نئے میڈیکل بل کا برا اثر غریبوں کے علاج اور ڈاکٹری پڑھائی

حال ہی میں ایک تصویر میڈیا کی سرخیوں میں رہی۔یہ تصویر ایک آدمی کی تھی جو اپنی مری ہوئی بیوی کی لاش اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے سڑک سے جارہا تھا۔ اس کا نام دانا مانجھی تھا۔ جو اڑیسہ کے کالاہانڈی کا رہنے والا ہے۔ دانا مانجھی اپنی بیوی کا علاج

Read more

یونیفارم سول کوڈ کیا چاہتے ہیں مسلم نوجوان

ہندوستان میں یونیفارم سول کوڈ یابالفاظ دیگر یکساں سول کوڈ کا ایشو کافی سالوں سے اٹھتا رہا ہے۔ ہندوستان کے آئین کا مسودہ تیار کرتے وقت بھی اس مدعے پر بحث ہوئی تھی اور آئین بنانے والوں کو اس بات کا احساس تھا کہ ملک کے سبھی شہریوں کے لیے ان کے سول معاملوں میں بھی ایک جیسا قانون لاگو ہو۔ اس کے لئے ملک کے پالیسی رہنما اصول (ڈائریکٹو پرنسپلز آف اسٹیٹ پالیسی) میں دفعہ 44 کا پرویژن رکھا گیا ہے، جس میں ملک میں یونیفارم سول کوڈ لاگو کرنے کی سمت میں کوشش کرنے کا ذکر ہے۔مودی سرکار نے یونیفارم سول کوڈ لاگو کرنے کی سمت میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے لا کمیشن کو یونیفارم سول کوڈ کے سبھی پہلوئوں کا مطالعہ کرکے اپنی رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔یہ پہلا موقع ہے جب مرکزی سرکار نے لا کمیشن سے اس طرح کی پہل کرنے کو کہا ہو۔ چونکہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ یونیفارم سول کوڈ کی مخالفت کرتا آیا ہے، لہٰذا ’’چوتھی دنیا‘‘ نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مسلمانوں کا نوجوان طبقہ،خاص طور پر طلبائ، یونیفارم سول کوڈ کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے۔
یونیفارم سول کوڈ نافذ نہیں ہونا چاہئے

Read more

خواتین ریزرویشن بل انتظار جاری ہے

پارلیمنٹ کا مانسون اجلا س شروع ہونے والا ہے۔ ایک بار پھر سرکار اپنی ترجیحات کے لحاظ سے زیر التوا بلوں کو پاس کرانے کے لیے زور شور سے کوشش کرے گی۔ ان بلوں کی بھیڑ میںایک ایسا بل بھی ہے، جو تقریباً 20 سال سے التوا میں پڑا ہوا ہے اور گزشتہ کچھ سالو ں سے اس پربحث تک نہیں ہورہی ہے۔ یہ بل ہے ملک کی آدھی آبادی کوملک کی پالیسی کے تعین میںنمائندگی دینے والا خواتین ریزرویشن بل یا آئین (108 ویں ترمیم) بل۔ اس بل میںلوک سبھااور ریاستوںکی اسمبلیوں میں خواتین کوایک تہائی حصہ داری دینے کا پروویژن رکھا گیا ہے۔ حالانکہ ایک دو سیاسی پارٹیوں کو چھوڑ کر ملک کی تقریباٍ سبھی پارٹیاں اس بل کی حمایت کے لیے متحد ہیں، لیکن جو پارٹیاں اس بل کی حمایت میں ہیں،ان کے اندر بھی شک کی دبی ہوئی آوازیںموجود ہیں، جو کبھی کبھی اٹھنے لگتی ہیں۔ مثال کے طور پر جب 2010 میں راجیہ سبھا کی منظوری کے بعد اس بل کو لوک سبھا کی منظوری کے لیے پیش کیا گیا، تو بی جے پی کے بااثر اوبی سی لیڈر گوپی ناتھ منڈے نے اس بل کے خلاف کھل کر آواز اٹھائی تھی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ بل ٹھنڈے بستے میںچلا گیا۔

Read more

ہندومسلم خواتین کے حقوق کی لڑائی ملک کا آئین بھی ساتھ

مہاراشٹر کے احمد نگر میں واقع شنگنا پور مندر گزشتہ دنوںاُس وقت سرخیوں میںآیا، جب ایک عورت صدیوں پرانے روایت و رواج کو توڑتے ہوئے مندر کے اُس حصہ میں داخل ہوئی، جہاں مورتی قائم ہے اور جہاں عورتوں کا جانا ممنوع تھا۔ دوسرے معاملے میں کیرالہ کے سبری مالا مندر کے گربھ گرہ میں 10 سال سے 50 سال کی عورتوں کے داخلے پر لگی پابندی ہٹانے سے متعلق معاملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ آئین جنسی مساوات کا حق دیتا ہے اور مذکورہ عمر کی خواتین کے مندر میں داخلہ پر پابندی کو مندر انتظامیہ کے ذریعہ مذہبی معاملوں کے انتظام کے حق کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔ ممبئی میں کچھ مسلم عورتوں نے حاجی علی درگاہ کے اس حصے میں عورتوں کے داخلے کی مانگ کو لے کر احتجاج کیا، جہاں عورتوں کا جانا ممنوع ہے۔ عورتوںسے متعلق ایک اور معاملہ جو سرخیوں میںہے، وہ ہے نینی تال کی سائرہ بانو کا، جنھیںان کے شوہر نے خط میںتین بار طلاق طلاق طلاق لکھ کر ان سے اپنا رشتہ ختم کرلیا۔ اس معاملے کو لے کر سائرہ بانو نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایاہے۔ مندرجہ بالا سبھی معاملے مذہبی اقدار سے متعلق ہیں اور ان معاملوں نے ملک میںعورتوں کے تعلق سے غور و فکر کو ایک بار پھر سے بحث کے مرکز میں کھڑا کردیا ہے۔

Read more

دو ملکوں کے درمیان پستے بہاری پناہ گزیں

اردو کے مشہور اور بدنام افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا ایک افسانہ ہے ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘، جو سال 1947 میں ہوئی ہندوستان کی تقسیم کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ کہانی کا تانا بانا لاہور کے پاگل خانہ کے ارد گرد بنا گیا ہے۔ اس کے زیادہ تر کردار پاگل ہیں۔ افسانہ کا بنیادی کردار بشن سنگھ اس پس و پیش میں گرفتار ہو جاتا ہے کہ اس کا گاؤں ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں؟ اور جب اسے ہندو اور سکھ پاگلوں کے ساتھ ہندوستان بھیجا جاتا ہے، تو وہ ہندوستان یا پاکستان کے بجائے ’نو مینس لینڈ‘ میں دَم توڑ دینا زیادہ پسند کرتا ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی کہانی 1947 کے بعد ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں متعدد بار دوہرائی جا چکی ہے اور آگے بھی کتنی بار دوہرائی جائے گی، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ بشن سنگھ جس ذہنی کشمکش سے گزر رہا تھا، ٹھیک اسی حالت میں آج بھی بنگلہ دیش میں تقریباً 1.5 لاکھ بہاری پناہ گزین ہیں، جو ایک بہتر اور محفوظ زندگی کی تلاش میں پاکستان گئے تھے، لیکن ان کی حالت ایسی ہے کہ وہ نہ تو پاکستانی ہیں اور نہ ہی بنگلہ دیشی، ہندوستانی ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے پاس اقوام متحدہ کی تنظیم ریڈ کراس کے ذریعے بنائے گئے پناہ گزین کیمپوں میں جانوروں سے بھی بدتر زندگی گزارنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ منٹو کے بشن سنگھ کے پاس ایک متبادل تو تھا کہ وہ ہندوستان یا پاکستان میں سے کسی کا بھی انتخاب نہ کر سکنے کی صورت میں ’نو مینس لینڈ‘ میں اپنی جان دے سکتا تھا، لیکن ان اردو بولنے والے بنگلہ دیشی بہاریوں کی مجبوری یہ ہے کہ انہیں دو گز زمین بھی میسر نہیں ہے، جسے وہ اپنا کہہ سکیں۔

Read more

ہند ۔میمانمار مضبوط رشتے کی علامت : بہادر شاہ ظفر کا مزار

شفیق عالم
گزشتہ دنوں ہندوستان کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اپنے تین روزہ اہم سرکاری دورے پر میانمار گئے ۔یہ دورہ اس لیے بھی اہم تھا کیوںکہ پچھلے پچیس سالوں میں کسی ہندوستانی وزیراعظم کا میانمار کا یہ پہلا دورہ تھا۔ 1990کی دہائی میں فوج نے جب جمہوریت کا خاتمہ کرکے فوجی حکومت قائم کی، اسی وقت سے ان دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے ۔ ہندوستان نے کھل کر جمہوریت کی حامی رہنما آنگ سانگ سوکی کی حمایت کی تھی، جو وہاں کی فوجی جونٹا کو ناگوار گزری تھی۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ

Read more
Page 1 of 212