پاکستان تیزی سے خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے

پاکستان کے حالات کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ کب کیا صورت حال اختیار کرلے۔بم دھماکے اور خود کش حملے روز کا معمول بن چکے ہیں۔مذہبی منافرت اور عبادت گاہوں پر حملے عام بات بن چکی ہے۔ان دھماکوں میں اب تک سینکڑوں بے گناہوں کی جانیں جاچکی ہیں۔ہر دھماکے کے بعد حکومت حرکت میں آتی ہے ،دہشت گردوں کے خلاف کچھ کارروائیاں کرتی ہے ،کچھ لوگوں کی پکڑ دھکڑ ہوتی ہے اور پھر سب کچھ جوں کا توں چلنے لگتا ہے۔ابھی حال ہی میں صوبہ سندھ کے شکارپور کے امام باڑے میں ایک دھماکہ ہوا اور 57 افراد کی جانیں چلی گئیں۔اس سے پہلے پشاور میں ایک آرمی اسکول پر حملہ ہوا اور 132 بچے سمیت 142 افراد کی جانیں چلی گئیں۔یہ دو بڑے واقعات بالکل تازہ ہیں ورنہ چھوٹے چھوٹے تو متعدد واقعات ہوتے رہے ہیں۔

Read more

فرانس: دوبارہ کارٹون کی اشاعت سے مسلمانوں میں سخت اشتعال

فرانس کی ایک میگزین چارلی ایبڈلو نے نبی پاک کا توہین آمیز کارٹون شائع کیا۔اس کارٹون کے رد عمل کے طور پر میگزین کے 12افراد کو موت کے گھات اتار دیاگیا۔اس عمل کی مذمت پوری دنیا میں ہوئی اورسب نے یہ کہا کہ میگزین کا طریقہ غلط تھا اور رد عمل کے طور پر تشدد کا راستہ اختیار کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔دوبھائیوں نے مل کر میگزین کے دفتر میں جو خون خرابہ کیا یہ اسلامی طریقہ نہیں ہے۔حالانکہ کچھ ملکوں میں میگزین کے رویے پر احتجاج ہوئے مگر اس میں اشتعال نہیں تھا۔مگرجب اسی میگزین نے دوبارہ اس کارٹون کو شائع کیا تو عالم اسلام کے لوگ مشتعل ہوگئے اور مختلف ملکوں میں سخت احتجا ج و مظاہرے ہونے لگے ۔ کچھ مقامات پر پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئی جبکہ کہیں کہیں پر فرانسی ادارے کو نقصان بھی پہنچایا گیا۔ ان جھڑپوں اور فرانسی اداروں کو نقصان پہنچانے اور دھمکیاں دینے سے ایک بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ عالم اسلام میں جہاں ایک طرف مذکورہ میگزین کے صحافیوں پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی جارہی ہے وہیں کارٹون کو دوبارہ شائع کرنے اور فرانس کے عوام کا اس شمارے کو ہاتھوں ہاتھ لینے کی سخت مذمت ہورہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ فرانسی عوام کے اس عمل نے دونوں تہذیبوں کے بیچ بہت بڑی خلیج پیدا کردی ہے ۔

Read more

پاکستان میں نئی فوجی عدالت : دہشت گردوں میں اچھے و برے کی تقسیم

پاکستانی قومی اسمبلی نے فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے آئین میں21ویں ترمیم کی متفقہ طورپرمنظوری دے دی ہے اورآرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کا بل بھی متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ہے۔اجلاس میں سیاسی و مذہبی جماعتوں میں سے تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلامی نے شرکت نہیں کی۔

Read more

بنگلہ دیش میں سیاست کے نام پر انتقامی کارروائی

انیس سو اکتر کا بھوت بنگلہ دیش کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا ہے۔یہ بھوت کسی نہ کسی شکل میں اپنے خونی پنجے سے بنگلہ دیش کو لہو لہان کر رہا ہے۔بنگلہ دیش ان ملکوں میں شامل ہے جہاں مسائل زیادہ ہیں اور وسائل کم ۔اس کا شمار دنیا کے غریب ملکوں میں ہوتا ہے۔قیامِ بنگلہ دیش کے وقت جو خواب دیکھا گیا تھا وہ آج تک پورا نہیں ہوسکا۔نہ تو ملک میں امن قائم ہوسکا ہے اور نہ ہی غریبی دور کرنے کے لئے کوئی مضبوط ذریعہ اختیار کیا گیا۔آزادی کے بعد سے اب تک یہاں کی حکومتیں اپنے مفاد کے لئے قوانین کا استعمال کرتی رہی ہیں اور عوام کا استحصال ہوتا رہا ہے۔لیکن 1996کے بعد سے ملک کی جو صورت حال بنی ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے ۔
1996 میں حسینہ واجد نے جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی ۔اس دوران بنگلہ دیش کی معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے کوئی ٹھوس کام نہیں ہوا۔عوام میں ناراضگی بڑھتی گئی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 2001

Read more

تیونس میں صدارتی انتخابات، جمہوریت کی طرف بڑھتا دوسرا قدم

میں سنہ 2011 کے انقلاب یعنی ’ بہار عرب‘ کے بعد پہلی بار نومبر 2014 کے آخری ہفتہ میں صدار تی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہوئی۔واضح رہے کہ تیونس ’بہارِ عرب‘ کا نقطہ آغاز تھا اور یہی بہار عرب مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں انقلاب اور اقتدار کی منتقلی کا باعث بنا تھا۔صدارتی انتخاب میں ووٹ دینے والے اہل 53 لاکھ افراد میں سے 3.5 ملین ووٹروں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا اورا چھی بات یہ ہے کہ اس دوران بدامنی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس انتخاب میں کسی بھی امیدوار نے مقررہ ووٹ فیصد حاصل نہیں کیا ہے اس لئے دوسرے مرحلے کا الیک ’بہارِ عربشن اگلے ماہ میں ہوگا۔دوسرے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدوار الباجی اور المرزوقی کے درمیان انتخاب کرائے جائیں گے ۔دراصل تیونس آئین کے مطابق کسی بھی جیتنے والے امیدوار کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ و کم سے کم 51فیصد وو ٹ حاصل کرے جس میں 27امیدواروں میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا۔

Read more

تیونس پارلیمانی انتخابی نتائج: عرب بہاریہ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے

تیونس میں حال ہی میں پارلیمانی انتخابات ہوئے ہیں۔یہ انتخابات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ عرب بہاریہ کا آغاز یہیں سے ہوا تھا اور پھر پھیلتے ہوئے اس نے پورے عرب ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیاتھا۔عرب بہاریہ کے اسی انقلاب کے نتیجے میں مصر کا تختہ پلٹ گیا،لیبیا میں حکومت بدل گئی،شام میں انقلاب جاری ہے،عراق میں دولت اسلامیہ نے بڑے حصے پر قبضہ کررکھا ہے ،یمن میں حوثین نے زور پکڑ لیا ۔غرضیکہ تیونس سے چلنے والے انقلاب کی ہوا نے پورے عرب خطے میں ہلچل مچا دی اور یہ ہلچل کئی ملکوں میں اب بھی جاری ہے لیکن اس سلسلے میں تیونس جو اس انقلاب کا نقطہ آغاز تھا، وہاں اس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے اور انقلاب کے بعد جمہوریت نے اپنی جگہ بنالی ہے۔ جمہوریت دو دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد یہاں لوٹ کر آئی ہے۔

Read more

اسرائیل و فلسطین جنگ میں حقیقی جیت کس کی؟

غزہ جنگ میں جیت کس کی ہے،حماس کی یا اسرائیل کی؟یہ ایک بڑاسوال ہے اور اس کا جواب بھی بہت پیچیدہ اور تجزیہ پر مبنی ہے۔ایک طرف اسرائیل طاقت سے لیس اور دولت سے بھرپور ہے ۔دوسری طرف فلسطین نہتھا اور بے سروسامانی میں جی رہا ہے۔ایسے میں جانی نقصان کس کا زیادہ ہورہا ہوگا ؟ اس کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔لیکن اس جنگ نے اسرائیل کو جو نقصان پہنچایا ہے وہ فلسطین کو ہوئے نقصان سے کہیں زیادہ ہے اور وہ نقصان ہے، نفسیاتی ، سفارتی اورمحسوساتی شکست ۔اگر تینوں نقصانات کا تجزیہ کرلیا جائے تو پوچھے گئے سوال کا جواب کچھ بخود سامنے آجائے گا کہ جیت کس کی ہوئی ہے۔

Read more

اسرائل کی ہٹ دھرمی، غزہ تباہ ہو رہا ہے

ؒخلیجی جنگ میں امریکہ نے جو غلطی کی تھی آج اسی غلطی کو اسرائیل دہرارہا ہے۔خلیجی جنگ کا آغاز کویت کے دفاع کے لئے ہوا تھا اور اس کا اختتام مرحوم صدام حسین سے انتقام کی شکل میں سامنے آیا۔اس انتقامی کارروائی میں ہزاروں بے گناہوں کی جانیں گئیں۔ 17 جنوری 1991 کو ہندوستانی وقت کے مطابق تقریباً 2 بجے رات میں امریکہ نے کویت کے دفاع میں عراق پر پہلا ہوائی حملہ کیا۔اس کے بعد اتحادی ملکوں کی حمایت سے مسلسل ہوائی اور پھر زمینی حملے ہوتے رہے ۔نتیجتاً صدام حسین کی فوج پسپا ہوکر واپس لوٹ گئی۔ عراقی فوج کی واپسی کے بعد خلیجی جنگ کو طویل کھینچنے کا کوئی جواز نہیں بچا تھا۔صدام حسین کے خلاف انٹرنیشنل کرائم کورٹ میں مقدمہ چلنا چاہئے تھا ۔لیکن امریکہ نے ایسا نہیں کیا،حملے جاری رکھے۔ یہاں تک کہ 2003 میں صدام حسین گرفتار کرلئے گئے اور پھر عراق کی عدالت میں مقدمہ چلنے کے بعد انہیں پھانسی کی سزا دے دی گئی۔

Read more

عراق میں بڑھتی خانہ جنگی،اعتماد بحالی ہی مسئلہ کا حل

عراق سلک رہا ہے۔داعشجنگجو ئوں کے ہاتھوں عراقی فوجیوں کو نشانا بنایا جارہا ہے اور بے گناہ شہری تشدد کا نشانا بن رہے ہیں۔عراق کے کئی علاقے جنگجوئوں کے قبضے میں جاچکے ہیں ۔موصل اور صوبہ نینوا سے فوجیوں کو باہر نکال کرجنگجوئوں نے اپنا قبضہ جما لیا ہے۔ تکریت اورصوبہ انبار اور شمال میں واقع دوسرے چھوٹے بڑے کئی شہر اور قصبے پہلے سے ہی ان کے قبضے میں ہیں اور اب صوبہ صلاح الدین اور تل عفر پر قبضے کی کوشش کی جارہی ہے۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ عسکریت پسند ی دھیرے دھیرے اپنا دائرہ بڑھاتے جارہے ہیں اور حکومت ان کو روکنے میں پورے طور پر ناکام ہے۔بلکہ خطرہ منڈلانے لگا ہے کہ وہ بغداد کو اپنے نشانے پر نہ لے لیں۔ کیونکہ بغداد کے مضافات میں واقع بعقوبہ تک جنگجو پہنچ چکے ہیں۔

Read more