کالا ہانڈی کا دردناک واقعہ انسانیت کی موت ہے

انسانیت سوز واقعات دنیا میں کہیں بھی ہوں،شرمناک ہیں۔ایسے واقعات درحقیقت یہ بتاتے ہیں کہ انسانیت مررہی ہے۔ ماضی قریب میں خانہ جنگی کے نتیجے میں شام میں ایلن کردی کی لاش و دیگر معصوم بچوں کی حالت زار کی جو تصاویر منظر عام پر آئیں تو ہر شخص بلا لحاظ مذہب و ملت دہل اٹھا۔ اسے تو یہ کہہ کر نمٹنے کی کوشش کی گئی کہ معاملہ خانہ جنگی کا ہے اور وہاں بحرانی کیفیت ہے ،مگر 24اگست 2016کو ریاست اڑیسہ کے کالا ہاندی میں جو کچھ ہوا ہے ،اس کی تو کوئی توضیح کی ہی نہیں جاسکتی ہے۔

Read more

قائدین کو دلچسپی نہیں بنیادی مسلم مسائل سے

یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی اجتماعی قیادت کا فقدان ہے۔تنظیموں اور اداروں کے جو قائدین ہیں وہ مسلک اور مکتبہ فکر کی بنیاد پر اپنے اپنے پیروکاروں کے رہنما ہیں۔ان کا ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں سے نہ کوئی ربط ہے اور نہ ہی کوئی سروکار۔ یہی وجہ ہے کہ عام مسلمانوں کے بنیادی مسائل میں وہ کوئی اہم کردار ادا نہیں کرپاتے ہیں۔انہی امور کا یہاں جائزہ لیا جارہا ہے۔

Read more

نیا قومی تعلیمی پالیسی ڈرافٹ سیکولر اور عوامی امنگوں کا ترجمان نہیں

بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت چلی ہے ملک کو فرنگیوں اور دیگر اثرات سے آزاد نئی قومی تعلیمی پالیسی دینے ۔ مگر ڈرافٹ کی تفصیلات پر نظر ڈالتے ہی یہ محسوس ہوجاتا ہے کہ اس کی اصل منشا گنگا جمنا تہذ یب والے سیکرلر اور عوامی امنگوں کے ترجمان نظریوںکو ختم کرکے ہندوستان کو ایک مخصوص ایک رخی نظریہ کی طرف لے جانا ہے۔ عام عوام خصوصاً مسلمان، دیگر اقلیتیں اورکمزور طبقات اس ڈرافٹ سے صرف غیر مطمئن ہی نہیں ،خوفزدہ بھی ہیں۔ اس کا اندازہ ان کے اندر پائی جانے والی بے چینی اور خوف و ہراس سے ہوتا ہے۔ اس رپورٹ میںان ہی باتوں کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے اور مشورے دیے گئے ہیں۔ آئیے، دیکھتے ہیںکہ کس طرح موجودہ شکل میں یہ ڈرافٹ ملک کے عوام کو منظور نہیں ہے۔

Read more

مسلمانوں کے مسائل، نوجوانوں کی گرفتاریاں، بے شمار سوالات مگر جواب کسی کے پاس نہیں

ایک کرم فرما سے مسلمانوںکے مسائل پر لگاتار بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ بڑے جانور کی ذبیحہ پر روک لگانے کے لئے مہاراشٹر کے فیصلے پر وہ محترم میری رائے جاننا چاہتے تھے۔ میں نے تلخ لہجہ میں ان سے کہا دیکھئے پھر الجھا دیا مسلمانوں کو ایک نئے مسئلہ میں۔ ارے مسلمانوں کو ان مسائل سے اوپر اٹھنے دو ۔ان کو اب بابری مسجد، گجرات فساد، ہاشم پورہ، ملیانہ سے اوپر اٹھ کر سوچنے دو ان کی نئی نسلوں کو اب صرف اور صرف تعلیم چاہئے، مسلم نوجوانوں کوجامعہ ملیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار سے زیادہ ان اداروں میں داخلے لینے اور اپنی علمی و تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ بڑے جانوروں کی ذبیحہ ہو یا چھوٹے

Read more

ایک کسان کی خودکشی سبھی پارٹیوں کی چاندی

سیاست ایک گندا کھیل ہے۔پر کیوں؟ہمارے ذہن میں ہمیشہ یہی سوال گونجتا رہا جب تک کہ ہم شعور کی اس حد تک نہیں پہنچ گئے جب تک خود تھوڑے بہت سیاسی دائوں پینچ کھیلنے نہیں آگئے۔لیکن ہماری سیاست میں تو معصومانہ سی ایک خواہش اچھی سی نوکری اور چھوٹے موٹے عہدے تک محدود رہی۔سیاست دانوں کی عقل اور ان کے سیاسی شعور کو ہمارا دماغ کہاں پہنچ سکتا تھا بھلا۔ کیونکہ کوئی ایسا موقع ،کوئی ایسا حادثہ ،کوئی ایسا سانحہ ہمیں یاد نہیں آتا کہ ہمارے سیاست دانوں نے جس کو کیش نہیں کیا ہو۔پھر وہ ایک کسان کی موت پر کیوں خاموش بیٹھتے ۔آخر گجیندر کو کس نے مارا یہ سوال پوچھنا ایک حماقت ہی تو ہے۔

Read more

اردو دشمنی کا نیا طریقۂ کارآپ تو ایسے نہ تھے

اقلیتوں سے کئے گئے تمام وعدوں کو پورا کرنے میں مرکزی حکومت مصروف ہے، یہ بیان اقلیتی امور کی وزیر ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ کا ہے۔ہوسکتاہے نجمہ ہپت اللہ صحیح کہہ رہی ہوں لیکن ہم ان کے اس بیان کو کیسے تسلیم کریں جبکہ اقلیتوں کے ساتھ ان کی مادری زبان کو لے کر ہی ناانصافی کی جارہی ہے۔ ایک ہی دن دو متضاد خبروں پر ہماری نظر پڑتی ہے تو نجمہ ہپت اللہ کے اس بیان میں صرف سیاسی شعبدہ بازی اور و عدے وعید کے سوا کچھ نظر نہیں آتاہے کیونکہ اس دن یہ بھی خبر ملتی ہے کہ نئے داخلہ فارم سے تیسری زبان کا آپشن ختم کردیا گیا ہے۔ ظاہر ہے اس خبر سے اردو والوں کو سخت دھکا لگا ۔مجھے یاد ہے جب میں بحیثیت اردو استاد کے درس و تدریس کے فرائض انجام دیتی

Read more

جشن ریختہ: اردو کا ایسا جشن نہ دیکھا نہ سنا

انڈیا انٹر نیشنل سینٹر کا وسیع و عریض سبزہ زار، ہلکی ہلکی سی پھوار پڑتی ہوئی، ٹھنڈی ٹھنڈی بھیگی ہوا سے درخت و پتے جھومتے ہوئے، روشنیاں، میوزک، خوبصورت ساز و آواز کا سنگم اور پورا فائونٹین لان اردو کے متوالوں سے کچھا کھچ بھرا ہوا۔یہ منظر جشن ریختہ کا ہے ۔ریختہ ایک ایسے اردو کے متوالے، اردو زبان کے دیوانے کی کاوش ہے جس نے اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی اور اردو کو غیر اردو داںحضرات تک پہنچانے کے لئے جنون کی تمام حدوں کو چھولیا ہے۔ سنجیو صراف ایک ایسے ہی اردو کے عاشق کا نام ہے جس نے اپنی ریختہ فائونڈیشن کے ذریعہ اردو کی بقاء اور اردو کو عروج دینے میں منفرد کام کیا ہے۔

Read more

لو کجریوال کا بھی بھرم ٹوٹ گیا

تیس دن کی عام آدمی پارٹی کی سرکار خطوط کی سیاست، بلاگ بازی اور اسٹنگ میں الجھتی نظر آرہی ہے۔ لیڈروں کی آپسی رنجش اب سڑک پر آگئی ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جن مسلمانوں نے اس بار پوری طرح عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا تھا اور یہ سوچ کر دیا تھا کہ کانگریس اور بی جے پی کا ایک اچھا متبادل مل گیا ہے، ان کو یقیناً شدید مایوسی ہوئی ہوگی، کیونکہ عام آدمی پارٹی بھی وہی جوڑ توڑ کی سیاست کر تی نظر آرہی ہے، جس کی وہ مخالفت کرتی رہی ہے۔ مسلمانوں کو کجریوال بھی ایک ووٹ بینک سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے، یہ بھی واضح ہوگیا ہے۔ مارچ کا مہینہ عام آدمی پارٹی کے لیے مصیبت بھرا پیغام لے کر آیا ہے۔ ہمیں تو اس بات پر حیرت ہو رہی ہے کہ اگر یہ اسٹنگ صحیح ہے، تو پھر کجریوال کا بھرم ٹوٹنے کے ساتھ ہی سرکار ٹوٹنے میں بھی شاید کم ہی وقت لگے۔

Read more

ریلوے بجٹ بے حد مایوس کن

ریل ہمارے ملک میں بڑا ہی رومانی تصور پیش کرتی ہے۔ شاید ہی کوئی دوسرا اد ب ریل کا ایسا تصور پیش کرسکے جیسا کہ ہندوستانی شعراء نے کیا ہے۔ مجاز نے ریل کے چلنے،بڑھنے اور لہرانے کا غضب نقشہ کھینچا ہے جیسے کہ کوئی خوبصورت عورت ناگن کی طرح جھومتی ہوئی جارہی ہو۔کبھی وہ ریل کو محبوب سے ملنے کا ذریعہ بتاتے ہیں ،کبھی اس کے لہرانے کو محبوب کے شرمانے سے تعبیر کرتے ہیں ۔
ایک زمانہ تھا جب ہم اپنے بچپن میں ریل کے سفر کے لئے بہت زیادہ بے تاب رہتے تھے اور سوچتے تھے کہ ریل کا سفر کتنا دلکش اور حسین ہوتا ہوگا۔لہلہاتے سرسبز کھیت، دریا، پل، شہر درشہر گزرنا بڑا ہی رومانٹک لگتا تھا، لیکن جب پہلی بار ریل کا سفر کیا تو ہوش اڑگئے۔ بے حد گندے غلیظ ڈبے، تعفن سے بھرے ٹوائلٹ، پان کی پیکوں سے بھرے ہوئے واش بیسن۔ سارا رومانس ہوا کے دھوئیں کی طرح اڑن چھو ہوگیا۔

Read more

دہلی کانگریس کے مسلم امیدواروں کو لے ڈوبی عدم کارکردگی

دہلی الیکشن میں ہر آدمی عام آدمی پارٹی کی تاریخی جیت پر حیران ہے اور سبھی اخباروں نے اپنے اپنے طریقوں سے تجزیئے اور رد عمل پیش کئے ہیں۔ میری خواہش یہ ہے کہ میں صرف دہلی کے مسلم علاقوں کے ان ایم ایل ایز کے چہروں سے آپ کو واقف کراسکوں جنہوں نے 15سالوں میں بھی کوئی کام نہیں کیا اور پوری دہلی کے مسلم علاقوں کو سلم بنا کر رکھ دیا۔ ایک سال پہلے صرف کانگریس سے جیتنے والے شعیب اقبال، حسن احمد، چودھری متین، آصف محمد خاں اور ہارون یوسف ان سب کی ہار کے کیا اسباب ہوئے؟کیا اس کی وجہ عام آدمی پارٹی کی لہر تھی جیسے اب سے 10 مہینے پہلے بی جے پی کی تھی اور دہلی کی ساتوں لوک سبھا

Read more