اقتصادی فرنٹ پر بولڈ فیصلے لینے کی ضرورت ہے

چھبیس نومبر کو نریندر مودی سرکار کے 6 مہینے پورے ہو گئے۔ ان چھ مہینوں میں کیا ہوا ہے، اسے دیکھتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ قومی جذبہ کافی پرجوش ہوا ہے۔ عام آدمی اس بات سے خوش ہے کہ ہم بڑی تبدیلی کی طرف جا رہے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں سے کچھ غیر معمولی اعلانات ہیں، لیکن ان سے آپ غیر متفق نہیں ہو سکتے۔ سب سے پہلا اعلان یہ کہ ملک بھر میں ٹوائلیٹ بنایا جانا چاہیے، کھلے میں رفع حاجت بند ہونا چاہیے۔ ان باتوں سے کوئی بھی شکایت نہیں کر سکتا ہے۔ دوسرا ہے صفائی مہم (سوچھتا ابھیان)۔ کچرے کا نمٹارہ ٹھیک ڈھنگ سے ہونا چاہیے۔ یہ سب بہت پرانے مسائل ہیںاور اب تک ان سب کی اندیکھی کی گئی ہے، اس لیے اب کوئی بھی وزیر اعظم سے غیر متفق نہیں ہو سکتا، جب وہ اس کے لیے ایک نیشنل پلان یا ایک اسکیم کا اعلان کرتے ہیں۔ مسئلہ ان اسکیموں کے نفاذ کو لے کر آتا ہے۔ آپ

Read more

جنتا پریوار ایک مضبوط اپوزیشن اور متبادل بن سکتا ہے

وزیر اعظم بدعنوانی کے سخت خلاف اور انتظامیہ میں ایک نیا کلچر بنائے رکھنے کے خواہش مند ہیں۔ انہیں وزیر وں کے ذریعے بتائے گئے اپنے اثاثے کی تفصیل پر بھی ایک نظر ڈالنی چاہیے۔ نیوز پیپر میں یہ خبر آئی ہے کہ وزیروں نے اپنے اثاثے کا بیورا دیا ہے۔ کانگریس کا یہ طریقہ تھا کہ کسی معاملے کا نوٹس اس وقت تک نہ لو، جب تک کہ آمدنی سے زیادہ اثاثے کے معاملے میں کوئی کیس درج نہیں ہوتا یا محکمہ انکم ٹیکس کی نیند نہیں کھل جاتی۔ حالانکہ، وزیر اعظم خود ان جانکاریوں کی جانچ کریں گے۔ آخرکار، اچانک کیسے کوئی بہت زیادہ پیسہ کما سکتا ہے؟ اگر کوئی آدمی اچانک بہت زیادہ پیسہ کما لیتا ہے، تو وزیر اعظم کو خود اس معاملے کو

Read more

آئین کے راستے ہی یہ ملک چلےگا

ایک بار پھر ملک نے یومِ آزادی منایا۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی اخبارو رسائل میں یومِ آزادی کے حوالے سے مضامین لکھے گئے۔ حقیقت میں آزادی کے معنی کیا ہیں؟ ہم سبھی کو، پھر چاہے وہ سیاسی لیڈر ہوں، دیگر لوگ، صنعتی گھرانوں کے مالک، یا سول سوسائٹی کے لوگ ہوں، سبھی کو ایک بار پھر سے اس سوال پر غور کرنا چاہیے۔ کیا ہم اسی راہ پر چل رہے ہیں، جیسا کہ آئین میں بتایا گیا ہے یا 1952 سے لے کر آج تک آئین کے سبھی حصے کو دھیرے دھیرے مسخ کر رہے ہیں؟ مسخ اس شکل میں کہ کاغذوں پر تو ہم آئین کے مطابق چل رہے ہیں، لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔ مثال کے طور پر، آئین میں اس بات کا ذکر ہے کہ سرکار کا انتخاب کیسے ہوتا ہے اور اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں، سرکار کا رول کیا ہو۔ یہ بھی واضح ہے کہ منتخب کی گئی سرکار پالیسیاں بنائے، وہ چاہے سیاسی ہو، اقتصادی ہو یا سماجی، لیکن ان کا نفاذ ایڈمنسٹریٹو آفیسرز کے ذریعے ہونا چاہیے۔ ان میں انڈین ایڈمنسٹریٹو سروِس اور دوسری سروسز کے افسران ہیں، جو ایک مشکل مرحلہ کے بعد منتخب ہوتے ہیں۔ ان سروسز کے لیے مقابلہ جاتی امتحانوں کے ذریعے قابل لوگوں کا سلیکشن ہوتا ہے، اس لیے ان پالیسیوں کے نفاذ کے لیے یہ افسر سب سے بہتر ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن، کیا ان کا صحیح استعمال ہو رہا ہے؟ نہیں۔

Read more

وزیر اعظم اپنے خیالات عوام کے سامنے رکھیں

وزیر آج کل کافی خاموش رہتے ہیں اور یہ پتہ نہیں چل پا رہا ہے کہ مختلف مسئلوں پر ان کے خیالات کیا ہیں۔ شاید وہ ابھی بھی اپنا من بنا رہے ہیں یا اپنے صلاح کاروں پر منحصر ہیں۔ پھر بھی پبلک سیکٹر کے کئی ایسے مسئلے ہیں، جن سے انہیں مخاطب ہونا چاہیے۔ سب سے پہلے، کئی جگہ ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں، جہاں پر اتفاقاً یا جان بوجھ کر ایسے کام کیے گئے ہیں، جن سے اقلیتی طبقہ متاثر ہوا ہے۔ مہاراشٹر سے شو سینا کے ایک رکن پارلیمنٹ نے کھانے پینے کے انتظامات کا معائنہ کرنے والے ایک شخص کے ساتھ بدسلوکی کی۔ اب کوئی شخص بھلے ہی اقلیتی طبقہ کا نہیں ہے، لیکن ایک ایم پی کو ایک جونیئر ملازم کے ساتھ ایسی بدسلوکی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر وہ ایم پی خوش نہیں ہیں، تو وہ ایک ضابطہ کے تحت اس کے خلاف شکایت کر سکتے تھے۔ لیکن ممبرانِ پارلیمنٹ کی طرف سے اس طرح کے کام جمہوریت کے لیے اچھے اشارے نہیں ہیں۔ ان

Read more

کیا یہ بجٹ تبدیلی لائے گا؟

قومی بجٹ 11جولائی کو آنا ہے۔ عوام کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آنے والا بجٹ کس طرح کا ہوگا؟ دو باتیںاہم ہیں۔پہلاویٹ ہے۔ اس میںزبردست تبدیلی کی ضرورت ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے، کیونکہ پہلی بار ایک خاص آئیڈیا لوجی والی پارٹی کو آزادی کے بعد ایک واضح اکثریت ملی ہے۔ اگر بی جے پی یا اس کے پچھلے اوتارجن سنگھ یا سنگھ پریوار اپنی ہی آئیڈیا لوجی کی پیروی کرتے ہیں، تو بجٹ پوری طرح سے ایک نوبل کانسپٹ (Concept)ہونا چاہیے۔ اسے ٹریڈ فرینڈلی ہونا ہوگا، اسے متوسط طبقہ کے موافق، انسپکٹر راج اور نوکر شاہی کی بدعنوانی کے خلاف ہونا ہوگا۔ اس کے لیے بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ کانگریس یا قلیل مدت کے لیے آئی پچھلی حکومتوں میں ایک ہی فارمولہ تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ اپنایا جاتا رہا ہے، جس کا کوئی اہم نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ آج ہمارے پاس ایک ایسا نظام ہے، جہاں نوکر شاہی، خاص طور سے لوور

Read more

نئی حکومت کو واضح پالیسی کے ساتھ سامنے آنا چاہئے

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں صدرجمہوریہ کا خطبہ اور دونوں ایوانوں میں شکریہ کی تحریک پر وزیر اعظم کیتقریر ٹھیک رہی۔ایسا کچھ نہیں کہا گیا جس سے عوام کے کسی بھی حلقے میں کسی طرح کی مخالفت کی آواز اٹھے۔ درحقیقت کانگریس کہہ رہی ہے کہ حکومت کی زیادہ تر تجاویز یا پالیسی کا بیشتر حصہ کانگریس سے نقل کیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو کانگریس پارٹی اس پالیسی کی مخالفت نہیں کرسکتی ہے کیونکہ یہ ایک عجب دلیل ہے۔ اگر وہ کانگریس کی پالیسیوں کو اختیار کر رہے ہیں تو کانگریس کو کیوں اعتراض ہوسکتا ہے؟لیکن اس بحث کو چھوڑیں ۔اصل بات تو یہ ہے کہ تقریر کرنا ایک بات ہے لیکن اس وقت ہم دو چیزوں کو دیکھ رہے ہیں۔ ایک، ہم نے ایسا کچھ بھی نہیں سنا کہ یہ حکومت گزشتہ حکومتوں سے کچھ الگ کرنے والی ہے۔ ایسی ایک بھی تجویز نہیں سنی۔ صرف ایک چیز ہم نے سنی کہ کابینی وزیر اور وزیر اعظم کا دفتر اپنا کام کرے گا، ٹھیک ہے۔یہ ان کے کام کاج کا انداز ہے مگر پالیسیاں کیا ہونے جارہی ہیں؟آخر کار، ایک منڈیٹ ملا ہے

Read more

حکومت اور اپوزیشن : ایک نئی شروعات کی ضرورت

چھبیس مئی کو نریندر مودی نے وزیر اعظم کے طور پر 45 وزراء کی شروعاتی کابینہ کے ساتھ حلف لیا۔ راشٹرپتی بھون کی پریس ریلیز سے وزراء کی وزارتوں کی جانکاری دی گئی۔ اس سے پہلے ہی تبصرہ کیا جانے لگا کہ کابینہ کی ٹیم لائق ہے یا نہیں؟ مجھے لگتا ہے کہ یہ نامناسب ہے۔ عوام نے بی جے پی کو اقتدار سونپا ہے اور ان انتخابات میں لوگوں نے نہ صرف بی جے پی کو، بلکہ نریندر مودی کو ذاتی طور پر ووٹ دیا ہے۔ ہم میں سے کچھ لوگ اسے پسند کریں یا نہیں، لیکن یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ نریندر مودی کام کریں گے اور اسی بنیاد پر انہیں دیکھا جانا چاہیے۔ جہاں تک کابینہ کا سوال ہے، تو انہوں نے ایک نئی روایت قائم کی ہے۔ اس کے ذریعے انہوں نے سینئر کیبنٹ ساتھیوں کا انتخاب کیا ہے، لیکن انہیں محدود ذمہ داری دی گئی ہے۔ ایسا ان کی سینئرٹی اور عمر وغیرہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

Read more

ہم سرمایہ دارانہ دور میں آ گئے ہیں

عالمی جنگ سے پہلے امریکہ کی اقتصادی پالیسی کیسی تھی، اسے جاننا بے حد دلچسپ ہوگا۔ عالمی جنگ سے پہلے امریکہ کی آمدنی اور دولت وہاں کے چند مٹھی بھر لوگوں کے ہاتھوں میں سمٹی ہوئی تھی۔ دوسری طرف اکثریتی طبقہ اس سے محروم تھا۔ عالمی جنگ کے خاتمہ کے بعد امریکی شہریوں کے من میں یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ سب غلط ہے۔ ایسے لوگ، جو اپنی زندگی جینے کے لیے کڑی محنت کرتے ہیں، انہیں اپنی آمدنی کے ذریعے لطف اندوز ہونے کا موقع ملنا چاہیے۔ وہ اس لائق بن سکیں، تاکہ وہ ایک اچھی زندگی بسر کر سکیں۔ اسی حساب سے لوگوں پر ٹیکس لگنے چاہئیں، تاکہ یہ ٹیکس ان پر بوجھ نہ بن سکیں۔ اس وقت ایک نظریہ سامنے آیا کہ جو لوگ امیر ہیں، ان پر زیادہ اور جو لوگ غریب ہیں، ان پر اوسط ٹیکس لگایا جائے۔

Read more

سرکار کی پالیسیاں کیا ہوں گی؟

لوک سبھا کے انتخابات ختم ہو چکے ہیں اور عوام کا فیصلہ آ چکا ہے۔ عوام کا یہ فیصلہ ہم جیسے کئی لوگوں کے لیے حیران کن، تو بی جے پی اور اس کے ساتھیوں کے لیے اطمینان بخش ہے۔ عوام کے اس فیصلہ کا ایک مطلب ہے کہ اگلے پانچ سالوں تک ملک میں ایک مستحکم سرکار ہوگی، کیوں کہ بی جے پی نے اپنے دَم پر واضح اکثریت حاصل کی ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر اس سرکار کی پالیسیاں کیا ہوں گی اور کیا وہ ان پالیسیوں کو نافذ کر پانے کے قابل ہوگی؟ مینی فیسٹو کی اپنی پالیسیاں ہیں۔ اس میں اطمینان بخش بات یہ ہے کہ انتخابی منشور میں رام مندر اور آرٹیکل 370 جیسے مدعوں کو اندرونی صفحات پر رکھا گیا ہے اور بنیادی مدعے ڈیولپمنٹ اور روزگار پر مرکوز ہیں۔ اب مان لیتے ہیں کہ یہ سرکار اپنے وعدوں کے تئیں ایماندار رہے گی، لیکن وہ اسے کیسے پورا کریں گے؟ سرمایہ کاری کا ایشو بے حد آسان ہے، کیوں کہ غیر ملکی سرمایہ کاری آ سکتی ہے۔

Read more

اب ایک نئے ہندوستان کی بات ہونی چاہئے

عام انتخابات کے نتائج آچکے ہیں۔ تقریباً پورا ملک ایک طرف چلا گیا ہے۔ خاص طور پر شمالی ہندوستان، ٹھیک 1971 اور 1977 کی طرح۔ 1984 کے بعد پہلی مرتبہ کسی پارٹی نے اکیلے اکثریت کی سرکار بنائی۔ لیکن 1984 میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہمدردی کی لہر تھی، جس کی وجہ سے کانگریس جیت گئی۔ دوسری طرف 1971 میں اندرا گاندھی کے ’’غریبی ہٹائو‘‘ نعرے کی وجہ سے کانگریس کو پوری اکثریت ملی تھی اور پھر 1977 میں ایمرجنسی کے خلاف عوام کا غصہ ووٹ بن کر سامنے آیا تھا۔ 2014 کے انتخاب میں لوگوں کا غصہ گھوٹالے کے خلاف ووٹ کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ وہ گھوٹالے جو سی اے جی رپورٹوں سے باہر

Read more