اس نظام کی حفاظت کرنا وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے

اپنی بات کی شروعات میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے انتقال کی المناک خبرسے شروع کرنا چاہتا ہوں۔وہ کشمیر کے ایک پرانے لیڈر تھے اور جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ تھے۔ جب دہلی میں وی پی سنگھ وزیر اعظم بنے، تب انھوں نے مفتی محمد سعید کو ملک کا وزیر داخلہ مقررکیا۔ ان کے لےے اور ساتھ ہی کشمیر کے لےے یہ ایک بہت ہی اہم بات تھی، اہم حصولیابی تھی۔ ایک کشمیری کو پورے ملک کا وزیر داخلہ مقرر کیا جانا فخر کی بات تھی او ریہ کشمیری لوگوں کے لےے بہت اہم

Read more

دو ہزار سولہ وزیر اعظم کے لئے چیلنج بھرا ہے

2016 کئی معنی میں اہم ہے۔سیاسی، سماجی اور ثقافتی طور پر بھی ۔نئی سرکار آنے کے بعد سے کئی نئے تنازع بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔آج کل ایک عجیب طرح کا سیاسی ماحول بنتا جارہا ہے۔ کئی طرح کے تنازع سیاسی پارٹیوں میں دکھائی دے رہے ہیں، جن میں سے زیادہ تر بے وجہ ہیں۔ان تنازعات سے نہ تو ملک کا بھلا ہونے والا ہے اور نہ ملک کے کثیر مذہبی و کثیر ثقافتی سماج کا۔ ایسے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے نیا سال ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہیں آگے آکر مداخلت کرنی ہوگی، ایک حتمی گائڈ لائن دینی ہوگی، جس سے ایک تخلیقی سماج اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر ہوسکے۔

Read more

جمہوریت کے لئے یہ اچھی علامت نہیں ہے۔

سیاست کو قریب سے دیکھنے ،جاننے والے لوگوں نے جو خدشہ ظاہر کیا تھا ، اسی کے مطابق پارلیمنٹ بغیر کوئی خاص کام کئے غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہوگئی۔پارلیمنٹ کا وقت بغیر کوئی با مقصد کام کئے برباد ہوا۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ لوگوں کا پارلیمانی جمہوریت پر سے یقین کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ میرے خیال میں آج بھی اس ملک کے آئین اور موجودہ نظام میں سب کی حصہ داری ہے۔ کانگریس کو موجودہ صورت حال اور واقعہ پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ آر ایس ایس اور اس کی معاون تنظیموں (فرنٹ آرگنائزیشن ) کا اس نظام پر کبھی زیادہ یقین رہا ہی نہیں۔ ظاہر ہے ،وہ اسی آئین کے راستے اقتدار میں آئے ہیں، اس لئے انہیں یہ آئین مانناہے۔لیکن اقتدار میں آنے کی وجہ سے آئین کو ماننا اور سچ مچ آئین پر یقین رکھنا، دو الگ الگ باتیں ہیں۔ اگر ان کی باتوں یا کاموں سے کنفیوژن کی صورت بنتی ہے تو یہ ان کے ہی ہدف کو پورا کرتی ہے۔ آر ایس ایس کی معاون تنظیمیں اور ممبران پارلیمنٹ جس طرح کی زبان کا استعمال کرتے ہیں، وہ آخر کیا ہے؟یہ لوگ غیر متعلقہ ایشوز جیسے بیف اور منطقی لوگوں کے قتل وغیرہ کے ذریعہ ہر ممکن ایسی کوشش کرتے ہیں جس سے ملک کا ماحول خراب ہو۔

Read more

بی جے پی اپوزیشن کی طرح سلوک کر رہی ہے

پچھلے دنوں ہر طرف دہلی انتخاب کا چرچا تھا۔ ایک مرکز کے زیر انتظام ریاست کے اسمبلی انتخاب کے لیے اتنا ہنگامہ سمجھ سے باہر ہے۔ اس میں دو باتیں ہیں، پہلی یہ کہ ایک مرکز کے زیر انتظام ریاست کے انتخاب کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ چاہے وہ ریاست دہلی ہی کیوں نہ ہو۔ اور دوسری یہ کہ ’پرچار‘ کی سطح، زبان کے استعمال اور جو الزام لگائے گئے، اس سے ہندوستانی جمہوریت کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ سب سے بد تر بات یہ کہ نہ جانے کس کی صلاح پر خود وزیر اعظم نے ایسی زبان کا استعمال کیا جیسی زبان کااستعمال ان جیسے قد آور لیڈر کو کون کہے، کسی عام پارٹی کے لیڈر کے ذریعے نہیں کیا جاناچاہیے تھا۔ نریندر مودی نے اپنے

Read more

بی جے پی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے

بی جے پی نے دہلی میں وہ کام کیا ہے، جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وہ دہلی میں ایک ایسے چہرے کو سامنے لائی ہے، جن کا کسی بھی سیاسی پارٹی میں کوئی تجربہ نہیں رہا ہے، لیکن آج وہ بی جے پی کا چہرہ ہیں۔ یہ سچ ہے کہ کرن بیدی کے خلاف بدعنوانی کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے، لیکن ان کا ایک بہترین پولس افسر والا ریکارڈ بھی نہیں رہا ہے۔ لیکن آر ایس ایس کے کچھ لوگوں سے میری بات کے بعد میں ان کی حکمت عملی میں شامل دروں بینی کو بتا سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں ان کے پاس ایک معروف چہرہ تک نہیں ہے، ایسے میں جب تک ان کے پاس کوئی جانا پہچانا چہرہ نہ ہو، تب تک وہ کوئی طاقت نہیں بن سکتے۔ وہ بنگال میں ایک اچھے ریکارڈ والے لیڈر کی تلاش میں ہیں، جو ان کی پارٹی کی قیادت کر سکے۔ وہ اپنی تنظیم اور کارکنوں کو لے کر پر اعتماد ہیں کہ وہ ان کی مدد کریں گے، لیکن پھر بھی انہیں ایک چہرے کی ضرورت ہے۔

Read more

اقتصادی فرنٹ پر بولڈ فیصلے لینے کی ضرورت ہے

چھبیس نومبر کو نریندر مودی سرکار کے 6 مہینے پورے ہو گئے۔ ان چھ مہینوں میں کیا ہوا ہے، اسے دیکھتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ قومی جذبہ کافی پرجوش ہوا ہے۔ عام آدمی اس بات سے خوش ہے کہ ہم بڑی تبدیلی کی طرف جا رہے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں سے کچھ غیر معمولی اعلانات ہیں، لیکن ان سے آپ غیر متفق نہیں ہو سکتے۔ سب سے پہلا اعلان یہ کہ ملک بھر میں ٹوائلیٹ بنایا جانا چاہیے، کھلے میں رفع حاجت بند ہونا چاہیے۔ ان باتوں سے کوئی بھی شکایت نہیں کر سکتا ہے۔ دوسرا ہے صفائی مہم (سوچھتا ابھیان)۔ کچرے کا نمٹارہ ٹھیک ڈھنگ سے ہونا چاہیے۔ یہ سب بہت پرانے مسائل ہیںاور اب تک ان سب کی اندیکھی کی گئی ہے، اس لیے اب کوئی بھی وزیر اعظم سے غیر متفق نہیں ہو سکتا، جب وہ اس کے لیے ایک نیشنل پلان یا ایک اسکیم کا اعلان کرتے ہیں۔ مسئلہ ان اسکیموں کے نفاذ کو لے کر آتا ہے۔ آپ

Read more

جنتا پریوار ایک مضبوط اپوزیشن اور متبادل بن سکتا ہے

وزیر اعظم بدعنوانی کے سخت خلاف اور انتظامیہ میں ایک نیا کلچر بنائے رکھنے کے خواہش مند ہیں۔ انہیں وزیر وں کے ذریعے بتائے گئے اپنے اثاثے کی تفصیل پر بھی ایک نظر ڈالنی چاہیے۔ نیوز پیپر میں یہ خبر آئی ہے کہ وزیروں نے اپنے اثاثے کا بیورا دیا ہے۔ کانگریس کا یہ طریقہ تھا کہ کسی معاملے کا نوٹس اس وقت تک نہ لو، جب تک کہ آمدنی سے زیادہ اثاثے کے معاملے میں کوئی کیس درج نہیں ہوتا یا محکمہ انکم ٹیکس کی نیند نہیں کھل جاتی۔ حالانکہ، وزیر اعظم خود ان جانکاریوں کی جانچ کریں گے۔ آخرکار، اچانک کیسے کوئی بہت زیادہ پیسہ کما سکتا ہے؟ اگر کوئی آدمی اچانک بہت زیادہ پیسہ کما لیتا ہے، تو وزیر اعظم کو خود اس معاملے کو

Read more

آئین کے راستے ہی یہ ملک چلےگا

ایک بار پھر ملک نے یومِ آزادی منایا۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی اخبارو رسائل میں یومِ آزادی کے حوالے سے مضامین لکھے گئے۔ حقیقت میں آزادی کے معنی کیا ہیں؟ ہم سبھی کو، پھر چاہے وہ سیاسی لیڈر ہوں، دیگر لوگ، صنعتی گھرانوں کے مالک، یا سول سوسائٹی کے لوگ ہوں، سبھی کو ایک بار پھر سے اس سوال پر غور کرنا چاہیے۔ کیا ہم اسی راہ پر چل رہے ہیں، جیسا کہ آئین میں بتایا گیا ہے یا 1952 سے لے کر آج تک آئین کے سبھی حصے کو دھیرے دھیرے مسخ کر رہے ہیں؟ مسخ اس شکل میں کہ کاغذوں پر تو ہم آئین کے مطابق چل رہے ہیں، لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔ مثال کے طور پر، آئین میں اس بات کا ذکر ہے کہ سرکار کا انتخاب کیسے ہوتا ہے اور اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں، سرکار کا رول کیا ہو۔ یہ بھی واضح ہے کہ منتخب کی گئی سرکار پالیسیاں بنائے، وہ چاہے سیاسی ہو، اقتصادی ہو یا سماجی، لیکن ان کا نفاذ ایڈمنسٹریٹو آفیسرز کے ذریعے ہونا چاہیے۔ ان میں انڈین ایڈمنسٹریٹو سروِس اور دوسری سروسز کے افسران ہیں، جو ایک مشکل مرحلہ کے بعد منتخب ہوتے ہیں۔ ان سروسز کے لیے مقابلہ جاتی امتحانوں کے ذریعے قابل لوگوں کا سلیکشن ہوتا ہے، اس لیے ان پالیسیوں کے نفاذ کے لیے یہ افسر سب سے بہتر ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن، کیا ان کا صحیح استعمال ہو رہا ہے؟ نہیں۔

Read more

وزیر اعظم اپنے خیالات عوام کے سامنے رکھیں

وزیر آج کل کافی خاموش رہتے ہیں اور یہ پتہ نہیں چل پا رہا ہے کہ مختلف مسئلوں پر ان کے خیالات کیا ہیں۔ شاید وہ ابھی بھی اپنا من بنا رہے ہیں یا اپنے صلاح کاروں پر منحصر ہیں۔ پھر بھی پبلک سیکٹر کے کئی ایسے مسئلے ہیں، جن سے انہیں مخاطب ہونا چاہیے۔ سب سے پہلے، کئی جگہ ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں، جہاں پر اتفاقاً یا جان بوجھ کر ایسے کام کیے گئے ہیں، جن سے اقلیتی طبقہ متاثر ہوا ہے۔ مہاراشٹر سے شو سینا کے ایک رکن پارلیمنٹ نے کھانے پینے کے انتظامات کا معائنہ کرنے والے ایک شخص کے ساتھ بدسلوکی کی۔ اب کوئی شخص بھلے ہی اقلیتی طبقہ کا نہیں ہے، لیکن ایک ایم پی کو ایک جونیئر ملازم کے ساتھ ایسی بدسلوکی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر وہ ایم پی خوش نہیں ہیں، تو وہ ایک ضابطہ کے تحت اس کے خلاف شکایت کر سکتے تھے۔ لیکن ممبرانِ پارلیمنٹ کی طرف سے اس طرح کے کام جمہوریت کے لیے اچھے اشارے نہیں ہیں۔ ان

Read more

کیا یہ بجٹ تبدیلی لائے گا؟

قومی بجٹ 11جولائی کو آنا ہے۔ عوام کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آنے والا بجٹ کس طرح کا ہوگا؟ دو باتیںاہم ہیں۔پہلاویٹ ہے۔ اس میںزبردست تبدیلی کی ضرورت ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے، کیونکہ پہلی بار ایک خاص آئیڈیا لوجی والی پارٹی کو آزادی کے بعد ایک واضح اکثریت ملی ہے۔ اگر بی جے پی یا اس کے پچھلے اوتارجن سنگھ یا سنگھ پریوار اپنی ہی آئیڈیا لوجی کی پیروی کرتے ہیں، تو بجٹ پوری طرح سے ایک نوبل کانسپٹ (Concept)ہونا چاہیے۔ اسے ٹریڈ فرینڈلی ہونا ہوگا، اسے متوسط طبقہ کے موافق، انسپکٹر راج اور نوکر شاہی کی بدعنوانی کے خلاف ہونا ہوگا۔ اس کے لیے بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ کانگریس یا قلیل مدت کے لیے آئی پچھلی حکومتوں میں ایک ہی فارمولہ تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ اپنایا جاتا رہا ہے، جس کا کوئی اہم نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ آج ہمارے پاس ایک ایسا نظام ہے، جہاں نوکر شاہی، خاص طور سے لوور

Read more