نئی حکومت کو واضح پالیسی کے ساتھ سامنے آنا چاہئے

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں صدرجمہوریہ کا خطبہ اور دونوں ایوانوں میں شکریہ کی تحریک پر وزیر اعظم کیتقریر ٹھیک رہی۔ایسا کچھ نہیں کہا گیا جس سے عوام کے کسی بھی حلقے میں کسی طرح کی مخالفت کی آواز اٹھے۔ درحقیقت کانگریس کہہ رہی ہے کہ حکومت کی زیادہ تر تجاویز یا پالیسی کا بیشتر حصہ کانگریس سے نقل کیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو کانگریس پارٹی اس پالیسی کی مخالفت نہیں کرسکتی ہے کیونکہ یہ ایک عجب دلیل ہے۔ اگر وہ کانگریس کی پالیسیوں کو اختیار کر رہے ہیں تو کانگریس کو کیوں اعتراض ہوسکتا ہے؟لیکن اس بحث کو چھوڑیں ۔اصل بات تو یہ ہے کہ تقریر کرنا ایک بات ہے لیکن اس وقت ہم دو چیزوں کو دیکھ رہے ہیں۔ ایک، ہم نے ایسا کچھ بھی نہیں سنا کہ یہ حکومت گزشتہ حکومتوں سے کچھ الگ کرنے والی ہے۔ ایسی ایک بھی تجویز نہیں سنی۔ صرف ایک چیز ہم نے سنی کہ کابینی وزیر اور وزیر اعظم کا دفتر اپنا کام کرے گا، ٹھیک ہے۔یہ ان کے کام کاج کا انداز ہے مگر پالیسیاں کیا ہونے جارہی ہیں؟آخر کار، ایک منڈیٹ ملا ہے

Read more

حکومت اور اپوزیشن : ایک نئی شروعات کی ضرورت

چھبیس مئی کو نریندر مودی نے وزیر اعظم کے طور پر 45 وزراء کی شروعاتی کابینہ کے ساتھ حلف لیا۔ راشٹرپتی بھون کی پریس ریلیز سے وزراء کی وزارتوں کی جانکاری دی گئی۔ اس سے پہلے ہی تبصرہ کیا جانے لگا کہ کابینہ کی ٹیم لائق ہے یا نہیں؟ مجھے لگتا ہے کہ یہ نامناسب ہے۔ عوام نے بی جے پی کو اقتدار سونپا ہے اور ان انتخابات میں لوگوں نے نہ صرف بی جے پی کو، بلکہ نریندر مودی کو ذاتی طور پر ووٹ دیا ہے۔ ہم میں سے کچھ لوگ اسے پسند کریں یا نہیں، لیکن یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ نریندر مودی کام کریں گے اور اسی بنیاد پر انہیں دیکھا جانا چاہیے۔ جہاں تک کابینہ کا سوال ہے، تو انہوں نے ایک نئی روایت قائم کی ہے۔ اس کے ذریعے انہوں نے سینئر کیبنٹ ساتھیوں کا انتخاب کیا ہے، لیکن انہیں محدود ذمہ داری دی گئی ہے۔ ایسا ان کی سینئرٹی اور عمر وغیرہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

Read more

ہم سرمایہ دارانہ دور میں آ گئے ہیں

عالمی جنگ سے پہلے امریکہ کی اقتصادی پالیسی کیسی تھی، اسے جاننا بے حد دلچسپ ہوگا۔ عالمی جنگ سے پہلے امریکہ کی آمدنی اور دولت وہاں کے چند مٹھی بھر لوگوں کے ہاتھوں میں سمٹی ہوئی تھی۔ دوسری طرف اکثریتی طبقہ اس سے محروم تھا۔ عالمی جنگ کے خاتمہ کے بعد امریکی شہریوں کے من میں یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ سب غلط ہے۔ ایسے لوگ، جو اپنی زندگی جینے کے لیے کڑی محنت کرتے ہیں، انہیں اپنی آمدنی کے ذریعے لطف اندوز ہونے کا موقع ملنا چاہیے۔ وہ اس لائق بن سکیں، تاکہ وہ ایک اچھی زندگی بسر کر سکیں۔ اسی حساب سے لوگوں پر ٹیکس لگنے چاہئیں، تاکہ یہ ٹیکس ان پر بوجھ نہ بن سکیں۔ اس وقت ایک نظریہ سامنے آیا کہ جو لوگ امیر ہیں، ان پر زیادہ اور جو لوگ غریب ہیں، ان پر اوسط ٹیکس لگایا جائے۔

Read more

سرکار کی پالیسیاں کیا ہوں گی؟

لوک سبھا کے انتخابات ختم ہو چکے ہیں اور عوام کا فیصلہ آ چکا ہے۔ عوام کا یہ فیصلہ ہم جیسے کئی لوگوں کے لیے حیران کن، تو بی جے پی اور اس کے ساتھیوں کے لیے اطمینان بخش ہے۔ عوام کے اس فیصلہ کا ایک مطلب ہے کہ اگلے پانچ سالوں تک ملک میں ایک مستحکم سرکار ہوگی، کیوں کہ بی جے پی نے اپنے دَم پر واضح اکثریت حاصل کی ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر اس سرکار کی پالیسیاں کیا ہوں گی اور کیا وہ ان پالیسیوں کو نافذ کر پانے کے قابل ہوگی؟ مینی فیسٹو کی اپنی پالیسیاں ہیں۔ اس میں اطمینان بخش بات یہ ہے کہ انتخابی منشور میں رام مندر اور آرٹیکل 370 جیسے مدعوں کو اندرونی صفحات پر رکھا گیا ہے اور بنیادی مدعے ڈیولپمنٹ اور روزگار پر مرکوز ہیں۔ اب مان لیتے ہیں کہ یہ سرکار اپنے وعدوں کے تئیں ایماندار رہے گی، لیکن وہ اسے کیسے پورا کریں گے؟ سرمایہ کاری کا ایشو بے حد آسان ہے، کیوں کہ غیر ملکی سرمایہ کاری آ سکتی ہے۔

Read more

اب ایک نئے ہندوستان کی بات ہونی چاہئے

عام انتخابات کے نتائج آچکے ہیں۔ تقریباً پورا ملک ایک طرف چلا گیا ہے۔ خاص طور پر شمالی ہندوستان، ٹھیک 1971 اور 1977 کی طرح۔ 1984 کے بعد پہلی مرتبہ کسی پارٹی نے اکیلے اکثریت کی سرکار بنائی۔ لیکن 1984 میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہمدردی کی لہر تھی، جس کی وجہ سے کانگریس جیت گئی۔ دوسری طرف 1971 میں اندرا گاندھی کے ’’غریبی ہٹائو‘‘ نعرے کی وجہ سے کانگریس کو پوری اکثریت ملی تھی اور پھر 1977 میں ایمرجنسی کے خلاف عوام کا غصہ ووٹ بن کر سامنے آیا تھا۔ 2014 کے انتخاب میں لوگوں کا غصہ گھوٹالے کے خلاف ووٹ کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ وہ گھوٹالے جو سی اے جی رپورٹوں سے باہر

Read more

مودی کو معلوم بھی ہے کہ وہ کیا بول رہے ہیں؟

انتخابات ختم ہونے والے ہیں۔ 16 مئی کو نتائج کا اعلان ہو جائے گا۔ نتائج ہمیشہ غیر یقینی ہوتے ہیں اور کون جیت حاصل کرتا ہے، کون اقتدار میں آتا ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، کیوں کہ یہ ووٹروں کا فیصلہ ہوتا ہے اور سبھی کو اس فیصلہ کا احترام کرنا چاہیے۔ لیکن، ان سب کے درمیان سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ جو لوگ اقتدار میں آنے کی خواہش رکھتے ہیں، خود ان کا برتاؤ، طور طریقہ اور زبان اس حد تک خراب ہو چکی ہے، جس کی کسی نے امید بھی نہیں کی تھی۔ یہ دوسروں کو حوصلہ بخشنے والے لوگ نہیں ہیں۔ آئیے، سب سے پہلے نریندر مودی کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک الگ شخصیت بنا لی ہے۔ وہ بی جے پی کے لیے ووٹ نہیں مانگ رہے ہیں اور نہ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کی قدروں کی بات کر رہے ہیں، بلکہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے ووٹ دیجیے، میں آپ کو گورننس دوں گا۔ ٹھیک ہے، مان لیا۔ لیکن، اس کے بعد آپ کیا کریں گے؟ اس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ’’میں آپ کو کانگریس سے آزاد ہندوستان دوں گا‘‘۔ انہیں معلوم ہے کہ وہ کیا بول رہے ہیں؟ ’کانگریس سے آزاد ہندوستان‘ کیا چیز ہے؟ کانگریس ایک پارٹی کا نام ہے اور ملک میں پارٹی تو ہونی ہی چاہیے۔ تو کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب وہ اقتدار میں آئیں گے، تو سارے کانگریسیوں کو مار دیں گے؟ آخر وہ کیا کرنے والے ہیں؟ اس کی جگہ پر وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ میں کانگریس کو اقتدار سے باہر کر دوں گا، اور الیکشن کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے۔

Read more

الیکشن کاوقار گرتا جا رہا ہے

میڈیا یک رخی تصویر پیش کر رہا ہے۔ وہ اپنے سروے میں بتا رہا ہے کہ بی جے پی؍ این ڈی اے کو دن بہ دن بڑھت حاصل ہو رہی ہے۔ ابھی میڈیا یہ پیشن گوئی کر رہا ہے کہ این ڈی اے کو 275 سیٹیں مل جائیں گی۔ بی جے پی صدر راجناتھ سنگھ نے بی جے پی کو خود 272 سیٹیں ملنے کی بات کہی ہے۔ ان پیشن گوئیوں پر کتنا بھروسہ کیا جائے، یہ ایک الگ معاملہ ہے۔ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی کا میڈیا مینجمنٹ زبردست ہے اور پیسہ بھی اپنا کام خوب کر رہا ہے، جس سے ان کا حوصلہ بڑھا ہے۔ جیت کا دعویٰ ٹھیک ہے۔ الیکشن لڑنے والی سبھی پارٹیاں محسوس کرتی ہیں کہ وہ جیت رہی ہیں ، جیت کا دعویٰ کرتی ہیں، کرنا بھی چاہیے۔ عام آدمی پارٹی بھی سو سیٹوں کی بات کر رہی ہے۔ اس کے لیے کوئی زیادہ اعتراض نہیں ہے، قابل اعتراض بات کچھ اور ہے۔ ٹی وی پر کچھ نجی انٹرویو میں نریندر مودی کا بیان آیا ہے کہ وہ 2002 کے فسادات کے لیے معافی نہیں مانگیں گے۔ بہت سنجیدگی سے وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ قصوروار ہیں، تو ہندوستانی جمہوریت اور ہندوستان کے مستقبل کے لیے انہیں چوراہے پر عوام کے سامنے پھانسی پر لٹکا دیا جانا چاہیے۔

Read more

سیاسی منظرنامہ صاف نہیں ہے

سیاسی پارٹیوں کے اندر اچانک بڑھی سرگرمیوں نے انتخابی منظرنامے میں کئی نئے موڑ لا دیے ہیں۔ میڈیا ہمیں یہ یقین دلانا چاہتا ہے کہ سب لوگ بی جے پی کی طرف بھاگنا چاہتے ہیں۔ یہ ان ریاستوں کے لیے کچھ حد تک صحیح ہو سکتا ہے، جہاں بی جے پی کی اچھی موجودگی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ وزیر اعظم عہدہ کے امیدوار لوگوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ اگر وہ سرکار بناتے ہیں، تو ملک جن مسائل کا سامنا کر رہا ہے، اس سے آزادی دلا دیں گے۔ صحیح بات ہے کہ مودی ایک فیصلہ کن شخص کے روپ میں سامنے آئے ہیں۔ حالانکہ، یہ کہانی کا ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ملک کے دیگر حصوں میں بی جے پی کی موجودگی نہیں ہے۔ یہ ملک کا

Read more

عوام کو جلد بازی میں نہیں، سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہئے

الیکشن کی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا ہے اور ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ نافذ ہو گیا ہے۔ الیکشن نو مرحلوں میں7اپریل سے 12مئی تک کے درمیان ہونے ہیں۔ زیادہ ووٹروں والے اور ایسے علاقے، جہاں نظم و نسق کا مسئلہ پیش آسکتا ہے ، اس کو دھیان میں رکھا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے مؤثر طریقے سے الیکشن کرانے کے حساب سے ہی تاریخوں کا اعلان کیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ بہتر ٹائم ٹیبل الیکشن کمیشن نے تیار کیا ہے۔ نیم فوجی دستے کے موڈ کو بھی دھیان میں رکھا گیا ہوگا۔ اب سوال آتا ہے میدان میں اتری اہم پارٹیوں کا کہ وہ کیا کرنے کے لیے کھڑی ہیں؟ دو سب سے بڑی پارٹی ہیں ، کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی ۔ کانگریس کی حالت خراب ہے، اس وقت اس کا گراف دو اسباب کے تحت نیچے ہے۔ پہلا، کانگریس دس سال سے اقتدار میں ہے۔ دوسرا، کیونکہ اس کے خلاف اقتدار مخالف لہر ہے۔

Read more

پارلیمنٹ کو چاہئے کہ وہ اب پہل کرے

کول گیٹ گھوٹالہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔اس ضمن میں ایک نئی ایف آئی آر درج ہوئی ہے، جس میں ملک کے ایک بڑے صنعتی گھرانے اور اس کے چیئرمین کمار منگلم بڑلا کا بھی نام شامل ہے۔سابق کوئلہ سکریٹری پی سی پاریکھ ، جن کی شبیہ ایک ایماندار افسر کی ہے ، کا نام بھی اس ایف آئی آر میں شامل ہے۔پی سی پاریکھ نے مدلل طریقہ سے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ اس وقت وزارت کوئلہ کی ذمہ داری خود وزیر اعظم کے پاس تھی ، اس لئے ان کا نام بھی اس میں شامل کرنا چاہئے۔ اسے بدقسمتی ہی کہیں گے کہ

Read more
Page 12 of 13« First...910111213