الیکشن سے پہلے ہی راہل گاندھی ہار گئے

کانگریس پارٹی کا پرچار ایک شرمناک حالت میں ہے۔ راہل گاندھی لوگوں کی نظر میں الیکشن سے پہلے ہی ہار چکے ہیں۔ ان کی تقریروں سے لوگوں میں کوئی اعتماد نہیں جگتا ہے۔ وہ ایک ہی طرح کی بات ہر ریلی میں کہتے ہیں، اس لیے جب ان کی تقریر ٹی وی پر دکھائی جاتی ہے، تو لوگ چینل بدل لیتے ہیں۔ اگر نریندر مودی کی ریلی ساتھ میں ہوتی ہے، تو ٹی وی چینل والے ہی راہل کی آواز بند کر دیتے ہیں۔ راہل کی ساکھ ایک لیڈر کی نہیں بن سکی۔ راہل گاندھی کسانوں کا دل نہیں جیت سکے۔ ملک کے مزدور اور دلت بھی انہیں اپنا لیڈر نہیں مانتے ہیں۔ مسلمانوں میں بھی وہ اپنا مقام نہیں بنا پائے ہیں اور ملک کے نوجوانوں کے درمیان وہ ایک مذاق بن کر

Read more

آدھار کارڈ ایک انوکھا گھوٹالہ ہے

کوئی معمولی آدمی جھوٹ بول کر، جھانسہ دے کر پیسے کی ہیرا پھیری کرتا ہے، تو عدالت اسے سزا دیتی ہے۔ ملک میں کئی ایسی مثالیں مل جائیں گی، جن میں دفعہ 420 کے تحت سو یا پانچ سو روپے کی ہیرا پھیری کی وجہ سے کئی لوگ برسوں سے جیلوں میں بند ہیں۔ کئی سرکاری افسر عوام کے پیسے کا الٹ پھیر یا غلط استعمال کرنے کے جرم میں سزا پا رہے ہیں۔ ملک کا بڑا صنعت کار ہو یا وزیر اعظم کا دوست، چاہے وہ کوئی بھی ہو، اگر ملک کے عوام کو دھوکہ دے کر عوام کے ہی پیسے کو برباد کر دیتا ہے، تو کیا اسے سزا نہیں ملنی چاہیے؟ اگر عوام کے پیسے کا غلط استعمال جرم ہے، تو بنگلور سے کانگریس پارٹی کے امیدوار نندن نلیکنی کو اب تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا ہے؟ ان کے خلاف دھوکہ دھڑی کا مقدمہ کیوں نہیں چلا؟ کیا ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں، جہاں اگر کم پیسے کی دھوکہ دھڑی ہو، دھوکہ دھڑی کرنے والا کم رسوخ والا ہو، تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی اور اگر ایسا کرنے والا رسوخ والا ہو، وزیر اعظم کا دوست ہو، میڈیا والے، ٹی وی اینکر اور ایڈیٹر جسے سلام ٹھونکیں، اور وہ جھانسہ دے کر سرکار کے ہزاروں کروڑ روپے برباد کردے، تب بھی اس کے خلاف ایک بھی آواز نہیں اٹھے گی؟

Read more

اقتصادی پالیسی ہی ملک کا مستقبل طے کرے گی

لوک سبھا انتخابات کی تیاری ہو چکی ہے۔ کون امیدوار کہاں سے الیکشن لڑے گا، بھارتیہ جنتا پارٹی ہو، کانگریس پارٹی ہو، لیفٹسٹ ہوں، علاقائی پارٹیاں ہوں یا پھر عام آدمی پارٹی، سب نے ذات پر مبنی اور ہندو مسلم ووٹوں کے جوڑ توڑ کو دھیان میں رکھتے ہوئے اپنی فہرست تیار کر لی ہے۔ کئی امیدواروں کا اعلان ہو چکا ہے اور کئی لوگوں کے نام آنے باقی ہیں۔ ہر طرف مقابلہ آرائی جاری ہے۔ ریلی، اعلانات، پیسوں کا لین دین، پوسٹر، ہورڈنگ، پرچے اور سوشل میڈیا، ہر طرف انتخابی ماحول ہے۔ اس الیکشن میں اربوں روپے پھونک دیے جائیں گے۔ لیکن الیکشن کی اس گہما گہمی میں سب سے بڑا سوال ابھی بھی صیغۂ راز میں ہے۔ یہ سوال لوگوں کی زندگی سے جڑا ہے۔ یہ سوال غریبوں کے استحصال اور محروموں کی ترقی سے جڑا ہے۔ یہ سوال نوجوانوں کے روزگار سے جڑا ہے۔ یہ سوال

Read more

اروند کیجریوال: الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے بعد

2012میں ماہر نفسیات ڈیوڈ تھامس کی ایک مشہور کتاب آئی۔ اس کتاب کا نام ہے ’نارسِسزم: بہائنڈ دی ماسک‘۔ نارسِسزم ایک نفسیاتی مایوسی ہے۔ کچھ لوگ اسے شخصی خرابی بھی مانتے ہیں۔ نارسسزم کے لغوی معنی ہیں اپنے سے عشق، نرجسیّت، نرگسیّت یعنی خود پسندی۔ اس کتاب کے عنوان کا مطلب ہے مکھوٹے کے پیچھے کاخود پسند ۔ اس کتاب میںخود پسندلوگوں کی کچھ علامتیں بتائی گئی ہیں۔کوئی بڑی حصولیابی اور بہترین مہارت نہ ہونے کے باوجود ایک خود پسند شخص یہ مانتا ہے کہ پوری دنیا اسے دوسرے سے عظیم اور خاص مانتی ہے۔ ایسے لوگوں کو اقتدارا ور پاور سے بہت پیار ہوتا ہے، لیکن اسے یہ سامنے نہیں آنے دیتے۔ وہ اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کو رکھتا ہے، جو اس کی تعریف کرتے ہیں اور اسے عظیم مانتے ہیں۔ خود پسند آدمی اپنی برائی یا مخالفت کو برداشت نہیں کرسکتا ہے جو اسے عظیم نہیں مانتے ہیں۔ انھیں وہ برا بھلا کہتا ہے۔ وہ لگاتار پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے کے فراق میں رہتا ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ خبروں میں بنے رہنا چاہتاہے۔ خود پسند شخص لوگوں کو استعمال کرتاہے اور کام نکل جانے کے بعد انھیں چھوڑ دیتاہے۔ وہ ہمیشہ مستقبل کی بڑی کامیابی، خصوصی کشش، پاور اور اپنی عقل و نظریات کی کامیابی کیتصور میں کھویا رہتا ہے۔ ایساشخص دوسروں سے حسد کرتاہے اور سمجھتاہے کہ پوری دنیا اس سے حسد کرتی ہے۔ ایسے شخص خود کو تمامتر خوبیوں سے مالا مال اور دوسرے کو بیوقوف سمجھتاہے۔ خود پسند لوگ اپنے نظریہ اور رویہ میں مغرور ہوتاہے۔

Read more

مسلمانوں کو صرف دھوکہ ملا ہے

کانگریس پارٹی نے مسلمانوں پر ڈورے ڈالنے شروع کر دیے۔ پردے کے پیچھے اور پردے کے آگے کوششیں ہو رہی ہیں۔ ایک طرف مسلم لیڈروں سے بات چیت ہو رہی ہے، تو دوسری طرف ٹی وی میں پرچار اور خود سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ کانفرنس کرکے مسلمانوں کو لبھانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ’چوتھی دنیا‘ لگاتار مسلمانوں کے مسائل اور حقیقت پر مبنی رپورٹیں شائع کرتا رہا ہے اور ہم بڑی ذمہ داری کے ساتھ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یو پی اے سرکار مسلمانوں کو لے کر جتنی بھی باتیں کر رہی ہے، وہ سراسر جھوٹی ہیں اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے والی ہیں۔ اتر پردیش اسمبلی الیکشن کے دوران ’چوتھی دنیا‘ نے کانگریس کے سب سے بڑے جھوٹ کا پردہ فاش کیا تھا۔ ہم نے ثابت کیا تھا کہ کس طرح الیکشن سے پہلے سلمان خورشید نے سرکاری نوکری میں ریزرویشن کی بات کہہ کر

Read more

اروند کیجریوال اور عام آدمی پارٹی کی پالیسی اور نیت صاف نہیں ہے

عام آدمی پارٹی کی کرکری تب سے ہی شروع ہو گئی، جب سے سرکار بنی۔ پارٹی نے کہا تھا کہ الیکشن جیتنے کے بعد گاڑی، بنگلہ نہیں لیں گے، لال بتی نہیں لیں گے۔ ہم عام آدمی کی طرح ہی رہیں گے۔ عام آدمی پارٹی نہ تو بی جے پی اور کانگریس سے حمایت لے گی اور نہ دے گی، لیکن جیسے ہی سرکار بنی، اروِند کجریوال بے نقاب ہو گئے۔ عام آدمی پارٹی نے وہی سارے کام کیے، جن کی وہ الیکشن سے پہلے مخالفت کر رہی تھی۔ عام آدمی پارٹی، دراصل نظام اور سیاسی پارٹیوں کے تئیں لوگوں کی ناراضگی کا فائدہ اٹھا رہی ہے، لیکن اس کے پاس لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کا کوئی نقشہ نہیں ہے۔

Read more

یو پی اے کے دس سال: ہندوستان میں جمہوریت کا بدترین دور

منموہن سنگھ کی سرکار ایک جھوٹی، بد عنوان،عوام مخالف اور آزاد ہندوستان کی سب سے بدنام سرکار رہی ہے۔یہ ایک ایسی سرکار ہے جس نے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں جھوٹ بولنے کا ریکارڈ بنایا ہے۔یہ آزاد ہندوستان کی اب تک کی سب سے بد عنوان سرکار ہے۔یہ ایک ایسی سرکار ہے جس کی مدت کار میں تاریخی مہنگائی اور بے روزگاری دیکھی گئی۔منموہن سنگھ کی سرکار ایسی سرکار ثابت ہوئی جس کے دور میں کسانوں نے سب سے زیادہ خود کشی کی ۔گزشتہ 10 سالوں میں یو پی اے سرکار ناقابل اعتماد، ناکارہ،بے حس،بد عنوان سرکار ثابت ہوئی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یو پی اے سرکار کے دور میں ایک ایک کرکے کئی جمہوری اداروں کی معتبریت کو تباہ کردیا گیا۔

Read more

عام آدمی پارٹی کی جیت: عام آدمی کے دل میں گھر کرنے کا نتیجہ ہے

آدمی پارٹی بننے کے پہلے سے ہی اروند کجریوال دہلی کا انتخاب لڑنے کا من بنا چکے تھے، لیکن پارٹی بننے کے بعد جون 2013 میں انہوں نے اس کا اعلان کیا تھا۔ کانگریس اور بی جے پی یہ بھول رہی ہے کہ انہوں نے عام آدمی پارٹی کا صحیح تجزیہ نہیں کیا، لیکن اروند کجریوال انتخاب میں کوئی رسک لینا نہیں چاہتے تھے۔ انہیں اس بات کا اندازہ تھا کہ نئی پارٹی کو انتخاب میں کھڑا کرنے کے لیے محنت کی ضرورت ہوگی۔ صحیح پالیسی اور ڈھیر سارے کارکنوں کی ضرورت ہوگی۔ ایک طرف صحیح ای

Read more

انا کی قربانی کا نتیجہ ہے لوک پال بل

رالے گن سدھی میں انا ہزارے نے 9 دنوں تک اَنشن کیا۔ اس انشن کے ساتھ ساتھ جن تنتر مورچہ کے کارکن ملک کے کئی شہروں اور قصبوں میں احتجاجی مظاہرہ اور انشن کرتے رہے۔ نیشنل میڈیا میں انہیں دکھایا نہیں گیا، لیکن علاقائی اخباروں اور ٹی وی چینلوں نے مقامی تحریکوں کو جم کر دکھایا۔ ایک اندازہ کے مطابق، ملک بھر میں دو سو سے زیادہ جگہوں پر انا کی حمایت میں لوگ سڑکوں پر اترے۔ سرکار کو لگاتار یہ جانکاری مل رہی تھی کہ 2011 کی طرح اگر میڈیا نے الگ الگ شہروں کے بارے میں خبریں دکھانی شروع کیں، تو اس بار کی تحریک پچھلی بار سے زیادہ بڑی بن سکتی ہے۔ اس بار انا نے انشن کا صحیح وقت چْنا تھا۔ چار ریاستوں میں کانگریس پارٹی ہار چکی تھی۔ ان انتخابات میں مرکزی حکومت کی

Read more
Page 4 of 15« First...23456...10...Last »