سعودی عرب کا نیا قانون انسداد ہشت گردی کتنا قابل قبول، کتنا مؤثر ؟

حال ہی میں سعودی عرب کے اندر ایک نیا قانون بنا ہے۔ یہ قانون انسداد دہشت گردی کے تعلق سے ہے ۔اس قانون کا مقصد ملک میں پنپ رہی دہشت گردی کو روکنا ہے۔ مگر اس بل پر دستخط ہوتے ہی عالمی سطح پر یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ سعودی عرب میں اس قانون سے دہشت گردی کو روکا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ دراصل اس نئے قانون میں کچھ ایسی شقیں شامل کی گئیں ہیں جن سے حکومت کی نیت پر شک ہونے لگاہے اور ایسا سمجھا جانے لگا ہے کہ اس قانون کا مقصد دہشت گردی کو روکنے کے نام پر عوام کے اظہار رائے کی آزادی پر روک لگانا ہے۔حالانکہ دہشت گردی سعودی عرب کا تنہا مسئلہ نہیں ہے بلکہ دنیا کے کئی ملک اس مصیبت میں گرفتار ہیں۔ ایشیا ئی ملکوں میں ہندوستان سب سے زیادہ اس دردکو جھیل رہا ہے ۔مگر اس کے باوجود یہاں کوئی ایسا قانون نہیں بنایا گیا جس سے اظہار رائے کی آزادی پر روک لگتی ہو۔

Read more

مسلم ممالک بدحالی کے شکار

دنیا میں مسلم اکثریت والے 57 ممالک ہیں۔ان میں سے بیشتر ملکوں کو قدرت نے قدرتی وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے۔ ان قدرتی وسائل میں پٹرول سرفہرست ہے اور اس بات کو سب جانتے ہیں کہ اگر پٹرول کا بڑا ذخیرہ کہیں پایا جاتا ہے تو وہ خلیجی ممالک ہیں اور ان خلیجی ملکوں میں عرب مسلمان بستے ہیں ۔ خلیجکے علاوہ بحر قزوین (Caspian Sea) سے قفقاز (Caucasus) تک پھیلے ہوئے علاقے اور عراق ، شام ، ایران اور مصر سے الجزئر تک پھیلے ہوئے طویل علاقے میں بھی پٹرول کے متعدد ذخائر پائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ دنیا کے نقشوں پر نگاہ ڈالیں تو مشرق میں افغانستان ،پاکستان ،مشرقی فلپائنس سے لے کر بحر اطلس کے کنارے تک اور مغرب کی جانب مغربی ساحلوں سے ملتا ہوا موریطانیہ اور مغرب سینگال تک اور وسطی ایشیا میں بلقان اور شمالی افریقہ تک اور جنوبی ایشیا میں انڈونیشیا، اور وسطی افریقہ تک وسیع عریض علاقے میں پھیلے ہوئے مسلم ملکوں کو قدرت نے معدنیات اور خوردو نوش و زرعی پیدوار کی زبردست صلاحیتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ یہی نہیں بحری راستے جن پر نظام مواصلات کا انحصار ہوتا ہے ان پر پر قدرت نے مسلم ملکوں کو ہی کنترول دے رکھا ہے۔

Read more

مصر کی فوجی حکومت کے غیر جمہوری اقدامات : مرسی اور ان کے حامیوں پر زبردست کریک ڈائون

کہاوت مشہور ہے کہ ایک غلطی کو چھپانے کے لئے سو غلطیاں کرنی پڑتی ہیں۔ یہ کہاوت ان دنوں مصر کی حکومت پر فٹ ہورہی ہے۔ پہلے جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کو معزول کرکے فوجی حکومت قائم کرنے کی غلطی کی۔ اب اس قدم کو جائز ٹھہرانے کے لئے منتخب حکومت کے نمائندوں پر طرح طرح کے الزامات عائد کیے جارہے ہیں اور نام نہاد عدالت قائم کرکے ان پر مقدمہ چلایا جارہا ہے۔مصر کی فوجی حکومت کے خلاف اسرائیل اور سعودی عرب جیسے ملکوں کی خاموشی تو سمجھ میں آتی ہے کہ ان دونوں کے مفاد محمد مرسی کی جمہوری حکومت کے خاتمے میں مضمر تھے ۔اسرائیل تو اس لئے خاموش ہے کہ اخوان حکومت کے قیام سے اس کے مفاد کو نقصان پہنچ رہا تھا اور سعودی عرب کو یہ خط

Read more

سعودی عرب کا قائدانہ کردار : گراف نیچے جا رہا ہے

مسلم ممالک میں سعودی عرب کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔کیونکہ یہاں وہ مقدس مقام ہے جسکی زیارت کے لئے دنیا بھر سے لاکھوں افراد یہاں آتے ہیں اور روحانی تسکین حاصل کرتے ہیں۔اس سرزمین کے ساتھ مسلمانوں کے جذباتی لگائو ہیں اور یہی وجہ ہے کہ عالم اسلام میں خاص طور پر عالم عرب میں اس کو قائدانہ حیثیت حاصل رہی ہے۔ مگر گزشتہ چند برسوں میںداخلی و خارجی سطح پربدلتی پالیسی نے سعودی عرب کے قائدانہ حیثیت کو مشکوک بنا دیا ہے۔ابھی حال ہی میں امریکی تھنک ٹینک پیو(Pew) ریسرچ سینٹر سروے میں جو انکشاف ہوا ہے وہ حیران کن ہے۔

Read more

عرب اسرائیل کی بڑھتی قربتیں

اگر خلیجی ممالک کی سیاسی صورت حال پر غور کیا جائے تو عربوں کی پالیسی میںجو بدلائو آرہا ہے ، وہ بدلائو اسرائیل سے لگائو کی بنیاد پر نہیں، بلکہ خطے میں ایران و امریکہ کی بڑھتی قربتوں کی وجہ سے آرہا ہے۔خطے میں ایران ایک طاقتور ملک ہے جبکہ عرب ممالک نہتھے ہیں اور جنگی ہنر سے عاری بھی۔ایسے میں ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ کو وہ اپنے لئے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ لہٰذا اس کے اثرات سے بچنے کے لئے اسرائیل سے قربتیں بڑھا رہے ہیں تاکہ ایران و امریکہ قربت کے نتیجے میں اگر ایرانی جوہری پلانٹ کو جاری رکھنے کی اجازت مل جاتی ہے تو خلیجی ممالک خطے میں ایرانی اثرات کو کم کرنے میں اسرائیل سے مدد حاصل کرسکیں۔

Read more

عرب بہاریہ کی الٹی سیدھی گنتی : تیونس میں النہضہ کے بجائے قومی عبوری حکومت

عام طور پر حکومت کے خلاف مظاہروں میں انسانی جانیں جاتی ہیں۔ملک میں بحران اور افرا تفری کا ماحول پیدا ہوتا ہے مگر تیونس میںحکمراں پارٹی النھضہ نے ایک دانشمندانہ قدم اٹھا کر ملک کو ایک بڑے بحران سے بچا لیا اور برسر اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان ایک بڑا تنازع کسی حد تک ایک مثبت نتیجے پر پہنچا ۔ اسلامی تحریک النھضہ اور سیکولر اپوزیشن کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہے جس میں کچھ اہم فیصلے ہونے ہیں۔خاص طور پر قومی عبوری حکومت پر اتفاق رائے اور آئندہ سال ہونے والے الیکشن کے خط و خال کا تعین۔

Read more

سعودی عرب میں بدعنوانی: توسیع حرم بھی اس کی لپیٹ میں

لیکن گزشتہ چند برسوں سے سعودی عرب جن خصوصیات کی بدولت ہردلعزیز تھا،اب ان پر گہن لگتا جارہا ہے اور جن باتوں کو لے کر پوری دنیا کے مسلمان اس ملک پرفخر کرتے تھے ، اس میں تیزی سے کمی آنی شروع ہوگئی ہے۔بلکہ یہ سن کر تو بہت ہی افسوس ہوتا ہے کہ ملک کے فرمانروا جن کو خادم الحرمین کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے اور جس حرمین کا خادم بننے میں فرمانروا بھی فخر محسوس کرتے ہیں ،آج اسی حرم کیلئے مختص بجٹ میں ان کے رشتہ دار بد عنوانی کرر ہے ہیں اور خادم حرمین رشتہ داری کے لحاظ میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

Read more

دور ہوتے پڑوسی ممالک کو قریب لانے کی ضرورت

یو پی اے کے9 سال پورے ہوچکے ہیں۔ان نو برسوں میں ملک کی قومی و بیرونی پالیسی بے یقینی کی شکار رہی ہے۔اس دوران یو پی اے سرکار نے بہت سے وعدے اور دعوے کیے ، مگرعملی طور پر ان میں سے بہت سی باتیں دعوے کے برعکس نظر آرہی ہیں۔یو پی اے سرکار نے خارجہ پالیسی میں کئی تبدیلیاں کی مگر اس سلسلے میں اپوزیشن ،ماہرین و دیگر متعلقہ شخصیات،اداروں و تنظیموں کو اعتماد میں لینے کے لئے مناسب کوشش نہیں کی گئی، بلکہ بسا اوقات اسے اعتماد میں لیا ہی نہیںگیا۔جس کا نتیجہ ہم پارلیمنٹ کے اجلاس میں بھی دیکھتے ہیں کہ کس طرح سے وہاں ہنگامے ہوتے ہیں

Read more

مصر کے بگڑتے حالات: اندیشے و امکانات

کہا تو یہ جاتا ہے کہ کسی بھی فساد میں لیڈریا اس کے رشتہ دار نہیں مرتے ہیں ۔تجربات و مشاہدات بھی اس کی تائید کررہے ہیں مگر ان تجربات کو مصر کے حالیہ واقعہ نے غلط ثابت کردیا ہے۔جہاں اخوان کے لیڈر ملک و قوم کے لئے جان کی بازی لگانے کا دعویٰ کرتے ہیں وہیں موقع آنے پر واقعی وہ اپنے جگر کے ٹکروں کو قربان کردیتے ہیں۔غالباً اخوانیوں کی پہلی تاریخ ہے کہ عام لوگوں کے ساتھ لیڈر اورلیڈروں کے قریبی رشتہ دار

Read more