ٓآپ کی آندھی میں اڑتا پنجاب

پنجاب میں اسمبلی انتخاب کی گہماگہمی بڑھ گئی ہے۔ تمام پارٹیاں کمپین موڈ میں آ چکی ہیں۔ ریاست میں شرومنی اکالی دل اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔ کانگریس پارٹی اصل اپوزیشن ہے۔ بہوجن سماج پارٹی بھی اس ریاست میں پھیلی ہوئی ہے۔ عام صورت میںیہ کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ عوام موجودہ حکومت سے ناخوش ہیں، اس لیے کانگریس پارٹی کی جیت کے امکانات مضبوط ہیں۔ لیکن اس بار پنجاب کا انتخابی ماحول غیر معمولی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس انتخاب میں عام آدمی پارٹی نے دوسری سبھی پاٹیوں کے انتخابی حساب کتاب کوبگاڑ دیا ہے۔ پنجاب انتخاب کے نتیجے کیا ہوں گے؟ ایسے کئی سوال ہیں جو پنجاب انتخاب کو لے کر لوگوں کے دماغ میں تجسس پیدا کر رہے ہیں۔ کچھ لوگو ں کو لگتا ہے کہ ناممکن کا ممکن ہوجا نا ہی سیاست کا کردار ہوتا ہے۔

Read more

آسام میں کانگریس کی سیاسی غلطیوں نے بی جے پی کو جیت دلائی

بہار انتخاب میں شکست کے بعد بی جے پی کا حوصلہ پست ہو چکا تھا۔ پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں بی جے پی کی حالت قابل تشویش تھی۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جہاں بی جے پی کا سرکار بنانا تو دور محض موجودگی بھی نہیں تھی۔کیرل ، تمل ناڈو اور پڈو چیری میں پارٹی کبھی کوئی سیٹ نہیں جیت پائی۔

Read more

وزیر اعظم جی، آپ کی ترجیحات میں کیا ہے؟ کام یا تشہیر

عجیب صورت حال ہے۔ ایک دن پہلے سرکار اسکیموں کا اعلان کرتی ہے اور اگلے ہی دن انہیں کامیاب بتا دیتی ہے۔ عام طور پر اسکیموں کے عملدرآمد ہونے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اسکیمیں کامیاب ہوئیں یا ناکام ۔ لیکن مودی سرکار عملدر آمدہو ئے بغیر ہی اسکیموں کو کامیاب اعلان کرنے پر آمادہ ہے۔ایسا لگتا ہے کہ نریندر مودی چاہتے ہیں کہ بغیر عمل کئے ہی بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ اسکیموں کی کامیابی کا ڈھول پیٹنے لگیں۔ نریندر مودی سرکار کے دو سال پورے ہونے والے ہیں۔ اگلے انتخاب میں

Read more

مودی سرکار کسانوں کے ساتھ دھوکہ کر رہی ہے

بھلا اس سے بڑی ملک سے غداری اور کیا ہوگی کہ سرکار چلانے والی پارٹی کے لیڈر کسانوں کی خود کشی کو فیشن قرار دینے لگے۔ بی جے پی ممبر پارلیمنٹ گوپال شیٹی کے اس شرمناک بیان پر قومی صدر امیت شاہ نے اسے پارٹی سے معطل کرنا تو دور، اس طرف دھیان تک نہیں دیا۔ وہیں دوسری طرف بی جے پی کا کسان پریم اچانک جاگ اٹھا ہے۔ مختلف ریاستوں میں اس کی کسان ریلیاں ہو رہی ہیں، پالیسیوں کے اعلان ہورہے ہیں۔بی جے پی کا کسان پریم کسان ریلیاں اور سرکاری اسکیمیں راہل گاندھی اور اپوزیشن کے حملوں کا سیاسی جواب تو ہوسکتے ہیں لیکن کسانوں کی زندگی میں خوشیاں نہیں لا سکتے۔ آج کسانوں کے سامنے جو اہم سوال ہے ،اس پر وزیر اعظم نریندر مودی کا دھیان بھی نہیں جاتا۔ کسانوں کے سامنے آج سب سے بڑا چیلنج کھیتی نہیں، پیدوار نہیں، بلکہ زندہ رہنے کی جدو جہد ہے۔ سرکاروں کے احساس کی اصلیت یہ ہے ہ بڑی تعداد میں کسان خود کشی کررہے ہیں اور اس کے لئے کوئی ذمہ دار تک نہیں ٹھہرایا جاتا۔ یہ کیسا ملک ہے، جہاں سینکڑوں کروڑ روپے کا قرض لینے والے لوگ عیش و آرام کی زندگی جیتے ہیں،لیکن صرف پچاس ہزار روپے کا قرض لینے والے کسان کو خود کشی کرنی پڑتی ہے۔ اگر سرکار کو کسانوں کی ذرا بھی فکر ہے تو ان کی خود کشی کے تئیں ریاستی اور ضلعی سطح پر افسروں کو جوابدہ بنانا ہوگا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا کسان پریم تب تک بے معنی ہے جب تک ملک کا کسان خود کشی کرنے کے لئے مجبور ہے۔ در در کی ٹھوکریں کھانے کے لئے مجبور ہے، کھیتی چھوڑنے کے لئے مجبور ہے اور نقل مکانی کے لئے مجبور ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کسانوں کو لے کر کچھ پالیسیوں کا اعلان کیا ہے،جنہیں سمجھنا ضروری ہے۔

Read more

یہ مندر بنانے کی نہیں فساد پھیلانے کی سازش ہے

یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ رام مندر کا ایشو ایک بار پھر سے ملک کے لوگوں کو تقسیم کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ ایسے ایسے بیان سامنے آرہے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں نفرت کا ماحول پیدا ہورہا ہے۔ملک کے عوام اور خاص طور پر نوجوان مندر مسجد کے ایشو سے کافی آگے نکل گئے ہیں۔وہ ہندوستان کو ماڈرن اور اقتصادی طور پر بڑی طاقت بنانے اور پوری دنیا میں ہندوستان کا لوہا منوانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔لیکن سیاست اور رام مندر کے علمبردار ہندوستان کو پیچھے دھکیلنے پر آمادہ ہیں۔ رام مندر ایک اہم ایشو ضرور ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک کے عوام اس کا پُر امن حل چاہتے ہیں۔ زیادہ تر مسلمان بھی چاہتے ہیں کہ ایودھیا میں امن سے رام مندر بن جائے لیکن وہ یہ نہیں چاہتے ہیں کہ رام مندر کے نام پر زور زبردستی ہو اور انہیں چڑھایا جائے،حال میں جس طرح سے رام مندر ایشو کو اچھالا گیاہے وہ نہ صرف غلط ہے بلکہ یہ ملک کے سپریم کورٹ، قانون اور مسلمانوں کو ذلیل کرنے کی ایک شرمناک کوشش بھی ہے۔

Read more

بی جے پی کا متبادل جنتا پریوار ہے

آزادی سے پہلے اور آزادی کے 45 سالوں بعد تک ملک میں ایک ہی پارٹی کا غلبہ رہا۔ کانگریس اکیلی پارٹی تھی، جس کا دبدبہ ریاستوں اور مرکز میں رہا۔ استثنیٰ کے طور پر درمیان میں ایک بار 70 کی دہائی میں جنتا پارٹی اور پھر وی پی سنگھ کی قیادت والی نیشنل فرنٹ کی سرکار آئی، لیکن وہ اپنی مدتِ کار پوری نہیں کر سکی۔ سماجی ترقی اور خود مختاری حاصل کرنے کی جدوجہد کے بعد، ہندوستان کی سیاست بڑی مشکل سے ایک پارٹی کے غلبہ سے باہر نکلی۔ کسی ایک پارٹی کا غلبہ کسی بھی جمہوریت کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔

Read more

دہلی اسمبلی انتخابات: یہاں مدعے نہیں شخصیت کی لڑائی ہے

دہلی اسمبلی الیکشن میں تیزی سے تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔ سبھی پارٹیاں حملہ آور نظر آ رہی ہیں۔ تشہیر و تبلیغ میں کوئی کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ سبھی پارٹیاں پانی کی طرح پیسہ بہا رہی ہیں۔ لیکن، افسوس اس بات کا ہے کہ دہلی اسمبلی الیکشن مدعے سے خالی ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی، عام آدمی پارٹی اور کانگریس پارٹی دہلی کے عوام سے جڑے مدعوں پر انتخاب نہیں لڑ رہی ہیں۔ یہ تینوں پارٹیاں مدعوں کو چھوڑ کر چہرے کے بھروسے الیکشن لڑ رہی ہیں۔ ان کے درمیان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی مقابلہ آرائی چل رہی ہے۔ ایک دوسرے پر الزام لگا کر بحث جیتنے کی ہوڑ لگی ہے۔ عوام کا دل جیتنے کی کوشش کوئی بھی نہیں کر رہا ہے۔ تینوں پارٹیوں نے الیکشن کو مدعوں سے بھٹکا کر شخصیت کی لڑائی بنا دیا ہے۔ اس درمیان عام آدمی پارٹی کی الجھنیں بڑھ گئی ہیں۔ پارٹیوں کو مخالفین سے زیادہ اپنے ہی لیڈروں کے بیانوں سے نقصان ہو رہا ہے۔

Read more

دہلی اسمبلی الیکشن: کیجریوال کے وجود کا سوال ہے

دہلی میں آج ہر جگہ کجریوال کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ ریڈیو پر کجریوال، میٹرو میں کجریوال، آٹو پر کجریوال، ہورڈِنگ میں کجریوال، ہر جگہ کجریوال نظر آ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دہلی میں ہونے والا اسمبلی انتخاب عام آدمی پارٹی کے لیے وجود کا سوال ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی کے پاس کجریوال کے چہرے کے علاوہ کچھ نہیں بچا ہے۔ پارٹی کارکن مایوس ہیں۔ کچھ کو چھوڑ کر پارٹی کا ہر چھوٹا بڑا لیڈر مستقبل کو لے کر فکرمند ہے۔ کئی پرانے ساتھی پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔ ممبرانِ اسمبلی اور سینئر کارکنوں کا پارٹی چھوڑنا بھی شروع ہو گیا ہے۔ سب سے خطرے کی بات یہ کہ پارٹی کو لے کر عوام بھی مایوس ہیں۔ پارٹی لیڈروں کو لگتا ہے کہ پارٹی ایسے موڑ پر کھڑی ہے، جہاں الیکشن میں لگا ایک جھٹکا پارٹی کو تاریخ بنا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عام آدمی پارٹی ’وَن ٹائم ونڈر‘ یا ایک بار کرشمہ دکھانے والی پارٹی بن کر رہ جائے گی یا اس بار بھی اپنی ساکھ بچانے میں کامیاب رہے گی؟

Read more

مودی کا آدرش گرام

دہلی ہو یا گجرات یا پھر بنار س کا ایک گائوں ،وزیر اعظم نریندر مودی جہاں بھی بولتے ہیں، انہیں پورا ملک سنتا ہے۔ بنارس کے جیا پور گائوں میں وزیر اعظم نریندر مودی نے جو باتیں آدرش گرام کو لے کر کہی ہیں، اس سے آدرش گرام کے منصوبہ کو لے کر عوام میں تذبذب پھیل گیا۔ مودی کی تقریر کی جن باتوں کو میڈیا میں ہائی لائٹ کیا گیا، ا س سے لوگ اور بھی زیادہ تذبذب میںہیں۔ مودی نے کہا کہ آدرش گرام یوجنا کے تحت گائوں میں سرکاری پیسہ نہیں آئے گا۔ اب لوگوں کو لگ رہا ہے کہ اگر پیسے نہیں آئیں گے تو بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کیسے ہوگی۔ کیا گائوں والے اپنے پیسے سے اسکول ، اسپتال بنائیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آدرش گرام یوجنا

Read more