عوام کامذاق مت اڑایئے ، عوام سے ڈریے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
شاید حکومتیں کبھی نہیں سمجھیں گی کہ ان کے اَن سنے پن یا ان کی بے حسی کا لوگوں پر کیا اثر پڑتا ہے،چاہے وہ حکومت دہلی کی ہو یا مدھیہ پردیش کی ہو یا پھر وہ حکومت تمل ناڈو کی ہو۔ کشمیر میں ہم کشمیر کی ریاستی حکومت کی بات اس لیے نہیں کر سکتے، کیوں کہ کشمیر کی ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ جو کہتی ہے مرکزی حکومت کے کہنے پر کہتی ہے اور جو کرتی ہے وہ مرکزی حکومت کے کرنے پر کرتی ہے۔ پر نتیجہ ایک ہی ہوتا ہے۔ اگر کوئی بھی طبقہ اپنے مطالبات پرامن طریقے سے رکھے اور مسائل نہ سلجھانے پر اگر وہ حکومت کی توجہ اپنے مطالبات کی طرف مبذول کرانے کے لیے کوئی قدم اٹھائے تو حکومتیں اس پر توجہ نہیں دیتیں، اور توجہ نہ دینے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگوں میں حکومت نام کے ادارہ کو لے کر مایوسی بڑھ جاتی ہے۔ جب زیادہ وقت گزر جائے اور حکومت توجہ نہ دے تو لوگ تھوڑا سا جارحانہ قدم اٹھاتے ہیں۔ حالانکہ اس جارحیت کا کوئی اثر سرکاری پراپرٹی پر نہیں پڑتا، لوگوں کے اپنے جسم پر پڑتا ہے۔ لوگ احتجاجی مظاہرہ کرتے ہیں، پولس کی لاٹھیاں انہیں ملتی ہیں۔ کشمیر میں یہ عام ہو چلا ہے، پر جس طرح سے ریاستی حکومتوں نے بھید بھاؤ کرنا شروع کیا ہے، وہ ایک دم کمال کی چیز ہے۔
آپ جو ترقی کا کام کریں گے، وہ زرخیز زمین پر ہی کریں گے۔ جو زمین تین یا چار فصلیں دیتی ہے، جو زمین ملک میں اناج کے گودام بھرتی ہے، جو زمین گاؤں کے لوگوں کی روزی روٹی چلاتی ہے، اسی زمین پر ترقی کا کام ہوگا، چاہے وہاں نیوکلیئر پلانٹ بنانا ہو، چاہے وہاں سیمنٹ کی فیکٹری بنانی ہو یا وہاں ایس ای زیڈ بنانا ہو، وہ سب ہوگا زرخیز زمین پر۔ اور جب کسان یا وہاں کے رہنے والے باشندے اس کی مخالفت کریں گے تو انہیں حکومت لاٹھیوں کے ساتھ سمجھائے گی کہ تمہارا مخالفت کرنا کتنی نالائقی کا کام ہے۔ یہی چیز لوگوں کو پریشان کرتی ہے۔
تمل ناڈو میں، کوڈنکولم میں لوگ نیوکلیئر پلانٹ لگانے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آپ پلانٹ لگائیے، لیکن اس جگہ پر لگائیے جو بنجر زمین ہے، جہاں فصل پیدا نہیں ہوتی۔ ہریانہ کے گورکھپور میں نیوکلیئر پلانٹ لگوایا، وہاں لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں، بلکہ ملک میں جہاں جہاں نیوکلیئر پلانٹ لگ رہے ہیں، وہاں کے لوگ اس کے حق میں نہیں ہیں، پر حکومتیں اس کے حق میں ہیں، کیو ںکہ حکومت نے امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے اور اس معاہدہ کے تحت ہمارے یہاں نیوکلیئر پلانٹ لگنے ہیں۔ حکومت کی دلیل ہے کہ اس سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ جب پورے معاملے کی چھان بین کی گئی تو پتہ چلا کہ ایک نیوکلیئر پاور پلانٹ کے لگنے پر لگ بھگ 10 سے 15 سال تک کا وقت لگے گا اور اس وقت کی آبادی کو بجلی کی جتنی ضرورت ہوگی، ملک کو اس کا کل 7 فیصد یہ نیوکلیئر پلانٹ پورا کر پائیں گے۔ لیکن حکومت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیو ںکہ حکومت ہر سال سڑک بناتی ہے اور پھر اس کو چوڑا کرنے کے لیے پیسہ خرچ کرتی ہے۔ سڑک بناتی ہے تو نالیاں نہیں بناتی۔ سڑک بناتی ہے یا پل بناتی ہے تو اس بات کا دھیان نہیں رکھتی کہ اگلے دو سال یا تین سال بعد کتنا ٹریفک ہوگا، ایک برسات آتی ہے اور سڑک ختم ہو جاتی ہے۔ یہ ہے ہماری حکومت کی پلاننگ کی حقیقت اور پلاننگ کا نتیجہ۔ وہ حکومت کیسے یہ اندازہ کرے گی کہ 12 سال یا 15 سال کے بعد اگر بجلی کی کل ضرورت کا 7 فیصد ہی نیوکلیئر پاور پلانٹ پورا کر پائیں گے اور جس کے عوض میں بجلی اتنی مہنگی ہو جائے گی تو اِن نیوکلیئر پاور پلانٹس کے لگانے کا مطلب کیا ہے۔ پر حکومت کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ پندرہ سال کے بعد جو حکومت ہوگی یا اگر 15 سال کے بعد جو زندہ رہیں گے تو وہ اس کا جواب تلاش کریں گے۔ اس وقت کی حکومتیں اپنا سر پیٹیں گی۔ آج کی حکومت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دراصل، آج کی حکومت صرف اپنی مدتِ کار کی فکر کرتی ہے۔ اس کی مدتِ کار میں صحیح غلط کیا ہو رہا ہے، اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ 15 سال یا 20 سال کے بعد اس کام کا کیا نتیجہ نکلے گا یا اس کا کوئی نتیجہ نکلے گا بھی یا نہیں نکلے گا۔ مدھیہ پردیش حکومت نے باندھ کی اونچائی بڑھا دی، بنا سمجھے ہوئے کہ اس سے کتنے ہزار لوگ پانی کی چپیٹ میں آ جائیں گے اور ان کے گھر بار، کھیتی باڑی سب پانی میں ڈوب جائیں گے۔ حکومت نے کوئی پلاننگ نہیں کی کہ ان لوگوں کو وہاں سے کہاں اٹھا کر لے جائیں گے، ان کے گھر کیسے بنیں گے ، ان کی فصل چوپٹ ہوگی تو وہ کیسے کھانا کھائیں گے۔ یہ لوگ چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کے نہیں ہیں، یہ لوگ ہمارے ملک کے ہی رہنے والے ہیں۔ وہ اسی حکومت کو ووٹ دیتے ہیں، جس حکومت نے باندھ کی اونچائی بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ اور جب لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا تو حکومت کو ان کی بات سمجھ میں نہیں آئی۔ جب ان لوگوں نے لگاتار 17 دنوں تک پانی کے اندر بیٹھ کر جل ستیاگرہ کیا تب بھی حکومت کی نیند نہیں ٹوٹی اور ایک ہلکا سا بیان آیا کہ ٹھیک ہے اب باندھ کی اونچائی پرانی جتنی ہی رہنے دیں گے یا کچھ کم کریں گے اور اس کے بعد لاٹھی اور ڈنڈا چلا کرکے، ان سب لوگوں کو گرفتار کرکے جو جل ستیاگرہ میں بیٹھے ہوئے تھے، جیل میں ٹھونس دیا۔ کشمیر میں نوجوان اگر سڑک پر نکلیں، کوئی بات کریں تو وہاں گولی کمر پر نہیں سینے پر چلتی ہے اور لاٹھیاں اب وہاں چلتی ہی نہیں۔ کل ملا کر پوری انتظامیہ اَن سنی ہو گئی ہے، بے حس ہو گئی ہے۔ دوسری طرف اگر ایک آئی اے ایس افسر کڈنیپ ہو جائے تو حکومت کوشش پر کوشش کرکے، پیسے دے کرکے جن باتوں کو نہیں ماننا چاہیے، انہیں بھی ماننے کی یقین دہانی کرا دیتی ہے۔ اس کا کیا مطلب نکالا جائے، حکومت کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟ یہی سوال کشمیر، مدھیہ پردیش، تمل ناڈو اور ہریانہ کے کسان پوچھ رہے ہیں اور ان کے توسط سے پورے ملک کے کسان پوچھ رہے ہیں کہ کیا اب یہ مان لیا جائے کہ پرامن طریقے سے اٹھائی گئی کوئی بھی آواز ہماری حکومت نہیں سنے گی۔
ابھی میں نول گڑھ گیا تھا۔ نول گڑھ راجستھان کا ایسا قصبہ ہے، جہاں پر حویلیوں کی بہتات ہے اور جہاں غیر ملکی سیاح جے پور کے بعد سب سے زیادہ آتے ہیں۔ نول گڑھ میں دو سیمنٹ فیکٹریاں کسانوں کی زمین خریدنے کی کوشش کر رہی ہیں، اس سے تقریباً 50 ہزار لوگوں کی فصلیں برباد ہو جائیں گی۔ وہ 50 ہزار لوگ کیسے کھانا کھائیں گے، نہیں پتہ۔ ان گاؤوں کی زمین یہ فیکٹریاں لینا چاہتی ہیں اور حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے اور حکومت ان زمینوں کو اپنی تحویل میں لینا چاہتی ہے اور پھر تحویل میں لینے کے بعد ان زمینوں کو سیمنٹ کمپنیوں کو دینا چاہتی ہے۔ دو سال سے نول گڑھ میں متاثر ہونے والے کسانوں کا ستیاگرہ چل رہا ہے، لیکن حکومت کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی ہے، نہ وہ پوچھ رہی ہے، نہ اس نے کوئی سروے کروایا ہے اور اس کی انٹیلی جنس نے اسے یہ جانکاری دی ہے کہ لوگوں میں کتنا غصہ ہے۔ نول گڑھ کے لوگوں سے جب ہم نے بات چیت کی تو انہوں نے کہا کہ یہ بیکار کا ستیاگرہ چل رہا ہے، اس سے کوئی حل نہیں نکلنے والا ہے۔ ہم پریشان لوگ جب تک بسیں نہیں جلائیں گے، سرکاری دفتر نہیں جلائیں گے، سرکاری اہل کاروں کو ماریں گے پیٹیں گے نہیں، تب تک یہ حکومت بات سننے والی نہیں ہے۔ اور یہیں سے جمہوریت کی فکر شروع ہوتی ہے۔ جمہوریت میں شاید آج کے سیاسی لیڈروں، چاہے وہ حکومت میں ہوں یا کسی بھی پارٹی کے ہوں، پر شک پیدا ہوگیا ہے۔ جمہوریت میں تو آواز سننی چاہیے، کیو ںکہ جو پرامن آواز ہے، اس آواز کو سب سے پہلے سننا چاہیے۔ انہیں بلا کر ان کی بات سمجھنی چاہیے۔ حل تو بعد میں نکل پائے گا، لیکن بات تو سنو۔ حکومتیں بات نہیں سنتیں اور حکومتوں کو یہ بھی ڈر نہیں ہے کہ لوگو ںمیں کس طرح کا پیغام جا رہا ہے۔ پیغام یہ جا رہا ہے، جیسے کہ نول گڑھ کے لوگوں نے بتایا ہے کہ جب تک آپ پرامن احتجاجی مظاہرہ کریں گے، میمورنڈم دیں گے، تب تک حکومت آپ کی بات نہیں سنے گی۔ حکومت کو بات سنانے کے لیے ضروری ہے کہ تشدد برپا کرو، سرکاری ملکیت کو نقصان پہنچاؤ، ریل روکو، بس روکو اور اگر اس سے بھی کام نہ چلے تو سرکاری اہل کاروں کو کڈنیپ کرو۔ کیا حکومت ہر جگہ یہی کرنا چاہتی ہے؟ حکومت سے میرا مطلب ہے کہ حکومتیں، ہر پارٹی کی حکومت۔
افسوس اس بات کا ہے کہ جس پارٹی نے جمہوریت کی سب سے بڑی لڑائی لڑی اور ملک سے انگریزوں کو بھگایا، وہی کانگریس پارٹی ملک میں سب سے زیادہ پرامن مانگوں کو اَن سنا کر رہی ہے۔ پرامن مانگوں کو اَن سنا کرنے میں بہار بھی پیچھے نہیں ہے، اتر پردیش بھی پیچھے نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش کی مثال ابھی تازہ تازہ ہے۔ تمل ناڈو کی بھی مثال تازہ تازہ ہے۔ کل ملا کر ملک میں عام لوگو ںکے پاس جو پیغام جا رہا ہے، وہ پیغام جمہوریت کے لیے خطرناک ہے، سنگین ہے۔ ہماری بات حکومت نہیں سنے گی، لیکن پھر بھی ہم حکومتوں سے اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ آپ اگر پرامن آواز نہیں سنیں گے تو آپ اس ملک میں دہشت گردی کو اور دوسرے پہلو پر نکسل واد کو ایک لیگل لوجک دیتے ہیں کہ جس ملک میں پرامن آوازیں نہیں سنی جاتیں، وہاں تباہی کی آوازیں سنی جاتی ہیں۔ ایسا مت کیجئے۔ اگر ایسا کریں گے تو جمہوریت کو ختم کرنے میں ہر پارٹی کا کتنا رول ہے، پھر یہ تلاش کیا جانے لگے گا۔ اس ملک کے لوگوں نے قربانیاں دے کر، پھانسی پر چڑھ کر، گولیاں کھاکر آزادی پائی ہے۔ اس آزادی کا احترام کرنا چاہیے سیاسی پارٹیوں کو، اور سیاسی پارٹیوں کے بطن سے نکلی حکومتوں کو جمہوریت کا احترام کرنا چاہیے اور عوام کی پرامن آوازوں کو سننا چاہیے، نہ کہ انہیں اَن سنا کر کے عوام کی بے عزتی کرنی چاہیے۔ عوام کی بے عزتی کبھی کبھی بہت بھاری پڑتی ہے۔ عوام کا مذاق مت اڑائیے، عوام سے ڈریے اور عوام کی پرامن تکلیفوں کو سننے کے لیے اپنے کان کھولیے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *