وزیر خزانہ صاحب ، آپ مثال بن سکتے ہیں

جب سے سوئزرلینڈ میں کالے دھن کی بات چلی ہے، تب سے یہ ماحول بنا ہے کہ اگر وہ سارا پیسہ ملک میں واپس آ جائے، تو ہمارے سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ ہمیں ٹیکس نہیں دینا پڑے گا اور ترقی میں ہم کسی بھی ترقی پذیر ملک کے مقابلے کھڑے ہونے کی طاقت پیدا کر لیں گے۔ حالانکہ، ابھی کسی کو معلوم نہیں ہے کہ بیرونی ممالک میں ہندوستان کا کتنا کالا دھن جمع ہے۔ اس جمع رقم میں بہت سارا پیسہ بے نامی ہے، جس کے وارثوں کو یہ پیسہ کبھی نہیں ملنے والا۔ اس کی صرف ایک وجہ ہے کہ جن سیاست دانوں یا دولت مندوں نے سوئزر لینڈ میں حوالہ سے پیسہ بھیجا اور وہاں کے بینک میں جمع کرایا، ان میں سے بہتوں نے اس ڈر سے کہ ان

Read more

یہ نریندر مودی کا سب سے بڑا امتحان ہے

ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکہ کے صدر براک اوبامہ کی ملاقات ستمبر میں امریکہ میں ہونے والی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اس کی تیاری کے لیے ہندوستان آئے ہیں۔ دراصل، امریکی وزیر خارجہ کے اس ہندوستانی دورہ کا مقصد وزیر اعظم کے امریکی دورہ سے قبل کی تیاری کے ساتھ ساتھ نریندر مودی کو تھوڑا لچیلا رخ اپنانے کے لیے تیار کرنا ہے۔ امریکہ نے نریندر مودی کو گزشتہ 12 سالوں سے فسادات کا قصوروار ٹھہراتے ہوئے ویزا نہیں دیا تھا۔ اب نریندر مودی کو ہندوستان کے عوام نے وزیر اعظم منتخب کیا ہے، اس لیے امریکہ چاہتا ہے کہ نریندر مودی کے ساتھ بدلے حالات میں رشتے معمول پر لائے جائیں۔ لیکن اس کے پیچھے امریکہ کی عدالت میں ہوا یہ انکشاف بھی ہے کہ امریکہ نے یوروپی ممالک کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے کچھ لیڈروں کی بھی جاسوسی کرائی، جس میں سابق وزیر خزانہ اور موجودہ صدر پرنب مکھرجی، بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق صدر نتن گڈکری اور شاید ارون جیٹلی کا نام شامل ہے۔ اس انکشاف سے یوروپی ممالک میں شور شرابہ ہوا، کافی خبریں آئیں، لیکن ہندوستان میں کافی متوازن خبریں آئیں اور اس خبر کو دبانے کی کوشش ہوئی، کیوں کہ اب حالات بدلے ہوئے ہیں۔

Read more

اب دیر کرنا بہت مہلک ہوگا

ویسے تو وقت کافی پہلے آ چکا ہے، جب مکمل نظام کے بارے میں بات ہو۔ بات پہلے ہی شروع ہو جانی چاہیے تھی، کیو ںکہ نظام کے جتنے اہم اجزاء ہیں، وہ کام تو کر رہے ہیں، لیکن ان کاموں کا مقصدیا نتیجہ عوام کے آرام کی جگہ تکلیف میں نکل رہا ہے۔ اب اگر کہیں کہ نظام کے اجزاء کے درمیان میں ذمہ داری کا فقدان بڑھ رہا ہے اور فیصلہ لینے کا من مانا طریقہ فروغ پا رہا ہے، تو قطعی غلط نہیں ہوگا۔ اور، ابھی اگر ہم نے بات چیت نہیں کی، تو پھر موجودہ نظام بحران کا شکار ہو جائے گا۔

Read more

وزیر اعظم صاحب، یہ امتحان کی گھڑی ہے

اردو کا ایک شعر ہے، اسے اپنی طرح سے کہنے کی کوشش کرتے ہیں ’’کس کس پہ خاک ڈالیے، کس کس پہ روئیے / آرام بڑی چیز ہے، منھ ڈھک کے سوئیے‘‘۔ سچ مچ منھ ڈھک کے سونے کی خواہش ہو رہی ہے۔ کانگریس نے اس ملک کو 60-65 برسوں میں جو دیا، اسے ہم بھگت رہے ہیں۔ پورا ملک آپسی رنجش کے دہانے پر ہے، زوال کے دہانے پر ہے، ناامیدی کے دہانے پر ہے۔ جب کانگریس کے ترجمان کہتے ہیں کہ سرکار مہنگائی گھٹانے کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے، تو ہنسی آتی ہے، کیوں کہ بنیادی طور پر مہنگائی کانگریس کی ہی دین ہے۔

Read more

صرف نظر رکھنا مسئلہ کا حل نہیں

گاؤںکے کچّے مال کو پکّے مال میں بدلنے کا کام گاؤں میں ہی ہونا چاہیے۔ اس فیصلے کو لیے بغیر نہ مہنگائی کا مقابلہ ہو سکتا ہے، نہ بدعنوانی کا اور نہ بے روزگاری کا۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ بات سرکاریں جانتی نہیں ہیں، لیکن سرکاریں اسے کرنا نہیں چاہتیں۔ کیونکہ، اگر وہ ایسا کریں گی، تو اس بدلے ہوئے ملک میں لوگ بیدار ہو جائیں گے اور فوراً پکڑ لیں گے کہ کمزوری کہاں ہے یا گڑبڑ کہاں ہے۔ اور ، اس لیے کوئی بھی سرکار آنے والے پیسوں سے کچھ فیصد لوگوں کو دولت مند ہونے سے روکنا نہیںچاہتی۔

Read more

عوام کو بھیک نہیں، مواقع چاہئیں

ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے ہم اس سچائی کو رکھنا چاہتے ہیں جسے وہ غالباً سمجھتے ہوں گے۔ملک کے عوام کی نفسیات2011 سے پہلے جو تھی وہ 2011 کے بعد بدل گئی ہے۔ 2011 سے پہلے لوگوں کو لگتا تھا کہ وہ کچھ نہیں کرسکتے۔ ان کی بات سسٹم نہیں سن رہا ہے یا سسٹم کبھی سنے گا نہیں،لیکن 2011 کی انا ہزارے کی تحریک نے ملک کے لوگوں کے دل میں ایک خود اعتمادی پیدا کی اور لوگوں کو لگا کہ ہم کھڑے ہوکر کسی بات کے لئے دبائو ڈالیں گے تو سسٹم کو اسے سننا پڑے گا اور اس کے بعد کئی جگہ ایسی مثالیں سامنے آئیں جب سسٹم کو لوگوں کی بات سننی پڑی۔ بنا کسی لیڈر کے، عصمت دری کی شکار لڑکی

Read more

سو دنوں کا ایجنڈا کتنا کارگر ہوگا؟

نریندر مودی نے کابینہ کی پہلی میٹنگ میں دو کام کیے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ دونوں کام اچھے ہیں۔ پہلا کام، انہوں نے دس ترجیحات طے کی ہیں، جنہیں سامنے رکھ کر ان کی کابینہ کام کرے گی۔ دوسرا کام، انہوں نے اپنے وزیروں سے کہا ہے کہ وہ 100 دنوں کا ایجنڈا بنائیں اور 100 دنوں کا رپورٹ کارڈ انہیں سونپیں۔

Read more

سو دنوں کا ایجنڈا کتنا کارگر ہوگا؟

نریندر مودی نے کابینہ کی پہلی میٹنگ میں دو کام کیے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ دونوں کام اچھے ہیں۔ پہلا کام، انہوں نے دس ترجیحات طے کی ہیں، جنہیں سامنے رکھ کر ان کی کابینہ کام کرے گی۔ دوسرا کام، انہوں نے اپنے وزیروں سے کہا ہے کہ وہ 100 دنوں کا ایجنڈا بنائیں اور 100 دنوں کا رپورٹ کارڈ انہیں سونپیں۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب منموہن سنگھ دوبارہ وزیر اعظم بنے تھے، تو انہوں نے اپنے وزیروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ بھی 100 دنوں کا ایجنڈا بنائیں اور 100 دنوں کی پیش رفت کا بیورا، یعنی رپورٹ کارڈ انہیں سونپیں۔ افسوس کی بات، فیصلہ لینے کے بعد منموہن سنگھ اپنے اس فیصلہ کو بھول گئے۔ پورے پانچ سال گزر گئے اور 100 دن تو چھوڑ دیں، پانچ سال میں انہوں نے کیا کیا، یہ لوگوں کو بتا نہیں پائے۔ شاید اس لیے کہ سرکار اور وزیر خمار میں ڈوبے رہے، گھوٹالے پہ گھوٹالے ہوتے رہے اور اگر کوئی رپورٹ کارڈ منموہن سنگھ نے جاری کیا، تو وہ رپورٹ کارڈ ان کی آخری پریس کانفرنس میں تھا کہ ہم 1991 کی اقتصادیات کے دور میں پہنچ گئے ہیں، یعنی ملک 1991 کی اقتصادی بنیاد پر پہنچ گیا ہے۔ اس کا دوسرا مطلب فطری طور پر یہ ہے کہ جتنی اقتصادی ترقی ہونی چاہیے تھی، اتنی ہی ہوئی۔ جن پالیسیوں کو لے کر اقتصادی ترقی کے خواب دکھائے گئے تھے، ان پالیسیوں کا ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

Read more

وزیر اعظم کا ترقیاتی ماڈل کون سا ہوگا؟

سیاست میں نئی طاقتیں سامنے آ رہی ہیں اور ان طاقتوں نے نئے سرے سے ملک کے مسائل کو حل کرنے کا نقشہ بھی بنانا شروع کر دیا ہے۔ ان طاقتوں نے پرانی طاقتوں کو کامیابی کے ساتھ کنارے کرنے کا بھی کام کیا ہے۔ ان میں پہلی طاقت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ہے۔ اب تک راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو ایک کلچرل آرگنائزیشن مانا جاتا تھا۔ نہ صرف سنگھ نے، بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی ہمیشہ اس الزام کو خارج کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی سنگھ کی ہدایت پر کام کرتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ہمیشہ کہتی رہی ہے کہ وہ آزاد تنظیم ہے۔ چونکہ سنگھ سے اس کا رشتہ ہے، تو وہ احترام کرتی ہے اور سنگھ بھی یہ کہتا رہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک آزاد تنظیم ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ اس نے سیاست کے لیے بی جے پی کو جس طرح قائم کیا، اسی طرح اس نے سماج کے مختلف طبقوں میں کام کرنے کے لیے الگ الگ تنظیمیں قائم کی

Read more