یہ تیسرا مورچہ نہیں ہے

جب 14 پارٹیوں کے 17 لیڈروں نے ایک دوسرے کا ہاتھ اٹھاکر یہ تصویر کھنچوائی، تو وی پی سنگھ کے راشٹریہ مورچہ کی یاد تازہ ہو گئی۔ ایسی ہی تصویریں اُن دنوں اخباروں میں شائع ہوا کرتی تھیں۔ وہ الگ وقت تھا۔ آج کا دور الگ ہے۔ وی پی سنگھ کئی سیاسی پارٹیوں کو متحد کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ بدعنوانی کے خلاف کامیاب تحریک کی تھی اور کانگریس مخالف لہر پیدا کی تھی۔ وہ تیسرے مورچہ کی کامیاب کوشش ثابت ہوئی۔ کانگریس ہاری اور وی پی سنگھ وزیر اعظم بنے۔ اس تصویر میں لیڈر تو ساتھ دکھائی دے رہے ہیں، لیکن ان میں نہ کوئی قوتِ ارادی ہے، نہ دور اندیشی ہے، نہ پلاننگ ہے اور نہ ہی اتحاد ہے۔ یہ تصویر اپنے آپ میں کئی تضادات لیے ہوئے ہے، اس لیے تیسرا مورچہ بننے سے پہلے ہی ٹوٹتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

Read more

انتخابی سروے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے ہیں

عام آدمی پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ دہلی میں سرکار بنائے گی۔ اس دعوے کی بنیاد عام آدمی پارٹی کے ذریعہ کیا گیا سروے ہے۔ اگر سروے ہی انتخاب کا معیار ہوتے تو صرف ہندوستان ہی کیوں، دنیا کے کسی بھی ملک میں لوگ انتخاب کے نتیجہ کا انتظار ہی نہیں کرتے۔ اروند کیجریوال کا دعویٰ ہے کہ عام آدمی پارٹی کو 32فیصد ووٹ ملیں گے ا ور 70میں سے 46سیٹ پر ان کی پارٹی کے امیدوار جیت درج کرائیں گے۔ ویسے اس طرح کا دعویٰ کرنا سیاسی لحاظ سے غلط نہیں ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک ہی دن، ایک ہی علاقے میں اگر دس سروے ایک ساتھ ہوتے ہیں، تو یہ مان کر چلئے کہ ان سبھی کے نتائج مختلف ہوں گے۔ تاہم سروے کی بنیا دپر خود کو فاتح قرار دینا افواہیں پھیلانے کی کوشش ہے۔ ہندوستان میں پہلی بار

Read more

عام آدمی پارٹی کو انا ہزارے کی حمایت حاصل نہیں ہے

دہلی کے اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی سب سے بڑی پریشانی انّا ہزارے بنے ہوئے ہیں۔ یہ پارٹی انّا ہزارے کی تحریک سے الگ ہو کر بنی ہے۔ اس پارٹی کی بنیاد انّا ہزارے کی معتبریت،مقبولیت، ان کے اصول اورقربانی ہے۔ لیکن انّا ہزارے کا صاف صاف حکم یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی ان کے نام، ان کی تصویر، ان کی ٹوپی اور ان کی کسی بھی چیز کو استعمال نہیں کر سکتی ہے۔ انّا کے بغیر پارٹی کی معتبریت پر سوال اٹھتا ہے اور انّا کا نام لینے سے انّا ناراض ہو جاتے ہیںجب کہ حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی کے امیدوار انّا کا نام

Read more

تاریخ کے آئینے میں ایک ایماندار وزیر اعظم

ڈاکٹر منیش کمار
وزیر منموہن سنگھ کی مدت کار کا تذکرہ کرنے سے پہلے ایک واقعہ سناتا ہوں۔ وی پی سنگھ کے استعفے کے بعد ملک میں چندر شیکھر جی کیحکومت بنی۔ منموہن سنگھ اس حکومت کیمشیر تھے۔ اس وقت کچھ اس طرح کے سیاسی حالاتپیدا ہوئے کہ سرکار گر گئی۔ چندر شیکھر جی نے وزارت عظمیٰ کے منصب سے 6 مارچ1991 کو استعفیٰ دیدیا تھا، لیکن وہ اگلے انتخاب تک کے لیے اپنے عہدے پر قائم رہے۔حکومت کے گر جانے کے بعد چندر شیکھر جی اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے آگے کی حکمت عملی بنا رہے تھے کہ تبھی منموہن سنگھ بھی چندر شیکھر جی سے آکر ملے اور اداس ہوتے ہوئے کہا کہ میرا کیا ہوگا، اب میں کیا کروں گا۔ وہاں موجود لوگ چکر کھا گئے کہ منموہن جی کیا کہہ رہے ہیں۔ ایک طرف تو سرکار گر گئی، سب اداس ہیں اور انھیں اپنی فکر ہورہی ہے۔ منموہن سنگھ نے آگے

Read more

منموہن سنگھ جیل جا سکتے ہیں

کوئلہ گھوٹالے سے جڑی فائلیں غائب ہو گئیں۔ یہ فائلیں کہاں گئیں؟ کیا اِن فائلوں کو زمین کھا گئی یا کوئی بھوت لے کر غائب ہو گیا؟ یہ فائلیں کب غائب ہوئیں؟ کہاں سے غائب ہوئیں؟ اِن فائلوں میں کیا تھا؟ کیا ہندوستانی سرکار کے دفتر چوروں کا اڈّہ بن چکے ہیں؟ یا پھر اِن فائلوں کو غائب کرکے کسی کو بچایا جا رہا ہے؟ نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ کوئلہ گھوٹالہ اُس وقت ہوا، جب منموہن سنگھ وزیر کوئلہ تھے۔ کوئلہ کی کانوں کے ہر متنازع الاٹمنٹ پر منموہن سنگھ کے دستخط ہیں۔ ایک طرف سرکار ہے، جو سچ کو چھپانا چاہ رہی ہے، سی بی آئی

Read more

دہلی کے اسمبلی انتخابات: یہ عام آدمی پارٹی کی اگنی پریکشا ہے

ڈاکٹر منیش کمار
کاجل کی کالی کوٹھری کے باہر رہ کر خود کو بے داغ کہنا آسان ہے، لیکن کاجل کی کوٹھری کے اندر رہ کر خود کو بے داغ رکھنا ہی اصلی امتحان ہے۔ ’عام آدمی پارٹی‘ سیاست کی کالی کوٹھری سے اب تک باہر ہے۔ ابھی وہ اندر گئی بھی نہیں ہے، لیکن اس کے انداز بدلنے لگے ہیں۔ سیاسی جماعتوں والی بیماریوں میں یہ بھی مبتلا ہونے لگی ہے۔ پارٹی کے کارکن ہی اس پر جھوٹ، فریب اور دھوکہ دہی کے الزام لگا رہے ہیں۔ پیسے کا حساب مانگا جارہا ہے۔ امیدواروں کے سلیکشن پر پارٹی تقسیم ہوچکی ہے۔ عام آدمی پارٹی یعنی’ آپ ‘ کا اب باپ یعنی ہندوستان کا عام آدمی پریوار بن چکا ہے۔ اروند کجریوال کی پارٹی ’عام آدمی پارٹی‘ دہلی میں انتخاب لڑنے جارہی ہے۔ اس کا دہلی کے انتخاب و ملک کی سیاست پر کیا اثر ہوگا، یہ سمجھنا ضروری ہے۔

Read more

فسادات ہونے ہی والے ہیں

ملک میں جس طرح کا سیاسی ماحول بنایا جا رہا ہے، اس سے صاف لگتا ہے کہ فسادات ہونے ہی والے ہیں۔ ملک کا میڈیا، سیاسی پارٹیاں اور سیاسی لیڈران اس ملک میں فسادات کرانے پر آمادہ ہیں۔ فسادات کرانے والوں میں فرقہ وارانہ طاقتوں کے ساتھ ساتھ وہ نام نہاد سیکولر طاقتیں بھی ہیں، جن کی نگاہ اس 19 فیصد ووٹوں پر ہے، جنہیں وہ بڑی بے شرمی سے مسلم ووٹ بینک کہتی ہیں۔ کوئی چہرہ دکھا کر مسلمانوں کو ڈرا رہا ہے، تو کوئی ہمدرد ہونے کا دکھاوا کرکے۔ حیرانی اِس بات کی ہے کہ مسلمانوں کے ووٹوں کے لیے تو سب لڑ رہے ہیں، لیکن مسلمانوں کے لیے لڑنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔ مسلمانوں کے مسائل ختم کرنے کے لیے نہ تو کسی کے پاس ٹھوس پالیسی ہے اور ن ہی ارادہ۔ تمام سیاسی پارٹیوں کی واحد حکمت عملی ہے، مسلمانوں کے ساتھ فریب کرنا۔ سیاست کے ایسے پر فریب ماحول میں مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑی چنوتی یہ ہے کہ وہ کیا کریں اور کہاں جائیں؟

Read more

کانگریس نے گاندھی کو ایک بار پھر مارا

ڈاکٹر منیش کمار
میں ایک بار پھر بابائے قوم مہاتما گاندھی کی یادوں کی نیلامی ہوئی اور ملک کی بدقسمتی دیکھئے، ہندوستانی سرکار سوتی رہی۔ ایک بار پھر سے اسی ہندوستانی نے ملک کی عزت بچائی، جس نے پچھلی بار گاندھی جی کی یادوں کو غیر ملکی ہاتھوں میں جانے سے روکا تھا اور گاندھی کے خون میں ڈوبی مٹی ہندوستان لے کر آیا تھا۔ تعریف اس بات کی ہونی چاہیے کہ یہ شخص اسے میڈیا میں پرچار کا کوئی ذریعہ نہیں بناتا اور اپنا نام پوشیدہ رکھتا ہے۔ ویسے پہلے بھی کچھ ہندوستانیوں نے تاریخی وراثتیں نیلامی میں خریدیں، لیکن انہوں نے اُن کا اتنا

Read more

ہندوستانی جمہوریت آلودہ ہو چکی ہے

ڈاکٹر منیش کمار
سیاسی پارٹیوں کا دبدبہ اتنا مضبوط ہے کہ ملک کا جمہوری نظام پوری طرح سے پارٹی سسٹم میں تبدیل ہو چکا ہے۔ حالت یہ ہے کہ الیکشن محض خانہ پری بن کر رہ گئے ہیں۔ ہر سیاسی پارٹی اپنے بنیادی نظریہ فکر سے ہٹ کر کسی بھی طرح اقتدار پر قابض ہونا چاہتی ہے۔ دراصل، ہندوستانی جمہوریت پراگندہ ہو چکی ہے اور یہی اس کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

Read more

سربجیت کو ہم نے مارا

ڈاکٹر منیش کمار
اکتوبر 2005 میں پہلی بار سربجیت کا معاملہ دنیا کے سامنے آیا۔ یہ پتہ چلا کہ ایک بے قصور ہندوستانی 1990 سے پاکستان کی جیل میں سڑ رہا ہے۔ پولس نے اسے منجیت سنگھ سمجھ کر گرفتار کیا۔ وہ کورٹ میں فریاد کرتا رہا کہ وہ منجیت نہیں سربجیت ہے، لیکن پاکستان میں اس کی سننے والا کوئی نہیں تھا۔ اس کے ساتھ نا انصافی ہوئی۔ اسے دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔ اسے پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔ اس ناانصافی کے لیے پاکستان کے قانون اور نظم و نسق پر

Read more