سرکاری جانچ کا سب سے شرمناک باب ہے میرٹھ فساد

سرکار جس طرح سے میرٹھ فسادکے متاثرین کو انصاف دلانے میں ناکام رہی ہے، وہ نہ صرف شرمناک ہے، بلکہ فساد متاثرین کے رشتہ داروں کے لیے تکلیف دہ بھی ہے۔ سرکار نے ہاشم پورہ فساد میں سی آئی ڈی کی جو جانچ بیٹھائی، اس نے اپنا کام صحیح ڈھنگ سے نہیں کیا۔ سچائی یہ ہے کہ جانچ کے نام پر ہی یہ ایک سیاہ دھبہ ہے۔ یہ جانچ کس نے کی، جانچ صحیح ڈھنگ سے کیوں نہیں ہو پائی، جانچ کا نتیجہ کیا نکلا اور کیوں بڑے بڑے مجرم چھوٹ گئے، اس کے بارے میں جاننے سے پہلے آئیے یہ دیکھتے ہیں کہ اس منحوس تاریخ، یعنی 22 مئی، 1987 کو ہاشم پورہ میں کیا ہوا تھا۔

Read more

تاریخ پھر سے لکھی جانی چاہئے

ہندوستان دنیا کا شاید اکیلا ملک ہوگا، جہاں کی تاریخ کے آغاز میں ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ ہندوستان میں رہنے والے لوگ یہاں کے اصل باشندے نہیں ہیں۔ ہندوستان کے رہنے والے زیادہ تر لوگ ہندوستان کے ہیں ہی نہیں۔ یہ سب دوسرے ملک سے آئے۔ تاریخ نویسوں نے بتایا کہ ہم آریہ ہیں۔ ہم باہر سے آئے ہیں۔ کہاں سے آئے؟ اس کا کوئی ٹھوس جواب نہیں ہے، پھر بھی باہر سے آئے۔ آریہ کہاں سے آئے، اس کا جواب ڈھونڈنے کے لیے کوئی تاریخ کے صفحات کو پلٹے، تو پتہ چلے گا کہ کوئی سنٹرل ایشیا کہتا ہے، تو کوئی سائبیریا، تو کوئی منگولیا، تو کوئی ٹرانس کو کیشیا، تو کسی نے آریوں کو اسکینڈے نیویا کا بتایا۔ آریہ کرۂ ارض کے کس حصے کے اصلی باشندے تھے، یہ تاریخ نویسوں کے لیے آج بھی ایک افسانہ ہے۔ مطلب یہ کہ کسی کے پاس آریوں کا ثبوت نہیں ہے، پھر بھی سائبیریا سے لے کر اسکینڈے نیویا تک، ہر کوئی اپنے اپنے حساب سے آریوں کا پتہ بتا دیتا ہے۔ ہندوستان میں آریہ اگر باہر سے، تو کہاں سے آئے اور کب آئے، یہ ایک اہم سوال ہے۔ یہ ہندوستان کے لوگوں کی پہچان کا سوال ہے۔ یونیورسٹیوں میں بیٹھے بڑے بڑے تاریخ نویسوں کو ان سوالوں کا جواب دینا ہے۔ سوال پوچھنے والے کی منشا پر سوال اٹھا کر تاریخ کے بنیادی سوالوں پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا ہے۔

Read more

بہار ضمنی انتخاب: آر جے ڈی ، جے ڈی یو، کانگریس اتحاد کا مستقبل کیا ہوگا؟

بہار میں ابھی انتخابات بھی نہیں ہوئے اور اتحاد (مہا گٹھ بندھن) کے تضادات سامنے آنے لگے ہیں۔ ابھی اسمبلی الیکشن میں ایک سال سے زیادہ کا وقت باقی ہے، لیکن وزیر اعلیٰ کون ہوگا، اس کو لے کر اتحاد کے اندر تنازع شروع ہو گیا ہے۔ دراصل، لالو یادو – نتیش کمار – کانگریس کا اتحاد باہمی تضادات کا پلندہ ہے۔ اس اتحاد کو کامیاب کرنے کے لیے ان تضادات کو ختم کرنا ہوگا، لیکن فی الحال بہار میں ضمنی انتخابات ہونے ہیں۔ دس سیٹوں پر الیکشن ہونے والے ہیں۔ چار – چار سیٹوں پر جے ڈی یو اور آر جے ڈی کے امیدوار ہیں، وہیں دو سیٹوں پر کانگریس لڑ رہی ہے۔ اتحاد کو کامیاب بنانے کے لیے انہیں 10 میں سے 8 سیٹوں پر جیت حاصل کرنی ہوگی۔ اگر مقابلہ برابری کا رہا، یعنی صرف پانچ سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی، تو اس اتحاد کا تجربہ کامیاب نہیں مانا جائے گا اور اگر اس اتحاد کو پانچ سے کم سیٹیں آتی ہیں، تو اس تجربہ پر ضمنی انتخاب کے بعد ہی فل اسٹاپ لگ جائے گا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اتحاد اپنے تضادات اور چنوتیوں کے درمیان ایسا پھنسا ہے کہ چھوٹی سی غلطی کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایک چھوٹی سی بھول اور ایک غیر ذمہ دارانہ بیان بہار کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے بدل سکتا ہے۔

Read more

منموہن سنگھ ایمانداری کا صرف مکھوٹا ہیں

جس طرح خطرناک آندھی یا زلزلہ کے بعد مہاماری پھیلتی ہے، اسی طرح ہندوستان کی سیاست میں الیکشن کے بعد مہاماری کا دور ہے۔ تاریخی ہار کا منھ دیکھنے والی کانگریس پارٹی میں بغاوت کا ماحول بن رہا ہے۔ کئی لوگ اپنا حساب برابر کرنے میں لگے ہیں۔ جنہیں موقع مل رہا ہے، وہ گڑے مردے اکھاڑ رہا ہے۔ منموہن سنگھ کے میڈیا صلاح کار رہے سنجے بارو کی کتاب اور کوئلہ سکریٹری پی سی پاریکھ کی کوئلہ گھوٹالے پر کتاب آئی، تو منموہن سنگھ اور ان کی سرکار کی قلعی کھل گئی۔ سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ کی بھی ایک کتاب بازار میں آنے والی ہے۔ یہ خبر سنتے ہی سونیا گاندھی اور پرینکا ان کے گھر پہنچیں اور نٹور سنگھ کو پرانے رشتوں کی دُہائی دے کر کتاب شائع نہ کرنے کی گزارش کی۔ اب، جب نٹور سنگھ کی کتاب آئے گی، تو کچھ اور نئے انکشافات ہوں گے۔ لیکن، فی الحال پریس کونسل آف انڈیا کے چیئرمین جسٹس (ریٹائرڈ) کاٹجو کے انکشاف سے کانگریس کی کرکری ہو گئی

Read more

غیر ملکی فنڈ سے چلنے والے این جی اوز ملک کے لئے خطرہ بن چکے ہیں

خفیہ ایجنسی اور غیر ملکی طاقتیں دوسرے ملکوں میں ہمیشہ خفیہ طریقے سے کام کرتی ہیں۔ خفیہ ایجنسیاں لوگوں سے اپنا کام بھی کرا لیتی ہیں اور ان کے لیے کام کرنے والوں کو یہ پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ کسی غیر ملکی سازش کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ طریقہ دنیا کی خراب سے خراب خفیہ ایجنسی اپناتی ہے۔ پھر امریکہ، اسرائیل، چین اور دوسرے بڑے ملکوں کی ایجنسیاں کیا کرتی ہوں گی، یہ تو سوچا تک نہیں جا سکتا ہے۔ دنیا بھر میں سماجی تنظیموں، این جی اور اور ریسرچ فاؤنڈیشن کے نام پر کس طرح سازش ہوتی ہے اور لوگوں کو کس طرح گمراہ کیا جاتا ہے، میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔ ساٹھ کی دہائی میں امریکہ میں ڈرگس کا کاروبار بڑے پیمانے پر پھیلا۔ اس نے تیزی سے نوجوانوں کو اپنے جال میں جکڑنا شروع کیا۔ ڈرگس، یعنی نشیلی دواؤں کی کئی قسمیں سامنے آئیں، لیکن نوجوان اس میں اتنی تیزی سے نہیں پھنسے، جتنی تیزی سے وہاں پر بنا طاقتور

Read more

سیبی اور سہارا کا سچ

سہارا کی دو کمپنیاں ہیں۔سہارا نے SIRECLاور SHICL نام کی دو کمپنیوں کی شروعات کی۔یہ کمپنیاں سماج کے اس طبقے میں کام کرتی تھیں جو اب تک ملک کے معاشی نظام سے باہر ہیں۔ ایسے لوگ جن کا گزشتہ 67 سالوں میں سرکار ایک بینک اکائونٹ نہیں کھلوا سکی ،ایسے لوگ،جو کبھی کسی بینک کے اندر نہیں گئے،سماج کے ایسے غریب لوگوں کے بیچ سہارا کی یہ کمپنیاں کام کرتی تھیں اور انہیں دولت جمع کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کرتی تھیں۔ملک کی 40فیصد آبادی کو بینکنگ سہولتیں فراہم نہیں ہیں اور ایسی صورت میں سہارا گروپ کی دونوں کمپنیوں کے پاس اگر تین کروڑسرمایا کار ہیں تو اس کے لئے سہارا کو مبارک باد دینا چاہئے۔بنگلہ دیش میں ایسے کام کے لئے نوبل ایوارڈ ملا،لیکن ہندوستانمیں سہارا چیف کو جیل ملی۔

Read more

سہارا شری جیل میں کیوں ہیں؟

ہندوستان۔ بنگلہ دیش کرکٹ میچ کے دوران باؤنڈری پار کرتی بال کو دیکھتے ہی ایک سوال کوند گیا۔ باؤنڈری پر سہارا انڈیا لکھا تھا۔ بنگلہ دیش اور ہندوستان کی ٹیمیں سہارا کپ جیتنے کے لیے کھیل رہی ہیں۔ حیرانی اس بات کی ہے کہ سہارا گروپ کے سپریمو سبرت رائے جیل میں ہیں۔ ملک میں چاہے کرکٹ ہو، بیڈمنٹن ہو، ہاکی ہو، فارمولہ وَن ہو یاپھر پولو، سبرت رائے نے کھیل کو فروغ دینے میں کافی مثبت تعاون دیا ہے، لیکن اس بار سہارا پریوار کے سپریمو کے ساتھ ہی کھیل ہو گیا۔ یہ سچ مچ حیرانی کی بات ہے کہ اس ملک میں گھوٹالے بازوں اور بدعنوان لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، وہ جیل نہیں جاتے، انھیں پیشگی ضمانت مل جاتی ہے۔ شاید اس لیے ، کیونکہ ہم نے سنا تھا کہ ہندوستان کا قانون ایسا ہے کہ چاہے سو گنہگار چھوٹ جائیں، لیکن کسی بے قصور کو سزا نہیں ملنی چاہیے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ سہارا شری سبرت رائے نے ضرور کوئی ایسا جرم کیا ہوگا، جس کے لیے انھیں سزادی جارہی ہے۔ ہم نے یہ جاننے کے لیے کہ آخر سچ کیا ہے، معاملے کی پوری تحقیقات کی۔

Read more

ہندوستانی فوج ، ہتھیار مافیا اور سیاست

بیس دسمبر 2011کی رات کچھ لوگ ایک گھر کے اندر زبردستی گھس جاتے ہیں۔ یہ گھر پونا گوگوئی کا ہے۔ وہ جورہاٹ کے باشندے ہیں۔ وہ آرمی کے لیے ٹھیکے کا کام کرتے ہیں۔ اس رات وہ اپنے گھر میں نہیں تھے۔ وہ گوہاٹی میں تھے۔ یہ لوگ پونا گوگوئی کے گھر کے پچھلے دروازاے کو توڑ کر گھر کے اندر داخل ہوئے تھے۔ گھر میں ان کی بیوی رینو اور تین بچے تھے، دو بیٹے اور ایک بیٹی۔ رات کا وقت تھا، گھر میں سب سور رہے تھے۔اچانک ان لوگوں کو گھر کے اندر دیکھ کروہ ڈر گئے، رونے لگے۔ ان لوگوںنے سبھی کو بستر سے کھینچ کر باہر نکالا اور ان کے ہاتھ باندھ کر انھیں ٹی وی والے کمرے میں بند کردیا۔ یہ لوگ پونا گوگوئی کو تلاش کر رہے تھے، لیکن وہ گھر کے اندر نہیں ملے۔ ان لوگوں نے بڑے بیٹے کو دھمکی دی کہ اگر اس نے پونا گوگوئی کا ٹھکانا نہیں بتایا، تو سبھی کو جان سے مار دیا جائے گا۔ ان لوگوں کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے۔

Read more

ایسے جیتی بی جے پی

دو ہزار چودہ کے لوک سبھا انتخابات نے بی جے پی کے کئی بھرم دور کر دئے ۔ سروے کرانے والی ملک کی تمام ایجنسیاں فیل ہو گئیں۔ تجزیہ نگاروں کی پیش گوئی جھوٹی ثابت ہوئی ۔ ٹی وی چینلوں پر الیکشن سے دکھائے گئے تجزیوں کو پھر سے دکھایا جائے، تو ملک کے تمام انتخابی تجزیہ نگاروں کی کرکری ہو جائے۔تعصب کہیں یا نا اہلی، لیکن حقیقت یہی ہے کہ ان عظیم صحافیوں کو بھی حقیقت کی بھنک تک نہیں لگی، جو جگہ جگہ جا کر رپورٹنگ کر رہے تھے۔ دانشوروں ، تجزیہ نگاروں اور صحافیوں کی باتیں ذاتی ہوتی ہیں۔ ان کا یہ تجزیہ، ان کی رائے اور ان کا اندازہ ہوتا ہے، لیکن انتخابی نتائج اندازہ نہیں ہوتے، یہ حقیقت بتاتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ملک کے نوجوانوں نے سیاست کا کھیل بدل دیا ہے۔ وہ لوگ جو اب تک سیاست سے دور رہتے تھے اور ووٹ دینے نہیں جاتے تھے، انھوں نے سیاست کے عظیمپالیسی سازوں اور تجزیہکاروں کو جھوٹا ثابت کر دیا۔

Read more

عام آدمی پارٹی نے تاریخ رقم کی

انتخابی نتائج کا اعلان ہونے کے بعد کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے شکست کی ذمہ داری لی۔ یو پی اے کی چیئر پرسن سونیا گاندھی نے خود کو ذمہ دار بتایا۔ بہوجن سماج پارٹی کی سپریمو مایاوتی نے شکست کی ذمہ داری لی۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش نے مانا کہ چوک ہو گئی۔ صرف اکیلے اروِند کجریوال ہیں، جنہوں نے کہا کہ یہ ان کی شکست نہیں ہے۔ پارٹی نے بہتر مظاہرہ کیا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سبھی معروف پارٹیوں میں سب سے زیادہ شرمناک ہار عام آدمی پارٹی کی ہوئی ہے۔ عام آدمی پارٹی نے 443 امیدوار کھڑے کیے تھے۔ ان میں سے 421 سیٹوں پر پارٹی کی ضمانت ضبط ہو گئی۔ بنارس میں کجریوال کی بڑی ہار ہوئی،

Read more