پاپولرفرنٹ آف انڈیا کی کال نفرت کی سیاست بند کرو

گزشتہ دنوں 3 اکتوبر کو پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی ایک ماہ سے جاری قومی مہم ’’نفرت کی سیاست بند کرو‘‘کی اختتامی تقریب نئی دہلی کے تال کٹورہ اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی۔ جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ سیاسی، سماجی اور ادبی شخصیات نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز ایک ڈرامہ

Read more

حکومتیں غریبی کی لکیر طے کرنے میںہی الجھی رہیں غریب مرتے رہے

ہندوستان میں شہر ہو یادیہات، ہر جگہ غریبی کا بول بالا ہے۔ یہاں پانچ سال سے کم عمر میں مرنے والے بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کی کل غریب آبادی کا تیسرا حصہ ہندوستان میں رہتا ہے۔2010 میں ورلڈ بینک نے اطلاع دی کہ ہندوستان کے 32.7 فیصد لوگ روزانہ 1.25 یو ایس ڈالر کے بین الاقوامی خط افلاس کے نیچے اپنی زندگی کی گزربسر کرتے ہیں۔ ہندوستان کی 70 فیصد آ بادی آج بھی پیٹ بھر کے کھانا نہیں کھاپاتی۔ حالانکہ ہندوستان کی اقتصادی ترقی میں اضافہ ہورہاہے، لیکن اس کے ساتھ ہی غربت میں بھی برابر اضافہ ہورہا ہے۔ غریبی کے خاتمے کے لیے ہندوستانی سرکاروں نے بہت کوششیں کیں، ایک سے بڑھ کر ایک اسکیمیں چلائیںلیکن مرض بڑھتا گیا جو ں جوںدواکی، کے مصداق غریبی کا گراف برابر بڑھتاہی جارہا ہے۔

Read more

سماجوادی کنبے کی لڑائی ہوگا کیا اثر مسلم ووٹ پر؟

اترپردیش میں اسمبلی انتخابات قریب آگئے ہیں۔ سبھی سیاسی پارٹیاںانتخابی میدان میںاترنے کے لیے اپنی صفیں درست کررہی ہیں اور اپنے حریفوں سے نمٹنے کے لیے نئی نئی حکمت عملیاں تیار کررہی ہیں۔ لیکن اترپردیش میں برسراقتدار سماجوادی پارٹی اسمبلی انتخابات کی تیاری کرنے کے بجائے اپنے ہی گھر اور خاندان کی لڑائی میں الجھی ہوئی

Read more

ڈوبتے کھگڑیا میں عوام کا رہنما ’محبوب‘ غائب

ان دنوں بہار کے دیگر علاقوں کی مانند ویشالی ضلع کے ساتھ کھگڑیا ضلع بھی بری طرح سیلاب کی زد میںہے، مگر سب سے حیرت کی بات یہ ہے کہ کھگڑیا کے رکن پارلیمنٹ محبوب علی قیصر منظر نامے سے غائب ہیں۔ مقامی لوگوں نے ان کے لاپتہ ہونے کا پوسٹر جگہ جگہلگا دیا ہے، جسے لے کر ان کی شخصیت موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ پورا معاملہ کیا ہے۔۔۔

Read more

مدرسوں میں علماء اور نئی نسل جذبۂ آزادی سے ہنوزسرشار

یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ تحریک آزادی میں مدارس اور ان کے علماء کا 1857 میں’’غدر‘‘ ، جسے تحریک جنگ آزادی اوّل یا دوئم بھی کہتے ہیں ، کے بعد سے ہی بنیادی رول رہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ’’غدر‘‘ کے محض 9 سال کے بعد 1866 میں دور جدیدکا ہندوستا ن کا پہلا مدرسہ دارالعلوم دیوبند قائم کیا گیاتھا۔ جس کی غرض سوائے اس کے اور کچھ نہیں تھی کہ

Read more

عید کی مبارکباد کو اردو میڈیا نے نظر انداز کیا

عید اور بقرعید کے تیوہار کب کے گزر گئے، لیکن ان تیوہاروں کی’ مبارکباد ‘ پر آج بھی سیاست ہورہی ہے اور میڈیا میں’مبارکباد‘ بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں، مذہبی رہنما اور قدآور سیاستداں برابر الزام لگا رہے ہیں کہ وزیر اعظم ہند نریندر مودی ملک کے دیگر طبقوں کے تیوہاروں پر تو اہل وطن کو مبارکباد دیتے ہیں، مگر مسلمانوں کے تیوہار کے موقع پر مبارکباد دینے سے گریز کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے دیوالی اور چھٹھ پوجا کے موقع پر تو اہل وطن کو مبارکباد دی، لیکن عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے تیوہار پر ملک کے مسلمانوں کو مبارکباد نہیں دی۔ اس طرح وہ مذاہب کے بیچ تفریق کر رہے ہیں۔ حالانکہ انھیں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اب گجرات کے وزیر اعلیٰ نہیں،بلکہ ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ اس لیے انھیں ہر مذہبی طبقے کے تیوہار پر اس کے حاملین کو مبارکباد دینی چاہیے۔

Read more

مہاراشٹر میں کانگریس و این سی پی اتحاد کا چل چلائو

مہاراشٹر کو کانگریس کاناقابل تسخیر قلعہ کہا جاتا ہے۔ برسوں سے یہاں کی ریاستی اسمبلی میں کانگریس اور اس کی کوکھ سے نکلی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کی مخلوط سرکارقائم ہے۔ پارلیمانی انتخابات سے قبل ریاستی سرکار کو گمان تھا کہ خواہ کتنے بھی نامساعد حالات ہوں، کتنی بھی تیز و تند مخالف ہوائیں چلیں، اس کا اور اس سے نکلی این سی پی کا مشترکہ قلعہ اتنا مضبوط ہے کہ کوئی بھی آندھی اور طوفان اس پر شگاف تک نہیں ڈالسکے گا، لیکن جب پارلیمانی انتخابات 2014 کے نتائج سامنے آئے، تو کانگریس کا یہ مضبوط قلعہبے جان ہوگیا، اس کے بڑے بڑے قد آور لیڈر یو پی اے مخالف لہر یا پھر مودی لہر میں غرقاب ہوگئے ۔غور تو کیجئے کہ مہاراشٹر کی 48پارلیمانی سیٹوں میں سے کانگریس 2اور این سی پی 4سیٹوں پر سمٹ کر رہ گئی۔ گویا مہاراشٹر میں یو پی اے محض 6سیٹوں پر سمٹ گیا اور باقی 42سیٹوں پر این ڈی اے (بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیو سینا) قابض ہوگیا۔

Read more

جے للتا تمل ناڈو سیاست کی ملکہ

تمل ناڈو ریاست آزادی سے قبل ہی سے ڈریوڈیائی سیاست کا مرکز رہی ہے۔ آزادی سے قبل پیریار ای وی راما سامی نائیکر جیسی جنوبی ہند کی گاندھیائی شخصیت نے ڈریوڈا کژہگم قائم کی تھی۔ اگرچہ آزادی کے بعد چکرورتی راج گوپال آچاریہ نے مسلم لیگ کے تعاون سے پہلی کانگریس حکومت قائم کی تھی، جو کہ 1960کے اوائل تک قائم رہی، مگر 1960کے وسط میں ڈریوڈ اکژہگم سے نکلی ڈی ایم کے کے سی این انّا دورائی نے کرشماتی جادو کردیا اور پھر ڈریوڈیائی سیاست کا عملی سیاست میں آغاز ہوا، جو اب تک برقرار ہے۔تقریباً تین دہائی پہلے اس ڈی ایم کے میں اختلاف ہوا اور اس کی تقسیم ہوگئی۔ ایک حصہ کرونا ندھی کی قیادت میں ڈی ایم کے بنا اور دوسرا حصہ اے ڈی ایم کے ایم جی رامچندرن کی سرپرستی میں بنا۔ ایم جی رامچندرن کے بعد فلم اداکارہ جے للتا نے اے ڈی ایم کے کی کمان سنبھالی اور تمل ناڈو کی سیاستپر چھا گئیں۔ یہ کئی بار ریاست کی وزیر اعلیٰ بنیں اور بعض دفعہ مرکز کی سیاست کو بھی متاثر کیا۔

Read more

اتراکھنڈ میں بی جے پی اور کانگریس میں کانٹے کی ٹکر

اتراکھنڈ ہندوستان کی 27ویں ریاست ہے۔ یہ ہندوستان کے جنوب میں واقع ہے۔ ہماچل، ہریانہ و اتر پردیش اس کی پڑوسی ریاستیں ہیں۔ ہندوؤں کے مقدس مقامات واقع ہونے کے سبب اس سرزمین کو ’دیو بھومی‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ریاست 9 نومبر، 2000 کو اتر پردیش کے 13 مغربی اضلاع کو شامل کر کے تشکیل دی گئی اور نتیا نند سوامی کو اس ریاست کے پہلے وزیر اعلیٰ بننے کا شرف حاصل ہوا۔ یہاں پر لوک سبھا کی 5 اور راجیہ سبھا کی 3 سیٹیں ہیں، جبکہ ریاستی اسمبلی 70 سیٹوں پر مبنی ہے۔

Read more

میدان چھوڑ کر بھاگنے والے امیدوار

انتخابات اسمبلی کے ہوں یا پارلیمنٹ کے، سیاسی پارٹیوں کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے لوگ سفارش اور دولت کے ڈھیر لگا دیتے ہیں، تب کہیں جا کر الیکشن لڑنے کا پروانہ حاصل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ہر انتخاب میں سیاسی پارٹیوں کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے مارا ماری ہوتی ہے اور جب یہ ٹکٹ مل جاتا ہے تو امیدوار ہوا میں اڑنے لگتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسے اعلیٰ ایوان میں پہنچنے کاپاس مل گیا ہے۔ اس کے اندر ایک نیا جوش اور جذبہ بھر جاتا ہے، لیکن شاید یہ ملک کا پہلا انتخاب ہے، جس میں کچھ امیدواروں نے اپنے حریفوں سے ڈٹ کر مقابلہ کرکے انتخابی میدان مارنے کی بجائے الٹا میدان چھوڑ کر ہی بھاگنے میں اپنی عافیت سمجھی اور اپنے ٹکٹ سیاسی پارٹیوں کولوٹانے کے لیے دوڑ لگادی۔ ذرا غور توکیجیے کہ لوک سبھا انتخابات 2014 ابھی پایۂ تکمیل کو بھی نہیں پہنچے ہیں اور اب تک دو درجن سے زیادہ امیدوار اپنے ٹکٹ لوٹا چکے ہیں۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ کئی امیدواروں نے پرچہ نامزدگی بھرنے کی تاریخ نکلنے کے بعد اپنے ٹکٹ واپس کیے، جس کی وجہ سے پارٹی کوان امیدواروں کی جگہ اس حلقہ میں اپنے دوسرے امیدوار اتارنے کا موقع بھی میسر نہ ہوسکا۔

Read more