اتر پردیش میں ذات اور مذہب کے نام پر پھر سے بیوقوف بنانے میں لگی ہیں سیاسی پارٹیاں

اتر پردیش میں جیسے جیسے اسمبلی انتخاب کا وقت نزدیک آتا جارہا ہے، ویسے ویسے دلت اور مسلم ووٹوں کو لے کر سیاسی پارٹیوں میں مارا ماری اور سبقت لے جانے کا ماحول بنتا جارہا ہے۔اس وقت دو اہم سوال اتر پردیش کے سیاسی منظر پر منڈلا رہے ہیں، پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ملائم سنگھ یادو مسلم ووٹوں پر اپنی پکڑ برقرار رکھ پائیں گے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا مایاوتی دلت ووٹوں پر اپنی پکڑ 2007 کی طرح رکھ پائیں گی؟ان دونوں سوالوں کے جواب موجودہ سیاسی ماحول میں الجھے ہوئے ہیں۔ اس کا حتمی جواب نہ ملائم کے پاس ہے اور نہ مایاوتی کے پاس۔ایک تیسرا سوال بھی پیدا ہورہا ہے کہ مسلم ووٹوں کو منتشر کرنے اور مایاوتی کے ہاتھوں سے دلت ووٹ چھیننے میں کیا بی جے پی کامیاب ہو پائے گی؟ اس میں بھی شبہ ہی ہے۔ یعنی اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب کے ما قبل کی سیاسی صورت حال بے یقینی کے ماحول سے گزر رہی ہے۔

Read more

اتر پردیش: ترقی کے نام پر گھوٹالہ اور بد عنوانی کا بازار گرم

آپ نے کبھی سنا ہے کہ جو کمپنی حقیقت میں موجود ہی نہ ہو ،اسے پانچ پانچ پروجیکٹوں کے ٹھیکے دے دیئے جائیں؟ لیکن ایسے لا جواب کارنامے اتر پردیش میں ہوتے ہیں۔ بہو جن سماج پارٹی حکومت کے طاقتور وزیر اور این آر ایچ ایم گھوٹالے کے اہم ملزم بابو سنگھ کشواہا کی سرپرستی میں کانکنی کا دھندہ کرنے والوں نے ایک کمپنی کے نام پر پانچ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے ٹھیکے پہلے حاصل کر لئے، بعد میں کمپنی بنائی ۔ کمپنی کا ایک ڈائریکٹر کانکنی کا شہنشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ سماج وادی پارٹی کا سرگرم لیڈر بھی ہے۔ پروجیکٹ شروع نہیں ہوا، لیکن ان کے لئے ملنے والے آسان لون اور سبسڈی کا فائدہ مل گیا۔ پروجیکٹ کا کام شروع نہیں ہوا ،تو اتر پردیش کو سستی بجلی نہیں مل پائی، جس سے ہر سال کروڑوں کا نقصان الگ سے ہو رہاہے ۔گتھی یہ بھی الجھی ہوئی ہے کہ کانکنی کا پیسہ پروجیکٹوں میں لگنے والا تھا یا پھر کانکنی کا دھندہ کرنے والے طاقتور لوگوں کو عوام کا پیسہ سمیٹنے کا ایک اور ذریعہ دے دیا گیا۔ جانچ (غیر جانبدار)ہو تو پتہ چلے۔

Read more

گاندھی وادی سندیپ پانڈے کو نکسلوادی بتا کر بی ایچ یو سے نکالا گیا وائس چانسلر کی غنڈہ گردی

پورے ملک میں رواداری اور عدم رواداری کو لے کر بحثیں چھڑی ہوئی ہیں، تمام ادباء، فنکار عدم رواداری کے مسئلے پر رواداری کو چھوڑ رہے ہیں ۔ عدم رواداری کے خلاف پر تشدد احتجاج ہورہے ہیں، ملک کے لوگوں کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ رواداری کیا ہے اور عدم رواداری کیا ہے۔ سب کچھ خلط ملط ہوگیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقے وارانسی میں کاشی ہندو یونیورسٹی ( بی ایچ یو) کے وائس چانسلر گریش چندر ترپاٹھی نے آئی آئی ٹی -بی ایچ یو میں پڑھانے والے وزیٹنگ پروفیسر سندیپ پانڈے کو برخاست کرکے ایسی ہی عجیب و غریب عدم رواداری کا ثبوت دیا ہے۔ ملک و بیرون ملک کے لوگ اسے بی ایچ یو جیسی

Read more

پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے کی حقیقت

نارکو پولٹکس اور نارکو ٹیرورزم نے پنجاب کے سرحدی علاقوں کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔کچھ ہی ماہ قبل گرداس پور کے دینا نگر میں اور اب پٹھان کوٹ میں ہوا دہشت گردانہ حملہ اسی سانٹھ گانٹھ کی منادی ہے۔ واردات کے محض دو دن قبل گرداس پور کے ایس پی کے عہدے سے ہٹایا گیا سلوندر سنگھ اس نکسس کا محض ایک مہرہ ہے ۔پٹھان کوٹ حملے کی گہرائی سے جانچ کر رہی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) اس سمت میں بھی ٹھوس طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے کہ سلوندر سنگھ جیسے مہروں ک

Read more

سیفئی مہا اتسو کا افتتاح کرنے نہیں گئے وزیر اعلیٰ اکھلیش

وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی غیر موجودگی میں سیفئی مہا اتسو کا افتتا ح بھی ہوا ور اختتام پذیر بھی ہوگیا۔ وزیر اعلیٰ نے اس بار سیفئی مہا اتسو سے خود کو الگ رکھا۔اس کی سیاسی وجہ بھی ہوسکتی ہے اور خاندانی بھی۔ اکھلیش نہیںگئے، تو ان کی بیوی ڈمپل یادو بھی نہیں گئیں اور اکھلیش کے بچے بھی مہا اتسو میںشریک نہیںہوپائے۔

Read more

سیاستداں عوام کے مذہبی جذباتوں سے کھلواڑ کرتے ہیں

ایودھیا کی سڑکوں اور گلی محلوں میں آپ گھومیں تو کسی بھی شخص کو رام مندر کے بارے میں فکر کرتا ہوا نہیں پائیںگے۔ کسی کو کوئی مطلب ہی نہیں ہے کہ راجستھان سے 2 ٹرک پتھر آگئے کہ4 ٹرک،یا پتھر تراشنے کے کام میں پہلے8 آدمی بطور کاریگر کام کرتے تھے کہ اب 16 کاریگر کام کررہے ہیں۔خبریں تلاشنے اور تراشنے کا کام کرنے والے صحافیوں کو آپ کارسیوک پورم میں پتھر تراشتے کاریگروں سے بات کرتے ہوئے یا وشو ہندو پریشد کے کسی ممبر سے یا پھر بابری مسجد معاملے کے مدعی ہاشم انصاری کے گھر کے آگے کسی سے گفتگو کرتے ضرور پائیںگے۔ ایودھیا کی کل صورت حال یہی ہے کہ رام مندر یا بابری مسجد کے بارے میں ہر طرح کی فکر کا اظہار کرتے ہوئے وہی نظر آئیں گے جو یا تو میڈیا میں ہیں یا سیاست کے کسی خانے میں۔

Read more

چوتھی دنیا کی رپورٹ سے این ٹی پی سی کے سی ایم ڈی

نیشنل تھرمل پاور کارپوریشن (این ٹی پی سی) کے سی ایم ڈی ارون رائے چودھری کی کرتوتوں کے خلاف ’’ چوتھی دنیا‘‘کے متعدد شمارے میں خبر شائع ہونے کے بعد رائے چودھری نے ’’چوتھی دنیا‘‘ کے خلاف قابل اعتراض پرچے بازی شروع کردی ہے۔ سی ایم ڈی کے اشارے پر یہ پرچے دہلی اور آس پاس کے علاقوں میں تقسیم کیے جارہے ہیں اور اخباروں میں منسلک کیے جارہے ہیں۔ سی ایم ڈی کی بوکھلاہٹ اس لیے بھی ہے کہ ’’چوتھی دنیا‘‘ کی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کوشل کشور نے بھی این ٹی پی سی کے سی ایم ڈی

Read more

ملک کا سب سے بڑا گھوٹالہ

بجلی گھوٹالے میں پولس کی فائنل رپورٹ کا اپنے دائرۂ اختیار سے باہر جا کرنوٹس لینے اور تین سال تک اس رپورٹ کو دباکر رکھنے والے جج کے خلاف آلہ آباد ہائی کورٹ کے وجیلنس بیورو نے کارروائی شروع کر دی ہے۔ مذکورہ جج کے خلاف شکایت یہ بھی ہے کہ انہوں نے محکمہ انصاف میں پرنسپل سکریٹری رہتے ہوئے حساس امور کو چھپا کر ایک متنازع سرکاری وکیل کے جج بننے میں مدد کی تھی۔ اس معاملہ کے سامنے آتے ہی اتر پردیش کے پاور سیکٹر میں ہوئے اربوں کے گھوٹالے کی لیپا پوتی میں لگے ججوں، نوکر شاہوں اور محکمہ جاتی افسروں کے ساتھ ساتھ سی بی آئی کے بھی قانون کے شکنجے میں آنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ اتر پردیش کا بجلی گھوٹالہ ملک کا سب سے بڑا گھوٹالہ ثابت ہونے والا ہے، جس میں نہ صرف نیتا اور نوکر شاہ، بلکہ جج اور سی بی آئی کے افسر بھی ملوث ہیں۔ یہ دلچسپ اور مزاحیہ ہی ہے کہ اربوں کے بجلی گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ کا سرکاری فرمان جاری ہو جانے کے بعد بھی اسے عدالت میں دبائے رکھا گیا اور آخر کار سی بی آئی نے ہی جانچ کرنے سے منع کر دیا۔ بجلی گھوٹالے میں سی بی آئی بھی ملزم ہے۔

Read more

گھوٹالوں کا کارپوریشن این ٹی پی سی

نیشنل تھرمل پاور کارپوریشن لمیٹڈ (این ٹی پی سی) نے سرکاری پروجیکٹ کے لیے قبضے میں لی گئی زمین خفیہ طریقے سے بوفورس – فیم ہندوجا گروپ کو دے دی۔ سرکار کے سیمادری پروجیکٹ کی سینکڑوں ایکڑ زمین ہندوجا گروپ کو دیے جانے کے معاملے میں وزارتِ توانائی مشتبہ طریقے سے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، جب کہ سنٹرل وجیلنس کمیشن (سی وی سی) نے ضروری کارروائی کے لیے اسے وزارتِ توانائی کو پہلے ہی بھیج دیا تھا۔ یہاں تک کہ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) تک کو اس کا علم ہے۔ این ٹی پی سی کے چیئر مین و منیجنگ ڈائرکٹر (سی ایم ڈی) اروپ رائے چودھری نے آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم میں واقع سیمادری پروجیکٹ کی تحویل میں لی گئی زمین ہندوجا گروپ کو دے کر قانون کی تو دھجیاں اڑائیں ہی، این ٹی پی سی اور ملک کو زبردست اقتصادی اور تجارتی نقصان بھی پہنچایا۔ 19 جون، 2014 کو این ٹی پی سی بورڈ کی میٹنگ میں تجویز پاس کرکے ہندوجا گروپ کو زمین دے دی گئی تھی۔

Read more

یو پی میں سماجوادی پارٹی کی مجلس عاملہ کی تشکیل

سماجوادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو نے اتر پردیش اکائی کی تحلیل شدہ مجلس عاملہ (ایگزیکیوٹو کمیٹی) کی از سر نو تشکیل کر کے نئی مجلس عاملہ کی فہرست جاری کی ہے۔دو دنوں بعد وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو غیر ملکی دورہ سے واپس آئے اور انھوں نے مجلس عاملہ کی ایک متوازی فہرست جاری کر دی۔ یہ سماجوادی پارٹی کا بے جوڑ نمونہ ہے ، جہاں جمہوریت اور انارکی کی ساز باز واضح نظر آتی ہے۔ پارٹی کارکنان کہتے ہیں کہ مکمل فہرست ہی جاری کرنی تھی تو وہ بھی قومی صدر کے ذریعہ ہی جاری ہوتی تو فیصلوں کا وقاربرقرار رہتا۔ریاستی مجلس عاملہ میں ایک بھی سینئر یا قدآور لیڈر کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک بھی قدآور لیڈر ریاستی مجلس عاملہ میں آنے کے لئے تیار نہیں ہوا۔

Read more