پارلیمنٹ نے بالاتر ہونے کا اختیار کھو دیا ہے

سنتوش بھارتیہ
ہندوستان کی پارلیمنٹ کی تشکیل جمہوریت کے مسائل اور جمہوریت کی چنوتیوں کے ساتھ جمہوریت کو اور زیادہ اثردار بنانے کے لیے کی گئی تھی۔ دوسرے لفظوں میں، پارلیمنٹ دنیا کے لیے ہندوستانی جمہوریت کا چہرہ ہے۔ جس طرح جسم میں کسی بھی طرح کی تکلیف کے نشان انسان کے چہرے پر آ جاتے ہیں، اسی طرح ہندوستانی جمہوریت کی اچھائی یا برائی کے نشان پارلیمنٹ کی حالت کو

Read more

منموہن سنگھ کی 15اگست کی تقریر کوئی چھاپ نہیں چھوڑ پائی

سنوش بھارتیہ
وزیر اعظم منموہن سنگھ نے لال قلعہ سے پندرہ اگست کو ملک سے خطاب کیا۔ خطاب سے پہلے لوگ امید کر رہے تھے کہ وہ ان سارے سوالوں کا جواب دیں گے، جو سوال آج ملک کو درپیش ہیں یا جنہیں ان کے سامنے اٹھایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں تو کوئی سوال اٹھا ہی نہیں رہی ہیں، سوال صرف انا ہزارے اور بابا رام دیو اٹھا رہے ہیں۔ ان سوالوں کو عوام کی حمایت بھی ملی ہے۔ ان سوالوں کا جواب وزیر اعظم کو لال قلعہ سے دینا چاہیے تھا۔ لیکن وزیر اعظم نے ان سوالوں کا جواب لال قلعہ سے شاید اس لیے نہیں دیا، کیوں

Read more

اڈوانی جی قابل مبارکباد ہیں

سنتوش بھارتیہ
شری لال کرشن اڈوانی نے اپنے بلاگ پر ایک کمینٹ لکھا اور اس کمینٹ پر کانگریس اور بی جے پی میں بھونچال آ گیا۔ کانگریس پارٹی کے ایک وزیر نے، جو مستقبل میں اہم وزیر کابینہ بن سکتے ہیں، کہا کہ بی جے پی نے اپنی ہار مان لی ہے۔وزیر موصوف یہ کہتے ہوئے بھول گئے کہ انہوں نے اپنی عقلمندی سے لال کرشن اڈوانی جی کے اندازہ کو مستند قرار دے دیا۔ انہیں یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ

Read more

انا کے سامنے بڑی چنوتی

سنتوش بھارتیہ
انا ہزارے نے جیسے ہی اَنشن ختم کرنے کا اعلان کیا، ویسے ہی لگا کہ بہت سارے لوگوں کی ایک دیرینہ خواہش پوری نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ سے میڈیا کے ایک بہت بڑے حصے میں اور سیاسی پارٹیوں میں ایک بھونچال سا آگیا۔ میڈیا میں کہا جانے لگا ایک آندولن کی موت، سولہ مہینے کی تحریک جو سیاست میں بدل گئی۔ ہم انقلاب چاہتے تھے سیاست نہیں، جیسی باتیں ملک کے سامنے مضبوطی کے ساتھ ل

Read more

یہ ٹیم انا کی آزمائش کا وقت ہے

سنتوش بھارتیہ
اپوزیشن پارٹیاں آخر پریشان کیوں ہیں۔ انا ہزارے کے پارٹی بنانے کے فیصلہ سے پہلے اور فیصلہ کے بعد ان کی پریشانی میں کوئی فرق نہیں پڑا ہے، جب کہ غیر کانگریسی اپوزیشن لوک نائک جے پرکاش نارائن کے وقت اور وشوناتھ پرتاپ سنگھ کے وقت ایسی صورتِ حال کا خیر مقدم کرنے میں لگی تھی۔ لوک نائک جے پرکاش نارائن نے بہار میں چل رہی نوجوان طلبہ کی تحریک کو سیاسی پارٹیوں سے دور رکھنے کا فیصلہ لیا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر سیاسی پارٹیاں اس تحریک میں کودیں تو وہ اس تحریک کو بھٹکا دیں گی۔ اس وقت کی تمام سیاسی پارٹیاں الگ الگ ڈھنگ

Read more

انا رام دیو تحریک کو عوام سے جڑنے کی ضرورت

اس ملک میں تحریکیں ختم ہو گئی ہیں۔ جن کی عمر اس وقت 20 سال ہے، انہیں تو بالکل نہیں پتہ کہ تحریک کیا ہوتی ہے، تحریک کی تعریف کیا ہے اور تحریک کیسے منظم ہوتی ہے، کن تکلیفوں کی وجہ سے تحریک شروع ہوتی ہے۔ یہ سب نوجوان نسل کے لیے انجان موضوع ہے۔ گاندھی جی کی تحریک کیسی تھی، اس کا کردار کیا تھا، اس نے لوگو ںمیں کیسی امیدیں جگائیں اور اس تحریک کی وجہ سے ملک نے آزادی کی صبح

Read more

انا تحریک کو عوام سے جڑا ہونا چاہئے

سنتوش بھارتیہ
انا ہزارے اور بابا رام دیو جیسے لوگوں کو ہوشیار ہو جانا چاہیے۔ اتنے دنوں کے بعد بھی انہیں یہ سمجھ نہیں آرہا کہ کون سا سوال اٹھانا چاہیے اور کون سا نہیں۔ ایک وقت آتا ہے جسے انگریزی میں سیچوریشن پوائنٹ کہتے ہیں۔ شاید جو نہیں ہونا چاہیے وہ ہو رہا ہے، یعنی جمہوریت سیچوریشن پوائنٹ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ جن روایتوں اور قدروں کی وجہ سے جمہوریت سب سے اچھے نظام کے طور پر

Read more

راہل گاندھی کوسیکھنے کی ضرورت ہے

سنتوش بھارتیہ
راہل گاندھی نے خود کہا ہے کہ وہ پارٹی اور سرکار میں بڑی ذمہ داری نبھانے کے لیے تیار ہیں، لیکن یہ ذمہ داری وہ کب سے نبھائیں گے، اس کا فیصلہ ان کی ماں اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور وزیر اعظم منموہن سنگھ کریں گے۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ راہل گاندھی تنظیم میں علامتی اور سرکار میں اہم ذمہ داری نبھائیں گے۔ سرکار میں ان کی ذمہ داری کے بارے میں ہم بعد میں بات کریں گے، پہلے تنظیم میں نبھائی جانے والے ان کے رول کے

Read more

سونیا کا رازدار

ڈاکٹر قمر تبریز
ہندوستان میں مسلمان دوسری سب سے بڑی اکثریت ہیں۔ سو کروڑ سے زیادہ کی آبادی میں ان کا حصہ تیرہ سے پندرہ فیصد کے درمیان ہے، لیکن کسی بھی سرکاری محکمے میں چلے جائیں، اونچے عہدوں پر مسلمان کہیں نظر نہیں آتا۔ آزادی کے ساٹھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی نہ تو آج تک کسی مسلم کو اس ملک کا وزیر اعظم بنایا جاسکا ہے اور نہ ہی آرمی چیف۔ اس وقت ہندوستان میں مسلمان سب سے زیادہ پریشان اس بات کو لے کر ہیں کہ انہیں دہشت گردی کے نام پر س

Read more

سنگھ نہیں چاہتا بی جے پی مضبوط ہو

سنتوش بھارتیہ
یہ ہمیشہ سے ایک متنازع موضوع رہا ہے کہ اسمبلی کا الیکشن وزیر اعلیٰ کے عہدہ کے امیدوار کا اعلان کرکے لڑا جائے یا الیکشن کے بعد وزیر اعلیٰ منتخب کیا جائے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے لوک سبھا الیکشن میں وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار کا اعلان کرکے کچھ پارٹیاں انتخاب لڑتی ہیں، کچھ پارٹیاں الیکشن نہیں لڑتی ہیں۔ 2004 میں بی جے پی نے اڈوانی جی کو پرائم منسٹر اِن ویٹنگ کہہ کر الیکشن لڑا تھا، جب کہ کانگریس نے کسی کو بھی اپنا امیدوار نہیں بنایا تھا۔ اڈوانی جی وزیر اعظم منتخب نہیں کیے جاسکے اور کانگریس نے منموہن سنگھ کو اپنا وزیر اعظم بنا دیا۔ ابھی اتر پردیش میں انتخاب ہوئے تو صرف بی ایس پی کے بارے میں صاف تھا کہ

Read more