یو پی میں قانون ساز کونسل کا انتخاب ہوا دلچسپ

اقتدار اور سیفئی مہوتسو کے نشے میں ڈوبی سماجوادی پارٹی کو یہ بھی ہوش نہیں رہا کہ 23 جنوری کو ہونے والے قانون ساز کونسل کے انتخاب میں کسے امیدوار بنانا ہے اور کسے نہیں۔ قانون ساز کونسل کے جس رکن کی ابھی ڈیڑھ سال کی مدت باقی تھی، سماجوادی پارٹی نے اسے بھی اپنا امیدوار بنا دیا۔ سیفئی میں ناچ و رنگ کی محفل ذرا سست پڑی، تو کسی نے یاد دلایا، تب لیڈروں کو ہوش آیا۔ لہٰذا، آناً فاناً لسٹ بدلی گئی اور پھر نئے امیدواروں کا اعلان کیا گیا۔ لیکن اس نئی لسٹ کو لے کر بھی پارٹی کارکنوں میں ناراضگی ہے۔ دوسری طرف، بہوجن سماج پارٹی بھی بوکھلاہٹ کی شکار ہے، کیو ںکہ اس کا شیرازہ بکھر رہا ہے۔ ڈاکٹر اکھلیش داس نے کہہ دیا کہ مایاوتی ٹکٹ اور پوسٹ بیچتی ہیں۔ یہ بات مایاوتی کو بہت بری لگی تھی، اب جگل کشور نے اس کی تصدیق کر دی، تو شاہانہ انداز والی مایاوتی کو دلت یاد آنے لگے۔ بھارت رتن کے اعلان کے بعد اس انعام کو لے کر

Read more

اکھلیش سرکار کے وزیروں کے کام کاج کا جائزہ ، کچھ ہی میں دم باقی سب بے دم

سماجوادی پارٹی کے اکتوبر ماہ میں لکھنؤ میں منعقدہ تین روزہ قومی اجلاس میں اکھلیش سرکار کے وزیروں کے کام کاج کے طور طریقے، ان کی بدعنوانی اور ان کے عوام مخالف رویے پر ہی بحث مرکوز رہی۔ ایسا اس لیے ہوا، کیوں کہ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو نے اس پر اپنی تشویش ظاہر کی تھی۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے، جس پر ملائم سنگھ پہلے بھی بولتے رہے ہیں اور اب بھی بول رہے ہیں۔ حالانکہ، ملائم کی اس تشویش میں پارٹی کے غداروں کے مسئلہ کو شامل کرکے اصل مدعے سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی کی گئی، اس کے باوجود ملائم کی باتیں عوام کے دلوں میں تیر کی طرح پیوست ہو گئیں۔ اب یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ اکھلیش سرکار کے وزیروں کی کارکردگی پر ہی 2017 کا اسمبلی الیکشن لڑا جائے گا۔ اس اجلاس کے پلیٹ فارم سے پارٹی کے سینئر لیڈر نریش اگروال نے یہ کہا بھی تھا کہ اکھلیش یادو کے سوا کسی بھی وزیر کے پاس کہنے کے لیے اپنا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ بات صحیح بھی ہے، کیوں کہ اگر کچھ خاص سینئر وزیروں کو چھوڑ دیا جائے، تو کام کے نقطہ نظر سے اکھلیش کے کام کے علاوہ، کسی کے پاس بتانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔

Read more

اتر پردیش میں راجیہ سبھا انتخابات: سستی نوٹنکی ، سڑک چھاپ ڈرامہ

اتر پردیش کا راجیہ سبھا انتخاب تنازعہ رسہ کشی اور غیر محدود سیاست کی پیداوار ثابت ہوا۔ سب سے زیادہ سیٹیں جیتنے میں اہل سماجوادی پارٹی کی پیٹھ میں چھرا بھونک کر عہدہ حاصل کرنے کے منشاء کا غلبہ رہا، تو محض دو سیٹیں جیتنے کی حیثیت رکھنے والی بہوجن سماج پارٹی میں ایک دوسرے پر کیچڑ پھینکنے کا ایسا سلسلہ چلا جسے بول چال کی زبان میں ’’تُھکم فضیحت ‘‘ کہتے ہیں۔ ایک سیٹ جیتنے والی بی جے پی خاموشی اختیار کئے رہی، یہاں تک کہ آخر تک وہ اپنا امیدوار بھی طے نہیں کر پا رہی تھی۔ کانگریس تو ماشاء اللہ! راہل گاندھی کی جی حضوری اور سماجوادی کی چاپلوسی کا متوازی پروگرام چلاتے رہنے والے، لوک سبھا انتخابات ہرانے والے پی ایل پونیا راجیہ سبھا پہنچ گئے، باقی لیڈر منھ تکتے رہ گئے۔

Read more

سماجوادی پارٹی کا قومی اجلاس، ملائم پھر بنے صدر، کھل کر سامنے آیا آپسی اختلاف

سماجوادی پارٹی میں سرکار اور قیادت کے درمیان تناؤ اور اختلافات کے کھلے اظہار کے ساتھ ایس پی کا تین روزہ قومی اجلاس ختم ہوا۔ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں ابھی حال ہی میں بنے جنیشور مشر پارک میں منعقد ہوا عظیم الشان قومی اجلاس کئی معنوں میں تاریخی ثابت ہوا۔ ملائم اس سے پہلے کے آٹھ اجلاس میں بھی قومی صدر منتخب کیے گئے تھے اور اس نویں اجلاس میں بھی وہ اتفاقِ رائے سے قومی صدر چن لیے گئے۔ لیکن پہلے کے قومی صدر اور اس بار کے قومی صدر میں صاف صاف فرق دکھائی دیا۔ ملائم کی شخصیت پر سماجوادی پارٹی کا وجود ٹکا ہوا ہے، یہ پہلے بھی دکھائی دیتا تھا اور اب بھی دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن ملائم کی پکڑ

Read more

اتر پردیش ضمنی انتخابات: بی جے پی بھاری پڑی سماجوادی پارٹی

اتر پردیش میں ہوئے ضمنی انتخاب میں سماجوادی پارٹی نے اپنے کمیونل ایجنڈے کو حاشیہ پر رکھ دیا، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی اسی میں پھنسی رہ گئی۔ نتیجہ ملک کے سامنے ہے کہ سماجوادی پارٹی نے 11 میں سے 8 اسمبلی سیٹیں بی جے پی سے چھین لیں۔ ملائم سنگھ یادو کے ذریعے چھوڑی گئی لوک سبھا کی مین پوری سیٹ تو ایس پی کی جھولی میں آنی ہی تھی۔ ووٹوں کے پولرائزیشن کی کوشش میں اناپ شناپ کمیونل لائن لینے والے سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خاں کو پارٹی نے اس انتخاب میں ایک کونے میں کر دیا تھا، لیکن بی جے پی نے ایسے عناصر کے ذریعے ماحول کو پراگندہ کرنے کی پرزور کوششیں کیں۔ ایسے میں اتر پردیش کے ووٹروں نے واضح لائن پکڑی اور یہ دکھایا کہ کمیونل کارڈ کھیلنے اور مہرہ بننے میں عام لوگوں کی قطعی دلچسپی نہیں ہے۔
اسمبلی اور لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں سماجوادی پارٹی کی جیت پر پارٹی سے جڑے لوگ کہتے ہیں کہ ملائم سنگھ کے مشورے اور ان کی ہدایت، شو پال کی پختہ حکمت عملی اور اکھلیش کی

Read more

عراق کی آگ ہندوستان پہنچی

مولانا سلمان ندوی کے کارناموں سے ملک کی خفیہ ایجنسی میں کھلبلی مچ گئی۔ مولانا ندوی نے عراق میں قتل عام کرنے والے دہشت گرد البغدادی کو اسلامی دنیا کا خلیفہ مان لیا اور پانچ لاکھ جنگجوؤں کو عراق بھیجنے کی پیروی کرکے مذہبی اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہ بات اور ہے کہ زیادہ تر لوگوں نے مولانا ندوی کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا، لیکن کچھ لوگ غفلت میں آگئے۔ کچھ سنی نوجوان جذبات میں بہہ کر عراق جانے کے لیے تیار ہو گئے اور اس کے جواب میں کچھ شیعہ نوجوان بھی عراق جا کر البغدادی سے لڑنے کے لیے تیار ہو گئے۔ مولانا ندوی نے یہ متنازع بیان 7 جولائی کو دیا تھا، لیکن اب وہ اپنے بیان سے مکر گئے ہیں اور میڈیا پرالزام لگا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مولانا ندوی نے یہ مذمتی بیان پہلے کیوں نہیں جاری کیا؟ انہوں نے لوگوں کے جذبات کو بھڑکنے کیوں دیا؟ مولانا سلمان ندوی کے متنازع بیان سے پیدا ہونے والے ہنگامہ اور خفیہ ایجنسی میں پھیلی سنسنی پر پیش ہے چوتھی دنیا کی یہ ایکس کلوسیو رپورٹ …

Read more

سکھوں کے خلاف تشدد آج بھی جاری ہے

پربھات رنجن دین
انیس سو چوراسی فسادات کے شکار سکھوں کو معاوضہ دلانے کے لیے داخل اصل درخواست کے حساس اوراق اور 7دیگر درخواستیں عدالت سے غائب کر دی گئی ہیں۔ اصل درخواست کے اہم اوراق پھاڑنے اور 7سکینڈری رٹوں کو غائب کیے جانے جیسے سنسنی خیز معاملے کی جانچ کی بات تو چھوڑئے، سکھوں کے معاوضے پر جس بنچ نے بھی ہمدردی بھرا رویہ اپنایا، وہ بنچ ہی عین فیصلے کے وقت بدل دی گئی۔ 1984 فسادات کے شکار سکھوں کو اب تک معاوضہ نہیںملا۔ انہیں مسلسل یہ کون سے تشدد کا شکار بنایا جارہا ہے؟ اقلیتوں کو لبھانے کی کوششیں تمام سیاسی پارٹیاں کر رہی ہیں، لیکن اقلیتوں میں اکثریتی مسلم اور عیسائی فرقہ ہی سیاسی پارٹیوں کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ ووٹ کی گنتی کے حساب سے سکھ کم ہیں، لہٰذا انہیں فسادات کا

Read more

اتر پردیش میں جمہوریت کا قتل

پربھات رنجن دین
اتر پردیش میں اختتام پذیر ہوئے بلدیاتی انتخابات میں جمہوری اقدار کی دھجیاں اس وقت اڑائی گئیں جب پورے ملک میں گرام سبھا سال چل رہا ہو۔واضح رہے کہ سال2010گرام سبھا سال کے طور پر نامزد ہے لیکن گرام سبھا سال کا اعلان کرنے والی مرکزی حکومت نے اترپردیش کے پنچایت انتخابات میں جمہوری اقدار کی کھلے عام خلاف ورزی پر کوئی دھیان نہیں دیا۔الہ آباد ہائی کورٹ نے بھی اقتدار پر قابض پارٹی کے غیر جمہوری رویہ کو دیکھتے ہوئے ہی انتخابات

Read more

یو پی میں کروڑوں کا اناج گھوٹالہ

پربھات رنجن دین
وہ دن دور نہیں جب حکومت اور عدالتی نظام سے پریشان ملک کے عام لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ قتل عام شروع ہوجائے اور ملک پھر سے منقسم نہ ہوجائے۔ ایسے سنگین خدشہ کا اظہار کرتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ملک کے سرکاری اور عدالتی نظام کی کمزور نبض پر ہاتھ رکھ کر ملک کی دھماکہ خیز صورت حال کو جیسے روشنی دکھا دی۔ ہائی کورٹ نے یہ واضح کر دیا کہ بدعنوانی میں ملوث عوامی خدمت گاروں پر مقدمہ چلانے کی منظوری نہ دے کر اقتدار میں بیٹھے لیڈر ہی بدعنوانی کی پرورش کرتے ہیں۔ سی بی آئی یا دوس

Read more

بہار کے نتائج اتر پردیش کے انتخابات پر اثر ڈالیں گے؟

پربھات رنجن دین
بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان ہونے کے ٹھیک ایک دن قبل اترپردیش کی دو اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج کا بھی اعلان ہوا۔ اس کے پہلے اترپردیش میں پنچایت کے انتخابات ہوئے، جو اسمبلی انتخابات کے پہلے کا ریہرسل مان کر پورے حوصلہ سے لڑے گئے۔ پنچایت انتخابات کے نتائج کے حوالے سے کھینچ تان اوردعوے 2012میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے ٹریلر کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں، لیکن اسی دوران بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج نے پڑوسی ریاست اترپردیش کے ووٹروں کو بھی باخبر کر دیا ہے۔

Read more