عوام اور حکومت کے بیچ بڑھتی دوریاں اچھی علامت نہیں ہے

وسیم احمد 
پچھلے کچھ برسوں میں حکومت اور عوام کے درمیان دوریاںبڑھی ہیں۔سیاست دانوں کے تئیںعوام کی بد گمانی میں اضافہ ہوا ہے۔اوپر سے گاہے بگاہے بڑے بڑے گھوٹالوں کے انکشاف نے ان بد گمانیوں میں مزید اضافہ کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب لوگ اپنے حکمرانوں سے نجات چاہتے ہیں اور کسی ایسے متبادل کی تلاش میں ہیں جو مہنگائی، بے روزگاری اورفاقہ کشی جیسی لعنت سے چھٹکارا دلانے میں ان کی مدد کرسکے۔متبادل کی اسی تلاش کا فائدہ اروند کجریوال کو مل رہاہے اور عوام مہنگائی اور بد عنوانی کے خلاف اٹھائی جارہی آواز میں ان کے ساتھ ہیں۔ اس وقت عوام اپنی حکومت اور سیاست داں سے اتنے مایوس ہیں کہ ہر استحریک کا حصہ بن جا تے ہیں جو حکومت اور بد عنوان لیڈروں کے کالے کرتوتوں کے خلاف چلائی جاتی ہے۔وہ اپنے ووٹ کی طاقت کا استعمال کسی ایسے لیڈر، ایسی پارٹی کے حق میں کرنا چاہتے ہیں جو ملک کے لئے وفادار ہو۔اس طرح دیکھا جائے تو گزشتہ چند برسوں میںعوام کے اندر سیاسی بیداری آئی ہے اور وہ اپنے ووٹ کی قیمت کو سمجھنے لگے ہیں۔ عوام کی اسی بیداری کا نتیجہ ہے کہ ملک میں علاقائی پارٹیاں تیزی سے ابھر رہی ہیں اور علاقائی پارٹیاں مرکزی سرکار کے فیصلے پر اثر انداز ہورہی ہیں۔ پہلے عام طور پر مرکزی سرکار مضبوط ہوتی تھی اور ریاستی سرکاریں کمزور۔

یہ الیکشن گزشتہ تمام الیکشنوں سے الگ ہوسکتا ہے کیونکہ اب لوگ بیدار ہوچکے ہیں۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ سرکار اور سیاسی پارٹیاں سر سے پائوں تک بد عنوانیوں، اخلاقی گراوٹوں کی دلدل میں دب چکی ہیں۔ اب ان سے یہ توقع کرنا کہ یہ بے روزگاری کو ختم کریںگے، مہنگائی پر قابو پائیںگے یا بھکمری کا خاتمہ کریں گے، بے کار ہے اور یہی وجہ ہے کہ عوام متبادل کی تلاش میں ہیں اور کوئی ایسا قانون چاہتے ہیں جو ان لیڈروں کے غیر ذمہ دارانہ رویوں پر لگام کس سکے۔

ریاستی سرکار کے قیام میں مرکز اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتا تھا ۔اسے پارلیمنٹ میں کسی بل کو لانے میں علاقائی پارٹیوں پر منحصر نہیں ہونا پڑتا تھا مگر اب صورت حال بدل چکی ہے ۔علاقائی پارٹیاں مضبوط ہیں اور مرکز کمزور ۔مرکز کی اس کمزوری کا فائدہ علاقائی پارٹیاں اٹھاتی ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق مرکز سے فیصلے کرواتی ہیں۔اس صورت حال کا عکس پچھلے دنوں ممتا اور کانگریس کے بیچ کئی موقعے پرہوئی سیاسی دنگل میں دیکھا جا سکتاہے۔مگر غور کرنے والی بات یہ ہے کہ آخر کون سی ایسی بات ہے جس کی وجہ سے لوگ اپنے سیاست دانوں سے اوب رہے ہیں ۔
عوام کے اپنے سیاست دانوں سے اکتانے کی ایک وجہ تو یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس وقت جتنی بھی سیاسی پارٹیاں ہیں ،چاہے قومی سطح کی ہو ںیا علاقائی،ہر پارٹی میں ڈکٹیٹر شپ اور خوشامد پسندی کا عنصر غالب ہے۔لیڈر اپنے فرائض کی انجام دہی میں کم اور ہائی کمان کی خوشنودی حاصل کرنے میں اپنا زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔سب سے بڑی پارٹی کانگریس کو ہی لے لیں۔ پارٹی کا ہر ممبر دس جن پتھ سے قریب ہونے کی تدبیر میں جٹا رہتاہے۔پارٹی میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کا تعلق پارٹی کے ممبروں سے کم اور سونیا گاندھی سے زیادہ ہوتا ہے۔ہر بڑے فیصلے کو ان پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ہر فیصلے میں سونیا کے اشارے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ کئی مرتبہ تو یہ سمجھ میں بھی نہیں آتا کہ پبلک نے ان کو اپنے حلقے میں کام کرنے کے لئے دہلی بھیجا ہے یا گاندھی خاندان کی حفاظت کے لئے۔ ابھی اروند کجر یوال نے سونیا گاندھی کے داماد پر ایک بڑے گھوٹالے کا انکشاف کیا تو کانگریس کے کئی لیڈر ان کے دفاع میں اتر آئے۔اگر کسی نے احتیاط برتی تب بھی دبے لفظوں میں واڈرا کو بے گناہ ہونے کا ہی اشارہ دیا۔اگرچہ ہم تمام لیڈروں کو ایسا نہیں کہہ سکتے ۔مگر ممبروں کی بڑی تعداد ایسی ہے جن کی قومی سطح پر کوئی حیثیت نہیں رہ گئی ہے۔ انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ ان کا وجود دس جن پتھ کی خوشنودی سے ہی قائم ہے۔ ایسے میں اگر انہیںسونیا فیملی سے قربت بڑھانے کا موقعہ ملا ہے تو وہ اس کو گنوانانہیں چاہیں گے۔ ورنہ واڈرا نہ تو کسی پارلیمانی حلقے کی نمائندگی کر رہے ہیں اور نہ ہی کانگریس کے کسی اہم عہدے پر فائز ہیں۔کانگریس سے ان کا رشتہ بس اتنا ہے کہ وہ سونیا گاندھی کے داماد ہیں۔بس اسی رشتے کو لے کرکانگریس کے کئی لیڈر میدان میں کود پڑے اور واڈرا کا دفاع کرنے لگے۔وہ اس بات کو بھول گئے کہ ان کا کام اپنے حلقے کے لوگوں کی نمائندگی کرنا ہے نہ کہ پارٹی صدر کے داماد کا دفاع۔یہی صورت حال ریاستی پارٹیوں کی بھی ہے۔ سماجوادی وادی پارٹی کا ہر ممبر نیتا جی یعنی ملائم سنگھ کے ابرو کے اشاروں کے منتظر ہوتا ہے اورسماج وادی پارٹی کے نیتا وہی بولتے ہیں جو انہیں بولنے کے لئے کہا جاتا ہے۔شاہد صدیقی، امر سنگھ اور اس سے پہلے اعظم خان کی پارٹی میں جو درگت ہوئی وہ سب کے سامنے ہے۔یہ اور بات ہے کہ ان دنوں اعظم خاں سماجوادی پارٹی کے صف اول میں کھڑے ہیں اور یوپی کی کابینہ میں شامل ہیں۔مایا وتی جی تو ڈکٹیٹر شپ میں مشہور رہی ہیں۔ ان کے دور اقتدار میں پارٹی کے ایک ممبرنے پارٹی چھوڑتے وقت یہ کہا تھا کہ مایاوتی کے دربار میں کسی کو بولنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے ۔ ان کے یہاں وہی ہوتا ہے جو مایا وتی چاہتی ہیں۔ ملک کی بڑی اپوزیشن پارٹی بی جے پی بھی اس سے کچھ الگ نہیں ہے۔یہاں بھی قدآور لیڈروں کے سامنے کسی کو زبان کھولنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ نے ان کے خلاف بولا تو گجرات میں الیکشن ورکروں کے انتخاب میں اس صوبے کے تمام ممبروں کو ہی ورکروں کی فہرست سے خارج کردیا گیا۔ اے آئی ایم ڈی ایم کے ‘ کی صورت حال بھی اس سے الگ نہیں ہے۔ جے للیتا کے اشاروں کے بغیر پتہ نہیں ہلتا۔ملک کی تقریباً تماسیاسی پارٹیوں کا یہی حال ہے۔
پارٹی اعلیٰ کمان کی خوشامد پسندی کے علاوہ پارٹی کے ہر ممبر میں اخلاقیات کا فقدان ہے۔ ایک وقت تھا جب کسی لیڈر پر الزام لگتا تھا اور اس الزام کی وجہ سے لیڈر کو لگتا تھا کہ وہ عوام میں بدنام ہورہا ہے تو فوری طور پر استعفیٰ دے کر عہدے سے الگ ہوجاتا تھا اور جب تک الزام سے بری نہیںہوتاتھا، اس وقت تک وہ سرکاری اختیارات کا استعمال نہیں کرتاتھا۔ماضی قریب میں اس کی مثال لال کرشن اڈوانی سے دی جاسکتی ہے جنہوں نے حوالہ معاملہ میں پارلیمنٹ جانا چھوڑ دیا تھا اور جب تک ا ن کے دامن سے داغ نہ مٹا، وہ پارلیمنٹ نہیں گئے۔ مگر اب لیڈروں میں اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہیں رہ گئی ہے۔ ان پر چاہے الزاموں کا انبار ہو مگر وہ آخری دم تک عہدے سے چپکے رہنا چاہتے ہیں۔ یہی نہیں الزام کا جواب دینے کے لئے اخلاقیات کی تمام حدیں پار کرجاتے ہیں۔انہیں یہ خیال نہیں رہتا کہ وہ عوام کے نمائندے ہیں اور ایک معزز عہدے پر فائز ہیں۔لیڈروں میں اسی کمی کا نتیجہ ہے کہ عوام کو اپنے لیڈروں پر بھروسہ نہیں رہا۔ لیڈر جب بھی کوئی وعدہ کرتاہے تو وہ وعدے پورے ہوںگے بھی یا نہیں ،اس پر عام آدمی کو بھروسہ نہیں ہوتا ہے۔خاص طور پر گزشتہ ایک دہائی میں بر سراقتدار پارٹی نے وعدوں کا جال بچھا کر جس طرح سے عوام کو بیوقوف بنایا۔ان جھوٹے وعدوں نے عام آدمی کے اعتماد کو زبردست ٹھیس پہنچائی ۔ کانگریس نے 2004 کے الیکشن میں منموہن سنگھ کو وزیر اعظم کی حییثت سے پیش کیا اور عوام کو یہ یقین دلایا کہ اگر وہ ملک کے وزیر اعظم بن گئے تو لڑکھراتی ہوئی معیشت کو سہارا ملے گا۔لوگوںنے کانگریس کے ان وعدوں پر بھروسہ کیا کیونکہ منموہن سنگھ ایک ماہر اقتصادیات ہیں اور ماہر اقتصادیات سے قوم کی یہ توقع بجا ہے۔پہلے پانچ سال کے عرصے میں حکومت کی طرف سے یہ کہا گیا کہملک ترقی کررہا ہے۔ترقی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، مگر اس ترقی کا فائدہ سرمایا داروں کے دائرے تک ہی محدود رہا۔ اس کا فائدہ عام آدمی کو نہیں ملا۔جب 2009 کا پارلیمانی الیکشن قریب آیا تو کانگریس نے ایک مرتبہ پھر منموہن سنگھ کی اقتصادی سوجھ بو جھ کو ڈھال بنا کر پیش کیا۔ لوگوں نے اس بار بھی یہ سوچ کر کہ شاید ان کا ملک مہنگائی کی دلدل سے باہر نکل سکے،روزگار کے مواقع پیدا ہوں، کانگریس کو اقتدار تک پہنچا دیا۔مگر اس بار کانگریس نے ملک کو مہنگائی کی دلدل سے باہر تو نہیں نکالا البتہ گھوٹالوں کا انبار لگ گیا۔ جب یہ گھوٹالے سامنے آنے لگے اور جب غیر سرکاری تنظیموں ، کچھ سیاسی پارٹیوں اور سول ورکروں کی طرف سے ان بد عنوان لیڈروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ ہوا تو کانگریس بجائے اس کے کہ بد عنوانی کے خاتمے کے لئے مخلصانہ کوشش کرتی، اپنے ممبروں کے دفاع میں اتر آئی۔کانگریس کے اس عمل نے عوام کو بہت مایوس کیا۔اپوزیشن نے بھی اپنا کردار ادا نہیں کیا ۔ گھوٹالوں پر جس طرح کا سخت اسٹیپ لینا چاہئے اس میں بڑی نرمی نظر آئی۔یہاں تک کہ ایک پارٹی کے لیڈر نے دوسرے کو بچانے کا راستہ اختیار کرلیا۔ نتن گڈکری اور سلمان خورشید پر جب اروند کجریوال نے بد عنوانی کا الزام لگایا تو ملائم سنگھ یہ کہہ گئے کہ وہ (کجریوال) یونہی بول رہے ہیں، بول کر تھک جائیں گے۔اسی سے ملتا جلتا بیان راجدھانی دہلی کی وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت نے دیا۔گھوٹالے کے موضوع لیڈروں کے ایک دوسرے کے دفاع کرنے کے رویے نے عوام کوناامید کیا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ کجریوال کے انکشافات سے پہلے عوام سرکار کی بد عنوانیوں سے با خبر نہیں تھے ۔ عوام سب کچھ جانتے ہیں۔ مگر ان لیڈروں کے خلاف آواز بلند کرنے کی ہمت نہیں جٹا پارہے تھے لیکن کہیں نہ کہیں انہیں کسی ایسے انقلابی کا انتظار تھا جو ان لیڈروں کی بد عنوانیوں کے خلاف آواز اٹھائے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انا ہزارے نے آواز بلند کی تو ملک کی بڑی تعداد ان کے ساتھ ہوگئی۔انا تحریک نے کانگریس کی چولیں ہلا دیں ۔ لیکن بد قسمتی سے کچھ مہینوں میں ہی انا ٹیم میں پھوٹ پڑ گئی۔ انا اس تحریک سے الگ ہوگئے۔ کجریوال اپنے چند دوستوں کے ساتھ اس تحریک کو لے کر آگے چلے۔
کانگریس جانتی ہے کہ کجریوال جو مشن لے کر چلے ہیں، یہ اس کے لئے نیک فال نہیں ہے۔ کجریوال کا یہ مشن آنے والے الیکشن میں اس کے لئے مشکلیں کھڑی کرسکتاہے یہی وجہ ہے کہ اب کانگریس میں بوکھلاہٹ صاف نظر آنے لگی ہے۔ اسی بوکھلاہٹ میںکانگریس کے لیڈر گھبرا کر کبھی کجریوال کا جواب دھمکی آمیزلہجے میں دے رہے ہیں تو کبھی سوالواں کی بوچھار کرکے اور کبھی یہ کہہ کر کہ کجریوال خود ہی بول بول کر تھک جائیںگے۔ لوگ لیڈوں کا احتساب یعنی ان کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ایسا احتساب جو ان کی ذمہ داریوں سے متعلق ہو، ان کے اخلاقیات سے متعلق ہو۔ان کی امانت داری اور کارگزاری سے متعلق ہو۔اور یہ احتساب کا وقت ہے آنے والا الیکشن ۔ یہ الیکشن گزشتہ تمام الیکشنوں سے الگ ہوسکتا ہے کیونکہ اب لوگ بیدار ہوچکے ہیں۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ سرکار اور سیاسی پارٹیاں سر سے پائوں تک بد عنوانیوں، اخلاقی گراوٹوں کی دلدل میں دب چکی ہیں۔ اب ان سے یہ توقع کرنا کہ یہ بے روزگاری کو ختم کریںگے، مہنگائی پر قابو پائیںگے یا بھکمری کا خاتمہ کریں گے، بے کار ہے اور یہی وجہ ہے کہ عوام متبادل کی تلاش میں ہیں اور کوئی ایسا قانون چاہتے ہیں جو ان لیڈروں کے غیر ذمہ دارانہ رویوں پر لگام کس سکے۔ حکومت اور عوام کے بیچ بڑھتی ہوئی یہ دوریاں ملک اور جمہوریت کے لئے اچھی علامت نہیں ہے۔یہ ذمہ داری سیاسی پارٹیوںخاص طور پربر سر اقتدار پارٹی کی ہے کہ وہ اپنی شبیہ صاف کرے اور عوام کے اندر پائی جانے والی بد گمانی کو دور کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *