علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں دلتوں اور پچھڑوں کوکیوں نہیں دیا جارہا ریزرویشن انتخابی بساط پر بی جے پی کا دائو

اتر پردیش کی اکادمک راجدھانی الٰہ آباد میں ہوئی بی جے پی کی نیشنل ایگزیکٹیو کی میٹنگ سے زیادہ اہم وہ میٹنگ تھی جو قومی صدر امیت شاہ کے دعوت پر 18جون کو دلی میں بلائی گئی تھی، جس میں اتر پردیش کے سارے ممبران پارلیمنٹ اور ایم ایل اے موجود تھے۔ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ارکان پارلیمنٹ اور ایم ایل ایز کی مذکورہ میٹنگ کے اصل منتظم راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے نظریہ کے حامل لوگ تھے۔ اس میٹنگ کی جانکاری کو عام نہیں کیا گیا، لیکن اس میٹنگ میں اتر پردیش کے سبھی بی جے پی ممبران پارلیمنٹ اور سبھی بی جے پی ایم ایل ایز لازمی طور سے شامل ہوئے۔ نیشنل ایگزیکٹیو میں انتخابی پالیسی پر کوئی چرچا نہیں ہوا تھا اور جو تجاویز پیش ہوئی تھیں، ان میں بھی اتر پردیش یا دیگر ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کو لے کر کوئی قابل

Read more

راجیہ سبھا کی سیٹوں پر مول بھاﺅ سماج وادی پارٹی کی گود میں رالود

اسمبلی انتخاب سے پہلے اتر پردیش میں راجیہ سبھاکی سیٹ مول بھاﺅ اور شرطوں پر بکنے والا مال ہو گئی ہے۔ پارٹیاں قابلیت پر نہیں،اس سے ہونے والے سیاسی فائدے کا حساب کتاب لگا کر سیٹیں دے رہی ہیں تو امیدوار بھی ناپ تول کر کہ اس پارٹی کو کتنا فائدہ دے گا، اس کی بولی لگا رہا ہے۔ اس میں سماج وادی پارٹی کچھ زیادہ ہی بے چینی میں دکھائی دے رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی کی بے چینی یہ ہے کہ راجیہ سبھا کی سیٹ دے کر وہ اسمبلی کی تمام سیٹیں اپنے قبضے میں کرنے کا جیسے خواب دیکھ رہی ہو۔ سماج وادی پارٹی کی ان کوششوں میں اس کا نظریاتی تضاد عوام کے سامنے بری طرح اجاگر ہو رہاہے۔

Read more

ججوں کی تقرری میں اہلیت اور تجربہ نہیں،رشتہ داری کو ترجیح

ججوں کی تقرری کے لئے الٰہ آباد ہائی کورٹ سے جو لسٹ سپریم کورٹ بھیجی گئی ہے، وہ بدعنوانیوں کا پلندہ ہے۔ جج اپنے بیٹوں اور رشتہ داروں کو جج بنا رہے ہیں اور سرکار کواحسان مند بنانے کے لئے اقتدار کےمنظور نظر سرکاری وکیلوں کو بھی جج بنانے کی منظوری دے رہے ہیں۔ جج کا عہدہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے بااثرججوں کا خاندانی آسن بنتا جارہا ہے۔ ججوں کی تقری کے لئے بھیجی گئی تازہ ترین لسٹ میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے بیٹے سے لے کر کئی اہم ججوں کے بیٹے اور رشتہ دار شامل ہیں۔ لیڈروں کو بھی خوب اوبلائز کیا جارہا ہے۔سینئر جیورسٹ ، اتر پردیش بی جے پی کے سینئر لیڈر اور مغربی

Read more

اترپردیش کا توانائی محکمہ بدعنوانی کا مرکزسرکار کی کھلی چھوٹ

پربھات رنجن دین
p-4اتر پردیش سرکار میں بہت افراتفری ہے۔کوئی کسی کی نہیں سنتا۔محکمے کا سینئر آفیسر کچھ حکم دیتا ہے تو اس کے ہی ماتحت آفیسر کچھ اور تانا بانا بن دیتے ہیں۔ کروڑوں کی بد عنوانی کے معاملوں کی جانچ ٹھنڈے بستے میں اس لئے چلی جاتی ہے کیونکہ بد عنوانی کا ملزم جانچ کرنے والے آفیسر کو کھلے عام دھمکی دیتا ہے اور جانچ آفیسر ڈر کے مارے بغیر جانچ کئے ہی کلین چٹ جاری کر دیتا ہے۔ ایسی افراتفری کے کچھ نمونے دیکھئے:
سنجے اگروال مح

Read more

سابق وزیر اعظم چندر شیکھر کی جینتی پر ملائم نے کئی راز کھولے سماجوادیوں کو ایک کرنے کی چاہت

سابق وزیر اعظم چندر شیکھر کی جینتی کے ذریعہ سماج وادی پارٹی کے سپریمو ملائم سنگھ یادو نے اپنے کئی ممکنہ سیاسی فائدے حاصل کرنے کے ساتھ ہی اپوزیشن پر بھی کئی نشانے لگائے ۔ ملائم نے کہا کہ انہوں نے کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ کو توڑ کر چندر شیکھر کی سرکار بنوائی تھی۔

Read more

ہندوستان کی ہورہی ہے جاسوسی اور وزیر اعظم بے خبر

پٹھان کوٹ ایئر بیس حملے کی سازش رچنے میں اکیلا پاکستان نہیں، بلکہ اس کے ساتھ چین بھی شامل تھا۔ چین نے پاکستان کو ہندوستان کے پٹھان کوٹ ایئر بیس سے متعلق کئی اہم خفیہ جانکاریاں مہیا کرائی تھیں۔ چین اپنے کچھ خاص اسمارٹ فونس اور اسمارٹ ایپلی کیشنس کے ذریعہ ہندوستانی فوج کی حساس اطلاعات حاصل کررہا ہے اور اسے لگاتار آئی ایس آئی کو مہیا کرارہا ہے۔ اس کام میں چائنیز کمپنیاں ہچیسن-ویمپوآ اور شاؤمی اسمارٹ فون چین کی مدد کر رہے ہیں۔ چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ساتھ مل کر دنیا بھر میں سائبر جاسوسی کرنے میںہچیسن-ویمپوآ کمپنی پہلے سے ہی مشہور رہی ہیں۔ پاکستان کی بندرگاہوںپر چین نے ہچیسن-ویمپوآ کے ذریعہ ہی دخل بنایا ہے۔ اس کمپنی سے پاکستان کو بھاری اقتصادی مدد مل رہی ہے۔ ہچیسن کمپنی کچھ عرصہ قبل تک ہندوستان میںکام کرتی رہی، لیکن 2005-07 میںاچانک اس نے ہندوستان کا کاروبار بند کردیا۔ ووڈافون نے اسے خرید لیا۔ ہچ کے اس طرح ہندوستان سے کام سمیٹ لینے کے پیچھے

Read more

اترپردیش کے ضمنی انتخاب نے بگاڑا حساب کتاب

اتر پردیش کی تین اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخاب کے نتیجے سے سیاسی حساب کتاب کو لے کرکی جارہی تمام پیش گوئیاں زمین بوس ہوگئیں۔ ریاست میں برسر اقتدار سماجوادی پارٹی اپنے قبضے کی تینوں سیٹوں میں سے کسی طرح ایک سیٹ بچاپائی۔ ایک سیٹ بھارتیہ جنتا پارٹی او ردوسری سیٹ کانگریسنکال لے گئی۔ پنچایت کے انتخابات میں قائم ہوا سماجوادی پارٹی کا جلوہ کچھ ہی دن بعد اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں حلوہ ثابت ہوا۔ضمنی انتخابات کے نتائج سے ایس

Read more

اتر پردیش میں ذات اور مذہب کے نام پر پھر سے بیوقوف بنانے میں لگی ہیں سیاسی پارٹیاں

اتر پردیش میں جیسے جیسے اسمبلی انتخاب کا وقت نزدیک آتا جارہا ہے، ویسے ویسے دلت اور مسلم ووٹوں کو لے کر سیاسی پارٹیوں میں مارا ماری اور سبقت لے جانے کا ماحول بنتا جارہا ہے۔اس وقت دو اہم سوال اتر پردیش کے سیاسی منظر پر منڈلا رہے ہیں، پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ملائم سنگھ یادو مسلم ووٹوں پر اپنی پکڑ برقرار رکھ پائیں گے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا مایاوتی دلت ووٹوں پر اپنی پکڑ 2007 کی طرح رکھ پائیں گی؟ان دونوں سوالوں کے جواب موجودہ سیاسی ماحول میں الجھے ہوئے ہیں۔ اس کا حتمی جواب نہ ملائم کے پاس ہے اور نہ مایاوتی کے پاس۔ایک تیسرا سوال بھی پیدا ہورہا ہے کہ مسلم ووٹوں کو منتشر کرنے اور مایاوتی کے ہاتھوں سے دلت ووٹ چھیننے میں کیا بی جے پی کامیاب ہو پائے گی؟ اس میں بھی شبہ ہی ہے۔ یعنی اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب کے ما قبل کی سیاسی صورت حال بے یقینی کے ماحول سے گزر رہی ہے۔

Read more

اتر پردیش: ترقی کے نام پر گھوٹالہ اور بد عنوانی کا بازار گرم

آپ نے کبھی سنا ہے کہ جو کمپنی حقیقت میں موجود ہی نہ ہو ،اسے پانچ پانچ پروجیکٹوں کے ٹھیکے دے دیئے جائیں؟ لیکن ایسے لا جواب کارنامے اتر پردیش میں ہوتے ہیں۔ بہو جن سماج پارٹی حکومت کے طاقتور وزیر اور این آر ایچ ایم گھوٹالے کے اہم ملزم بابو سنگھ کشواہا کی سرپرستی میں کانکنی کا دھندہ کرنے والوں نے ایک کمپنی کے نام پر پانچ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے ٹھیکے پہلے حاصل کر لئے، بعد میں کمپنی بنائی ۔ کمپنی کا ایک ڈائریکٹر کانکنی کا شہنشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ سماج وادی پارٹی کا سرگرم لیڈر بھی ہے۔ پروجیکٹ شروع نہیں ہوا، لیکن ان کے لئے ملنے والے آسان لون اور سبسڈی کا فائدہ مل گیا۔ پروجیکٹ کا کام شروع نہیں ہوا ،تو اتر پردیش کو سستی بجلی نہیں مل پائی، جس سے ہر سال کروڑوں کا نقصان الگ سے ہو رہاہے ۔گتھی یہ بھی الجھی ہوئی ہے کہ کانکنی کا پیسہ پروجیکٹوں میں لگنے والا تھا یا پھر کانکنی کا دھندہ کرنے والے طاقتور لوگوں کو عوام کا پیسہ سمیٹنے کا ایک اور ذریعہ دے دیا گیا۔ جانچ (غیر جانبدار)ہو تو پتہ چلے۔

Read more

گاندھی وادی سندیپ پانڈے کو نکسلوادی بتا کر بی ایچ یو سے نکالا گیا وائس چانسلر کی غنڈہ گردی

پورے ملک میں رواداری اور عدم رواداری کو لے کر بحثیں چھڑی ہوئی ہیں، تمام ادباء، فنکار عدم رواداری کے مسئلے پر رواداری کو چھوڑ رہے ہیں ۔ عدم رواداری کے خلاف پر تشدد احتجاج ہورہے ہیں، ملک کے لوگوں کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ رواداری کیا ہے اور عدم رواداری کیا ہے۔ سب کچھ خلط ملط ہوگیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقے وارانسی میں کاشی ہندو یونیورسٹی ( بی ایچ یو) کے وائس چانسلر گریش چندر ترپاٹھی نے آئی آئی ٹی -بی ایچ یو میں پڑھانے والے وزیٹنگ پروفیسر سندیپ پانڈے کو برخاست کرکے ایسی ہی عجیب و غریب عدم رواداری کا ثبوت دیا ہے۔ ملک و بیرون ملک کے لوگ اسے بی ایچ یو جیسی

Read more
Page 8 of 11« First...678910...Last »