علی گڑھ مسلم یونیورسٹی : میڈیا کو مسلم ایشوز سے کھیلنے کا بہانہ چاہئے

کوئی بھی مسلم ایشو ہو ،میڈیا اس پر خوب کھیلتا ہے بلکہ یوں سمجھئے کہ مسلم ایشو تو جیسے ان کے لئے ٹی آر پی بڑھانے کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے۔ہر چینل پر مسلم چہروں کی باڑھ آجاتی ہے جو کبھی کسی پلیٹ فارم پر نہیں آئے ،چینل ان کی بھی رائے لے کر مقصد خوب پورا کرتے ہیں ۔ جب سے مودی وزیر اعظم بنے ہیں تب سے تو چینل نے جیسے مودی بنام مسلمان کا کھلونا ہاتھ میں لے لیا ہے اور اسی سے رات دن کھیل رہے ہیں اور اب ایسا ہی ایک ایشو میڈیا کو مل گیا ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مولانا آزاد لائبریری میں لڑکیوں کے داخلہ کا۔

Read more

خالد مجاہد کیس میں عدالتی فیصلہ: ’چوتھی دنیا‘کے اندیشے کی تصدیق

کچھ ایشوز ایسے ہیں جن پر ’’ چوتھی دنیا‘‘ ہی ہمیشہ آواز اٹھا تا رہا ہے اور اس نے ان ایشوز کو نہ مرنے دیا نہ ہی دبنے دیا۔حالانکہ گزرتے وقت کے ساتھ میڈیا اور حکومت نے ان کو بھلا دیا لیکن ’’ چوتھی دنیا‘‘ کی کاوشیں جاری رہیں ۔میرٹھ کے ملیانہ ،ہاشم پورہ کا معاملہ ہو یا کوئلہ گھوٹالہ،رنگاناتھ مشرا کمیشن رپورٹ ہو یا پھر بے گناہ مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کا معاملہ ۔اس معاملے کو بار بار اٹھایا جاتا رہا ہے تاکہ وقت کی گرد ان کو مٹانہ دے اور مظلومین بغیر انصاف پائے وقت کے بے رحم مزاج کی نذر نہ ہوجائیں۔

Read more

کشمیریوں کے لئے کہیں عذاب نہ بن جائے اسمبلی الیکشن

ہندوستان کی سیاست میں ہر دن نئے موڑ آتے رہتے ہیں۔ کبھی ہریانہ کا وزیر اعلیٰ مسند نشیں ہوتا ہے اور کبھی مہاراشٹر کا، اور اسی کے ساتھ ساتھ جمہوری عمل بھی اپنے دائرہ میںکام کرتا رہتا ہے۔ حال ہی میں الیکشن کمیشن نے جموں و کشمیر اور جھارکھنڈ میں ریاستی اسمبلی کے الیکشن کی تاریخوں کا اعلان بھی کردیا ہے۔ 5مراحل میں مکمل ہونے والا یہ الیکشن کیا رخ لے گا؟سیاست کا کون سا مُہرہ کیسے کام کرے گا ؟کون جیتے گا اور کون ہارے گا ؟یہ سب تو بعد کی بات ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیا اس وقت جبکہ ریاست جموں و کشمیر صدی کے سب سے بھیانک سیلاب میں سب کچھ لٹا کر نکلی ہے ۔کیا اس وقت اسمبلی الیکشن ہونا صحیح

Read more

میری دلی، میری شان، سفل رہے سوچھ ابھیان

دو اکتوبر یعنی گاندھی جینتی کے دن سے نریندر مودی نے ’کلین انڈیا‘یا ’سَوَچھ ابھیان‘ شروع کیا ہے۔ اس’ سوچھ ابھیان‘ کو لے کر لگاتار تعریف و تنقید کی جارہی ہے۔کانگریسی لیڈر اس کو گاندھی جی کی اہمیت ختم ہونے اور مودی کو اپنی شبیہ مضبوط بنانے سے تعبیر کر رہے ہیں تو دوسری پارٹیوں کے لیڈران اس کو ڈرامہ کہہ رہے ہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اس ’سوچھ ابھیان ‘ کے ذریعے پورے ملک کے فوٹو گرافرز کے مزے آگئے ہیں۔سرکاری محکموں میں ’کلین انڈیا‘ کے نام پر خوب موج مستی ہوئی اور فوٹو کھنچوائے گئے ۔صاف ستھری سڑکوں پر زبردست پوز دے کر فوٹو گرافی ہوئی ۔ خوبصورت اور اورنج اور کالی دھاری والی ساڑی میں سمرتی ایرانی ایک میٹھی سی مسکراہٹ کے ساتھ چمکتی صاف سڑک پر جھاڑو لگاتی نظر آئیں ۔ خود مودی جی اسکائی بلیو کرتے اور سفید بے داغ پائجامہ میں جھاڑو لگارہے تھے، یہ جانے بغیر کہ جو لوگ گندگی صاف کرتے ہیں ان کو سفید چمکتا ہوا پائجامہ پہننا ہی نصیب نہیں ہوتا ۔روی شنکر پرساد ، مرکزی ٹیلی کام وزیر بھی سفید کرتا پائجامہ میں ایک ماربل والے پتھر کے فرش پر جھاڑو لگا رہے تھے۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ پریس کونسل آف انڈیا کے چیئر مین جسٹس کاٹجو جو کبھی کسی دکھاوے یا ڈرامہ کا حصہ نہیں بنتے ،ان کے ہاتھ میں بھی ایک جھاڑو تھی اور چہرے پر مسکراہٹ۔ غرضیکہ سبھی بی جے پی لیڈران پرکاش جائوڈیکر ،ہرسمرت کور بادل، نجمہ ہپت اللہ سب خوشی خوشی جھاڑو لے کر فوٹو کھنچواتے رہے اور گندگی کے انبار جہاں تھے وہیں لگے رہے۔

Read more

چین دراندازی روکے اور ایمانداری برتے تبھی دوستی ممکن

یہ مہینہ ہندوستان میں سفارتی سرگرمیوں کا مہینہ رہا ہے۔ویسے تو نریندر مودی جب سے وزیر اعظم بنے ہیں، سفارتی تعلقات کو لے کر خوب ہی سرخیوں میں رہے ہیں۔سارک ممالک کے سربراہان کو دعوت اور خاص طور پر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو خصوصی دعوت نامہ دینے پر مودی تعریف و تنقید کا خوب نشانہ بنے لیکن جب اس مہینہ کی بات کریں تو ابتدا میں مودی جاپان کے کامیاب دورے کے بعد وطن واپس آئے تو اب چین کے وزیر اعظم ہندوستان تشریف لے آئے ۔ اس مہینہ کے آخیر میں نریندر مودی امریکہ جارہے ہیں اور ایسا سمجھا جارہا ہے کہ چینی صدر کے دورہ ہند اور پھر وزیر اعظم مودی کے دورہ امریکہ سے نہ صرف ہندوستان کی شبیہ دنیا کے ممالک میں بہتر ہوگی بلکہ ہمارے سفارتی تعلقات سے ایک نئی طاقت بھی ملے گی۔

Read more

یو پی میں اردو کو دوسری زبان کا درجہ: خوش ہونے کا نہیں لائحہ عمل تیار کرنے کا وقت

تمام آئینی تحفظات اور حکومت کے وعدوں کے باوجوداردو کو اس کاصحیح حق نہیں ملا ،لیکن سپریم کورٹ آف انڈیا نے حال میں ہی اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کے تعلق سے جو فیصلہ سنایا ہے وہ تاریخی اور بروقت ہے اور اردو کو اسکا جائز حق عطا کرتا ہے‘‘۔یہ الفاظ ہیں سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ اور ماہر قانون جناب فالی ایس نریمان (Fali S Nariman)کے جو انہوں نے کانسٹی ٹیوشن کلب کے اسپیکرہال میں قومی اقلیتی کمیشن کی جانب سے منعقد ایک خصوصی لکچرمیں کہے۔ قومی اقلیتی کمیشن نے اپنے 7ویں سالانہ لکچر 2014 میں جس شخصیت کو دعوت دی تھی،وہ بے حد قابل اور بے حد سینئر قانون داں فالی نریمان تھے اور جنہوں نے بلند و بانگ یہ الفاظ کہے اور بے حد کچھاکھچ ہال میں تالیوں کی گڑ گڑاہٹ میں انہوں نے یہ ثابت کردیا کہ اردو کو اب جاکر اسکا جائز حق ملا ہے۔ حیرت کی بات تو یہ تھی کہ اقلیتی کمیشن کا پروگرام تھا ،بات اردو

Read more

خطرناک بھنور میں پھنس گیا پاکستان

پاکستان پھر سے ایک بار خطرناک بھنور میں پھنس گیا ہے ۔ جانے کیسی بدقسمتی ہے اس ملک کی کہ کبھی استحکام ہی نصیب نہیں ہوتا۔ میرے بچپن سے آج تک میں نے کبھی پاکستان کو مضبوط جمہوریت کے ساتھ نہیں دیکھا۔ ہمیشہ ہی انتشار اور بدامنی اس ملک کی قسمت رہی ہے۔ ہمیں یاد ہیہمارے بچپن میں ہمارے رشتے دار پاکستان میں موجود اپنے رشتے داروں کو خط بھیجنے کے لئے کیسے کیسے دھکے کھاتے تھے۔ کبھی پاکستانی ایمبیسی کے چکر لگاتے تھے کہ کوئی آتا جاتا ہو تو اسے دے دیں ، کبھی دبئی وغیرہ جانے والوں کو خط دے دیا کرتے تھے ۔ اب سے کوئی 20سال پہلے ہمارے ایک رشتے دار کا پاکستان میں انتقال ہو گیا تو ہمیں خبر ایک مہینے بعد ملی ۔ ہمیں تو یہ بھی یاد ہے کہ اگر پاکستان میں کسی کے بے حد قریبی عزیز کا انتقال ہو جاتا تھا تو یہاں انڈیا رہ کر بھی اسی طرح اس کی پھول فاتحہ سب کی جاتی تھیں۔ جس گھر کا وہ فرد ہوتا تھا، اس گھر

Read more

پاکستان پھر سے فوجی حکومت کے نشانے پر

پندرہ اگست کو ہندوستان کا جشن آزادی تھا اور اس سے صرف ایک روز قبل یعنی 14 اگست کو پاکستان جشن آزادی مناتا ہے ۔لیکن اس مرتبہ پاکستان کے جشن آزادی پرتشویش اور خوف کے بادل منڈلاتے رہے اور پورا پاکستان دہلتا رہا۔ کیونکہ عمران خاں کی’ تحریک ِ انصاف پارٹی‘ اور طاہر القادری کی’ عوامی تحریک‘ نے مل کر نواز حکومت کے خلاف ایک بڑی ریلی نکالا اور اس ریلی کا نام رکھا ’’ آزادی مارچ‘‘۔اس ریلی کی ابتدا لاہور سے ہوئی اور اس کی آخری منزل دارالحکومت اسلام آباد تھی۔ہم نے جس وقت یہ خبر یعنی 13 اگست کی رات سنی تو دل دہل گیا کہ اللہ خیر کرے،پاکستان میں ایک بار پھر فوجی حکومت دستک دے رہی ہے۔ کافی دن سے ہندوستان کے سیاسی گلیاروں میں یہ خبر گردش کررہی تھی کہ پاکستان میں نواز حکومت کا تختہ پلٹنے کی تیاری ہے اور شاید پھر سے فوج کا قبضہ ہوجائے۔ پاکستان کی سیاست میں فوج جو بھی رول ادا کرتی ہو ،دونوں ممالک میں بسنے والوں کے دل اس طرح کی خبروں سے دہل جاتے ہیں۔ آزادی کے 67 سالوں میں یوں تو تقسیم کے بعد دونوں ممالک کے کافی عزیز و اقارب اب اس دنیا میں نہیں ہیں،لیکن ابھی بھی ہند وپاک دونوں ملکوں میں ایک دوسرے کے رشتہ دار رہتے ہیں ۔کسی کے دادا دادی، کسی کے چچا تایا ،کسی کے سگے بہن بھائی جن کو تقسیم نے جدا کردیاہے ،وہ سبھی لرز جاتے ہیں یہ سوچ کر کہ ویسے بھی ویزا کی مشکلات بے پناہ ہیں ۔اب تو اور جانے اپنوں کی شکلیں دیکھنا نصیب ہوںگی یا نہیں۔

Read more

جناب ایسے مناتے ہیں ہم جشنِ آزادی

ہماری آزادی 67سال کی ہوگئی ہے۔ یعنی جس عمر میں ہمارے ملک میں کوئی بھی شخص ریٹائرڈ ہو کر بس آخری پڑاؤ کی طرف گامزن ہوتا ہے، ہماری آزادی بھی اس آخری پڑاؤکی طرف جارہی ہے۔ لیکن، کیا ہم اس آزادی کے بوڑھے ہونے پر فخر سے یہ کہہ سکتے ہیںکہ بچپن اور جوانی اس کی لاجواب رہی ہے۔ نہیں کہہ سکتے، کیونکہ آزادی کے 67سال بعد بھی ہمارے ملک میں غریبی، بے روزگاری، بھکمری، جہالت، بدعنوانی، فرقہ پرستی اور توہم پرستی سے نہ تو ہمیں نجات ملی ہے اور نہ ہی ہم ملک کی اقتصادی حالت سدھار پائے ہیں۔ پھر یہ کیسی آزادی ہے؟ آج بھی اقلیتوں پر اور خاص طور پر مسلمانوں پر ،جس طرح بھی مظالم ڈھائے جارہے ہیں، اس نے تو جیسے آزادی کا مقصد ہی ختم کردیا ہے۔ ہمیں بار بار یہ بتانا پڑتا ہے ، جتانا پڑتا ہے کہ یہ ملک ہمارا بھی ہے، اس ملک کو آزادی دلانے میں ہمارے بزرگوں کا بھی اتنا ہی حصہ ہے، جتنا دوسروں کا ہے۔

Read more

یہ مسلمانوں کو فسادات میں برباد کرنے کی منظم سازش ہے

ہم نے اپنے ہوش میں میرٹھ، ملیانہ، ہاشم پورہ کا فساد دیکھا ہے۔ اور اس فساد میں پی اے سی کی گولیوں نے کیسے بے گناہ مسلمانوں کو لائنوں میں کھڑا کرکے گولیاں ماری اور کیسے لاشوں کو نہر میں بہا دیا گیا ،وہ دلدوز خبریں بھی پڑھی ہیں ۔ہمارے ہوش میں گجرات کا فساد بھی ہوا۔ اس میں بھی مسلمانوں کے گائوں کے گائوں برباد کردیے گئے ۔حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کرکے بچوں کو نیزوں پر لٹکا دیا گیا ۔یہ بہیمت ،یہ بربریت اس مہذب دور میں تسلیم کرنے کو جی نہیں چاہتا تھا لیکن ایسا ہوا اور پھر مظفر نگر کا فسا ہوا جس میں پھر مسلمانوں پر ظلم و ستم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور تبھی سے یہ خوف و احساس ہمارے اندر جڑ پکڑتا گیا کہ جہاں بھی کہیں ہندو مسلم فساد ہوتا ہے مسلمان ہی مارے جاتے ہیں۔ ان پر ہی ظلم ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اندزہ ہوتا گیا کہ نہ عام ہندو لڑنا چاہتا ہے نہ عام مسلمان ۔یہ تو سیاست داں ہیں جو اپنی بازی گری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور پھر لاشوں کی تجارت کرکے تجوریاں بھرتے ہیں ۔ان سب میں جو بھی ادراک ہوتا گیا وہ اپنی جگہ لیکن فسادات کی وجہ سے سیاست دانوں اور سیاسی پارٹیوں سے نفرت بھی جڑ پکڑتی گئی۔

Read more
Page 12 of 35« First...1011121314...2030...Last »