لندن نامہ

حیدر طبا طبائی، لندن
زمانہ سے آنکھیں موند کر بے تکی فکر کا المیہ یہ ہے کہ وہ کبھی صورتحال کا بے لاگ جائزہ نہیں لے سکتی۔کبھی کسی مسئلے کو اپنے سارے حدود اربعہ سمیت پیش نظر رکھ کے اس کے اسباب و محرکات کا معروضی تجزیہ نہیں کر سکتی۔کسی سفیر کوصف دشمناں میں شمار کر لیا جائے تو اس کی حق بات بھی ناروا دکھائی دیتی ہے اور ایسا انداز فکر مذہبی تعصب ، علاقائی تعصب یا لسانی تعصب کی بنا پر بنتا ہے،جو آج ہمارے چہارسو دکھائی دے رہاہے۔ اب اعتدال کی راہ گم ہوتی جا رہی ہے اور معاشرہ توازن کھو رہا ہے۔اختلاف رائے یا بے جا فکر کے دریچے وا ہو رہے ہیں۔ ایک برطانوی قانون ستارہ شناس لیس پولین نے ستارگان سے حساب لگایا ہے کہ سال نو برطانیہ میں آباد مسلمانوں کے لیے نئی صبح کا امین ہو

Read more

لندن نامہ

حیدرطباطبائی
دو ہزار دس رخصت ہوچکا ہے۔ اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کا آخری سورج افق مغرب میں غروب ہوچکا ہے۔ اس سلسلہ ہائے روز و شب کا نام وقت ہے۔ وقت کے اس سیل بے پناہ کو زمانہ بھی کہاجاتا ہے، جس کی صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپکتے رہتے ہیں اور انسان اپنی تسبیح روز و شب کا دانا دانا شمار کرتا رہتا ہے اور وقت مٹھی میں بند ریت کی طرح ہولے ہولے سرکتا رہتا ہے۔ بلاشبہ جو لمحہ ہماری گرفت سے نکل کر ماضی کے سمندر میں غرق ہوگیا وہ کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا۔ ہم، لمحۂ موجود ہی کی لوح پر اپنی تقدیر کا نوشتہ رقم کر رہے ہیں۔
آج لندن کا آسمان بادلوں سے ڈھکا ہے۔ آفتاب عالم تاب بہت دنوں سے نظر نہیں آیا، کبھی روئی کے گالوں کی مانند برف باری کبھی رم جھم بارش کا تار سا بندھا ہے۔ برطانوی حک

Read more

لندن نامہ

حیدر طبا طبائی
حق و باطل کی معرکہ آرائی ہمیشہ سے جاری ہے، لیکن کربلا کے میدان میں نواسۂ رسول حسین ابن علیؓ نے قربانی دے کر حق کی بقا، اسلام کی سربلندی اور بالادستی، اعلیٰ انسانی تحفظ، قدرت کے اٹل اور ابدی فیصلے کو صحیح ثابت کر کے تا قیامت اسلام کا بیمہ کردیا۔لندن میں بھی محرم بڑی تابناکی سے منایا جاتا ہے۔ لندن میں سنی حضرات کی 35مساجد ہیں، جہاں شہادت کربلا پر سیر حاصل بیان ہوتا ہے اور 28امام باڑے و مساجد ہیں، جہاں شیعہ حضرات ماتم و مجالس منعقد کرتے ہیں۔ دو جگہ ٹوٹینگ بیگ اور سلاؤں میں ذوالجناح بھی نکالا جاتا ہے۔ امام باڑوں کے اندر زنجیروں و قماعوں کا ماتم ہوتا ہے، جس کو انگریز بڑی دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔ڈیوڈ کیمرون کی حکومت کے خلاف طلبا کے مظاہروں میں سیاسی رنگ بھردیا گیا۔

Read more

لندن نامہ

حیدر طبا طبائی ، لندن، یوکے
ٹھٹھرتے ہوئے برطانیہ کی یخ بستہ صبح و شام جہاں برف کی حکمرانی ہے۔ برف سے جمی ہوئی راتوں میں بھی اگر آپ سینٹرل لندن آئیں تو شہر کی رونقیں جاگتی ملیںگی۔ ان حالات میں طلبا پارلیمنٹ کے اطراف جمع ہونے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے پچاس ہزار طالب علم ڈیوڈ کیمرون کی نوتشکیل حکومت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگانے لگے۔
سردی صفر سے دو درجے نیچے تھی۔ لڑکے اور لڑکیاں کبھی مل کر ڈانس کرتے، کبھی سڑکوں پر بیٹھ جاتے جب کہ ہاؤس میں طلبا کی فیسوں میں اضافے کے بل پر بحث جاری تھی کہ اچانک پرنس آف ویلز چارلس اپنی دوسری بیوی کمیلا پارکر کے ساتھ ایک شاہی ڈاچ کار میں نظر آگئے۔ لڑکوں نے کار کو گھیرلیا اور جب تک پولس کی مزید نفری آتی کار

Read more

لندن نامہ

حیدر طبا طبائی ،لندن( یو کے)
اساطیر میں وہی سب کچھ ہے جو وہاں کے مفکرین فنون لطیفہ میں کسی بھی فطری تقاضے کے قائل تھے۔ انھوں نے مجموں میں زن و مرد کی پیکر تراشی اس طرح سے کی ہے کہ انسان انسان کا بھائی ہے چاہے وہ دنیا کی کسی بھی سرزمین میں آباد ہو۔ پوری دنیا ایک انسانی آبادی پر مبنی گائوں ہے لیکن اس خوبصورت تصویر کو آ ج کی دنیا کی مہذب اقوام نہیں مانتی ہیں۔ یوروپی یونین اور ہندوستان میں تجارتی سمجھوتے سے برطانوی مائیگریشن نظام کو خطرے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اگر ہندوستان سے ویزا ختم کر دیا گیا تو جیسے

Read more

لندن نامہ

حیدر طبا طبائی ،لندن یو کے
دہشت گردی حکومتوں کے غلط فیصلوں سے ہونے والی عوامی کشمکش، معرکہ آرائی اور خانہ جنگی کی سب سے بدترین شاخ ہے۔
ڈیوڈ ہیڈلی جو لشکر طیبہ جیسی فاسد اور انسانیت کش جماعت کا ممبر ہے۔ جو ممبئی میں خون ناحق بہانے کا ذمہ دار ہے۔ اس کی اہلیہ نے خفیہ طور پر خاوند کی سرگرمیوں کا ویڈیو کیسٹ تیار کر رکھا تھاجو اب ایف بی آئی کے سپرد کر دیا گیاہے۔خود ہیڈلی پس دیوار زندان ہے۔ اس کی بیوی گزشتہ تین سال سے شوہر کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کی فلم بنا رہی تھی۔ڈیوڈ ہیڈلی نے یہ بھی قبول کیا ہے کہ ممبئی حملوں سے قبل لشکر طیبہ نے اس کو پاکستان میں اپنے فوجیوں کے ذریعہ ٹریننگ دی تھی۔ ہیڈلی کی بیوی نے گھر میں چھپے ہوئے اسلامی نظریات کے حامل لٹریچر بھی تلاش کر

Read more

لندن نامہ

حیدر طبا طبائی ،لندن ، یو کے
یونان اور البانیہ کے سفر کے بعد جب لندن آیا تو پھر میری بالیں پر اٹھا شور قیامت۔ یہ شور انگریز نسل پرستوں کی جانب سے لندن سے پچاس میل کی دوری پر واقع شہر سیٹر میں اٹھا اور شان سے اٹھا۔ یہاں تک انگلش ڈیفنس لیگ کے مظاہرے میں تشدد بھڑک اٹھا۔ متعصب انگریزوں نے پولس پر ، صحافیوں پر ، پاکستانیوں پر دھواں بم برسا دئے۔ پھر بھی گولی نہیں چلی اور پولس کی جانب سے صورتحال کنٹرول کر لی گئی۔ نو اکتوبر کو صبح دس بجے یہ گورے ایک پارک میں جمع ہونا شروع ہو گئے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ایشیائی نژاد افریقی اور عرب نژاد افر

Read more

لندن نامہ

حیدر طبا طبائی، لندن ، یو کے
چمن میں رنگ و بو نے اس قدر دھوکے دئے مجھ کو
کہ میں نے ذوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی
دھوکے کھانے اور ذوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دینے میں کوئی ہمارا ثانی نہیں ہے۔ برسوں ہماری ننگی پیٹھ پر غلام سمجھ کر نو آباد یاتی نظام کے کوڑے برسانے والوں کے ظلم سے ہمارا عضوعضو دکھتا رہا۔لہو رستا رہا زخموں سے۔ نڈھال ہونے کے بعد جب آزادی ملی تو ماضی کی تاریخ کو کسی سیلن زدہ اندھیری کوٹھری میں پھینک دیا اور ہم لوگ انگلستان چلے آئ

Read more

لندن نامہ

حیدر طبا طبائی ،لندن یو کے
کہتے ہیں کہ کسی کے ذاتی یا اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہ کرو ورنہ تم بھی اس میں ملوث ہوجائو گے۔ برطانوی افواج نے افغانستان جاکر جو غلطی کی ہے اب اس کا ثمر دیکھنے میں آرہاہے۔
برٹش فوجیوں کے منشیات میں ملوث ہونے پر برطانوی وزارت دفاع میں کھلبلی مچ گئی۔ قندھار سے آنے والے فوجی نشے کے عادی ہوگئے۔ ان کے پاس سے افغانی ہیروئن، گانجا اور دوسری منشیات برآمد ہوئیں۔ وزارت دفاع نے لندن میں بتایا کہ ہمارے فوجی صرف نشے کے عادی نہیں ہوئے۔ بلکہ وہ بڑے پیمانے پر اسمگلنگ بھی کررہے ہیں۔ میں 1976-82تک تہران

Read more

لندن نامہ

حیدر طبا طبائی، لندن ،یو کے
برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے والد یان کیمرون انتقال کرگئے۔ کہتے ہیں کہ بوڑھے کی رائے جوان کی قوت اور رائے سے بہتر ہوتی ہے۔ ڈیوڈ کیمرون ہمیشہ یہی کہا کرتے تھے کہ ان کے والد ہی ان کے ہیرو ہیں اوروہ ہمیشہ والد کی ہدایت پر عمل کرتے ہیں۔ یان کیمرون کی عمر 77سال تھی۔ وہ پیدائشی معذور تھے دونوں ٹانگیں بیکار تھیں پھر بھی وہ تمام عمر لندن اسٹاک ایکسچینج کے بروکر رہے۔ انہوںنے ڈیوڈ کیمرون کو برطانیہ کے سب سے گراں اور اعلیٰ سطح کے ایٹن کالج میں پڑھوایا اورپھر آکسفورڈ بھیجا۔ یان کیمرون تعطیلات کے لیے پیرس گئے

Read more