انا کے سامنے بڑی چنوتی

سنتوش بھارتیہ
انا ہزارے نے جیسے ہی اَنشن ختم کرنے کا اعلان کیا، ویسے ہی لگا کہ بہت سارے لوگوں کی ایک دیرینہ خواہش پوری نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ سے میڈیا کے ایک بہت بڑے حصے میں اور سیاسی پارٹیوں میں ایک بھونچال سا آگیا۔ میڈیا میں کہا جانے لگا ایک آندولن کی موت، سولہ مہینے کی تحریک جو سیاست میں بدل گئی۔ ہم انقلاب چاہتے تھے سیاست نہیں، جیسی باتیں ملک کے سامنے مضبوطی کے ساتھ ل

Read more

یہ ٹیم انا کی آزمائش کا وقت ہے

سنتوش بھارتیہ
اپوزیشن پارٹیاں آخر پریشان کیوں ہیں۔ انا ہزارے کے پارٹی بنانے کے فیصلہ سے پہلے اور فیصلہ کے بعد ان کی پریشانی میں کوئی فرق نہیں پڑا ہے، جب کہ غیر کانگریسی اپوزیشن لوک نائک جے پرکاش نارائن کے وقت اور وشوناتھ پرتاپ سنگھ کے وقت ایسی صورتِ حال کا خیر مقدم کرنے میں لگی تھی۔ لوک نائک جے پرکاش نارائن نے بہار میں چل رہی نوجوان طلبہ کی تحریک کو سیاسی پارٹیوں سے دور رکھنے کا فیصلہ لیا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر سیاسی پارٹیاں اس تحریک میں کودیں تو وہ اس تحریک کو بھٹکا دیں گی۔ اس وقت کی تمام سیاسی پارٹیاں الگ الگ ڈھنگ

Read more

انا رام دیو تحریک کو عوام سے جڑنے کی ضرورت

اس ملک میں تحریکیں ختم ہو گئی ہیں۔ جن کی عمر اس وقت 20 سال ہے، انہیں تو بالکل نہیں پتہ کہ تحریک کیا ہوتی ہے، تحریک کی تعریف کیا ہے اور تحریک کیسے منظم ہوتی ہے، کن تکلیفوں کی وجہ سے تحریک شروع ہوتی ہے۔ یہ سب نوجوان نسل کے لیے انجان موضوع ہے۔ گاندھی جی کی تحریک کیسی تھی، اس کا کردار کیا تھا، اس نے لوگو ںمیں کیسی امیدیں جگائیں اور اس تحریک کی وجہ سے ملک نے آزادی کی صبح

Read more

انا تحریک کو عوام سے جڑا ہونا چاہئے

سنتوش بھارتیہ
انا ہزارے اور بابا رام دیو جیسے لوگوں کو ہوشیار ہو جانا چاہیے۔ اتنے دنوں کے بعد بھی انہیں یہ سمجھ نہیں آرہا کہ کون سا سوال اٹھانا چاہیے اور کون سا نہیں۔ ایک وقت آتا ہے جسے انگریزی میں سیچوریشن پوائنٹ کہتے ہیں۔ شاید جو نہیں ہونا چاہیے وہ ہو رہا ہے، یعنی جمہوریت سیچوریشن پوائنٹ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ جن روایتوں اور قدروں کی وجہ سے جمہوریت سب سے اچھے نظام کے طور پر

Read more

راہل گاندھی کوسیکھنے کی ضرورت ہے

سنتوش بھارتیہ
راہل گاندھی نے خود کہا ہے کہ وہ پارٹی اور سرکار میں بڑی ذمہ داری نبھانے کے لیے تیار ہیں، لیکن یہ ذمہ داری وہ کب سے نبھائیں گے، اس کا فیصلہ ان کی ماں اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور وزیر اعظم منموہن سنگھ کریں گے۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ راہل گاندھی تنظیم میں علامتی اور سرکار میں اہم ذمہ داری نبھائیں گے۔ سرکار میں ان کی ذمہ داری کے بارے میں ہم بعد میں بات کریں گے، پہلے تنظیم میں نبھائی جانے والے ان کے رول کے

Read more

سونیا کا رازدار

ڈاکٹر قمر تبریز
ہندوستان میں مسلمان دوسری سب سے بڑی اکثریت ہیں۔ سو کروڑ سے زیادہ کی آبادی میں ان کا حصہ تیرہ سے پندرہ فیصد کے درمیان ہے، لیکن کسی بھی سرکاری محکمے میں چلے جائیں، اونچے عہدوں پر مسلمان کہیں نظر نہیں آتا۔ آزادی کے ساٹھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی نہ تو آج تک کسی مسلم کو اس ملک کا وزیر اعظم بنایا جاسکا ہے اور نہ ہی آرمی چیف۔ اس وقت ہندوستان میں مسلمان سب سے زیادہ پریشان اس بات کو لے کر ہیں کہ انہیں دہشت گردی کے نام پر س

Read more

سنگھ نہیں چاہتا بی جے پی مضبوط ہو

سنتوش بھارتیہ
یہ ہمیشہ سے ایک متنازع موضوع رہا ہے کہ اسمبلی کا الیکشن وزیر اعلیٰ کے عہدہ کے امیدوار کا اعلان کرکے لڑا جائے یا الیکشن کے بعد وزیر اعلیٰ منتخب کیا جائے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے لوک سبھا الیکشن میں وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار کا اعلان کرکے کچھ پارٹیاں انتخاب لڑتی ہیں، کچھ پارٹیاں الیکشن نہیں لڑتی ہیں۔ 2004 میں بی جے پی نے اڈوانی جی کو پرائم منسٹر اِن ویٹنگ کہہ کر الیکشن لڑا تھا، جب کہ کانگریس نے کسی کو بھی اپنا امیدوار نہیں بنایا تھا۔ اڈوانی جی وزیر اعظم منتخب نہیں کیے جاسکے اور کانگریس نے منموہن سنگھ کو اپنا وزیر اعظم بنا دیا۔ ابھی اتر پردیش میں انتخاب ہوئے تو صرف بی ایس پی کے بارے میں صاف تھا کہ

Read more

آر ایس ایس کی عیاری و مکاری

سنتوش بھارتیہ
بی جے پی کے اندر گروہوں میں بھی کئی گروہ ہیں۔ ان میں پہلا گروہ ہے لال کرشن اڈوانی کا۔ اس میں بھی ایک گروہ ہے، جس میں پہلے نمبرپر ڈی – 5 کے لوگ ہیں، مطلب اننت کمار، وینکیا نائڈو، ارون جیٹلی، سشما سوراج اور آج کا سب سے بڑا نام نریندر مودی۔ دوسرا گروہ ہے سنگھ سے وابستہ کچھ لیڈروں کا، جن کے اوپر سنگھ کا ہاتھ ہے، پر اس میں بھی کئی گروہ ہیں، جیسے راجستھان میں پرکاش جی ہیں۔ وہ ہمیشہ وسندھرا راجے کے مخالف رہے ہیں اور مخالف ہی رہیں گے۔ وہاں پر گلاب چند کٹاریا کو سنگھ کی حمایت ملتی رہی ہے، ملتی رہے گی۔ لیکن جب گلاب چند کٹاریا اور وسندھرا راجے میں جھگڑا ہوگا تو بی جے پی کے بڑے لیڈر وسندھرا

Read more

عوام کو اکھلیش سے کافی امیدیں ہیں

سنتوش بھارتیہ
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے دو فیصلوں پر ان کی تنقید ہو رہی ہے۔ پہلا فیصلہ اتر پردیش میں شام سات بجے کے بعد بازاروں اور مال کو بجلی نہ دینا اور دوسرا فیصلہ، جس میں انہوں نے ممبرانِ اسمبلی کو ڈیولپمنٹ فنڈ سے کار خریدنے کی اجازت دی تھی۔ وزیر اعلیٰ کے یہ دونوں فیصلے تنقید کا موضوع ضرور بنتے، لیکن وزیر اعلیٰ نے دونوں ہی فیصلوں کو نافذ ہونے کے 24 گھنٹے کے اندر واپس لے لیا۔ جب انہوں نے ان فیصلوں کو واپس لیا تو کہا گیا کہ اکھلیش یادو کمزور وزیر اعلیٰ ہیں۔ کمزور وزیر اعلیٰ

Read more

پرنب مکھرجی کا میاب صدر ثابت ہوں گے

سنتوش بھارتیہ
ہندوستانی سیاست میں اندرا جی کے قتل کے بعد پرنب مکھرجی کا ایک خاص مقام رہا۔ جب اندرا جی کا قتل ہوا تو پرنب مکھرجی اور راجیو گاندھی، دونوں دہلی سے باہر تھے۔ نہ صرف باہر تھے، بلکہ دونوں ساتھ تھے۔ واپس لوٹتے ہوئے جب بات چیت ہوئی کہ اگلا پی ایم کون بنے گا، کیوں کہ اندرا جی کا قتل ہو گیا ہے اور ان کی لاش دہلی میں پڑی ہوئی تھی، تو پرنب مکھرجی نے لوگوں سے کہا کہ میں ہی سب سے سینئر ہوں اور مجھے ہی پی ایم بننا چاہیے۔ یہ بات انہوں نے ایک بار کہی اور یہ بات اسی وقت راجیو گاندھی کے سامنے

Read more