ہندوستانی میڈیا کا بحران

دنیا کے دیگر شہروں کی طرح ہندوستان میںبھی صحافت سال در سال تبدیل ہوئی ہے۔ اگر ہم 1947 میںملک کو ملی آزادی کے بعد گزشتہ 70 سالوںکی بات کریں، تو صحافت کے شعبے میں بڑی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔1995 کے وسط میں سیٹیلائٹ ٹی وی ہمارے ملک میںآیا۔ اس کے بعد سے 24 گھنٹے چلائے جانے والے نیوز چینلوں نے اپنا ایک برانڈ بنایا ہے، جس میں ایک ہی خبر بار بار دکھائی جاتی ہے۔ یہی نہیں، ہنسی تو اس بات پر آتی ہے کہ الگ الگ نیوز چینل الگ الگ خبریں دوہراتے رہتے ہیں۔ ٹی وی چینلوں کے آجانے سے اخبارات پر ان کا اثر پڑا ہے۔اخبارات بہت زیادہ خبریں نہیں دے پاتے ہیں، کیونکہ ایک دن پہلے ہی ہم ٹیلی ویژن پر خبر دیکھ لیتے ہیں، لیکن اخبارات کی اہمیت اس بات کے لیے ہے کہ ہم ان میںنہ صرف روزمرہ کی خبریں پاتے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ کسی مدعے پر مختلف لوگوں کے خیالات بھی ہمیں پڑھنے کو ملتے ہیں۔ اخبارات میں جو روز کی خبریںدی جاتی ہیں، انھیںغلط طریقے سے پیش نہیںکیا جا سکتا، کیونکہ وہ خبر لوگ ٹی وی پر پہلے ہی دیکھ لیتے ہیں۔

Read more

فسطائیوں کی پناہ گاہ ہے نیشنلزم

کشمیر کے حالات آج ایسے ہوگئے ہیں جوکہ 1980 کے اواخر کے بعد کبھی نہیں دیکھے گئے تھے۔ حالانکہ طالب علموں نے 2010میں بھی سنگ باری کی تھی، لیکن اس کے بعد چیزیں قابو میں آگئی تھیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر متاثرہ لوگوںسے وقت رہتے بات چیت نہیں کی گئی تو مسئلہ اور بڑھ جائے گا اور اگر وہاں کی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں چلی گئی، جن کے ساتھ ہم خود کو نہیں جو ڑ پائے، تو پھر بات چیت کا موقع بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔ یہاں میں ایک دلیل دینا چاہوں گا۔ آپ گیلانی کو کنارے لگانا چاہتے ہیں۔ لیکن کیوں! گیلانی ایک نظریہ کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ علیحدگی پسند ہو سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم ان کے نظریہ سے اتفاق نہ رکھتے ہوں، لیکن پھر بھی وہ ایک نظرئے کی نمائندگی تو کرتے ہیں۔ ایسے میں انہیں بات چیت سے الگ رکھنے

Read more

آزادی کے 70سال بعد ہم کہاں کھڑے ہیں

کمل مرارکا
ایک بار پھر ملک نے یوم آزادی منایا۔حقیقت میں آزادی کے معنی کیا ہیں؟یہ ہم سبھی کو ،پھر چاہے وہ لیڈر ہوں،دوسرے لوگ ہوں، صنعتی گھرانوں کے سربراہ ہوںیا سول سوسائٹی کے لوگ، سبھی کو ایک بار پھر سے اس سوال پر غور کرنا چاہئے۔ کیا ہم اسی راستے پر چل رہے ہیں جیسا کہ آئین میں خاکہ پیش کئے گئے ہیں یا 1952 سے لے کر آج تک آئین کے سبھی حصے کو دھیرے دھیرے بگاڑ رہے ہیں۔ کاغذوں پر تو ہم آئین کے مطابق چل رہے ہیں، لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔مثال کے لئے آئین میں اس بات کا ذکر ہے کہ سرکار کا انتخاب کیسے ہوتا ہے اور اس کی ذمہ داری کیا ہے۔سرکار کا کردار کیا ہو، یہ بھی صاف ہے کہ منتخب کی ہوئی سرکار پالیسیاں بنائے ،وہ چاہے سیاسی ہو، اقتصادی ہو یا سماجی ،لیکن ان کا نفاذانتظامیہ کے آفیسر کے ذریعہ سے ہونا چاہئے، ان میں انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروسز اور دوسری سروسز کے آفیسر شامل ہیں ،جو ایک سخت سرگرمی کے بعد منتخب ہوتے ہیں۔ان سروسز کے لئے مسابقتی امتحان کے ذریعہ تجربہ کار لوگوں کے انتخاب ہوتے ہیں۔اس لئے ان پالسیوں کے نفاذ کے لئے یہ آفیسر سب سے بہتر ثابت ہو سکتے ہیں،لیکن کیا ان کا صحیح استعمال ہو رہا ہے؟

Read more

سرکاری پالیسی پر رائے زنی آر بی آئی گورنر کا کام نہیں ہے

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس ختم ہو گیا۔مودی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد سے گزشتہ سبھی سیشنوں کے مقابلے پارلیمنٹ کا یہ سیشن بہتر تھا۔ نہ صرف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کا ہنگامہ برائے نام ہوا، بلکہ قانون سازی کے بہت سارے کام بھی ہوئے۔ بیشک جی ایس ٹی بل سب سے اہم بل تھا، لیکن دوسرے بل بھی بغیر کسی ہنگامہ کے پاس ہوئے۔ یہ جمہوریت کے لئے خوش آئند ہے۔ نفاذ کے لحاظ سے جی ایس ٹی ایک مشکل بل ہے، کیونکہ اس کی کامیابی الگ الگ ریاستوں اور الگ الگ فارمولیشن اور ٹیکس ریٹ کے اوپر منحصر ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ریاستی سرکاریں اسے مناسب طریقے سے نافذ کریںگی اور مرکزی سرکار کے ساتھ تعاون کریں گی۔

Read more

آرٹیکل 370 کو اور مضبوط بنایا جانا چاہئے

کار ،جی ایس ٹی بل پاس ہو گیا۔ گزشتہ دو سالوں میں بی جے پی نے اسے ایک بہت بڑا مدعا بنا رکھا تھا، جیسے ملک کی ترقی جی ایس ٹی پر ہی منحصر تھی۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ ملک کی ترقی جی ایس ٹی پر منحصر نہیں تھی۔ جی ایس ٹی ٹیکس ادائیگی (ٹیکسیشن) کی ایک شکل ہے، جسے یورپ کے کئی ملکوں نے کافی پہلے سے اپنایا ہے۔ امریکہ نے جی ایس ٹی کو نہیں اپنایا ہے۔ ہندوستان میں یہ ہونا چاہئے یا نہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ ہندوستان میں اسے لاگو کرنے کا عمل کافی پہلے سے چل رہا تھا۔یو پی اے سرکار کے دوران گجرات تنہا ایسی ریاست تھا، جس نے جی ایس ٹی کی مخالفت کی تھی۔ حیرت انگیز طریقے سے، اسی گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی آج وزیر اعظم ہیں اور وہ اسے لاگو کرنے کے لئے سب سے زیادہ مستعد دکھائی دے رہے تھے۔

Read more

دلتوں کے ساتھ یہ سلوک افسوس ناک ہے

گجرات کے اونا کی افسوس ناک واردات نے بیدار عوام اور پارلیمنٹ کی سوچ کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ آزادی کے اتنے سالوں کے بعد بھی اس ملک میں دلتوں کے ساتھ اونچی ذاتوں کے ذریعہ اچھا سلوک نہیں ہو رہا ہے۔ یہ ایک سماجی مدعا ہے۔ جہان تک سرکار کا سوال ہے، تو امن و قانون بنائے رکھنا چاہیے اور قانون کے کسی بھی خلاف ورزی کی حالات میں

Read more

مودی جی!لوگوں کے اعتماد کے ساتھ حکومت کیجئے نیت صحیح، پالیسی بدلیں

کمل مرارکا
وزیر اعظم نے حال ہی میںکہا ہے کہ میڈیا کاایک خاص طبقہ انھیںاقتدار میںنہیںآنے دینا چاہتا تھایا کہہ سکتے ہیںکہ میڈیا کو یہ امید نہیںتھی کہ وہ اقتدار میں آسکتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی چنوتی یہی ہے کہ وہ میڈیا کے اُس طبقے کا ابھی تک دل نہیںجیت سکے ہیں۔ وزیر اعظم کے ذریعہ دیا گیایہ ایک بہت اہم بیان ہے۔ میںانھیںایک تجویزدینا چاہتا ہوں۔ حالانکہ، میںان کے گروپ سے نہیں جڑا ہوں، ا س لیے امیدہے کہ میری تجویز کو صحیح معنی میں نہیںلیا جائے گا۔

Read more

آگے بڑھنے کے لیے پالیسیوں میں تبدیلی کی ضرورت

یہ اصل میںکوئی خبر نہیں ہے اورایسا کچھ خاص نہیں کیا گیا ہے، جس پر تبصرہ کیا جاسکے۔ یہ آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ یوپی اور پنجاب کا الیکشن آرہا ہے اور کسی کو بھی کافی سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا، تاکہ اپنی پارٹی کے لیے بہتر ماحول بنایا جاسکے۔ یہ ایک عام تجزیہ بھی بتا دے گا کہ وزراء کے انتخاب اور پورٹ فولیو بانٹنے میںپارٹی صدر امت شاہ کا اہم کردار رہا۔ اترپردیش کے حساب سے دیکھیں، تو انوپریا پٹیل ایسی لیڈر ہیں، جنھیں اترپردیش میں کُرمی ووٹ کے لیے لیا گیا ہے۔ پٹیل وہاں ایس پی کے بینی پرساد ورما اور نتیش کمارکو کاؤنٹر کرسکتی ہیں۔ اب وہ کتنی کامیاب اورمؤثر ہوتی ہیں، یہ ایک الگ موضوع ہے۔ دیگر لیڈر کوئی ہیوی ویٹ (بھاری بھرکم) لیڈر نہیںہیں، جو حقیقت میںالیکشن کو متاثر کرسکیں۔

Read more

نہرو نہیں ہوتے تو کشمیر پاکستا ن کا حصہ ہوتا

شیاما پرساد مکھرجی کی یا دمیں نہرو میموریل میوزیم میں ایک تقریب کا انعقاد ہوا۔ موضوع کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اچھا ہوتا کہ وزیراعظم یا وزیر داخلہ اس موقع پر اپنا لکچر دیتے۔ اگر ان کے پاس وقت کی کمی تھی اور اس کام کے لیے پارٹی کو کسی اور شخص کا انتخاب کرنا تھا، تو وہ شخص اڈوانی جی یا مرلی منوہر جوشی کے قد کا ہونا چاہیے تھا۔ یہ لوگ شیاما پرساد مکھرجی سے سنیئر نہیں، تو کم سے کم ان کے ہم رتبہ ضرور ہیں۔شیاما پرساد مکھرجی نہرو کی کابینہ کے ایک قابل وزیرتھے۔ ان کے ذمہ وزارت صنعت کی ذمہ داری تھی۔ پبلک سیکٹر کے حق میں لیے جانے والے ابتدائی فیصلے شیاما پرساد مکھرجی نے ہی لیے تھے۔ لوگ تاریخ اور اس سے جڑے واقعات کو بھول جاتے ہیں، اس لیے آج ان کے لیے آسان ہوجاتا ہے کہ نہرو کو قصوروار ٹھہرایا جائے اور شیاما پرساد مکھرجی کی خوب تعریف کی جائے۔ یہ سب بے تکی باتیں ہیں۔

Read more

کام کم شور وغل زیادہ ہورہا ہےa

آج کل سیاسی سرگرمیاں اتنی تیز نہیں ہیںجتنی تیزالگ الگ مدعوں (جن میں کچھ متعلق ہیں اور کچھ غیرمتعلق) پرشور و غل ہو رہا ہے۔ وزیر خزانہ کہہ رہے ہیں کہ جی ایس ٹی بل کو پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں پاس کرالیا جائے گا، جو اچھی بات ہے۔ لیکن اس میں دو پریشانیاں ہیں۔ پہلی، پیٹرول اور شراب کو جی ایس ٹی کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔ میرے خیال سے ایک خراب جی ایس ٹی کسی جی ایس ٹی کے نہ ہونے سے بدتر ہے۔ بہرحال، جی ایس ٹی کسی نہ کسی شکل میں پوری دنیا میں نافذ ہے۔ اس سلسلے میںحکومت جو بھی فیصلہ لے ،معیشت آگے کی طرف ہی جائے گی۔ لیکن اس ضمن میں ایک تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ جی ایس ٹی بل کے پاس نہیں ہونے کی صورت میں معیشت تعطل کا شکار ہو جائے گی، اور اگر اسے پاس کرالیا گیا تو کانگریس کی فضیحت ہو گی اور معیشت میں اچھال آجائے گا۔ یہ بالکل بے تکی باتیں ہیں۔جی ایس ٹی ایک طرح کا ٹیکس اصلاح ہے۔ کاروباری دینا ہمیشہ یہ چاہتی ہے کہ ٹیکس کے نظام کو آسان بنایا جائے۔ لیکن، جس طرح سے اسے نافذ کیا جا رہا ہے اس سے تو کاروباری دینا کا یقین بحال نہیں ہوگا۔

Read more