سرکار کو طے کردہ معیار کو اپنانا چاہئے

دہلی کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ اروند کجریوال اب اپنا تحمل کھوچکے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ جب سے انھوںنے70 میں سے 67 سیٹوں کی بہت زیادہ اکثریت کے ساتھ الیکشن میں جیت حاصل کی ہے، بی جے پی اسے قبول نہیںکرپائی ہے۔ ہر ممکن طریقہ سے انھیںپریشان کرنے کی لگاتار کوششیںہورہی ہیں او ران کا کام مشکل بنایاجارہا ہے۔ پولیس کمشنر، جو وزیر اعلیٰ کے مقابلے میں چھوٹے عہدے کا افسر ہے، وزیر اعلیٰ کو بحث کے لےے چیلنج دے رہا ہے۔ یہ ایک بے تکی اور غیر منطقی بات ہے۔

Read more

بی جے پی ترقی کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی

خارجہ سکریٹری ایس جے شنکر نے ایک پارلیمانی کمیٹی کو بتایا ہے کہ پہلے بھی سرجیکل اسٹرائک ہوئے ہیں،لیکن یہ پہلی بار ہوا ہے کہ جب سرکار نے عوامی طور پر اس کا خلاصہ کیا ہے۔دراصل یہی صحیح طریقہ ہے۔ پارلیمانی سوالوں کا جواب دینے میں سچائی برتی جانی چاہئے اور پارلیمانی کمیٹی کے سامنے اپنا بیان دینے میں سچائی برتی جانی چاہئے۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ یہ روایت جاری ہے اور خارجہ سکریٹری (جو کہ بھلے ہی موجودہ سرکار کو رپورٹ کررہے ہیں )جرأت کے ساتھ وہی بات کہی جو سچائی ہے۔ سیاسی پارٹیاں جو کہناچاہتی ہیں وہ کہنے کے لئے آزاد ہیں، آخر کار انہیں سیاست کرنی ہے۔یہاں تک کہ برسراقتدار پارٹی بھی اپنی بات کہنے کے لئے آزاد ہے۔جیسے پہلی بار کوئی وزارت قائم کی گئی ہے وغیرہ وغیرہ ۔لیکن اس سے مجھے یقین ہوتا ہے کہ سسٹم کام کررہا ہے۔

Read more

اقتصادی نقطہ نظر سے اعدادو شمار حوصلہ افزا نہیں

حالانکہ وزیر اعظم کہتے رہتے ہیںکہ آئین ایک مقدس کتاب ہے، سبھی مذاہب ایک برابر ہیں،لیکن ان کے کام سے یہ ظاہر نہیں ہوتا ۔ کشمیر اس کی مثال ہے۔ بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ سرکار بنائی، جس کی وجہ سے پی ڈی پی نے بھی اپنا اعتماد کھو دیا۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ بی جے پی آرٹیکل 370 ختم کرنا چاہتی ہے۔ اگر کشمیریوں کے ساتھ آپ ایسا کریں گے تو باقی مسلمان کیا سوچیں گے کہ کشمیریوں کے ساتھ ان کا سمجھوتہ ہے اور الحاق کا دستاویز موجود ہے، تو یہاں ہماری سیکورٹی کا کیا۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد ان کے اندر عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہوا ہے

Read more

سرجیکل اسٹرائک پر عوامی چرچا بند ہونی چاہئے

ہندوستان کے لوگوں نے ہندوستانی فوجیوں کے ذریعہ سرجیکل اسٹرائک کئے جانے کی خبر کو خوشی خوشی لیا۔یہ ایک اچھی خبر ہے۔لیکن یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے جب فوج نے ایسا کام کیا ہو۔ یہ ایک باقاعدہ کام ہے ۔فوج کا اپنا ایک طریقہ ہوتاہے اور ہندوستانی فوج بہت زیادہ پیشہ ور، بہت زیادہ باصلاحیت اور بہت ہی زیادہ نظم وضبط والی فوج ہے۔ لیڈروں کا رویہ ہی اس معاملے کی بدقسمتی ہے۔ برسراقتدار پارٹی کے کچھ لیڈر اس طرح سے شور مچا رہے ہیں گویا کہ پہلی بار کوئی راکٹ سائنس کا کام کیا گیا ہو۔ دوسری طرف، اپوزیشن پارٹی شک و شبہ کی حالت میں ہے۔ کچھ بھروسہ کررہے ہیں،کچھ نہیں کررہے ہیں۔لیکن کل ملا کر سبھی سیاسی پارٹیاں مل کر فوج کو سیاست میں کھینچ رہی ہیں۔ برائے کرم سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ہندوستانی فوج اپنا کام جانتی ہے،

Read more

شملہ سمجھوتہ کشمیر تنازعہ کے حل کے لیے کافی ہے

ندوستانی فوج کے ذریعے پاکستان کے مقبوضہ کشمیر میں کچھ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد ملک میں جشن کا ماحول ہے۔ جب آپ یہ اعلان کریں کہ آپ نے دشمن کے طمانچہ مارا ہے تو لوگوں کا خوش ہونا فطری ہے۔ بہرحال اس بارے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ فوج اپنیمعمول کے آپریشن میںایسی کارروائی کرتی ہے، لیکن یہ اعلان کرنے اور بحث کرنے والی بات نہیںہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ حالیہ دنوں میںہمیں پٹھان کوٹ اور اڑی میں دو حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بدقسمتی سے یہ بات صحیح ہے کہ دونوں حملوں کے لیے پاکستان قصوروار تھا۔ لیکن ہماری طرف سے بھی چوک ہوئی ہے۔ اڑی میں (جو ابھی کا

Read more

آرٹیکل 370 کو سختی سے نافذ کیا جائے

کشمیر کی صورت حال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں مختلف محاذوں پر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ وہاں زمینی سطح پر جو ہورہا ہے وہ کسی طرح قابل قبول نہیں ہے۔ پہلے تو انہوں نے پٹھان کوٹ کا حادثہ انجام دیا اور اب اڑی میں حملہ کیا۔ پاکستان کی طرف سے ہمارے فوجی کیمپوں پر حملوں سے ہماری کمزور سیکورٹی تیاریوں کا پتہ چلتا ہے۔یہ کہنا مشکل ہے کہ حوصلہ پست ہے یا اصل مسئلے کو لے کر قیادت سے چوک ہورہی ہے۔ لیکن جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ منوہر پاریکر ایک بہت ہی ناتجربہ کار وزیر دفاع ثابت ہوئے ہیں۔

Read more