جموں کے کوٹ بلوال جیل بھیج دیا ہے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ کشمیر کی تاریخ میں کبھی بھی اس طرح کی صورتحال پیدا نہیں ہوئی ہے۔ یعنی آج تک کبھی بھی محض تین ماہ کے دوران ہزاروں لوگ زخمی نہیں ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے کبھی بھی سینکڑوں لوگوں نے پولیس ایکشن میں اپنی بینائی نہیں کھوئی ہے۔ اس سے پہلے کبھی بھی محض چند ہفتوں کے اندر ہزاروں لوگوں کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے کبھی بھی کشمیر مکمل طور پر چار ماہ تک بند نہیں رہا ہے۔
صاف ظاہر ہے کہ اس صورتحال نے کشمیری عوام کو نفسیاتی، معاشی ، تعلیمی اور تجارتی سطح پر غیر معمولی نقصان سے دوچار کردیا ہے۔ لیکن سب سے زیادہ نقصان تعلیمی شعبے کا ہوا ہے۔ چار ماہ سے تمام سکول، کالج اور یونیورسٹیاں مقفل ہیں۔اس صورتحال کی وجہ سے نرسری کے بچوں سے لیکر یونیورسٹی کے طلبا و طالبات تک سب متاثر ہوگئے ہیں۔ستم بالائے ستم وادی میں گزشتہ کچھ ہفتوں سے سکول عمارتوں کو نذر آتش کرنے کی پر اسرار وارداتیں رونما ہورہی ہیں۔ علاحدگی پسند اور حکومت ا سکول عمارتوں کو خاکستر کرنے کے لئے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرارہے ہیں۔ اب تک وادی کے مختلف علاقوں میں 27سکول عمارتیں خاکستر ہوچکی ہیں۔ اس ساری بدترین صورتحال کے دوران ریاستی سرکار بضد ہے کہ طلبا و طالبات کے امتحانات نومبر کے مہینے میں لئے جائیں گے۔سرینگر اور وادی کے دیگر قصبوں میں طلبا آئے دن اس حکومتی فیصلے پر احتجاج کرتے نظر آرہے ہیں۔ اُن کا مطالبہ ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر امتحانات کو مارچ تک ملتوی کیا جائے۔اُن کا استدلال ہے کہ مسلسل ہڑتالوں اور کرفیو کی وجہ سے وہ تعلیم کی طرف دھیان نہیں دے سکے۔ نیز ہزاروں طلبا اس وقت جیلوں میں ہیں ۔ درجنوں مارے جاچکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں یہاں کے طلبا و طالبات نفسیاتی طور امتحانات میں شامل ہونے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت ضد پر اڑ گئی ہے۔
ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ ایک بہت بڑے مسئلے کے طور پر سر اُبھارے گا۔کیونکہ ایک ایسی حکومت ، جو چار ماہ کے عرصے میں کشمیر کے حالات میں رتی برابر بھی بہتری نہیں لاپائی ہے، کا لاکھوں طلبا کے ساتھ من مانی کرنا آگ کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ثابت ہوسکتا ہے۔ حکومت گزشتہ چار ماہ کے دوران لوگوں کے اجتماعات کو روکنے اور انکے آپسی رابطے کو کم سے کم بنانے کے لئے جاں توڑ کوششیں کررہی ہے۔ اسی لئے آئے دن کرفیو لگا کر عوامی اجتماعات یا مارچ کو روک دیا جاتا ہے۔ انٹر نیٹ سروس چار ماہ سے بند ہیں تاکہ لوگ سماجی رابطے کی ویب سائٹوں کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار نہ کرسکیں۔ ابتدائی تین ماہ تک موبال فون سروس بھی بند کردی گئی تھی۔ گزشتہ چار ماہ کے دوران سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نما ز جمعہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی تاکہ لوگوں کا اجتماع نہ ہو۔ان سارے اقدامات کے باوجود وادی میں جاری عوامی احتجاج کی لہر تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔
بعض مبصرین کو خدشہ ہے کہ اگر حکومت نومبر میں امتحانات منعقد کرانے کی اپنی ضد پر قائم رہی تو ممکن ہے کہ ناراض طلبہ امتحانات میں شامل ہوجانے کے بہانے مختلف امتحانی مراکز پر جمع ہوجانے کے بعد ہنگامہ آرائیوں پر اتر آئیں، جسے قابو میں رکھنا حکومت کے بس میں نہیں ہوگا۔ کیونکہ یہ بات چشم کشا ہے کہ 11ہزار نوجوانوں کو گرفتار کرنے اور 13ہزار افرا د کوزخمی کرنے کے بعد بھی احتجاجی لہر جاری ہے۔حکومت حریت کی جانب سے دی جانے والی ہڑتال کی کال کو بے اثر بنانے کے لئے لاکھ کوششیں کررہی ہے لیکن عوام کی غالب اکثریت حریت پروگرام پر مسلسل چار ماہ سے عمل کررہے ہیں۔اس کا صاف مطلب ہے کہ زمینی سطح پر حکومت کی نہیں بلکہ علاحدگی پسند لیڈروں کی رٹ ہے۔
ایسی صورتحال میں لازم ہے کہ حکومت اپنی انا اور ضد کو چھوڑ کر ایک ایسا ماحول قائم کرنے کے اقدامات کرے ، جس کے نتیجے میں مختلف سطحوں پر مذاکرات کے دروازے کھل جائیں۔ اس طرح سے نہ صرف حالات بہتر ہوسکتے ہیں بلکہ تعلیمی اور معاشی شعبوں کو ہورہے نقصانات کا سلسلہ بھی تھم جائے گا۔ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ تمام حریت لیڈروں کو جیلوں میں یا اُنکے گھروں میں نظر بند رکھ کر اور 11ہزار نوجوانوں کو کال کوٹھری میں رکھتے ہوئے ، وادی میں امن قائم ہوگا اور تعلیمی شعبہ پھر سے متحرک ہوگا تو یہ اس کی خود فریبی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *