سماج وادی پارٹی تقسیم کے دہانے پر؟

سماج وادی پارٹی میں اعلیٰ قیادت کی سطح پر آر پار کی جنگ کا ماحول ہے۔ شیو پال بنام اکھلیش تنازع کا کروس پروڈکٹ یہ ہے کہ سماج وادی پارٹی کی دو خانے میں تقسیم ، صاف صاف دکھائی دے رہی ہے۔ اکھلیش کے حامی ایک طرف ہیں تو شیوپال کے حامی دوسری طرف۔ اب تو پارٹی ہیڈ کوارٹر بھی دو طرف ہے۔ ایک دفتر میں شیو پال اور ان کے لوگ تو دوسرے دفتر میں اکھلیش اور ان کے لوگ۔اکھلیش کے حامیوں کو شیو پال پارٹی سے باہر نکال چکے، لیکن وہ اکھلیش کے ساتھ بنے ہوئے ہیں اور متوازی دفتر میں باقاعدہ براجمان ہیں۔ دونوں ہی خانے سماج وادی پارٹی کے ہیں، جن کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو ہیں۔ شیو پال یاددو، اکھلیش کے حامیوں کو تنظیم سے باہر کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اکھلیش حامیوں کو چن چن کر تنظیم کے مختلف عہدوں سے ہٹائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

Read more

معصوموں کی گرفتاری پردے کے پیچھے کی کہانی

دہشت گردی کو لے کر پورا ملک اور پوری دنیا حساس ہے۔لیکن مرکزی سرکار اور وزارت داخلہ کو نہ حساسیت سے کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی ہمدردی۔دہشت گردی کے الزامات میں جنہیں گرفتار کیاجاتا ہے اور لمبا عرصہ جیل میں کاٹ لینے کے بعد عدالتوں کے ذریعہ جنہیں بے قصور بتا کر رہا کیا جاتا ہے، اس کی کوئی اطلاع نہ وزارت داخلہ کے پاس دستیاب ہے اور نہ ریاست کے محکمۂ داخلہ کے پاس ہے۔ پھر سرکار ایسے لوگوں کی بازآبادکاری کے دعوے کس بنیاد پر کررہی ہے۔

Read more

سماجوادی تنازع دوسمتوں میں کھینچی جارہی سائیکل کی حالت بری

سماجوادی پارٹی اورسماجوادی سرکار ،دونوں چلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوںچلنے کاناٹک کررہی ہیں۔ دونوںیہ دکھانے کی بے معنی کوشش کررہی ہیں کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے، لیکن اصلیت یہی ہے کہ کچھ بھی ٹھیک نہیںچل رہا ہے۔ اب سرکار الگ ہے اور پارٹی الگ۔ شیوپال یادو سرکار میںوزیر ہیں، یہ اکھلیش کی بے بسی ہے اور اکھلیش یادو پار ٹی میں ہیں،یہ شیو پال کی بے بسی ہے۔ دونوںایک دوسرے کے حامیوں کو باہر کا راستہ دکھا کر ایک دوسرے کو نکالنے کا نفسیاتی سکھ حاصل کررہے ہیں۔ شیوپال اکھلیش تنازع میں ملائم بھی پارٹی ہیں اور رام گوپال بھی۔ ملائم، شیوپال کی طرف کھڑے ہیں اور رام گوپال، اکھلیش کی طرف ۔ رام گوپال اور اکھلیش نے تنازع کے لیے ’باہر کا آدمی ‘ امر سنگھ کو قصوروار بتایا تو ملائم سنگھ نے امر کو جنرل سکریٹری بنا کر ’اندر کے آدمی‘ کی منظوری دے دی۔

Read more

اترپردیش میں انتخابات سے قبل مینجمنٹ اسکینڈل

اترپردیش اسمبلی میں ہورہی غیر قانونی تقرریوں سے اس آئینی بینچ کی مریاداٹوٹ رہی ہے ۔اسمبلی اسپیکرماتا پرساد پانڈے کے دو دامادوں اور سابق اسمبلی اسپیکر سکھ دیو راج بھر کے داماد کی غلط تقرریوں سے اسمبلی کا مذاق پہلے ہی اڑ چکا ہے۔ اسمبلی کا آخری سیشن اختتام پذیر ہوچکا ہے۔ انتخاب کے بعد نئی اسمبلی کی تشکیل ہوگی۔ جاتے جاتے اسمبلی اسپیکر ماتا پرساد پانڈے نے ’اپنے آدمی‘

Read more

پنجاب سیاست پر خصوصی پیش کش کب راج کرے گا خالصہ

پنجاب میں اسمبلی انتخابات سر پرہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اکالی دل کی مخلوط سرکار کے خلاف ماحول گہرا ہورہا ہے۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ اس دور حکومت میں پنجاب کی معیشت اور سماجی گراف کافی نیچے گرگیا ہے۔ کسان خودکشی کررہے ہیں اور کھیتی کسانی کے بنیادی کام میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ نشے کی وجہ سے پنجاب کا نوجوان برباد ہوا ہے اور پنجاب کی شبیہ کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔ عوام میں سیاسی متبادل کی چھٹ پٹاہٹ بڑھتی جارہی ہے۔ ایسے میں یونائیٹڈ اکالی دل ایک بار پھر خم ٹھوک کر میدان میں آڈٹا ہے۔ دوسری طرف عام آدمی پارٹی بھی مؤثر موجودگی کے ساتھ میدان میں ہے۔آئیے دیکھتے ہیں کیا ہے اصل صورت حال۔

Read more

اکھلیش یادو نے بدعنوان نوکر شاہ کو بنایا چیف سکریٹری

سماجوادی پارٹی پر امر سنگھکی بالادستی پھر سے قائم ہورہی ہے۔انھوں نے اپنے خاص نوکر شاہ دیپک سنگھل کو اترپردیش کا چیف سکریٹری بنواکر اپنا تسلط قائم کیا ہے۔دیپک کا نام ریاست کے 10 بدعنوانوں میں شامل رہا ہے۔ بدعنوانی کی ڈیلنگ سے متعلق امر سنگھ اور دیپک سنگھل کے بیچ ہوئی ٹیلی فونک بات چیت کی ریکارڈنگ سرخیوں میںرہی ہے۔ اُس بات چیت کے تین ٹیپ دستیاب ہیں۔ یہ ٹیپ یو- ٹیوب پر بھی اَپ لوڈیڈ ہیں۔ ان میںایک میںدیپک سنگھل اور امر سنگھ کے بیچ کسی شوگر ڈیل کے ساتھ ساتھ اسپیشل ایکونومک زون (ایس ای زیڈ) کے ٹینڈر ڈاکیومنٹ اور اس کی پالیسی اورلینڈ الاٹمنٹ میں مرضی کے مطابق تبدیلی کی کھلی بات چیت ہورہی ہے۔دوسرے ٹیپ میںگیس کی ڈیل، آئی اے ایس سنجیو سرن کے ساتھ نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا میںحصہ داری اور

Read more

مرکز نے روکی ججو ں کی تقرری کے لیے بھیجی گئی متنازع لسٹ

ججوں کی تقرری کے لیے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے سپریم کورٹ کو جو لسٹ بھیجی تھی، اس پر مرکزی سرکار نے روک لگادی ہے۔ لسٹ بھیجنے کے بعد چندرچوڑ سپریم کورٹ میںجج بن کر چلے گئے۔ چندرچوڑ نے تقریباً 50 نام بھیجے تھے، ان میں سے زیادہ تر نام سابق اور موجودہ ججوں کے بیٹے، بھائی، بھانجے، سالے اور دیگر نزدیکی رشتہ دار ہیں۔ جو نام بچے ہیں، وہ سب بھی سرکار کے سفارشی بیٹے ہیں یا بڑے لیڈروں کے بیٹے یا رشتہ دار ہیں۔ قومی ہفت روزہ اخبار ’چوتھی دنیا‘ کے ہندی اور اردو ایڈیشن نے اس خبر کو سب سے پہلے اجاگر کیا اور عدالتی احاطے میں ججوں کے ذریعہ کی جارہی اندھیر گردی کی طرف لوگوں کی توجہمبذول کرائی۔ ’چوتھی دنیا‘ میںشائع اس خبر نے سوشل میڈیا کے اسٹیج پر بھی بڑے پیمانے پر ملک بھر کے لوگوں کی توجہ مرکوز کی، جس سے ججوں کی تقرری کی ایسی دھاندلی اور سفارش کے خلاف بڑے پیمانے پر غصہ سامنے آیا۔ خاص طور پر وکیلوں، قانون سے جڑے لوگوں اور ان کی تنظیموں کی طرف سے زور دار ردعمل سامنے آیا۔ آخرکار مرکزی سرکار نے اس متنازع لسٹ کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔ مرکز نے انٹیلی جینس بیورو (آئی بی) کو اس معاملے کی جانچ کرنے کو کہا ہے۔

Read more

یوپی اسمبلی انتخاب میں ہندووادی دھارا پر لوٹے گی بی جے پی انتخابی سرگرمیوںمیں تیزی

اترپردیش میںاسمبلی انتخاب سے عین قبل بھارتیہ جنتا پارٹی کیا اپنی مشتعل ہندووادی دھارا پر لوٹے گی؟ گورکھپور علاقے کے بوتھ کنونشن میں بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے جس طرح کا رخ اختیار کیا، اس سے تویہی اشارہ ملتا ہے۔ بہار انتخاب کے بعد بی جے پی ’سرو دھرم – سمبھاؤ‘ کی کیفیت میںدکھائی دینے لگی تھی،لیکن آسام انتخاب میںغیر متوقع کامیابی کے بعد بی جے پی اپنے تیور بدلتے دکھائی دے رہی ہے۔ امت شاہ کے دستے کے معتبررکن اترپردیش کیتنظیم سکریٹری سنیل بنسل نے حال ہی میں ’چوتھی دنیا‘ سے ہوئی خاص بات چیت میں بی جے پی کے سیکولر رجحان کی طرف سرکنے کا اشارہ دیتے ہوئے صاف طور پر کہا تھا کہ رام مندر بی جے پی کا انتخابی مدعا نہیںہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس انٹرویو میں بنسل نے یوں ہی کہہ دیا تھاکہ بی جے پی کو اپنی سیاست جامع کرنی ہوگی۔ بنسل نے کہا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اب تک تمام تر کی سیاست نہیںکررہی تھی۔ ایسی سیاست، جس میں ہندوؤں کے ساتھ ساتھ مسلمان ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی شریک رہیں۔ اس وقت بات چیت کا ایسا ہی ٹون قریب قریب سارے سینئر مرکزی لیڈروں کا ہونے لگاتھا۔ لیکن کیرانہ فارمولے نے اچانک ہی سامنے آکر یہ بتایا کہ بی جے پی اترپردیش کے اسمبلی انتخاب میںہندووادی لائن ہی اختیار کرے گی۔ قومی مجلس عاملہ کی الٰہ آباد میٹنگ کے درمیان منعقد ریلی میںوزیر اعظم نریندرمودی کی موجودگی میںاسٹیج سے ہی امت شاہ نے جس طرح کیرانہ کا مسئلہ اچھالاتھا اور سبھا میںشامل لوگوں سے اس مسئلے پر ہنکار کی سپورٹ لی تھی، اس سے بی جے پی کی یوپی لائن واضح ہوگئی تھی۔ گورکھپور میںبوتھ پرمکھوںکے کنونشن میں امت شاہ نے اس پر مہر لگادی، جب انھوں نے کہا کہ یوگی آدتیہ ناتھ کا محض نام لینے سے مشرقی اترپردیش کے لوگوں اور بی جے پی کے کارکنوں میںجوش بھرجاتا ہے۔ گورکھپور علاقے کے 27 ہزار بوتھ پرمکھوں کے کنونشن کو مخاطب کرتے ہوئے امت شاہ نے گورکھ دھام پیٹھ کے اہم مہنت یوگی آدتیہ ناتھ کی تعریف میںڈھیر ساری باتیںکہیں۔ شاہ نے یہ تعریف اتفاقیہ طور پر نہیںکی ہوگی۔ یقینی طور پر تنظیمی سبھاؤں اور جلسوں میںتنظیم کے اعلیٰ لیڈر نے سوچ سمجھ کر ہی اپنی بات رکھی ہوگی۔

Read more

اکھلیش جی! سات ہزار کروڑ کہاں ہیں؟

اترپردیش کے سرکاری خزانے کے سات ہزار کروڑ روپے روپے غائب ہیں۔ سات ہزار کروڑ روپے کا حساب ہی نہیں مل رہا ہے۔ اترپردیش پاور ٹرانسمیشن کارپوریشن اوریوپی اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن کے ٹاپ پر بیٹھے بدعنوان افسروں نے سازباز کرکے توانائی (انرجی) کے مد کی اتنی بڑی رقم کو خورد برد کردیا ہے۔ اس گھوٹالے سے اترپردیش سرکار کو 450کروڑ روپے کا سالانہ نقصان ہورہا ہے۔ نقصان کی رقم گھوٹالے کی رقم سے الگ ہے۔ ہزاروں کروڑ روپے کا گھپلہ کرنے والے اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن کے جنرل منیجر آر این یادو کو کامیابی کے ساتھ بدعنوانی کرنے کے لیے سرکار نے انعام دیا اور انھیںاترپردیش پاور کارپوریشن کے ’یوجنا‘ محکمہ کا ڈائریکٹر بنا دیاگیا۔ آراین یادو کی ’اسپلشلائزیشن‘ کی ساکھ یہ ہے کہ سرکار نے

Read more