گجرات الیکشن پورے ملک کاامتحان ہے

سنتو ش بھارتیہ
گجرات اسمبلی انتخاب کس کے لیے فائدہ مند ہو گا اور کس کے لیے نہیں، یہ تو دسمبر کے آخری ہفتہ میں معلوم ہو گا، جب نتیجے آ جائیں گے۔ لیکن امتحان کس کس کا ہے اس کا تجزیہ کرنا ضروری ہے۔ گجرات اسمبلی انتخاب میں پہلا امتحان شریمتی سونیا گاندھی کا

Read more

ملک سے محبت کرنے والوں اور غداروں کی پہچان کیجئے

سنتوش بھارتیہ
جب بابا رام دیو کے اچھے دن تھے، اس وقت ہندوستانی میڈیا کے لوگ اُن سے ملنے کے لیے لائن لگائے رہتے تھے۔ آج جب بابا رام دیو پریشانی میں ہیں تو میڈیا کے لوگ انہیں فون نہیں کرتے۔ پہلے انہیں بلانے یا ان کے ساتھ اپنا چہرہ دکھانے کے لیے ایک ہوڑ مچی رہتی تھی۔ آج بابا رام دیو کے ساتھ چہرہ دکھانے سے وہی سارے لوگ دور بھاگ رہے ہیں۔ یہ ہمارے میڈیا کا دوہرا کردار ہے۔ شاید اس لیے، کیوں کہ میڈیا کے لوگ اکثر وہی کہنا اور دکھانا چاہتے ہیں، جو حکومتیں چاہتی ہیں، چاہے وہ حکومتیں ریاست کی ہوں یا مرکز کی۔

Read more

جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ مت کیجئے

سنتوش بھارتیہ
سرکار کا بحران سرکار کے اپنے ہی کارناموں کا نتیجہ ہے۔ سرکار کام کر رہی ہے، لیکن پارٹی کام نہیں کر رہی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ کانگریس پارٹی کی کوئی سوچ بھی نہیں ہے۔ کانگریس پارٹی سرکار کا ایجنڈا ماننے کے لیے مجبور ہے۔ سرکار کو لگتا ہے کہ اسے

Read more

مئی میں ہوں گے وسط مدتی انتخاب

سنتوش بھارتیہ
آخر کار کانگریس پارٹی اور سرکار نے فیصلہ کر لیا کہ انہیں بجٹ اجلاس کے دوران یا بجٹ اجلاس ختم ہوتے ہی الیکشن میں چلے جانا ہے۔ اقتصادی صورتِ حال تیزی سے بگڑ رہی ہے، اس لیے یہ فیصلہ لیا گیا۔ یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ سخت بجٹ لایا جائے اور عام لوگوں کو پریشانی میں ڈالنے کے جتنے بھی طریقے ہو سکتے ہیں، ان طریقوں کو نافذ کر دیا جائے۔ آنے والا بجٹ ہندوستان کے آئین

Read more

عوام کامذاق مت اڑایئے ، عوام سے ڈریے

سنتوش بھارتیہ
شاید حکومتیں کبھی نہیں سمجھیں گی کہ ان کے اَن سنے پن یا ان کی بے حسی کا لوگوں پر کیا اثر پڑتا ہے،چاہے وہ حکومت دہلی کی ہو یا مدھیہ پردیش کی ہو یا پھر وہ حکومت تمل ناڈو کی ہو۔ کشمیر میں ہم کشمیر کی ریاستی حکومت کی بات اس لیے نہیں کر سکتے، کیوں کہ کشمیر کی ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ جو کہتی ہے مرکزی حکومت کے کہنے پر کہتی ہے اور جو کرتی ہے وہ مرکزی حکومت کے کرنے پر کرتی ہے۔ پر نتیجہ ایک ہی ہوتا ہے۔ اگر کوئی بھی طبقہ اپنے مطالبات پرامن طریقے سے

Read more

کشمیر اور کشمیریوں سے دل کا رشتہ جوڑئے

سنتوش بھارتیہ
کشمیر ہمارے لیے کبھی ترجیح نہیں رہا۔ کشمیر کی کیا تکلیف ہے، وہ تکلیف کیوں ہے، اس تکلیف کے پیچھے کی سچائی کیا ہے، ہم نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی۔ ہم نے ہمیشہ کشمیر کو سرکاری چشمے سے دیکھا ہے، چاہے وہ چشمہ کسی بھی سرکار کا رہا ہو۔ ہم میں سے بہت کم لوگ سرینگر گئے ہیں۔ سرینگر میں سیاح کے ناطے جانا ایک بات ہے اور کشمیر کو سمجھنے کے لیے جانا دوسری

Read more

سی اے جی پر حملہ جائز نہیں ہے

سنتوش بھارتیہ
کوئلہ گھوٹالہ اب صرف پارلیمنٹ کے درمیان بحث کا موضوع نہیں رہ گیا ہے، بلکہ پورے ملک میں بحث کا موضوع ہو گیا ہے، کیوں کہ ملک کے عوام کوئلہ گھوٹالہ کو لے کر فکرمند ہیں اور فکر مند اس لیے ہیں، کیوں کہ اس میں پہلی بار ملک کے سب سے طاقتور عہدہ پر بیٹھے ہوئے شخص کا نام سامنے آیا ہے۔ منموہن سنگھ وزیر کوئلہ تھے اور یہ فیصلہ چاہے اسکریننگ کمیٹی کا رہا ہو یا

Read more

پارلیمنٹ نے بالاتر ہونے کا اختیار کھو دیا ہے

سنتوش بھارتیہ
ہندوستان کی پارلیمنٹ کی تشکیل جمہوریت کے مسائل اور جمہوریت کی چنوتیوں کے ساتھ جمہوریت کو اور زیادہ اثردار بنانے کے لیے کی گئی تھی۔ دوسرے لفظوں میں، پارلیمنٹ دنیا کے لیے ہندوستانی جمہوریت کا چہرہ ہے۔ جس طرح جسم میں کسی بھی طرح کی تکلیف کے نشان انسان کے چہرے پر آ جاتے ہیں، اسی طرح ہندوستانی جمہوریت کی اچھائی یا برائی کے نشان پارلیمنٹ کی حالت کو

Read more

منموہن سنگھ کی 15اگست کی تقریر کوئی چھاپ نہیں چھوڑ پائی

سنوش بھارتیہ
وزیر اعظم منموہن سنگھ نے لال قلعہ سے پندرہ اگست کو ملک سے خطاب کیا۔ خطاب سے پہلے لوگ امید کر رہے تھے کہ وہ ان سارے سوالوں کا جواب دیں گے، جو سوال آج ملک کو درپیش ہیں یا جنہیں ان کے سامنے اٹھایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں تو کوئی سوال اٹھا ہی نہیں رہی ہیں، سوال صرف انا ہزارے اور بابا رام دیو اٹھا رہے ہیں۔ ان سوالوں کو عوام کی حمایت بھی ملی ہے۔ ان سوالوں کا جواب وزیر اعظم کو لال قلعہ سے دینا چاہیے تھا۔ لیکن وزیر اعظم نے ان سوالوں کا جواب لال قلعہ سے شاید اس لیے نہیں دیا، کیوں

Read more

اڈوانی جی قابل مبارکباد ہیں

سنتوش بھارتیہ
شری لال کرشن اڈوانی نے اپنے بلاگ پر ایک کمینٹ لکھا اور اس کمینٹ پر کانگریس اور بی جے پی میں بھونچال آ گیا۔ کانگریس پارٹی کے ایک وزیر نے، جو مستقبل میں اہم وزیر کابینہ بن سکتے ہیں، کہا کہ بی جے پی نے اپنی ہار مان لی ہے۔وزیر موصوف یہ کہتے ہوئے بھول گئے کہ انہوں نے اپنی عقلمندی سے لال کرشن اڈوانی جی کے اندازہ کو مستند قرار دے دیا۔ انہیں یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ

Read more