بی جے پی وَن مین شو بن گئی ہے

آخر کار این ڈی اے اور بی جے پی نے اس طرح کی سیاست کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا جسے ہم ہندوستان میں دیکھتے آئے ہیں۔ فی الحال انہوں نے اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے مخالف خیمے کے اراکین اسمبلی کو توڑنے کا کھیل شروع کر دیا ہے۔ یہ کھیل اروناچل پردیش میں کامیابی کے ساتھ کھیلا گیا۔ اب اتراکھنڈ پر نظر ہے۔ دراصل، اس میں دو مسئلے ہیں۔ پہلا، اگر بی جے پی نے یہ سمجھ لیاہے کہ ہندوستانی جمہوریت کے کام کرنے کا یہی طریقہ ہے، تو اس نے دلی میں ایسا کیوں نہیں کیا؟ جبکہ وہاں اس کے پاس 31ایم ایل اے تھے اور حکومت سازی کے لئے صرف پانچ ایم ایل اے کی ضرورت تھی۔ اگر بی جے پی دلی میں ایسا کرکے سرکار بنا لی ہوتی، تو کجریوال کا کہیں نام و نشان نہیں ہوتا۔ ایسا کرنے کے بجائے اس نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ ہم سب سے الگ (اچھی) پارٹی ہیں۔ ہم کسی دوسری پارٹی میں توڑ پھوڑ نہیں کریںگے۔ ہم چنائو لڑیں گے۔ دراصل انہوں نے اعلیٰ مثال پیش کرنے کی کوشش کی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کجریوال نے ان کا صفایا کر دیا۔ بہار میں بیشک چنائو اپنے وقت پر ہورہے تھے، جو ٹھیک ہے۔

Read more

جے این یو معاملہ: کیا دہلی پولس کا یہ اپنا فیصلہ تھا

گزشتہ ہفتہ جے این یو کے طالب علموں کے مظاہرے اور نعرے بازی کی رپورٹیں چھائی رہیں۔وہاں نعرہ لگانے والوں اور مظاہرہ کرنے والوں پر پولیس نے ضرورت سے زیادہ سخت کارروائی کی۔جانچ کے بعد معلوم ہوا کہ پولیس کارروائی کے لیے نہ توایل جی نے حکم دیا تھا اور نہ ہی وازرت داخلہ یا پی ایم او کی جانب سے ہی ایسا کوئی آرڈر آیا

Read more

وزیر خزانہ صاحب، کچھ تو گڑ بڑ ہے

کچھ ہی دنوں میں عام بجٹ پیش ہونے والا ہے۔وزیر خزانہ کے لئے یہ ایک مشکل وقت بھی ہے اور ایک موقع بھی ہے۔وزیر خزانہ اب تک دو بجٹ پیش کر چکے ہیں، جن کو لے کر بازار نے مثبت رائے نہیں دی ہے۔ عام سوچ یہ ہے کہ موجودہ سرکار ،یو پی اے 3 سرکار ہے۔ دراصل ارون شوری نے اسے یو پی اے 3 پلس کاؤ( گائے) کہا ہے۔ان کا یہ کہنا سچائی سے بہت الگ بھی نہیں ہے،کیونکہ موجودہ سرکار نے نہ تو کانگریس کی پالیسیوں کو پوری طرح بدلا ہے اور نہ ہی اپنی طرف سے کوئی نئی پالیسی پیش کی ہے۔

Read more

اہم ایشو پیچھے چھوٹ رہا ہے

ارونا چل پردیش ایک ایسی ریاست بن گئی ہے،جہاں آرٹیکل 356 کا استعمال بنا کسی ٹھوس سبب کیہوا۔حالانکہ ایسے معاملے میں پہلے بھی گورنر، مرکز کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے رہے ہیں ۔لیکن اس بار گورنر نے ساری حدیں پھلانگ دیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کانگریس کے وزیر اعلیٰ کے پاس اکثریت نہیں تھی یا اکثریت تھی، لیکن ان کے کچھ ارکان اسمبلی باغی ہوگئے تھے۔ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے گورنر کو وزیر اعلیٰ سے اسمبلی کاسیشن بلانے

Read more

مندر داخلہ تنازع میں سرکار کی مداخلت غیر مناسب

گزشتہ دنوں میڈیا میں ایک خبر اہمیت کے ساتھ چھائی رہی۔ یہ خبر تھی مختلف خواتین تنظیموں کے ذریعہ سبری مالا مندر میں داخلہ کولے کر کیے جارہے آندولنوں کے بارے میں۔ ا س مندر میں 10 سے 60 سال کی عورتوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ پونے کے نزدیک شنی مندر کے گربھ گرہ میں بھی عورتوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ یہ ایک عجیب بات ہے۔ ایک سیکولر سماج میں کسی سرکار کے لیے قطعی غیر مناسب ہے کہ وہ مذہبی رواجوں اور عمل پر تبصرہ یا مداخلت کرے، جیسا کہ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ نے خواتین تنظیموں کو حمایت دینے کی بات کہی ہے۔حمایت یا مخالفت کرنا ان کا کام نہیں ہے۔ یہ ایک خطرناک ٹرینڈ شروع ہوا ہے،جس میں سرکار اگر ایک دھرم کے معاملوں میں مداخلت کرے گی، تو دوسرے مذہبوں کے معاملوں میں بھی مداخلت کرنے سے اسے کوئی نہیں روک سکے گا۔ یہ ایک خطرناک شروعات ہے، جسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔

Read more

اس نظام کی حفاظت کرنا وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے

اپنی بات کی شروعات میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے انتقال کی المناک خبرسے شروع کرنا چاہتا ہوں۔وہ کشمیر کے ایک پرانے لیڈر تھے اور جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ تھے۔ جب دہلی میں وی پی سنگھ وزیر اعظم بنے، تب انھوں نے مفتی محمد سعید کو ملک کا وزیر داخلہ مقررکیا۔ ان کے لےے اور ساتھ ہی کشمیر کے لےے یہ ایک بہت ہی اہم بات تھی، اہم حصولیابی تھی۔ ایک کشمیری کو پورے ملک کا وزیر داخلہ مقرر کیا جانا فخر کی بات تھی او ریہ کشمیری لوگوں کے لےے بہت اہم

Read more

دو ہزار سولہ وزیر اعظم کے لئے چیلنج بھرا ہے

2016 کئی معنی میں اہم ہے۔سیاسی، سماجی اور ثقافتی طور پر بھی ۔نئی سرکار آنے کے بعد سے کئی نئے تنازع بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔آج کل ایک عجیب طرح کا سیاسی ماحول بنتا جارہا ہے۔ کئی طرح کے تنازع سیاسی پارٹیوں میں دکھائی دے رہے ہیں، جن میں سے زیادہ تر بے وجہ ہیں۔ان تنازعات سے نہ تو ملک کا بھلا ہونے والا ہے اور نہ ملک کے کثیر مذہبی و کثیر ثقافتی سماج کا۔ ایسے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے نیا سال ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہیں آگے آکر مداخلت کرنی ہوگی، ایک حتمی گائڈ لائن دینی ہوگی، جس سے ایک تخلیقی سماج اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر ہوسکے۔

Read more

جمہوریت کے لئے یہ اچھی علامت نہیں ہے۔

سیاست کو قریب سے دیکھنے ،جاننے والے لوگوں نے جو خدشہ ظاہر کیا تھا ، اسی کے مطابق پارلیمنٹ بغیر کوئی خاص کام کئے غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہوگئی۔پارلیمنٹ کا وقت بغیر کوئی با مقصد کام کئے برباد ہوا۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ لوگوں کا پارلیمانی جمہوریت پر سے یقین کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ میرے خیال میں آج بھی اس ملک کے آئین اور موجودہ نظام میں سب کی حصہ داری ہے۔ کانگریس کو موجودہ صورت حال اور واقعہ پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ آر ایس ایس اور اس کی معاون تنظیموں (فرنٹ آرگنائزیشن ) کا اس نظام پر کبھی زیادہ یقین رہا ہی نہیں۔ ظاہر ہے ،وہ اسی آئین کے راستے اقتدار میں آئے ہیں، اس لئے انہیں یہ آئین مانناہے۔لیکن اقتدار میں آنے کی وجہ سے آئین کو ماننا اور سچ مچ آئین پر یقین رکھنا، دو الگ الگ باتیں ہیں۔ اگر ان کی باتوں یا کاموں سے کنفیوژن کی صورت بنتی ہے تو یہ ان کے ہی ہدف کو پورا کرتی ہے۔ آر ایس ایس کی معاون تنظیمیں اور ممبران پارلیمنٹ جس طرح کی زبان کا استعمال کرتے ہیں، وہ آخر کیا ہے؟یہ لوگ غیر متعلقہ ایشوز جیسے بیف اور منطقی لوگوں کے قتل وغیرہ کے ذریعہ ہر ممکن ایسی کوشش کرتے ہیں جس سے ملک کا ماحول خراب ہو۔

Read more

بی جے پی اپوزیشن کی طرح سلوک کر رہی ہے

پچھلے دنوں ہر طرف دہلی انتخاب کا چرچا تھا۔ ایک مرکز کے زیر انتظام ریاست کے اسمبلی انتخاب کے لیے اتنا ہنگامہ سمجھ سے باہر ہے۔ اس میں دو باتیں ہیں، پہلی یہ کہ ایک مرکز کے زیر انتظام ریاست کے انتخاب کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ چاہے وہ ریاست دہلی ہی کیوں نہ ہو۔ اور دوسری یہ کہ ’پرچار‘ کی سطح، زبان کے استعمال اور جو الزام لگائے گئے، اس سے ہندوستانی جمہوریت کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ سب سے بد تر بات یہ کہ نہ جانے کس کی صلاح پر خود وزیر اعظم نے ایسی زبان کا استعمال کیا جیسی زبان کااستعمال ان جیسے قد آور لیڈر کو کون کہے، کسی عام پارٹی کے لیڈر کے ذریعے نہیں کیا جاناچاہیے تھا۔ نریندر مودی نے اپنے

Read more

بی جے پی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے

بی جے پی نے دہلی میں وہ کام کیا ہے، جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وہ دہلی میں ایک ایسے چہرے کو سامنے لائی ہے، جن کا کسی بھی سیاسی پارٹی میں کوئی تجربہ نہیں رہا ہے، لیکن آج وہ بی جے پی کا چہرہ ہیں۔ یہ سچ ہے کہ کرن بیدی کے خلاف بدعنوانی کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے، لیکن ان کا ایک بہترین پولس افسر والا ریکارڈ بھی نہیں رہا ہے۔ لیکن آر ایس ایس کے کچھ لوگوں سے میری بات کے بعد میں ان کی حکمت عملی میں شامل دروں بینی کو بتا سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں ان کے پاس ایک معروف چہرہ تک نہیں ہے، ایسے میں جب تک ان کے پاس کوئی جانا پہچانا چہرہ نہ ہو، تب تک وہ کوئی طاقت نہیں بن سکتے۔ وہ بنگال میں ایک اچھے ریکارڈ والے لیڈر کی تلاش میں ہیں، جو ان کی پارٹی کی قیادت کر سکے۔ وہ اپنی تنظیم اور کارکنوں کو لے کر پر اعتماد ہیں کہ وہ ان کی مدد کریں گے، لیکن پھر بھی انہیں ایک چہرے کی ضرورت ہے۔

Read more