سکھوں کے خلاف تشدد آج بھی جاری ہے

پربھات رنجن دین
انیس سو چوراسی فسادات کے شکار سکھوں کو معاوضہ دلانے کے لیے داخل اصل درخواست کے حساس اوراق اور 7دیگر درخواستیں عدالت سے غائب کر دی گئی ہیں۔ اصل درخواست کے اہم اوراق پھاڑنے اور 7سکینڈری رٹوں کو غائب کیے جانے جیسے سنسنی خیز معاملے کی جانچ کی بات تو چھوڑئے، سکھوں کے معاوضے پر جس بنچ نے بھی ہمدردی بھرا رویہ اپنایا، وہ بنچ ہی عین فیصلے کے وقت بدل دی گئی۔ 1984 فسادات کے شکار سکھوں کو اب تک معاوضہ نہیںملا۔ انہیں مسلسل یہ کون سے تشدد کا شکار بنایا جارہا ہے؟ اقلیتوں کو لبھانے کی کوششیں تمام سیاسی پارٹیاں کر رہی ہیں، لیکن اقلیتوں میں اکثریتی مسلم اور عیسائی فرقہ ہی سیاسی پارٹیوں کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ ووٹ کی گنتی کے حساب سے سکھ کم ہیں، لہٰذا انہیں فسادات کا

Read more

اتر پردیش میں جمہوریت کا قتل

پربھات رنجن دین
اتر پردیش میں اختتام پذیر ہوئے بلدیاتی انتخابات میں جمہوری اقدار کی دھجیاں اس وقت اڑائی گئیں جب پورے ملک میں گرام سبھا سال چل رہا ہو۔واضح رہے کہ سال2010گرام سبھا سال کے طور پر نامزد ہے لیکن گرام سبھا سال کا اعلان کرنے والی مرکزی حکومت نے اترپردیش کے پنچایت انتخابات میں جمہوری اقدار کی کھلے عام خلاف ورزی پر کوئی دھیان نہیں دیا۔الہ آباد ہائی کورٹ نے بھی اقتدار پر قابض پارٹی کے غیر جمہوری رویہ کو دیکھتے ہوئے ہی انتخابات

Read more

یو پی میں کروڑوں کا اناج گھوٹالہ

پربھات رنجن دین
وہ دن دور نہیں جب حکومت اور عدالتی نظام سے پریشان ملک کے عام لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ قتل عام شروع ہوجائے اور ملک پھر سے منقسم نہ ہوجائے۔ ایسے سنگین خدشہ کا اظہار کرتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ملک کے سرکاری اور عدالتی نظام کی کمزور نبض پر ہاتھ رکھ کر ملک کی دھماکہ خیز صورت حال کو جیسے روشنی دکھا دی۔ ہائی کورٹ نے یہ واضح کر دیا کہ بدعنوانی میں ملوث عوامی خدمت گاروں پر مقدمہ چلانے کی منظوری نہ دے کر اقتدار میں بیٹھے لیڈر ہی بدعنوانی کی پرورش کرتے ہیں۔ سی بی آئی یا دوس

Read more

بہار کے نتائج اتر پردیش کے انتخابات پر اثر ڈالیں گے؟

پربھات رنجن دین
بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان ہونے کے ٹھیک ایک دن قبل اترپردیش کی دو اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج کا بھی اعلان ہوا۔ اس کے پہلے اترپردیش میں پنچایت کے انتخابات ہوئے، جو اسمبلی انتخابات کے پہلے کا ریہرسل مان کر پورے حوصلہ سے لڑے گئے۔ پنچایت انتخابات کے نتائج کے حوالے سے کھینچ تان اوردعوے 2012میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے ٹریلر کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں، لیکن اسی دوران بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج نے پڑوسی ریاست اترپردیش کے ووٹروں کو بھی باخبر کر دیا ہے۔

Read more

صرف آر پی یادو ہی کیوں دیگر جج کیوں نہیں؟

پربھات رنجن دین
اتر پردیش اسٹیٹ پبلک سروسیز ٹریبیونل کے چیئرمین جسٹس آر پی یادو کو ریاستی حکومت نے برخاست کردیا ہے۔ سیکڑوں کروڑ روپے کے پی ایف گھوٹالے میں داغی جج آر پی یادو کو اترپردیش کی حکومت نے پبلک سروسیز ٹریبیونل کا چیئرمین بنا دیا تھا،پھر ایسی کون سی قانونی پیچیدگی اچانک آ گئی کہ حکومت کو انہیں برخاست کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا؟ پی ایف گھوٹالے میں داغی ججوں کی لسٹ لمبی چوڑی ہے، پھر تنہا آر پی یادو ہی کیوں؟ اس راز سے بھی پردا اٹھے گا، لیکن ابھی یہی رنگ دینے کی کوشش ہے کہ پی ایف گھوٹالے میں داغ دار ہ

Read more

آدرش سے بڑا فوج کی سینٹرل کمانڈ میں گھوٹالہ

پربھات رنجن دین
ممبئی آدرش سوسائٹی گھوٹالہ کے تار لکھنؤ سے جڑے ہیں۔ ممبئی اور لکھنؤ کے اس لنک کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو ممبئی کے آدرش سوسائٹی گھوٹالہ سے بڑاگھوٹالہ سینٹرل کمانڈ ہیڈ کوارٹر لکھنؤ میں کھلے گا۔ممبئی آدرش سوسائٹی گھوٹالے کو غور سے دیکھیں تو آپ پائیں گے کہ گھوٹالہ کرنے والے افسران کا لکھنؤ سے ممبئی ؍پنے میں رابطہ مسلسل رہا ہے۔ اسے قائم رکھنے میں ڈیفنس اسٹیٹ سروس کے ڈائریکٹر جنرل بال شرن سنگھ نے اہم کردار ادا کیا ۔ ابھی ریٹائرہونے سے قبل تک وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے۔پنے چھائونی کی اہم افسر ر

Read more

پچاس ہزار بچوں کی موت کا ذمہ دار کون ؟

پربھات رنجن دین
شمالی ہند میں پھیلا نامعلوم بخار کہیں بایو دہشت گردی کا نتیجہ تو نہیں…۔ مشرقی اترپردیش، شمال مغربی بہار اور اس سے ملحق نیپال کے ترائی علاقے میں دماغی بخار سے روزانہ ہونے والی اوسطاً 100بچوں کی موت کی آخر وجہ کیا ہے؟ مشرقی اترپردیش کے پچھڑے اضلاع کہیں بایو دہشت گردی کی تجربہ گاہ اور یہاں کے لوگ کہیں ’گنی-پگ‘ تو نہیں بنائے جارہے ہیں؟ اس سوال سے پورا ملک اور خاص طور پر شمالی ہند کے لوگ گھرے ہوئے ہیں، لیکن جواب دینے یا ذمہ داری لینے کے لیے کوئی راضی نہیں ہے…۔ نہ ریاستی حکومت اور نہ ہی مرکزی حکومت۔ مشرقی اترپردیش کے گورکھپور، کشی نگر، دیوریا، سنت کبیر نگر سمیت 8اضلاع میں جاپانی انسیفلائٹس وبا کی طرح پھیل گیا ہے۔ اس کا شکار زیادہ تر بچے ہو رہے ہیں

Read more

یہ ایک منصوبہ بند لوٹ ہے

پربھات رنجن دین
پی ایف گھوٹالہ دیگر گھوٹالوں کی طرح نہیںہے، بلکہ یہ ایک منصوبہ بند گھوٹالہ ہے، جس میں ججوں نے اپنے ماتحت ملازمین کو اکسا کر کروڑوں روپے کا چونا لگایا۔ اسی پیسے سے عیاشیاں کیں، لیکن خودکو علیحدہ رکھا۔ اطمینان بخش طریقہ سے سوچ سمجھ کر کئے گئے کروڑوں روپے کی سرکاری دولت کے گھپلے میں کسی بھی جج یا جوڈیشل افسرک

Read more
Page 10 of 11« First...7891011