لندن نامہ

حیدر طبا طبائی
مستقبل کے بادشاہ ولیم پنجم شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ دنیا کے 180ممالک میں عوام نے تقریب عقد کو براہ راست دیکھا۔ دوران عقد دونوں نے ہر دکھ و سکھ میں ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کی قسمیں کھائیں تاہم لیڈی ڈائنا کی طرح کیٹ میڈلٹن نے بھی اپنے شوہر کی اطاعت کرنے کاحلف نہیں اٹھایا۔ شاہی جوڑے نے ملکۂ برطانیہ شہزادہ چارلس اور شاہی خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ بکنگھم پیلس کی مرکزی بالکنی سے، شادی میں شرکت کرنے اور ریت کی رسم دیکھنے آئے لاکھوں لوگوں کو دیدار بخشا اورایک کے بجائے دو بار بوسہ لے کر ریت میں ہلچل مچادی۔ شاہی شادی کے دیدار کے لئے ایک ملین سے زیادہ لوگ لندن آئے۔

Read more

!زندہ رہنے کی مارا ماری میں کچھ بھی ہو سکتا ہے

حیدر طبا طبائی
برطانیہ سے خبر آئی ہے کہ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر ’’باڈی اسکینرز‘‘ نصب کردیے گئے ہیں۔ برطانوی وزیر ٹرانسپورٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سیکورٹی خطرات کے پیش نظر حکومت سمجھتی ہے کہ فوری طور پر اس طرح کے اسکینرزنصب کرنے میں ہی بھلائی ہے۔
ادھر وزیرداخلہ نے گزشتہ ہفتے پروگرام میں برطانوی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک ہنگامہ بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردی کے امکانات کا جائزہ لینے والے مشترکہ کمیشن نے عالمی خطرات جس میں دہشت گردی کے خطرہ کو اولین حیثیت حاصل ہے کو سنگین قرار دیا ہے، اس لیے برطانیہ میں دہشت گر

Read more

لندن نامہ

حیدر طبا طبائی
دو ہفتو ںکی مسلسل غیرحاضری کے بعد پھر حاضر خدمت ہوں گو کہ ابھی بھی حالات نے پیچھا نہیں چھوڑا ہے۔عالم عرب میں ایک زلزلہ سا بپا ہے کہ قذافی کے بعد اب کس ملک پر امریکی بمبار بم برسائیں گے۔ برس ہا برس سے اپنے عوام کے سینوں پہ پتھر کی سلوں کی طرح بیٹھے آمروں کا شکنجہ ڈھیلا پڑ رہا ہے۔ حکومتیں لرز رہی ہیں اور جہان نو کروٹیں لے رہا ہے، لیکن پہلے لندن کی اس نشست کا ذکر ضروری ہے جو چند وکیلوں، ڈاکٹروں اور صحافیوں نے منعقد کی تھی۔ اس نشست کی دعوت مجھے بھی ملی۔ یہ نشست تھی انا ہزارے صاحب کی زبردستی سیاست میں آنے کی۔ سب نے ایک آواز ہو کر کہا کہ یہ انا ہزارے اس وقت کہاں تھے جب گجرات

Read more

لندن نامہ

جمعہ سے شروع ہونے والا بن غازی و طرابلس پر خون آشام ابلیسی حملہ۔ کوئی پہلا حملہ نہیں ہے، یہ کالم شائع ہونے تک جانے کتنے افتادگان خاک لقمۂ اجل ہوچکے ہوںگے۔ تھوڑی دیر کے لیے سوچیں کہ بھیڑ بکریوں کا باڑہ بھی درندوں کی زد میں آجائے تو گوالے گنتی شمار رکھتے ہیں۔ کتنی بھیڑیں خونی جبڑوں کی نذر ہوگئیں؟ کتنی بکریاں کھالی گئیں؟کتنی کاری زخموں سے نڈھال پڑی ہیں؟ لیکن سفاک امریکی حملوں کا درست نشانہ بننے والے معصوم لیبیائی عوام کا شمار نہیں ہے، کوئی گوشوارہ درست نہیں ہے۔ امریکی ظلم میں ہمارا ملک جو مادر سیاست بھی کہلاتا ہے، فرانس، اسپین، اٹلی و سویڈن کے ہمراہ جلوہ ساماں ہے۔ شہادتوں کی تعداد کم بتائی جارہی ہے۔ روز سیکڑوں ماؤں کی گود اجاڑی جارہی ہے۔ لیبیا کے ج

Read more

لندن نامہ

حیدر طبا طبائی
ہر قتل عام کی طرح لیبیا کا قتل عام یا قتل عوام افسوس ناک ہے اور المناک بھی۔ اسلام نے کسی نسلی، مذہبی، مسلکی یا لسانی تمیز و تفریق کے بغیر ہر انسان کے قتل کو انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ لاریب کہ ہمارے یہاں انسانیت لہولہان ہو رہی ہے، جنگ صرف کرسی اقتدار کے لیے ہے اور انسانیت کا سینہ پیہم چھلنی ہورہا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے اکثر ملکوں میں عوامی بیداری سے مغربی عوام و حکام بظاہر عوام کے ساتھ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن سب پریشان ہیں، لیبیا میں عوامی

Read more

لندن نامہ

حیدر طبا طبائی
عرب دنیا میں سیاسی درجۂ حرارت نقطۂ ابال تک پہنچ رہا ہے۔ سعودی عرب کی بادشاہت ہو یا ایران کی آخوند پرستی، سب اس لو کے تھپیڑے میں آچکے ہیں اور لندن میں ساون رت کا سماں ہے۔ سردی غضب کی اور بارش بھی متواتر۔ ادھر لیبیا کی آمریت کی کڑی دھوپ میں کئی کئی عشروں تک جھلسنے کے بعد پتھر ہوجانے والے کھیتوں میں بھی شادابی کی امنگ کروٹیں لینے لگی ہے۔ تیونس کے ایک بے روزگار نوجوان کی خود سوزی کے بعد بھڑک اٹھنے والی آگ ٹھنڈی ہونے میں نہیں آرہی ہے۔ اس تند و سرکش و بے باک آگ کے شعلے اب فرعونوں کی طرف لپک کر خاکستر کر چکے ہیں۔ اب یہ شعلے لیبیا کے معمر قذافی کے چہار سو رقص کر رہے ہیں، جو بیالیس سالہ حکمرانی کے بعد بھی تاج و تخت سے چمٹا ہوا ہے، ل

Read more

لندن نامہ

حیدر طبا طبائی
برٹش ہوم آفس نے خبر یہ دی ہے کہ ہندوستان اور یوروپی یونین سے آزاد تجارت کے سمجھوتے کے تحت سالانہ بیس ہزار ہندوستانی کارکن برطانیہ میں داخل ہوسکیںگے۔ اس سمجھوتے سے ہزاروں ہندوستانی کارکن ہندوستان میں موجود بے روزگاری کے تحت برطانیہ آنے لگیںگے۔ اس کے باوجود بھارت سے جو لوگ آئیںگے وہ پڑھے لکھے ہوںگے۔ کم از کم گریجویٹ ضرور ہوںگے۔ یہ ہندوستانی کارکن انٹر کمپنی ٹرانسفر ویزا کے ذریعہ برطانیہ میں داخل ہوںگے، پہلی کھیپ میں20, 700 افراد ہندوستان سے آنے والے ہیں۔
ابھی ڈیوڈ کیمرون کی حکومت کو دو برس بھی نہیں ہوئے ہیں کہ ایک بار پھر وہ سنگ زنی کی زد میں ہے۔ عوام، پارلیمنٹ اور ٹونی بلیئر کے جام اقتدار کی سیاسی تلچھٹ بظاہ

Read more

لندن نامہ

حیدر طبا طبائی
مصری تانا شاہ حسنی مبارک نے یوروپ کی سڑکوں پر نمازیں پڑھوا دیں۔ صرف ایک شب پہلے اس نے بڑے طمطراق سے کہا تھا کہ استعفیٰ نہیں دوںگا، ستمبر میں میعاد پوری ہوجائے گی تو ہٹوںگا۔ ابھی اس کے اعلان کی گونج تحلیل بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ چلا گیا اور اس طرح مصر کے سلسلۂ فراعنہ کی ایک اور کڑی تماشا گاہ عبرت کی کارنس پہ جا سجی۔ تیس برسوں پرمحیط اس کا آہنی اقتدار صرف اٹھارہ دنوں میں موم

Read more

لندن نامہ

حیدر طبا طبائی
قاہرہ کے تحریر اسکوائر کے بعد لندن کی سڑکوں پر مصری عوام سرگرم عمل ہیں۔ تیونس میں زین العابدین بن علی کے بعد پورے مشرق و سطیٰ میں ارتعاش سا آگیا ہے۔ محکوموں، مظلوموں اور مجبوروں کو لگا کہ ان کی تقدیر اپنے ہاتھ میں ہے۔ مصر میں اس عوامی بیداری کا ہدف اول بنا دنیابھر کے ڈکٹیٹروں کی طرح حسنی مبارک۔ وہ اس زعم میں مبتلا رہا کہ مصر اس کی مٹھی میں ہے اور کوئی توانا حزب اختلاف منظم ہی نہیں ہو پائی۔ اخوان المسلمین کو سالہا سال سے ریاستی جبر وتشدد کی چکی میں پیسا جارہا ہے۔ اخوان المسلمین میں اتنا دم خم نہیں ہے کہ وہ سربلند کر کے انقلاب کا نعرہ بلند کرسکے۔ مبارک کا کہنا ہے کہ ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ نفری رکھنے والی سیاہ پوش مصری پولس میری وفادار ہے جو کسی بھی شورش کو کچلن

Read more

لندن نامہ

حیدر طبا طبائی
جو مزہ سیاستداں حضرات کی بخیہ اھیڑنے اور پارلیمنٹ یا اس کے باہر عوامی جلسوں میں تو تو میںمیںکا بازار لگانے میں ہے، وہ مزہ عوامی مسائل کی چارہ گری میں کہاں۔ان کو پس پشت چھوڑ کر اقتدار حاصل کرنے کی دوڑ میں الجھنا ہی آج کے سیاستداں حضرات کا کام رہ گیا ہے۔ وہ مختلف انواع و اقسام میں عوام الناس کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیںاور عوام مہنگائی سے تنگ آ کر چوری چکاری کی جانب راغب ہونے لگے ہیں۔ایک تصور یہ ہے کہ لندن میں چوریاں کم ہوتی ہیں۔وہاں لے کوگ آسودہ حال ہیں۔جنہیں دو دن قبل لندن کے علاقہ کینٹ سے45ہزار پونڈ کے سانپ اژدہے اور چھپکلیاں چوری ہو گئیں۔یہاں کے خوش حال طبقے کے مکانوں میں اگر آپ جائیں تو تین یا چار طبقوںکے شیشوں کے شوروم بنے ہوتے ہیں۔

Read more
Page 2 of 512345