جسٹس ورما رپورٹ: قوانین سخت ہوں تو جرائم کم ہوں گے

وسیم راشد
ملک میں امن و سلامتی کے لئے یہ بات بہت ضروری ہوتی ہے کہ جرائم پیشہ افراد پر نکیل کسنے کے لئے قوانین نہ صرف سخت ہوں بلکہ ان قوانین پر مخلصانہ کوششیں بھی کی جائیں۔ملک کے مختلف خطوں میں جو عصمت دری اور لوٹ کھسوٹ کے واقعات تقریباً ہر روز ہوتے ہیں اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہمارے ملک میں قانون تو ہے لیکن یا تو اس میں اتنی پیچیدگیاںہیں کہ مجرم آسانی سے بچ نکلتا ہے یا پھر قانون میں سختی کا ایسا پہلو شامل

Read more

چنتن شیور! ملک کی چنتا نہیں، 2014کی چنتا ہے

وسیم راشد
ڈیزل کی قیمت بڑھ رہی ہے۔راجدھانی سمیت دوسرے شہروں میں عصمت دری کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔دہلی پولیس کمشنر یقین دہانی کراتے ہیں کہ خواتین کی شکایت پر فوری ایکشن ہوگا،اس کے باوجود سات سال کی ایک معصوم بچی درندگی کا شکار ہوجاتی ہے،مظفر نگرمیں ایک دلت لڑکی کی اجتماعی عصمت دری ک

Read more

نظام کو تبدیل کیجئے

سنتوش بھارتیہ
نظام میں تبدیلی کیسے ہو اور اس کی شروعات کیسے ہوگی، اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ جب ہم نظام کہتے ہیں تو اس میں سرکار بھی آتی ہے، سماج بھی آتا ہے اور سرکار و سماج سے پیدا ہونے والی ساری تنظیمیں بھی آتی ہیں۔ نظام میں تبدیلی کی بات ہی اس لیے اٹھ رہی ہے، کیوں کہ موجودہ نظام 80 فیصد لوگوں کے لیے ناکارہ ہو

Read more

اے نوجوانو! اب تم ہی سنبھالو ملک کی باگ ڈور

وسیم راشد
کڑا کے کی سردی، پاکستان اور ہندوستان کا میچ،لگاتار ملک کے مختلف حصوں میں عصمت دری کے واقعات، نفرت کی سیاست کرتے آر ایس ایس لیڈر بھاگوت اور اکبر الدین اویسی کا بیان اور گینگ ریپ کا شکار لڑکی کی موت کے بعد لگاتار مظاہرے اور ریلیاں۔یہ ہیں ہمارے ملک کی سرگرمیاں،جن پر بعض اوقات شرم آجاتی ہے مگر ان تمام شرمناک اور دردناک واقعات کے باوجود ایک امید کی کرن

Read more

کے رحمٰن خان صاحب! 350کروڑ کی ہیرا پھیری کا جواب کون دے گا؟

وسیم راشد
سلمان خان 47 سال کے ہوگئے۔جی ہاں ! یہی خبر سارے چینلز پر ہم نے اُس وقت دیکھی جب دہلی میں گینگ ریپ کا شکار ہوئی لڑکی موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا تھی اور اللہ جانے جب تک یہ آرٹیکل آپ کے ہاتھوں میں ہو،اس وقت تک لڑکی کی قسمت کیا رنگ دکھائے۔ اور اس وقت بھی جب نظام الدین پر ہزاروں طلباء و طالبات دہلی کے پولیس کمشنر کو ہٹائے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے،جب

Read more

لٹکا دو ان درندوں کو سر ِ عام پھانسی پر

وسیم راشد
یہ انتہائی تشویش کی بات ہے کہ ملک کے ہر شہر میں عصمت دری اور گینگ ریپ کے واقعات تقریباً ہر روز ہورہے ہیں۔جو واقعات بڑے شہروں میں ہوتے ہیں ان کی تو رپورٹنگ ہوجاتی ہے اور میڈیا ان کوعوام کے کانوں تک پہنچا دیتا ہے، لیکن ملک میں بے شمار ایسے گائوں اور قصبے ہیں جہاں تک میڈیا کی رسائی نہیں ہے۔وہاں ہونے والے حادثے عام نگاہوں سے اوجھل رہتے ہیں۔بلکہ بڑے

Read more

لال بتی والے سیاستدانوں! ایوان کے وقار کا تو خیال کرو

وسیم راشد
راجیہ سبھا اور لوک سبھا یہ دو ایسے ادارے ہیں جو ہمارے ملک کی جمہوریت کے لئے اہم ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان دونوں ایوانوں میں ملک بھر کے مسائل زیر غور لائے جاتے ہیں اور ان کے حل کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں ہی ادارے ملک کے لئے انتہائی اہم اور با وقار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں جن ممبروں کو بھیجا جاتا ہے، ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان با وقار

Read more

اردو کے فروغ کے لئے ’اردو وراثت کارواں ‘ کوشش قابل ستائش ہے

وسیم راشد
دنیا بھر میں کثرت سے بولی جانے والی زبانوں میں ایک زبان اردو بھی ہے جو اپنی لطافت اور شائستگی کی وجہ سے تیزی سے پھل پھول رہی ہے۔یہ اس زبان کا ہی کمال ہے کہ لاکھ مخالفتیں ہورہی ہیں،اس کو دبانے کی سازشیں رچی جا رہی ہیں ،اس کے باوجود سرکاری اور غیر سرکاری اداروں،فلم انڈسٹری اور عام بول چال میں ہر جگہ اس کا خوب استعمال کیا جارہا ہے۔البتہ سرکاری سطح پر

Read more

یہ ہے پولس کا اصل روپ! بے گناہوں کو پھنسانا ، گنہگاروں کو بچانا

وسیم راشد
سیاسی دائوں پیچ، سیاسی ہتھکنڈے،سیاسی پینترے بازیاں گھوٹالوں کی داستان اور لیڈران کی بیان بازیاں ،جی اکتا گیا ہے ان سب باتوں سے۔’جسے نہ دیکھو وہی اچھا ہے‘،تو پھر ایسے میں ہم وہ مسلم ایشوز کیوں نہ سامنے لائیں جو عام لوگوں کے سامنے نہیں آپاتے ہیں۔ کئی ہفتوں سے انگریزی اخباروں میں کوئی نہ کوئی مسلم ایشو اور کوئی نہ کوئی ایسی اسٹوری سامنے آجاتی ہے جس پر لکھنے کو دل

Read more

سیاسی لیڈروں کو آرم اسٹرانگ پامے سے سبق لینا چاہئے

وسیم راشد
آج ایک ایسے عنوان پر لکھنے کو میرا جی چاہ رہا ہے جو آج کے دور کی سیاسی اتھل پتھل،سیاست کے دائوں پیچ اور گھوٹالوں سے الگ ایک کہانی ہے۔ایک ایسی عظیم خبر جس کو اخباروں کو صفحۂ اول پر جگہ دینی چاہیے تھی مگر وہ خبر صرف انگریزی اخبار وںمیں تیسرے ،چوتھے صفحہ کی زینت بنی اور اردو ،ہندی اخباروں میں تو اس کا وجود ہی نظر نہیں آیا۔ اس خبر پر اردو ،ہندی

Read more