وزیر اعظم صاحب، موقع کا صحیح استعمال کیجئے

ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی جب امریکہ گئے، تو انہوں نے وہاں کہا کہ 8 سال میں ہم نے بڑی ترقی کی ہے اور ہم مریخ سیارہ پر امریکہ سے باتیں کر رہے ہیں۔ امریکہ میں موجود ہندوستانیوں نے تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے مریخ سیارہ پر ہندوستان کی موجودگی اور مریخ سیارہ پر امریکہ سے بات کرنے کی بات کا پرزور استقبال کیا۔ یہ بات وزیر اعظم نے کئی جگہ دوہرائی، لیکن وہی وزیر اعظم نریندر مودی جب ہندوستان لوٹ کر آئے اور انہوں نے ہریانہ کی ریلیوں میں تقریر کی، تو کہا کہ 8 سال میں اس ملک میں کچھ نہیں ہوا۔ تب ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ سچ کیا ہے؟ کیا مئی میں نریندر مودی جی کی حلف برداری کے کچھ دنوں کے اندر ہی ہم نے منگل یان چھوڑا تھا؟ منگل یان تو بہت پہلے مریخ (منگل) کی طرف روانہ ہو گیا تھا۔ اس حصولیابی کا کریڈٹ وزیر اعظم نے خود اور ملک کو دیا۔ کیا یہ مانیں کہ ملک کا وزیر اعظم دو طرح کی زبان بولتا ہے، ملک سے باہر ایک

Read more

جنتا پریوار کا متحد ہونا ضروری

انتخابات میں شکست کے بعد اکثر کچھ نہ کچھ ہوتا ہے۔ کچھ اشارے ہوتے ہیں، کچھ سبق ہوتے ہیں۔ 13 ستمبر کو ملک کی تین ریاستوں میں ضمنی انتخابات ہوئے۔ اترپردیش، راجستھان اور گجرات۔ اور، جب 16 ستمبر کو نتیجے آئے، تو منظر کچھ اس طرح کا تھا، جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی ان ضمنی انتخابات کی اہمیت مان ہی نہیں رہی تھی اور جو جیتے تھے، وہ انہیں مستقبل کا اشارہ بتا رہے تھے۔ نتیجے آنے سے پہلے بی جے پی ساری سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کر رہی تھی، کیوں کہ اس نے پورا الیکشن نریندر مودی کے نام پر لڑا تھا۔

Read more

کانگریس چاہے تو اچھے اپوزیشن کا رول نبھا سکتی ہے

ہندوستانی معاشرے میں بہت ساری کہانیاں اور بہت ساری کہاوتیں ہیں، جو سینکڑوں ہزاروں سالوں کے تجربات کے بعد حقیقی شکل میں بنی ہیں۔ ایک کہانی آپ کو سناتے ہیں۔ دو پڑوسی تھے۔ ایک پڑوسی اپنے دوسرے پڑوسی سے بہت جلتا تھا اور اس کی جلن کا حال یہ تھا کہ وہ اپنے پڑوسی کا برا کرنے کے لیے کسی سے بھی مدد لے سکتا تھا۔ اس نے اچانک سوچا کہ میں اپنے پڑوسی کا روز صبح اَپ شگن کروں۔ ہندوستانی معاشرے میں اَپ شگن کے کئی طریقے ہیں، جیسے بلی راستہ کاٹ جائے تو اَپ شگن مان لیتے ہیں۔ اسی طرح ایک آنکھ کا آدمی دکھائی دے جائے، تو دیکھنے والا اسے اپنا اَپ شگن مان لیتا ہے۔ اس جلنے والے پڑوسی نے سوچا کہ بلی میں تو اس کے راستے میں چھوڑ نہیں سکتا، لیکن اس کو میں ایک آنکھ کا آدمی، جسے ’کانا‘ کہتے ہیں، اس کا چہرہ اسے روز دکھا سکتا ہوں۔ اسے ایک ایسے کانے کی تلاش تھی، لیکن اسے کوئی کانا ملا نہیں، تب اس نے اپنی ہی ایک آنکھ پھوڑ لی اور اس نے اپنا چہرہ روز سویرے پڑوسی کو دکھانے کا فیصلہ کیا، تاکہ پڑوسی کا روز اَپ شگن ہو۔

Read more

بدعنوانی کے خلاف پورے ملک کو لڑنا ہوگا

دس سالوں کے بعد ہندوستان کے وزیر اعظم کو لوگوں کے درمیان تقریر کرتے دیکھنے اچھا لگتا ہے اور خاص کر تب، جب وزیر اعظم ہندوستان کے سب سے بڑے مسئلہ پر فکرمندی کا اظہار کریں اور ساتھ ہی یہ امید دلائیں کہ اگلے کچھ سالوں میں ملک میں بجلی دستیاب ہو جائے گی اور شہروں ہی نہیں گاؤوں کو بھی 24 گھنٹے بجلی ملے گی۔ بجلی ترقی کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ بجلی اگر سب سے بڑی بنیاد ہے، تو اس کی پیداوار ہوگی کیسے اور وہ سب تک پہنچے گی کیسے؟ وزیر اعظم بھی اس بات سے انجان نہیں ہیں کہ ملک میں کوئلہ کا ذخیرہ خرچ کرنے کی جگہ بچانا ضروری ہے اور بجلی کے لیے پانی دستیاب ہے نہیں۔ ابھی تک یہی دو معلوم ذرائع بجلی کے رہے اور جس بات کی طرف انہوں نے اشارہ کیا، وہ ہے شمسی توانائی، یعنی سورج کی روشنی سے بجلی کی پیداوار۔ یہ تکنیک مہنگی ہے، لیکن اس کے علاوہ ملک کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔
جب وزیر اعظم نے یہ کہا کہ ہر گھر کو اپنے لیے بجلی پیدا کرنی چاہیے، تو ان کے اس جملہ کی تعریف بھی ہونی چاہیے اور اس پر عمل بھی ہونا چاہیے۔ لیکن ہر گھر میں شمسی توانائی پیدا کرنے کے لیے سولر پینل لگے، ان کی قیمتوں میں جس طرح سے اضافہ ہو نے جا رہا ہے، وہ یہ بتاتا ہے کہ وزیر اعظم کی کہی ہوئی اس اسکیم کو فلیتہ لگانے کی کوشش ہونے والی ہے۔ وہ سارے لوگ، جو سرکار کے دیے گئے کسی بھی بیان میں منافع دیکھتے ہیں، اچانک سرگرم ہو گئے ہیں اور سولر پینلوں کی تعمیر کرنے والے لوگوں میں آپس میں ایک اتحاد ہو گیا ہے۔

Read more

نریندر مودی اور چار مثبت کہانیاں

جس طرح پرانے زمانے میں راجا مہاراجاؤں اور بادشاہوں کو لے کر کہانیاں پھیلتی تھیں کہ بادشاہ لباس بدل کر اپنی رعایا کے حالات جاننے کے لیے نکلا کرتے تھے اور پتہ کرتے تھے کہ ان کی حکومت کیسی چل رہی ہے، اس سے ملتی جلتی کہانیاں آج کل دہلی کے ساؤتھ بلاک اور نارتھ بلاک کے گلیاروں میں گھوم رہی ہیں۔ یہ کہانیاں وزیر اعظم نریندر مودی کی نہ صرف انتظامیہ کو، بلکہ کابینہ کے کام کے طریقے کو بہتر بنانے کے سلسلے میں کہی جا رہی ہیں۔ ان میں سے کچھ کہانیاں ہم آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں۔

Read more

ایک سوشل ریفارمر کی تقریر

آخر کیا فرق پڑتا ہے، اگر آزادی کی 68 ویں سالگرہ پر ہم خوش نہیں ہیں۔ کیا فرق پڑتا ہے کہ ملک کے لیے شدت اور گہرائی سے سوچنے والے لوگ خوش نہیں ہیں۔ اور، اس سے بھی کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم نے وزیر اعظم نریندر مودی سے جو امیدیں لگا رکھی تھیں، وہ مکمل طور پر پوری ہوتی نہیں دکھائی دے رہی ہیں۔ خوش اس بات سے ہونا چاہیے کہ ملک کا ایک بڑا طبقہ لال قلعہ سے کی گئی نریندر مودی کی تقریر سے خود کو کافی پرجوش محسوس کر رہا ہے، خود کو جذبے سے سرشار محسوس کر رہا ہے اور اسے لگتا ہے کہ ملک کے لیے ایک نئے راستے کی سمت نریندر مودی نے دکھا دی ہے۔ ہمیں بھی لوگوں کی اس خوشی میں شامل ہونا چاہیے اور ہم خود کو اس خوشی میں شامل کرنا ضروری مانتے ہیں۔

Read more

وزیر خزانہ صاحب ، آپ مثال بن سکتے ہیں

جب سے سوئزرلینڈ میں کالے دھن کی بات چلی ہے، تب سے یہ ماحول بنا ہے کہ اگر وہ سارا پیسہ ملک میں واپس آ جائے، تو ہمارے سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ ہمیں ٹیکس نہیں دینا پڑے گا اور ترقی میں ہم کسی بھی ترقی پذیر ملک کے مقابلے کھڑے ہونے کی طاقت پیدا کر لیں گے۔ حالانکہ، ابھی کسی کو معلوم نہیں ہے کہ بیرونی ممالک میں ہندوستان کا کتنا کالا دھن جمع ہے۔ اس جمع رقم میں بہت سارا پیسہ بے نامی ہے، جس کے وارثوں کو یہ پیسہ کبھی نہیں ملنے والا۔ اس کی صرف ایک وجہ ہے کہ جن سیاست دانوں یا دولت مندوں نے سوئزر لینڈ میں حوالہ سے پیسہ بھیجا اور وہاں کے بینک میں جمع کرایا، ان میں سے بہتوں نے اس ڈر سے کہ ان

Read more

یہ نریندر مودی کا سب سے بڑا امتحان ہے

ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکہ کے صدر براک اوبامہ کی ملاقات ستمبر میں امریکہ میں ہونے والی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اس کی تیاری کے لیے ہندوستان آئے ہیں۔ دراصل، امریکی وزیر خارجہ کے اس ہندوستانی دورہ کا مقصد وزیر اعظم کے امریکی دورہ سے قبل کی تیاری کے ساتھ ساتھ نریندر مودی کو تھوڑا لچیلا رخ اپنانے کے لیے تیار کرنا ہے۔ امریکہ نے نریندر مودی کو گزشتہ 12 سالوں سے فسادات کا قصوروار ٹھہراتے ہوئے ویزا نہیں دیا تھا۔ اب نریندر مودی کو ہندوستان کے عوام نے وزیر اعظم منتخب کیا ہے، اس لیے امریکہ چاہتا ہے کہ نریندر مودی کے ساتھ بدلے حالات میں رشتے معمول پر لائے جائیں۔ لیکن اس کے پیچھے امریکہ کی عدالت میں ہوا یہ انکشاف بھی ہے کہ امریکہ نے یوروپی ممالک کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے کچھ لیڈروں کی بھی جاسوسی کرائی، جس میں سابق وزیر خزانہ اور موجودہ صدر پرنب مکھرجی، بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق صدر نتن گڈکری اور شاید ارون جیٹلی کا نام شامل ہے۔ اس انکشاف سے یوروپی ممالک میں شور شرابہ ہوا، کافی خبریں آئیں، لیکن ہندوستان میں کافی متوازن خبریں آئیں اور اس خبر کو دبانے کی کوشش ہوئی، کیوں کہ اب حالات بدلے ہوئے ہیں۔

Read more

اب دیر کرنا بہت مہلک ہوگا

ویسے تو وقت کافی پہلے آ چکا ہے، جب مکمل نظام کے بارے میں بات ہو۔ بات پہلے ہی شروع ہو جانی چاہیے تھی، کیو ںکہ نظام کے جتنے اہم اجزاء ہیں، وہ کام تو کر رہے ہیں، لیکن ان کاموں کا مقصدیا نتیجہ عوام کے آرام کی جگہ تکلیف میں نکل رہا ہے۔ اب اگر کہیں کہ نظام کے اجزاء کے درمیان میں ذمہ داری کا فقدان بڑھ رہا ہے اور فیصلہ لینے کا من مانا طریقہ فروغ پا رہا ہے، تو قطعی غلط نہیں ہوگا۔ اور، ابھی اگر ہم نے بات چیت نہیں کی، تو پھر موجودہ نظام بحران کا شکار ہو جائے گا۔

Read more