مودی کو معلوم بھی ہے کہ وہ کیا بول رہے ہیں؟

انتخابات ختم ہونے والے ہیں۔ 16 مئی کو نتائج کا اعلان ہو جائے گا۔ نتائج ہمیشہ غیر یقینی ہوتے ہیں اور کون جیت حاصل کرتا ہے، کون اقتدار میں آتا ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، کیوں کہ یہ ووٹروں کا فیصلہ ہوتا ہے اور سبھی کو اس فیصلہ کا احترام کرنا چاہیے۔ لیکن، ان سب کے درمیان سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ جو لوگ اقتدار میں آنے کی خواہش رکھتے ہیں، خود ان کا برتاؤ، طور طریقہ اور زبان اس حد تک خراب ہو چکی ہے، جس کی کسی نے امید بھی نہیں کی تھی۔ یہ دوسروں کو حوصلہ بخشنے والے لوگ نہیں ہیں۔ آئیے، سب سے پہلے نریندر مودی کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک الگ شخصیت بنا لی ہے۔ وہ بی جے پی کے لیے ووٹ نہیں مانگ رہے ہیں اور نہ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کی قدروں کی بات کر رہے ہیں، بلکہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے ووٹ دیجیے، میں آپ کو گورننس دوں گا۔ ٹھیک ہے، مان لیا۔ لیکن، اس کے بعد آپ کیا کریں گے؟ اس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ’’میں آپ کو کانگریس سے آزاد ہندوستان دوں گا‘‘۔ انہیں معلوم ہے کہ وہ کیا بول رہے ہیں؟ ’کانگریس سے آزاد ہندوستان‘ کیا چیز ہے؟ کانگریس ایک پارٹی کا نام ہے اور ملک میں پارٹی تو ہونی ہی چاہیے۔ تو کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب وہ اقتدار میں آئیں گے، تو سارے کانگریسیوں کو مار دیں گے؟ آخر وہ کیا کرنے والے ہیں؟ اس کی جگہ پر وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ میں کانگریس کو اقتدار سے باہر کر دوں گا، اور الیکشن کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے۔

Read more

الیکشن کاوقار گرتا جا رہا ہے

میڈیا یک رخی تصویر پیش کر رہا ہے۔ وہ اپنے سروے میں بتا رہا ہے کہ بی جے پی؍ این ڈی اے کو دن بہ دن بڑھت حاصل ہو رہی ہے۔ ابھی میڈیا یہ پیشن گوئی کر رہا ہے کہ این ڈی اے کو 275 سیٹیں مل جائیں گی۔ بی جے پی صدر راجناتھ سنگھ نے بی جے پی کو خود 272 سیٹیں ملنے کی بات کہی ہے۔ ان پیشن گوئیوں پر کتنا بھروسہ کیا جائے، یہ ایک الگ معاملہ ہے۔ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی کا میڈیا مینجمنٹ زبردست ہے اور پیسہ بھی اپنا کام خوب کر رہا ہے، جس سے ان کا حوصلہ بڑھا ہے۔ جیت کا دعویٰ ٹھیک ہے۔ الیکشن لڑنے والی سبھی پارٹیاں محسوس کرتی ہیں کہ وہ جیت رہی ہیں ، جیت کا دعویٰ کرتی ہیں، کرنا بھی چاہیے۔ عام آدمی پارٹی بھی سو سیٹوں کی بات کر رہی ہے۔ اس کے لیے کوئی زیادہ اعتراض نہیں ہے، قابل اعتراض بات کچھ اور ہے۔ ٹی وی پر کچھ نجی انٹرویو میں نریندر مودی کا بیان آیا ہے کہ وہ 2002 کے فسادات کے لیے معافی نہیں مانگیں گے۔ بہت سنجیدگی سے وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ قصوروار ہیں، تو ہندوستانی جمہوریت اور ہندوستان کے مستقبل کے لیے انہیں چوراہے پر عوام کے سامنے پھانسی پر لٹکا دیا جانا چاہیے۔

Read more

سیاسی منظرنامہ صاف نہیں ہے

سیاسی پارٹیوں کے اندر اچانک بڑھی سرگرمیوں نے انتخابی منظرنامے میں کئی نئے موڑ لا دیے ہیں۔ میڈیا ہمیں یہ یقین دلانا چاہتا ہے کہ سب لوگ بی جے پی کی طرف بھاگنا چاہتے ہیں۔ یہ ان ریاستوں کے لیے کچھ حد تک صحیح ہو سکتا ہے، جہاں بی جے پی کی اچھی موجودگی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ وزیر اعظم عہدہ کے امیدوار لوگوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ اگر وہ سرکار بناتے ہیں، تو ملک جن مسائل کا سامنا کر رہا ہے، اس سے آزادی دلا دیں گے۔ صحیح بات ہے کہ مودی ایک فیصلہ کن شخص کے روپ میں سامنے آئے ہیں۔ حالانکہ، یہ کہانی کا ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ملک کے دیگر حصوں میں بی جے پی کی موجودگی نہیں ہے۔ یہ ملک کا

Read more

عوام کو جلد بازی میں نہیں، سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہئے

الیکشن کی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا ہے اور ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ نافذ ہو گیا ہے۔ الیکشن نو مرحلوں میں7اپریل سے 12مئی تک کے درمیان ہونے ہیں۔ زیادہ ووٹروں والے اور ایسے علاقے، جہاں نظم و نسق کا مسئلہ پیش آسکتا ہے ، اس کو دھیان میں رکھا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے مؤثر طریقے سے الیکشن کرانے کے حساب سے ہی تاریخوں کا اعلان کیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ بہتر ٹائم ٹیبل الیکشن کمیشن نے تیار کیا ہے۔ نیم فوجی دستے کے موڈ کو بھی دھیان میں رکھا گیا ہوگا۔ اب سوال آتا ہے میدان میں اتری اہم پارٹیوں کا کہ وہ کیا کرنے کے لیے کھڑی ہیں؟ دو سب سے بڑی پارٹی ہیں ، کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی ۔ کانگریس کی حالت خراب ہے، اس وقت اس کا گراف دو اسباب کے تحت نیچے ہے۔ پہلا، کانگریس دس سال سے اقتدار میں ہے۔ دوسرا، کیونکہ اس کے خلاف اقتدار مخالف لہر ہے۔

Read more

پارلیمنٹ کو چاہئے کہ وہ اب پہل کرے

کول گیٹ گھوٹالہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔اس ضمن میں ایک نئی ایف آئی آر درج ہوئی ہے، جس میں ملک کے ایک بڑے صنعتی گھرانے اور اس کے چیئرمین کمار منگلم بڑلا کا بھی نام شامل ہے۔سابق کوئلہ سکریٹری پی سی پاریکھ ، جن کی شبیہ ایک ایماندار افسر کی ہے ، کا نام بھی اس ایف آئی آر میں شامل ہے۔پی سی پاریکھ نے مدلل طریقہ سے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ اس وقت وزارت کوئلہ کی ذمہ داری خود وزیر اعظم کے پاس تھی ، اس لئے ان کا نام بھی اس میں شامل کرنا چاہئے۔ اسے بدقسمتی ہی کہیں گے کہ

Read more

یہ صورتحال ملک کے لئے تکلیف دہ ہے

بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ میں نریندر مودی کی حمایت اور ان کی مخالفت کرنے والی کچھ طاقتیں ہیں، جن پر پارٹی کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ ایک دور تھا، جب بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی سابقہ تنظیم جن سنگھ اپنی ڈسپلن کے لیے جانی جاتی تھی اور پورے کیڈر کو اس بات کے لیے جانا جاتا تھا کہ سبھی بغیر کسی تکرار کے پارٹی لائن پر ہی چلتے ہیں۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ بھی ایک معزز تنظیم تھی، جہاں ایک ہی آواز سے سارے مسائل حل ہوجایا کرتے تھے۔ اب اِن دونوں کے اندر ہی یہ ڈسپلن گم سی ہو گئی ہے۔ اب بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر بھی باہمی رسہ کشی کا عالم ہے، جو اس کی شبیہ کو اور خراب کرے گی۔ آر ایس ایس نے بھی جو رول ادا کیا، اس کی بھی امید نہیں تھی۔ موجودہ وقت میں

Read more

اقتصادی بحران سے کیسے نمٹا جائے؟

ملک ایک اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے، جس کے کئی اسباب ہیں۔تاہم، حکومت آہستہ روی سے اس کا جواب دے رہی ہے، یعنی کافی دیری سے بہت کم قدم اٹھا رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے سونے پر اِمپورٹ ڈیوٹی بڑھا دی ہے اور ملک سے باہر پیسے بھیجنے پر کچھ پابندی لگائی ہے۔ لیکن اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ درآمدات کو سختی سے کم کیا جائے۔ سونے کی درآمدات پر کچھ دنوں کے لیے پوری طرح پابندی لگا دینی چاہیے اور 31 مارچ، 2014 تک تو یہ پابندی ہونی ہی چاہیے۔ اسی طرح غیر ضروری الیکٹرانک اشیاء جیسے موبائل فون کی وجہ سے فارین

Read more

یومِ آزادی پر چند چبھتے سوالات

ایک بار پھر یومِ آزادی منایا گیا۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی یومِ آزادی کے موقع پر مختلف اخبارات و رسائل نے آزادی سے متعلق مضامین شائع کیے اور اس بات کو بحث کا موضوع بنایا کہ کیا ہندوستان کی تقسیم ہونی چاہیے تھی، یا یہ کہ اگر ہندوستان کی تقسیم نہیں ہوتی، تو کیا ہوتا۔
جب کہ ہندوستان کی تقسیم کے وقت انگریزوں سے اس وقت جو مذاکرات کیے گئے تھے، وہ بہت ہی دلچسپ ہیں، لیکن آج اس پر بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیا تقسیم ہونا چاہیے تھی۔ اب تقسیم تاریخ کا ایک جز اور ایک حقیقت بن چکی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کو اچھے پڑوسیوں کی طرح ایک ساتھ رہنا ہے اور یہاں کے عوام کو یہ مشورہ دینا ہے کہ ان کے درمیان تعلقات کو کیسے بہتر بنایا جائے۔

Read more

وقار کے ساتھ رہنا ضروری

بہار کا مڈ ڈے میل ہو یا نریندر مودی کا امریکہ ویزا سے جڑا ایشو، دونوں ہی باتیں تشویش کا باعث ہیں،لیکن اس کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ ہم اپنے رویے کو کنفیوز کریں۔ہمیں پارلیمانی روایت کے دائرے میں رہنا ہوگا، ساتھ ہی انفرادی و اجتماعی زندگی میں اپنے کردار کو بہتر بنائے رکھنا ہوگا۔کیونکہ ہمارا ملک انہیں روایتوں کے لئے جانا جاتا ہے۔ ہمیں اسے کھونا نہیں چاہئے۔

Read more
Page 13 of 14« First...1011121314