اب تعلیم بھی غیر ملکیوں کے حوالے

سنسکرت میں ایک شلوک ہے ،اس شلوک کا مطلب ہے کہ علم سے تواضع،تواضع سے اہلیت،اہلیت سے دولت،دولت سے مذہب اور مذہب سے راحت ملتی ہے۔لیکن یہ ماضی کی بات تھی۔ اب جو تیاری چل رہی ہے، اس کے مطابق تعلیم اب صرف دولت کمانے کا ذریعہ ہی بنے گی۔تعلیم اب صرف ہنر دینے کا ہی ذریعہ بنے گی ۔جیسے آپ انگریزی بولنا تو سیکھ جائیں گے لیکن انگریزی ادب کو سمجھنا، پڑھنا آپ کے بس کی بات نہیں ہوگی۔ اعلیٰ تعلیم کے سیکٹر میں اگر ہندوستان ڈبلیو ٹی او سے کئے گئے اپنے کمٹمنٹ کو پورا کرتا ہے تو یقین مانئے ،اس ملک میں علم حاصل کرنے اور دان کرنے کی نہیں، کاروبار کی چیز بن کر رہ جائے گی۔

Read more

جانوروں کو مارنے بھگانے کے لئے ممبر پارلیمنٹ نے لکھے خط

انسان اور جانور کو اپنی بقا کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور مدد کرنے کا رشتہ رہاہے۔ دونوں کے اپنے دائرے رہے ہیں۔ جب تک ان دائروںکی خلاف ورزی نہیں کی گئی، تب تک انسان اور جانور کے بیچ کا رشتہ بھی قدرتی رہا، لیکن جیسے جیسے انسانوںنے جانوروںکے علاقے میں تجاوزات کرنا شروع کیا، ویسے ویسے جانور بھی انسان کے علاقے میں داخل ہونے لگے۔بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کو لے کر شاید ہی کسی نے یہ تھیوری دی ہو کہ بڑھتی آبادی سے ہونے والے نقصان سے بچنے کے لئے

Read more

کانکنی کے لیے ختم ہوگی گرام سبھاکی رضامندی

’وی دی پیپُل آف انڈیا ‘ کی بنیاد میں پیپُل یعنی عوام ہیں۔ ملک، انتظام، آئین سب کچھ عوام کے لیے، عوام کے ذریعہ بنایا گیاہے۔ ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد بھی یہی ہے۔ ایسے میں، جب آئین کے مطابق ادارہ گرام سبھا کی بات کی جاتی ہے،تو اس کی حالت کسی بھی صورت میںپارلیمنٹ یا اسمبلی سے اوپر ہے۔ اس لیے، کیونکہ یہ کبھی تحلیل نہ ہونے والا ادارہ ہے، جس کے ممبران کا انتخاب نہیںہوتا، بلکہ ایک خاص گاؤں کے سبھی ووٹر اپنے آپ اس کے ممبر ہوتے ہیں۔ سیلف گورنمنٹ کی اس سے بہترین مثال کوئی دوسری نہیں ہوسکتی۔ آئین سے گرام سبھا کو اختیارات بھی ملے ہوئے ہیں۔یہ اختیارات کتنی اہمیت کے حامل ہیں، اس کا اندازہ نیام گری معاملے میں پورے ملک کو ہوچکا ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ تک نے نیام گری میں ویدانتا کے ذریعہ کانکنی معاملے میں یہشریعت دی کہ متعلقہ گرام سبھایہ طے کرے کہ کانکنی ہو یانہ ہو۔ اس کے بعد 12 گرام سبھاؤں نے جو فیصلہ دیا، وہ پورے ملک کے لیے نظیر بن گیا۔ ظاہر ہے ، کارپوریٹ طاقتوں اور سرکار کو بھی یہ احساس ہوا کہ گرام سبھائیں ان کے فیصلوںکے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہیں، اس لیے اب ایسی چرچا جاری ہے کہ کانکنی کے لیے کیوں نہیں گرام سبھا کی رضامندی کو ہی ختم کردیا جائے یا پھر اس میں اور زیادہ ڈھیل دے دی جائے۔ کل ملاکر ایسا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ آنے والے وقت میں کانکنی کے لیے گرام سبھا کی مرضی کو ختم کیا جاسکتا ہے یا اس پروویژن کو کمزور کیا جاسکتا ہے۔

Read more
Page 1 of 1012345...10...Last »