ریلوے بجٹ بے حد مایوس کن

ریل ہمارے ملک میں بڑا ہی رومانی تصور پیش کرتی ہے۔ شاید ہی کوئی دوسرا اد ب ریل کا ایسا تصور پیش کرسکے جیسا کہ ہندوستانی شعراء نے کیا ہے۔ مجاز نے ریل کے چلنے،بڑھنے اور لہرانے کا غضب نقشہ کھینچا ہے جیسے کہ کوئی خوبصورت عورت ناگن کی طرح جھومتی ہوئی جارہی ہو۔کبھی وہ ریل کو محبوب سے ملنے کا ذریعہ بتاتے ہیں ،کبھی اس کے لہرانے کو محبوب کے شرمانے سے تعبیر کرتے ہیں ۔
ایک زمانہ تھا جب ہم اپنے بچپن میں ریل کے سفر کے لئے بہت زیادہ بے تاب رہتے تھے اور سوچتے تھے کہ ریل کا سفر کتنا دلکش اور حسین ہوتا ہوگا۔لہلہاتے سرسبز کھیت، دریا، پل، شہر درشہر گزرنا بڑا ہی رومانٹک لگتا تھا، لیکن جب پہلی بار ریل کا سفر کیا تو ہوش اڑگئے۔ بے حد گندے غلیظ ڈبے، تعفن سے بھرے ٹوائلٹ، پان کی پیکوں سے بھرے ہوئے واش بیسن۔ سارا رومانس ہوا کے دھوئیں کی طرح اڑن چھو ہوگیا۔

Read more

دہلی کانگریس کے مسلم امیدواروں کو لے ڈوبی عدم کارکردگی

دہلی الیکشن میں ہر آدمی عام آدمی پارٹی کی تاریخی جیت پر حیران ہے اور سبھی اخباروں نے اپنے اپنے طریقوں سے تجزیئے اور رد عمل پیش کئے ہیں۔ میری خواہش یہ ہے کہ میں صرف دہلی کے مسلم علاقوں کے ان ایم ایل ایز کے چہروں سے آپ کو واقف کراسکوں جنہوں نے 15سالوں میں بھی کوئی کام نہیں کیا اور پوری دہلی کے مسلم علاقوں کو سلم بنا کر رکھ دیا۔ ایک سال پہلے صرف کانگریس سے جیتنے والے شعیب اقبال، حسن احمد، چودھری متین، آصف محمد خاں اور ہارون یوسف ان سب کی ہار کے کیا اسباب ہوئے؟کیا اس کی وجہ عام آدمی پارٹی کی لہر تھی جیسے اب سے 10 مہینے پہلے بی جے پی کی تھی اور دہلی کی ساتوں لوک سبھا

Read more

مودی حکومت نے نکالا مسلم اداروں کو نشانہ بنانے کا خطرناک طریقہ

ہم صحافیوں کو کبھی کبھی کچھ ایسے ایشوز مل جاتے ہیں جو کسی بھی طرح درگزر نہیں کئے جاسکتے ہیں۔ دہلی الیکشن کے ہنگاموں نے ایک ایسی خبر منظر عام پر آنے نہیں دی جو اقلیتوں کے تعلق سے بہت تشویشناک تھی ۔کہیں میں نے پڑھا کہ مودی حکومت مسلم تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کے لئے نئے نئے طریقے اختیار کررہی ہے اور وہ بھی کوئی ڈھکے چھپے طریقوں سے نہیں بلکہ کھلم کھلا۔

Read more

ایک بار پھر مظفر پور فساد مسلمانوں پر قہر بن کر ٹوٹا

دہلی کی فضا الیکشن کے ہنگاموں سے گرمائی ہوئی ہے ۔پورا میڈیا صرف کرن بیدی ،کجریوال اور اجے ماکن اور ان کے ترجمان سے انٹرویو کرنے اور بحث و مباحثہ میں لگا ہوا ہے ۔کسی کو یہ خیال نہیں کہ اس ہندوستان کی بے حد اہم ریاست بہار کے عزیز پور میں شر پسندوں کے ہاتھوں آدھے درجن مسلمان شہید کر دیئے گئے ہیں۔ہندی ،انگریزی اردو اخبارات نے تو اس پر کافی کچھ لکھا لیکن الکٹرانک میڈیا خاموش رہا اور شور مچا تو صرف سیاسی بازی گروں پر ہر چینل میں پرائم ٹائم،سوپر پرائم ٹائم ، مختلف Debats لگاتار دہلی کے الیکشن پر ٹی آر پی بڑھانے کا عمل جاری رہا۔ بہار کے مظفر پور ضلع کے عزیز پور میں ایک گائوں جل کر ملبہ اور راکھ کا ڈھیر بن گیا ۔ہر بار جب بھی کہیں فساد ہوتا ہے تب مجھے سعادت حسن منٹو کا افسانچہ ’فساد کیسے ہوا‘یاد آجاتا ہے۔جس میں صرف ایک پتھر کہیں سے آجانے پر فساد ہوجاتاہے اور جب پورا شہر فساد کی آگ مں جل جاتا ہے اور چاروں طرف لاشیں بکھر جاتی ہیں تب کوئی ایک ذی ہوش پوچھتا ہے ۔بھائی آخر فساد کیسے ہوا؟اور تب ایک چشم دید گواہ بتاتا ہے کہ صرف ایک پتھر کہیں سے آکر گرا اور فساد ایسے ہوا؟۔

Read more

انا کے بچے کام پر لگ گئے

ایک کارٹون پر نظر پڑی جو کہ مشہور کارٹونسٹ نیلبھ ٹوسن کا تھا جس میں کجریوال اور کرن بیدی پریس کانفرنس کررہے ہیں اور سیاست میں داخل ہورہے ہیں، وہیں دوسری طرف انا ہزار ے خاموش کھڑے ہیں ۔اس کارٹون کا عنوان بھی یہی تھا کہ ’کجریوال اور کرن بیدی سیاست میں داخل ہو گئے اور انا اکیلے کھڑے رہ گئے‘۔

Read more

فرانس دہشت گردانہ حملہ ,اسلامی عمل تو ہر گز نہیں ہو سکتا ہے

ایک صحافی سے ایک شخص نے ایک عام سا سوال کیا کہ کون سی کار سب سے اچھی جدید ٹکنالوجی سے لیس ہے۔ صحافی نے جواب دیا ’’اولس رائس‘‘ اور اس کے ساتھ ہی اس نے اسی کار کے بہترین ہونے کے کئی ثبوت بھی پیش کئے کہ جدید مشینری اور جدید آلات سے سجی ہوئی یہ کار یقینا بہترین کہی جاسکتی ہے۔اسی شخص نے پھر سوال کیا کہ اگر یہ کار کسی ناتجربہ کار ڈرائیور کے ہاتھوں میں سونپ دی جائے اور حادثہ کا شکار ہوجائے تو کون ذمہ دار ہوگا؟ صحافی نے جواب دیا یقینا ڈرائیور ہی ذمہ دار ہوگا ۔اس شخص نے پھر سوال کیا کہ پھر اس روئے زمین پر اسلام کو کیوں بدنام کیا جارہا ہے جبکہ ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو اس مذہب پر جان دینے

Read more

پشاور اسکول سانحہ ایک اور زخم دے گیا

ایسا لگتا ہے 16دسمبر کی تاریخ ہندوستان و پاکستان کے لئے ایک منحوس تاریخ بن گئی ہے۔دو سال پہلے 16دسمبر 2012 کو ہندوستان میں ایک معصوم لڑکی گھنائونے عمل سے گزرتی ہوئی کچھ بھیڑیوں کی ہولناک درندگی کا شکار ہوگئی اور تمام دنیا اس بہیمانہ عمل پر ساکت ہوکر رہ گئی ۔ایک بار پھر یہ تاریخ ایک ایسا زخم دے گئی ہے جس کو شاید ہی صدیاں بھلا پائیں گی۔16دسمبر پاکستان کے لئے بھی قیامت لے کر آئے گا ،ایساکوئی سوچ بھی نہیں سوچ سکتا تھا، وہ بھی ان معصوم بچوں کے لئے جو صبح صبح نہا دھوکر اپنا بستہ اور ٹفن لے کر معصوم آرزوئوں کے ساتھ گھر سے نکلے تھے ،جن کی مائوں نے صبح صبح اٹھ کر ان کے لئے ناشتہ بنایا ہوگا ،اپنے ہاتھوں سے ان کو سجایا سنوارا ہوگا اور اسکول کی محفوظ پناہ گاہ میں بھیجا ہوگا،یہ سوچ کر یہ بچے بڑے ہوکر اپنا اور ان کا مستقبل سنواریں گے لیکن ان کی آن میں کھلکھلاتے ،ہنستے یہ پھول خاک و خون میں نہا گئے۔

Read more

ہندو و پاک تعلقات : سیاسی رشتے جیسے بھی ہوں ، تہذیبی، تجارتی وثقافتی رشتے مضبوط ہونے چاہئیں

ہمارا میڈیا بار بارکٹھمنڈو میں سارک کانفرنس کی ایک تصویر دکھا رہا تھا جس میں ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی ادائے بے نیازی سے کوئی میگزین یاسارک کانفرنس سے متعلق کوئی لٹریچر پڑھ رہے ہیں اور دوسری طرف ان کے پاکستانی ہم منصب نواز شریف ان کے عقب سے خاموشی سے گزرتے ہوئے اپنی نشست تک چلے جاتے ہیں۔اُدھر مودی آنکھ اٹھاکر ان کی جانب نہیں دیکھتے اور اِدھر نواز شریف ان کے وجود کو نظر انداز کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں۔بس اسی لمحہ کو قید کرکے میڈیا کو موقع مل جاتا ہے اور اسے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی سرد جنگ کا نام دے دیا جاتا ہے۔ لیکن جب سارک کانفرنس کے آخری دن دونوں سربراہان ملتے ہیں اور ایک دوسرے سے گرمجوشی سے ہاتھ ملاتے ہیں تو بھی کوئی خوشی اس لئے نہیں ہوتی کیونکہ اسی وقت جموں و کشمیر میں ارینا سسیکڑ پر پاکستانی دہشت گرد ایک خالی بنکر پر حملہ آور ہوتے ہیں اور ہمارے 3 جوان اور 3 شہری مارے جا چکے ہوتے ہیں۔

Read more

بابا ، صوفی، سادھو، سنت ، آشرم ، درگاہیں ہمیں تو سب نے لوٹا ہے

مجھے یاد ہے ہمارے بچپن میں جب بھی ہمارے گھر میں کوئی سادھو، سنت یا کوئی بابا جھولا کندھے پر لٹکائے ہوئے بھیک یا دکشا مانگنے آتا تھا تو ہم دوڑے ہوئے جاتے تھے اور اس کی جھولی میں آٹا، چاول، پیسے یا جو بھی ہم کو ہماری والدہ دیتی تھیں وہ ڈال دیا کرتے تھے ۔اس وقت گھر کی کچھ توہم پرست عورتیں ان سادھوئوں ، سنتوں کو احترام کی نظر سے دیکھتی تھیں اور کبھی ان کی بڑی بوڑھیاںان سے بچنے کی بھی نصیحت کرتی تھیں لیکن زیادہ تر گھر کی بزرگ عورتیں یہ سوچتی تھیں کہ یہ سب ڈھونگی لوگ ہیں۔ بچوں کو اپنی جھولی میں ڈال کر لے جاتے ہیں یا پھر کوئی نشیلی چیز کھلا کر اپنے پیچھے لگا کر لے جاتے ہیں۔ ہماری سمجھ میں کبھی یہ بات نہیں آئی کہ آخر یہ سیدھے سادھے ، پھٹے پرانے کپڑوں میں رہنے والے سادھو، سنت کیسے شاطر چالاک یا بچوں کے چور ہو سکتے ہیں، لیکن اس وقت بھی یہ اندھ وشواس بہت زیادہ تھا اور بھولی بھالی معصوم عورتیں ان پر یقین کر کے کبھی ان کو اپنا زیور دگنا کرانے کے نام پر یا کبھی شوہر، ساس کے مظالم سے چھٹکارہ پانے کے نام پر ٹھگی جاتی تھیں۔

Read more

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی : میڈیا کو مسلم ایشوز سے کھیلنے کا بہانہ چاہئے

کوئی بھی مسلم ایشو ہو ،میڈیا اس پر خوب کھیلتا ہے بلکہ یوں سمجھئے کہ مسلم ایشو تو جیسے ان کے لئے ٹی آر پی بڑھانے کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے۔ہر چینل پر مسلم چہروں کی باڑھ آجاتی ہے جو کبھی کسی پلیٹ فارم پر نہیں آئے ،چینل ان کی بھی رائے لے کر مقصد خوب پورا کرتے ہیں ۔ جب سے مودی وزیر اعظم بنے ہیں تب سے تو چینل نے جیسے مودی بنام مسلمان کا کھلونا ہاتھ میں لے لیا ہے اور اسی سے رات دن کھیل رہے ہیں اور اب ایسا ہی ایک ایشو میڈیا کو مل گیا ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مولانا آزاد لائبریری میں لڑکیوں کے داخلہ کا۔

Read more