اوما بھارتی ہندوئوں کے جذبات سے کھیل رہی ہیں

گنگا کے نام پر بیان بازی کرنے والی اوما بھارتی کی سناتن دھرم کے عقائد پر کی گئی بیان بازی پوری مودی سرکار کو عوام کی نظروں میں گرانے کے ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے گلے کی ہڈی بن سکتی ہے ۔ گنگا کنارے وسرجن روکنے کے لئے مودی سرکار کی ’’ نو رتن‘‘ کہی جانے والی سادھوی اوما بھارتی کے بیا ن کا دیوتائوں کی زمین اتراکھنڈ میں مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔مذہبی نگری ہریدوار،رشی کیش میں مختلف تنظیموں اور اداروں نے میٹنگیں کرکے مذمت کی اور خبردار کیا کہ اگر ایسا ہوا تو گنگوتر ی سے گنکا ندی تک تحریک چلائی جائے گی۔ ہریدوار کے اہم سماجی کاموں سے منسلک گہر ااثر رکھنے والے ’’ شری جے رام ادارے‘‘ کے پیٹھا دھیشور،اتراکھنڈ سنسکرت یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر برہم سروپ نے سادھو ی اوما کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیان سے پوری مودی سرکار بے نقاب ہوتی ہے۔

Read more

اتراکھنڈ: بڑے لیڈروں کی رسہ کشی سے ہاری بی جے پی

اتراکھنڈ میں گروپوں میں بٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اس قدر آپس میں رسہ کشی کا کھیل کھیلنے میں مشغول رہے کہ ریاست کے تین ضمنی انتخابات میں بری طرح ہار کا شکار ہوئے۔ ریاست کے تین سابق وزراء اعلیٰ بھُوون چندر کھنڈوری، بھگت سنگھ کوشیاری، رمیش پوکھریال نشنک کے تین گروپوں میں بٹی بی جے پی نے اس الیکشن میں ڈھائی ماہ پہلے جن دو اسمبلی حلقوں میں شاندار برتری حاصل کی تھی، وہاں بی جے پی کو کانگریسی امیدواروں کے ہاتھوں بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ برسر اقتدار کانگریس کے وزیر اعلیٰ ہریش راوت نے اپنی اقلیت سرکار کو اکثریت کے قریب لانے کے لیے جس طرح کا تانابانا بُنا، اس میں بے جے پی ایسی الجھی کہ سومیشور اور ڈوئی والا کی محفوظ سمجھی جانے والی سیٹیں بھی بی جے پی گنوا بیٹھی۔ ڈوئی والا سیٹ پہلی بار کانگریس کے قبضے میں آئی ہے، سومیشور سیٹ بھی 2012کے اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کے حصے میں آئی تھی۔ ڈوئی والا کی سیٹ پر نشنک کو شاندار جیت ملی تھی، مودی لہر میں ہوئے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی نے کانگریس کا پوری طرح صفایا کرتے ہوئے ریاست کی پانچوں سیٹیں جیت کر تاریخ رقم کی تھی۔ نشنک کو ہری دوار سے ایم پی بنانے میں ڈوئی والا حلقے کے عوام نے بڑی سبقت دے کر نشنک او رمودی ،دونوں کامان رکھا تھا۔

Read more

رام دیو کی گنگا سیوا یاترا : کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ

یوگا گرو بابا رام دیو نے گنگا کے نام پر سیاست کرنے کا من بنا لیا ہے۔ ان کی ہری دوار سے لے کر گنگوتری (گو مکھ) تک کی گنگا یاترا پوری طرح تنازعات سے گھری ہوئی ہے۔ بابا رام دیو نے اپنے 400 رضاکاروں، جن میں قریب چار درجن خواتین و لڑکیاں بھی شامل تھیں، کے ساتھ 15 سال بعد گنگوتری کی یاترا شروع کی۔ رام دیو نے جس طرح موسمیاتی حالات کا جائزہ لیے بغیر اپنی ہمالیہ – گنگا یاترا شروع کی، وہ پوری طرح ان کے ہٹھ یوگ سے متاثر رہی۔ ان کی ضد کی وجہ سے ریاستی سرکار کے پسینے چھوٹ گئے۔ جس وقت یاترا شروع ہوئی، اس وقت اتر کاشی سے لے کر گومکھ تک بھاری بارش کے ساتھ ساتھ زمین کھسکنے کا واقعہ بھی پیش آ رہا تھا۔ اتر کاشی میں ریڈ الرٹ جاری کرنے کے ساتھ ہی مسافروں سے کہا گیا تھا کہ وہ گنگوتری سمیت چار دھام کے سفر پر نہ جائیں۔ رام دیو ان سب باتوں کی پرواہ کیے بغیر گنگا یاترا کے لیے درجن بھر لگزری

Read more

نشنک اور ہرک پر تنازع کا سایہ

یہ بات اب صاف ہوگئی ہے کہ بی جے پی اور کانگریس دونوں میں کوئی بھی دودھ کا دھلا ہوا نہیں ہے۔ دونوں قومی پارٹیوں کے داغدار لیڈر انتخابی میدان میں ہیں۔ بی جے پی اور کانگریس نے اس لوک سبھا انتخاب میں دو ایسے لیڈروں کو میدان میں اتارا ہے، جو ہمیشہ اپوزیشن کے نشانے پر رہے ہیں۔ بی جے پی لیڈر رمیش پوکھریال نشنک کو ہری دوار میں رینوکا راوت کے سامنے اور کانگریس کے ڈاکٹر ہرک سنگھ راوت کو پوڑی سے جنرل بھُون چندر کھنڈوری کے مقابلے میں اتارا گیا ہے۔ ان دونوں لیڈروں (نشنک۔ہرک) کا تنازع سے گہرا رشتہ رہا ہے۔ رمیش پوکھریال نشنک بی جے پی حکومت کے دورمیں ہوئی بدعنوانی، تو ہرک سنگھ راوت ذاتی زندگی سے لے کر بدعنوانی تک کے الزامات میں گھرے رہے ہیں، اس لیے ان دونوں امیدواروں کو لے کر دونوں پارٹیوں کو ایک دوسرے پرنشانہ سادھنے کا موقع مل رہا ہے۔ رمیش پوکھریال نشنک کی تو پی ایچ ڈی کی ڈگری ہی متنازع رہی ہے۔

Read more

اتراکھنڈ: بالا کرشن کی جعلسازی کا پردہ فاش

بابارام دیو اینڈ کمپنی کی جعلسازی کا انکشاف ہونے سے عوام میں یہ پیغام جا رہا ہے کہ کالے دھن کی واپسی اور نظام میں تبدیلی کی بات کرنے والے پنتجلی پیٹھ کے کرتا دھرتا رام دیو کے معاون بال کرشن خود ایک بڑے جعلساز ہیں۔ بال کرشن کے پاسپورٹ کی جانچ کے دوران ان کے ذریعہ دو برتھ سرٹیفکیٹ بنوائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔پہلے سرٹیفکیٹ میں ان کے والدین کی قومیت ہندوستانی ، جبکہ دوسرے سرٹیفکیٹ میں انہیں نیپالی بتایا گیا ہے۔ ہریدوار میونسپل کارپوریشن میں پھیلی بدعنوانی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آچاریہ

Read more

سنت نگمانند کی موت پر سیاست

راج کمار شرما
سنتکو بچانے کے لیے جان دینے والے سنت نگمانند کی موت پر سیاست شروع ہونے لگی ہے۔اس معاملے کو لے کر جہاں صوبے کی حکومت پر سوالیہ نشان لگائے جا رہے ہیں وہیں سنت کے رشتہ داروں نے ماتر سدن پر بھی کئی سنگین الزامات لگائے ہیں۔ سنت کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ نگمانند پر بھوک ہڑتال کا دبائو تھا۔سنت نگمانند گنگا کی حفاظت کے لیے چلائی گئی اپنی تحریک کے لیے 19 فروری 2011 سے بھوک ہڑتال پر تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ گنگا کی حفاظت کے لیے کنبھ علاقے کو کھدائی سے محفوظ رکھا جائے ۔ 68 دنوں بعد، بھوک ہڑتال کے دوران سوامی نگمانند کو ضلع انتظامیہ کے ذریعہ ضلع اسپتال میں داخل کراکر جبراً ان کے بھوک ہڑت

Read more

اتراکھنڈ میں کانگریس گروپ بندی کا شکار

راجکمار شرما
ملک کی پانچ ریاستوں میں انتخابات کے اختتام کو پہنچتے ہی ریاست اتراکھنڈ کی سیاسی تپش میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ریاست میں پانچ پارلیمانی سیٹوں پر کانگریس کا قبضہ ہو جانے کے بعد کانگریسی لیڈران خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔آٹھ مہینے بعد ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات میں عوام کے رجحان کانگریس کے حق میں زیادہ جانے کی امید سے کانگریس میں گروہ بندی تیز ہوگئی۔فی الحال صورتحال یہ ہے کہ اس ریاست کے پانچ قدآور کانگریسی لیڈر جنہیں پانچ پانڈووں کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ وہ وزیر اعلیٰ کی دوڑ میں سب سے آگے نکلنیکے لئے اپنوں کوہی پچھاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔کانگریس کے پانڈو ہریش راو

Read more

سنت سماج کی نظروں میں بابا رام دیو

راجکمار شرما
بابا رام دیو سے ناراض سنت سماج کے سربراہ اور اٹل جی کی حکومت میں وزیر مملکت برائے داخلہ رہے سوامی چنمیا نند سرسوتی(صدر، پرامارتھ نکیتن ہردوار) نے بابا کو غریب مخالف بتا کر ان کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ چنمیانند جی کہتے ہیں کہ بابا رام دیو نے غریبوں کی بہبود کے نام پر کروڑوں روپے 8 سال میں اکٹھے کیے، لیکن غریبوں کی بہبود کا کوئی کام نہیں کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ بابا چیریٹی کے نام پر اپنی تقریباً سبھی مصنوعات پر ٹیکس نہ دے کر کروڑوں روپے کی ٹیکس چوری کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر بابا رام دیو عوامی بہبود کے نام پر بغیر مفاد کے مصنوعات بناتے ہیں تو ان کی مصنوع

Read more

نشنک کے دامن پر لگا بدعنوانی کا داغ

راج کمار شرما
ریاست اتراکھنڈ کی نشنک حکومت نے اپنے سب سے زیادہ متنازع پن بجلی پروجیکٹ کو یک لخت مسترد کرنے کا فیصلہ لے لیا۔ حکومت کے اس فیصلے سے ریاست کی حزب مخالف جماعت کو موقع مل گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی اپوزیشن نے ایوان کے اندر اور ایوان کے باہر یہ الزام عائد کیا تھا کہ ریاست کی اس حکومت کے ذریعہ 54واٹر الیکٹرک اسکیم میں وزیر اعلیٰ اور ان کی حکومت بدعنوانی میں ملوث ہے۔سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ وزیر اعلیٰ نے یہ فیصلہ ہائی کورٹ میں زیر التوا اشونی کمار شرما کی مفاد عامہ کی عرضی کے آنے والے فیصلے سے ڈر کر آناً فاناً میں لی

Read more

نتن گڈکری تمہارے اسکول کا ہیڈ ماسٹر کون ہے؟

راج کمار
نتن گڈکری تمہارے اسکول کا ہیڈ ماسٹر کون ہے؟ یہ سوال پوچھ کر دیوبھومی اترا کھنڈ کے تعلیم یافتہ عوام نے بی جے پی کے لئے مشکلات کھڑی کردی ہیں۔ دہرادون کے پریڈ گراؤنڈ میں حسب خواہش عوام کی موجودگی نہ پاکر بی جے پی کے قومی صدر ایک بار پھراپنا آپا کھوبیٹھے اور انہوں نے اجلاس عام کو خطاب کرتے ہوئے کانگریس سے

Read more
Page 1 of 212