کیا نہ بیچوگے جو مل جائیں گے صنم پتھر کے

وسیم راشد
وقف بورڈ کی زمینیں، وقف املاک پر قبضے، وقف اراضی پر ناجائز تعمیرات، وقف کے قبرستانوں کی سستے داموں پر فروخت یہ سبھی کچھ کافی وقت سے برابر اردو اخباروں کی زینت بن رہے ہیں۔ یہ سبھی جانتے ہیں کہ وقف املاک پر حکومت کا قبضہ ہے اور کروڑوں کی وقف املاک ہونے کے باوجود ملازمین کی تنخواہ تک نہیں نکل پاتی ۔ یہ سب کچھ ویسے تو سامنے آچکا ہے لیکن پھر بھی بتانے میں فائدہ یہ رہتا ہے کہ کسی مہم کا آغاز ہوجاتا ہے اور اس سے کم سے کم لڑنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ ہمیں یاد ہے سابق چیئرمین دہلی وقف بورڈ ہارون یوسف کا وہ بیان جس میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ بورڈ کے حالات اچھے نہیں ہیں اور اس پر سب سے پہلے توجہ دی جانی چاہیے۔ جنہوں نے یہ زمینیں ہڑپ لی ہیں ،ان پر تو قانونی چارہ جوئی ہونی ہی چاہیے لیکن جو وقف جائدادیں کرائے پر ہیں، ان کے کرایوں پر نظر ثانی بھی کی جائے ۔ آپ اور ہ

Read more

یہ افطار پارٹیاں نہیں سیاست کا کھیل ہے

وسیم راشد
تو جناب مہینہ ہے رمضان المبارک کا اور موسم ہے افطار پارٹیوں کا ۔نہ جانے کیسے آج یہ خواہش ہوئی کہ کسی سیاسی عنوان کو نہ لے کر آج اس مبارک مہینے میں کی جانے والی نمائش پر بات کی جائے۔ ہمیں یاد ہے ،ہمارے بچپن سے شعور کی منزلوں تک ہر گھر میں افطار کا انتظام ایسے ہی ہوتا تھا جیسے آج بھی ہوتا ہے، مگر اس میں2-3 پلیٹیں غریب غربا،مسجد یا محلے پڑوسی کے لیے ضرور ہوا کرتی تھیں ۔ نادار سے نادار ، لاچار سے لاچار گھروں میں بھی چاہے کتنی ہی مالی تنگ دستی کیوں نہ ہو، رمضان میں اللہ تعالیٰ ایسی خیرو برکت کیا کرتا تھا کہ لگتا ہی نہیں تھا کہ وہگھر ہیں جہاں عام دنوں میں دو دو دنوں فاقے رہتے ہیں۔ ان گھروں میں سے بھی روزانہ ایک

Read more

میرے رتبے کو دیکھ، میرے چہرے پہ نہ جا

وسیم راشد
گزشتہ دنوں پاکستان کی نئی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ہندوستان کا دورہ کیا جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری اعتماد سازی کی کوششوں کو آگے بڑھانا تھا۔ اپنے اس مقصد میں وہ کتنی کامیاب رہیں اور کتنی ناکام، فی الوقت میں اس پر کچھ نہیں کہنا چاہتی، بلکہ میری گفتگو کا موضوع کچھ اور ہے۔ حنا ربانی کھر کا ہندوستان میں پرتپاک استقبال کیا گیا، روایت کے مطابق ہمارے وزیر برائے امورِ خارجہ ایس ایم کرشنا نے چند دنوں قبل ہی پاکستان کی وزیر خارجہ بننے پر انہیں مبارکباد دے دی تھی، اور اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ اُن کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کی پوری کوشش کریں گے۔ پہلے سے طے شدہ پروگرام

Read more

آخریہ بم دھماکے ہوتے ہی کیوں ہیں ؟

وسیم راشد
دہشت گردی ایک ایسا مرض ہے جس نے آج کل پوری دنیا کو اپنی چپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اسے روکنے کی جتنی کوششیں کی جا رہی ہیں، اس میںاتنا ہی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ مرض کچھ اور ہے اور علاج کچھ اور ہی کیا جا رہا ہے۔ سرکار کو پتہ ہے کہ مرض کی اصل جڑ کہاں ہے، لیکن ووٹ بینک کی سیاست سے مجبور ہو کر وہ لوگوں کے دھیان کو بھٹکانا چاہتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس سے چھٹکارہ کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے…
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان کے اندر بم دھماکے ہوتے رہے ہیں اور شاید یہ آگے بھی ہوتے رہیں، اگر چند بنیادی کمزوریوں کو ٹھیک نہ کیا گیا۔ یہ بنیادی کمزوریاں نہ صرف شہریوں

Read more

کابینہ میں نئی ردوبدل، بے وقت کی راگنی

وسیم راشد
وزیراعظم منموہن سنگھ نے حالیہ دنوں میں دوسری بار اپنی کابینہ میں ردو بدل کی ہے۔ اس ترمیم میں کچھ نئے چہرے شامل کیے گئے ہیں تو کچھ پرانے وزراء کو فارغ کردیا گیا ہے اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کو ترقی دے کر کابینی درجے کا وزیر بنا یا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 8 نئے چہروں کو قلمدان دیے گئے ہیں جبکہ 7کو باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ہے۔ در اصل منموہن سنگھ پر حزب اختلاف کے ساتھ تجزیہ نگاروں اور ماہرین کی جانب سے ایک عرصے سے یہ تنقید کی جارہی تھی کہ وہ گزشتہ حکومت کے مقابل اس بار سست روی کے شکار ہوگئے ہیں، ساتھ ہی ان پر یہ بھی الزام تھا کہ ان کے کئی وزراء اپنی ذمہ داریوں کوبہتر ڈھنگ سے نہیں انجام دے رہے ہیں۔ اس تنقید س

Read more

پد یاترا: یو پی الیکشن کا ترپ کا پتہ

وسیم راشد
کانگریس کے شہزادے نے یوپی الیکشن میں مایاوتی سرکار کا تختہ پلٹنے کا پورا ارادہ کر لیا ہے اور اس کے لیے انہوں نے کسانوں کا ساتھ دینے کے علاوہ مایا وتی سرکار پر پوری طرح حملہ کردیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ وہ اترپردیش کو دلدل میں لے جارہی ہیں۔علی گڑھ تک کی پد یاترا کے تیسرے دن راہل گاندھی نے گائوں کے لوگوں کو ان کے دکھ درد کا مداوا کرنے کی پوری یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے بار بار یہ بھی کہا کہ دلال اس ریاست کو

Read more

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

وسیم راشد
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا…جو چیرا تو ایک قطرئہ خوں نہ نکلا۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ کی ایڈیٹرز سے بند کمرے میں ہوئی ملاقات کے بعد نہ جانے بار بار یہ شعر کیوں ذہن میں آرہا ہے۔ اس قدر ہنگامہ تھا کہ وزیر اعظم ایڈیٹرز سے ملنے والے ہیں، فلاں وقت طے ہوا ہے،5 اخبار کے ایڈیٹرز ہیں۔ لیکن جب ان 5 اہم ایڈیٹرز کے نام سامنے آئے تو پھر یہ کہاوت یاد آئی کہ اندھا بانٹے ریوڑیاں، اپنے اپنوں کو دے ۔ بھئی اخبار ان کے اپنے ،ایڈیٹرز ان کے اپنے، سوالات ان کے اپنے، مطلب کے جوابات ان کے اپنے ،تو پھر کیسی کانفرنس ، اس میں عوام کہاں ہیں، عوام کے دکھ درد کہاں ہیں؟بند کمرے میں چلنے والی اس کانفرنس سے یہ 5 مدیران باہر آتے ہیں تو صرف اور صرف

Read more

یہ حکومت غریبوں کے لئے نہیں امیروں کے لئے ہے؟

یہ میرے سامنے بڑی ہی خوبصورت سی تصویر ہے ہندوستانی خارجہ سکریٹری نروپما رائو اور پاکستان کے خارجہ سکریٹری سلمان بشیر کی۔ دونوں ہی بڑے پرجوش انداز میں اسلام آباد میں ہاتھ ملا رہے ہیں۔مگر کیا یہ دل ملانے کا کام بھی کر پائیں گے۔ بڑے بڑے دعوئوں کے ساتھ نروپما جی اسلام آباد با قاعدہ پوراوفد لے کر گئی ہیں جس میں ہندوستان سے نہ صرف پاکستان کے سفیر بلکہ یہاں کے صحافی اور بڑے بڑے افسران شامل ہیں ۔ نروپما رائو نے کہا کہ وہ امن و سلامتی کے موضوع پر بات کرنے جارہی ہیں اور انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ ان مذاکرات میں کھلے دل و دماغ کے ساتھ تعمیری سوچ کے ساتھ شریک ہوں گی۔
اور اب اسی خوشی فہمی والی میٹنگ کے ساتھ ساتھ ہی چلتے ہیں دوسری

Read more

سارا پیسہ لیڈروں کی جیب میں۔۔تو عوام کا کیا ہوگا؟

وسیم راشد
عوامی جمہوریت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ملک کے عوام حکومت وقت سے خوش ہوں اور اپنے مسائل کے حل کے لیے انھیں در در کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔ کانگریس کا یوں تو نعرہ ہے ’کانگریس کا ہاتھ عام آدمی کے ساتھ‘، لیکن زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ ملک کے کسی بھی شہری سے آپ جاکر پوچھ لیں کہ کیا وہ موجودہ حکومت سے خوش ہے، تو آپ کو شاید ہر جگہ ایک ہی جواب ملے گا، ’نہیں‘۔ اس کے علاوہ بھی آپ کو ہر گلی کوچے میں ہر شخص یہ کہتا ہوا بھی نظر آ جائے گا کہ ’کانگریس کی حکومت جب جب آئی، کمر توڑ مہنگائی لائی‘۔ تعجب ہے کہ جس پارٹی کے اندر منموہن سنگھ، پرنب مکھرجی اور مونٹیک سنگھ آہلو والیہ

Read more

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔۔

وسیم راشد
یہ ہمارا ملک ہندوستان ہے جہاں ہمارے آئین نے ہمیں ہر طرح کی آزادی دی ہے۔ جب ہم سنتے ہیں We the People of India تو ہم وطن عزیز کی محبت میں سر شار ہو کر خود کو ہر طرح سے محفوظ اور آزاد محسوس کرنے لگتے ہیں۔ لکھنے پڑھنے کی آزادی ، مذہبی آزادی، بولنے کی آزادی یہ ہمارے وہ بنیادی حقوق ہیں جن پر ہمیں ناز ہے مگر جس طرح ایم ایف حسین کو جلاوطنی کی موت دیار غیر میں نصیب ہوئی اس سے لمحہ بھر کے لیے یہ احساس ہوا کہ کہیں یہ سب صرف آئین کے صفحات تک ہی تو محدود نہیں ہے۔ ایم ایف حسین دنیا ئے آرٹ و پینٹنگ کا شہنشاہ جس نے تقریباً 60سال تک دنیائے آرٹ کو ایسے ایسے نادر نمونے دیے کہ دنیا نے

Read more