آستھا کی بھینٹ چڑھ گیا فیصلہ

وسیم راشد
تیس ستمبر دوپہر 3بجے کا وقت ،ہندوستان کے ہر شہر، ہر گلی، ہر محلہ میں سناٹا طاری۔ شہر ویران، گلیاں سنسان، ایسا لگ رہا تھا جیسے کہ خدانخواسہ کوئی بڑا طوفان آکر گزر گیا ہو، مگر یہ طوفان کے پہلے کا سناٹا تھا، جب کہ ہندوستان کی تاریخ کا سب سے بڑا فیصلہ آنے والا تھا۔ سبھی کی آنکھیں اس فیصلے کی منتظر تھیں۔ ہر دل کی دھڑکن اس فیصلے کی آہٹ پر کان لگائے ہوئے تھی۔ ایک خوف، ایک بے چینی کا عالم طاری تھا کہ دیکھئے یہ فیصلہ کس کے حق میں جاتا ہے۔ کسی بڑے فساد کا خوف سب کے دلوں میں سمایا ہوا تھا، اس لیے لوگ اپنے اپنے گھروں میں بند ہوگئے تھے۔ میڈیا نے ایسا ماحول بنادیا تھا کہ جیسے کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا اور اسی خوف نے لوگوں کو گھروں میں بند کردیا تھا اور آخر کار 4بجے کے قریب یہ تاریخی فیصلہ آی

Read more

پینتیس ہزار کروڑ میں خریدی گئی بدنامی

وسیم راشد
ایک اردو اخبار کا اداریہ پڑھ رہی تھی، جس میں دولت مشترکہ کھیلوں کے تعلق سے محترمہ شیلا دیکشت کی بے تحاشہ تعریف کی گئی تھی اور ان کی شان میں قصیدے پڑھتے ہوئے یہاں تک کہا گیا کہ شیلا کا نا م تاریخ میں سنہری حرفوں سے لکھا جائے گا کیونکہ انہوں نے دولت مشترکہ کھیلوں کے لیے خون پسینہ ایک کر دیاہے وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے تعریفی کلمات تھے، پڑھ کر ہنسی بھی آئی اور دکھ بھی ہوا۔ ہنسی اس لیے آئی کہ دو سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا جب ان کھیلوں کی تیاری شروع ہوئی تھی، لیکن نہ تو اسٹیڈیم صحیح طرح

Read more

کشمیر کے لوگ بھی اپنے ہیں، انہیں ایسے مت مارو

وسیم راشد
گزشتہ انتخابات کے بعد جب عمر عبد اللہ نے کشمیر کا اقتدار سنبھالا تھا، تو کشمیری عوام کوان سے بڑی بڑی امیدیں تھیں۔عوامی توقعات یہ تھیں کہ عمر نئی پیڑھی کے ہیں، جوان ہیں، مرکز ی حکومت میں وزیر رہنے کاتجربہ ان کے پاس ہے اس لیے ان کے کام کرنے کا طریقہ اور انداز کچھ الگ ہوگا۔اقتدار سنبھالنے کے بعد عمر صاحب سے پہلی غلطی تو یہ ہوئی کہ گزشتہ سال شوپیان میں جن دو لڑکیوں کا قتل ہوا تھا، عمر صاحب نے اسی وقت پورے معاملہ کے بارے میں جانے بغیریہ کہہ دیا کہ لڑکیوں کی موت پانی میں ڈوبنے سے ہوئی ہے۔ان کے اس بیان

Read more

کیا خوب ہے ہماری جمہوریت

وسیم راشد
یہ ہیں ہم اور یہ ہے ہماری جمہوریت۔ ہمیں جمہوریت پر فخر ہے، کیونکہ جمہوریت ہمیں اپنی بات کہنے کا حق دیتی ہے۔ اپنے مسائل پر آواز اٹھانے کی اجازت دیتی ہے اور ساتھ ہی انسان کی شکل میں ہماری عزت بھی کرتی ہے، لیکن جمہوریت برقرار رہے اس کے لیے ہم کیا کرتے ہیں؟ہم صرف باتیں کرتے ہیں، کبھی کبھی گلا پھاڑتے ہیں اور تفریح کے لیے کبھی کبھی جلوس بھی نکال دیتے ہیں۔ ممبئی جیسے حادثات پر ہم باہر نکلتے ہیں اور تلاش کرتے ہیں کہ ٹی وی کیمرے کدھر ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اگر کیمرے والے نہ رہیں تو ہم سڑک پر ہی نہ آئیں۔کیا ہم کیمرے پ

Read more

بہار الیکشن: مسلمانوں کے لئے لمحۂ فکریہ

وسیم راشد
جون 2010کے ایک اردو اخبار کی خبر یاد آ رہی ہے جس میں لکھا ہوا تھا کہ بہار الیکشن میں مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے نتیش کمار نے خانقاہوں اور مولویوں کو پٹانا شروع کر دیا ہے۔ مسلم اور دینی اداروں کو ایک طرح سے خرید لیا ہے۔ بہار کا سب سے بڑا مسلم ادارہ امارت شرعیہ ہے جس کی آواز پر مسلمان لبیک کہتے ہیں۔ اس کے جنرل سکریٹری مولانا انیس الرحمن قاسمی کو حج کمیٹی کا چیئر مین بنا کر لال بتی والی گاڑی پر بٹھا دیاہے۔ تبلیغی جماعت کے امیر کلیم عاجز کو مشاورتی کمیٹی کا چیئر مین بنا دیاہے۔ ادارت شرعیہ کے جنرل سکریٹری

Read more

عراق کو دوبارہ بسانے کی ذمہ داری کس کی؟

وسیم راشد
سمجھمیں نہیں آتا کہ عراق میں امریکی تسلط سے آزادی پر خوشی منائی جائے یا اسی دن لاہور میں ہوئے سیریل بم دھماکے پر آنسو بہائے جائیں جس میں 30افراد ہلاک اور 200سے زائد زخمی ہوگئے۔پاکستان جو پہلے ہی بھیانک سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں ہے اور جس کے کروڑوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں، وہاں ایسے حالات میں بھی دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے۔ لاہور میں حضرت علیؓ کے یوم شہادت کے موقع پر منعقدہ جلوس پر ہوئے3بم دھماکوں سے پورا شہر لرزاٹھا۔ معصوم روزہ دارو

Read more

عید کس کی ہے؟

وسیم راشد
عید کی آمدآمد ہے۔ جب تک یہ شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہوگا تب تک ہلال عید یا تو اپنا جلوہ دکھا چکا ہوگا یا پھر آپ اس کا دیدار کرنے کے لیے بیتاب ہوںگے۔ عید پر خصوصی شمارہ نکالتے وقت کئی چیزیں ذہن میں تھیں، جس میں یہ بات بار بار ذہن پر کچوکے لگا رہی تھی کہ ہمارے معزز کالم نگاروں نے عید کے تعلق سے بہت کچھ لکھا اور اس میں زکوٰۃ، صدقہ، فطرہ سبھی کا ذکر کرتے ہوئے عید کے اصل معنی بتانے کی بھر پور کوشش کی، مگر یہ تشنگی برقرار رہی کہ عالم اسلام کی حالت زار پر کسی نے روشنی نہیں ڈالی۔ ہاں لفظ عید ک

Read more

خدارا پاکستان کی مدد کیجئے

وسیم راشد
رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہوچکا ہے، یہ وہ مقدس مہینہ ہے، جس کے لیے دنیا بھر کے مسلمان پورے سال انتظار کرتے ہیں اور اس مہینہ کی فضیلت اور برکت سے کوئی محروم نہیں رہتا، مگر اس بابرکت مہینہ کا استقبال کیا ہے پاکستان میں بھیانک سیلاب نے۔ پاکستان میں اس مبارک مہینے کے خیر مقدم کے لیے نہ تو وسائل ہیں اور نہ ہی عوام میں وہ جوش و خروش۔ پاکستان یوں تو اپنی آزادی کی 63ویں سالگرہ بھی منا رہا ہے، مگر بھیانک سیلاب نے پاکستان کو پھر سے 50سال پیچھے کردیا ہے۔ اس تباہ کن سیلاب سے تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور تقریباً 7-8لاکھ مکانات تباہ و برباد ہوگئے ہیں۔ نہ جانے اس ملک پر خدا کا کیا خاص قہ

Read more