وزیر اعظم صاحب، یہ امتحان کی گھڑی ہے

اردو کا ایک شعر ہے، اسے اپنی طرح سے کہنے کی کوشش کرتے ہیں ’’کس کس پہ خاک ڈالیے، کس کس پہ روئیے / آرام بڑی چیز ہے، منھ ڈھک کے سوئیے‘‘۔ سچ مچ منھ ڈھک کے سونے کی خواہش ہو رہی ہے۔ کانگریس نے اس ملک کو 60-65 برسوں میں جو دیا، اسے ہم بھگت رہے ہیں۔ پورا ملک آپسی رنجش کے دہانے پر ہے، زوال کے دہانے پر ہے، ناامیدی کے دہانے پر ہے۔ جب کانگریس کے ترجمان کہتے ہیں کہ سرکار مہنگائی گھٹانے کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے، تو ہنسی آتی ہے، کیوں کہ بنیادی طور پر مہنگائی کانگریس کی ہی دین ہے۔

Read more

صرف نظر رکھنا مسئلہ کا حل نہیں

گاؤںکے کچّے مال کو پکّے مال میں بدلنے کا کام گاؤں میں ہی ہونا چاہیے۔ اس فیصلے کو لیے بغیر نہ مہنگائی کا مقابلہ ہو سکتا ہے، نہ بدعنوانی کا اور نہ بے روزگاری کا۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ بات سرکاریں جانتی نہیں ہیں، لیکن سرکاریں اسے کرنا نہیں چاہتیں۔ کیونکہ، اگر وہ ایسا کریں گی، تو اس بدلے ہوئے ملک میں لوگ بیدار ہو جائیں گے اور فوراً پکڑ لیں گے کہ کمزوری کہاں ہے یا گڑبڑ کہاں ہے۔ اور ، اس لیے کوئی بھی سرکار آنے والے پیسوں سے کچھ فیصد لوگوں کو دولت مند ہونے سے روکنا نہیںچاہتی۔

Read more

عوام کو بھیک نہیں، مواقع چاہئیں

ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے ہم اس سچائی کو رکھنا چاہتے ہیں جسے وہ غالباً سمجھتے ہوں گے۔ملک کے عوام کی نفسیات2011 سے پہلے جو تھی وہ 2011 کے بعد بدل گئی ہے۔ 2011 سے پہلے لوگوں کو لگتا تھا کہ وہ کچھ نہیں کرسکتے۔ ان کی بات سسٹم نہیں سن رہا ہے یا سسٹم کبھی سنے گا نہیں،لیکن 2011 کی انا ہزارے کی تحریک نے ملک کے لوگوں کے دل میں ایک خود اعتمادی پیدا کی اور لوگوں کو لگا کہ ہم کھڑے ہوکر کسی بات کے لئے دبائو ڈالیں گے تو سسٹم کو اسے سننا پڑے گا اور اس کے بعد کئی جگہ ایسی مثالیں سامنے آئیں جب سسٹم کو لوگوں کی بات سننی پڑی۔ بنا کسی لیڈر کے، عصمت دری کی شکار لڑکی

Read more

سو دنوں کا ایجنڈا کتنا کارگر ہوگا؟

نریندر مودی نے کابینہ کی پہلی میٹنگ میں دو کام کیے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ دونوں کام اچھے ہیں۔ پہلا کام، انہوں نے دس ترجیحات طے کی ہیں، جنہیں سامنے رکھ کر ان کی کابینہ کام کرے گی۔ دوسرا کام، انہوں نے اپنے وزیروں سے کہا ہے کہ وہ 100 دنوں کا ایجنڈا بنائیں اور 100 دنوں کا رپورٹ کارڈ انہیں سونپیں۔

Read more

سو دنوں کا ایجنڈا کتنا کارگر ہوگا؟

نریندر مودی نے کابینہ کی پہلی میٹنگ میں دو کام کیے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ دونوں کام اچھے ہیں۔ پہلا کام، انہوں نے دس ترجیحات طے کی ہیں، جنہیں سامنے رکھ کر ان کی کابینہ کام کرے گی۔ دوسرا کام، انہوں نے اپنے وزیروں سے کہا ہے کہ وہ 100 دنوں کا ایجنڈا بنائیں اور 100 دنوں کا رپورٹ کارڈ انہیں سونپیں۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب منموہن سنگھ دوبارہ وزیر اعظم بنے تھے، تو انہوں نے اپنے وزیروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ بھی 100 دنوں کا ایجنڈا بنائیں اور 100 دنوں کی پیش رفت کا بیورا، یعنی رپورٹ کارڈ انہیں سونپیں۔ افسوس کی بات، فیصلہ لینے کے بعد منموہن سنگھ اپنے اس فیصلہ کو بھول گئے۔ پورے پانچ سال گزر گئے اور 100 دن تو چھوڑ دیں، پانچ سال میں انہوں نے کیا کیا، یہ لوگوں کو بتا نہیں پائے۔ شاید اس لیے کہ سرکار اور وزیر خمار میں ڈوبے رہے، گھوٹالے پہ گھوٹالے ہوتے رہے اور اگر کوئی رپورٹ کارڈ منموہن سنگھ نے جاری کیا، تو وہ رپورٹ کارڈ ان کی آخری پریس کانفرنس میں تھا کہ ہم 1991 کی اقتصادیات کے دور میں پہنچ گئے ہیں، یعنی ملک 1991 کی اقتصادی بنیاد پر پہنچ گیا ہے۔ اس کا دوسرا مطلب فطری طور پر یہ ہے کہ جتنی اقتصادی ترقی ہونی چاہیے تھی، اتنی ہی ہوئی۔ جن پالیسیوں کو لے کر اقتصادی ترقی کے خواب دکھائے گئے تھے، ان پالیسیوں کا ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

Read more

وزیر اعظم کا ترقیاتی ماڈل کون سا ہوگا؟

سیاست میں نئی طاقتیں سامنے آ رہی ہیں اور ان طاقتوں نے نئے سرے سے ملک کے مسائل کو حل کرنے کا نقشہ بھی بنانا شروع کر دیا ہے۔ ان طاقتوں نے پرانی طاقتوں کو کامیابی کے ساتھ کنارے کرنے کا بھی کام کیا ہے۔ ان میں پہلی طاقت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ہے۔ اب تک راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو ایک کلچرل آرگنائزیشن مانا جاتا تھا۔ نہ صرف سنگھ نے، بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی ہمیشہ اس الزام کو خارج کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی سنگھ کی ہدایت پر کام کرتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ہمیشہ کہتی رہی ہے کہ وہ آزاد تنظیم ہے۔ چونکہ سنگھ سے اس کا رشتہ ہے، تو وہ احترام کرتی ہے اور سنگھ بھی یہ کہتا رہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک آزاد تنظیم ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ اس نے سیاست کے لیے بی جے پی کو جس طرح قائم کیا، اسی طرح اس نے سماج کے مختلف طبقوں میں کام کرنے کے لیے الگ الگ تنظیمیں قائم کی

Read more

یہ الیکشن کئی غلط فہمیوں کو توڑ گیا

یہ الیکشن انوکھا رہا۔ لوگوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ عوام ان کے غلام ہیں اور وہ کچھ کریں یا نہ کریں، لوگ ان کو ووٹ دیں گے ہی دیں گے۔ ایک خیال یہ تھا کہ مسلمان ہمیشہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو جو ہرا سکتا ہے، اسے ووٹ دیں گے۔ اور اسی بات کو پھیلانے کا کام ہمیشہ مسلمانوں کے رہنما کرتے رہے۔ مسلمانوں کے رہنما اس کا فائدہ بھی اٹھاتے رہے اور ہر الیکشن سے پہلے ٹیکٹیکل ووٹنگ کی بات کہہ کر مختلف پارٹیو ںکو ووٹ دلانے کا ذمہ بھی لیتے رہے۔ ٹیکٹیکل ووٹنگ دراصل ایسا لفظ ہے، جس لفظ کے اوپر نہ کوئی ذمہ داری آتی ہے اور نہ کسی کو اس کا فائدہ ہوتا ہے۔ ایک لسٹ نکالی جاتی ہے اور ساتھ میں ایک اپیل کہ ہم نے یہ لاکھوں کروڑوں میں چھپوا کر مسلمانوں کے پاس پیغام بھیج دیا ہے کہ اب وہ اسے ووٹ دے دیں گے جو بی جے پی کو ہرا سکتا ہے۔ ایک ہی انتخابی حلقہ میں کئی پارٹیوں کے ٹیکٹیکل ووٹوں کی لسٹ آتی ہے۔ یہ لسٹ بھی آج تک ایک نہیں ہوئی۔ یہ الیکشن ان سب غلط فہمیوں کو بھی توڑ گیا۔

Read more

نریندر مودی کے لئے ایک سنہرا موقع

نریندر مودی کو ایشور نے، اللہ نے، گاڈ نے، واہے گرو نے یا دوسرے لفظوں میں کہیں تو، وقت نے تاریخ کا سب سے اہم موقع فراہم کیا ہے۔ نریندر مودی کے سامنے گزشتہ 64 سالوں کی کامیابیوں اور ناکامیوں کے تجربات ہیں۔ کس پارٹی نے یا کس وزیر اعظم نے لوگوں کے لیے کیا کیا، کیا نہیں کیا، اس کی فہرست ہے اور آج نریندر مودی کے سامنے یہ ملک مواقع کی ایک کھلی کتاب بن کر سامنے کھڑا ہوا ہے۔ نریندر مودی کو ملے اس موقع کے پیچھے ملک کے عوام کی مثبت حمایت ہے اور یہ مثبت حمایت ان کے حق میں جب بن رہی تھی، تو اس کو ملک کا کوئی صحافی، کوئی دانشور، کوئی سروے کرنے والا کسی بھی طرح سمجھ نہیں پایا۔ شاید اس بنتی حمایت کو نریندر مودی بھی سمجھ نہیں پائے ہوں گے اور وہ بھی کہیں نہ کہیں ایشور کو یا وقت کو مبارکباد دے رہے ہوں گے اور اس بے پناہ حمایت کو سلام کر رہے ہوں گے۔
اس بے پناہ حمایت کی تعمیر جن اسباب سے ہوئی، ان اسباب کو پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے ہر شخص کو جاننا چاہیے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو تو ضرور جاننا چاہیے۔ وجہ، غصہ اور اس سے نکلی ہوئی حمایت دراصل ایک شیر ہے، جس کے اوپر آج نریندر مودی سوار ہوئے ہیں۔ منموہن سنگھ جب وزیر اعظم بنے تھے، تو ملک کے سامنے مسائل کا پہاڑ تھا۔ وہ مسائل دو وجہوں سے پیدا ہوئے تھے۔ پہلا مسئلہ، آزادی کے بعد ملک کے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کو ترجیح نہ ملنا۔ اس وجہ سے لوگ ترقی کے دائرے سے دھیرے دھیرے باہر ہونے لگے اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ملک کا ایک بڑا طبقہ خود کو اقتدار سے محروم سمجھنے لگا، جس کا نتیجہ ملک میں خانہ جنگی بھی ہو سکتی تھی۔

Read more

ترقی یا تباہی، نریندر مودی اپنی ترجیحات طے کریں

اس وقت ملک کے ہر نیوز چینل پر نریندر مودی کا انٹرویو آ رہا ہے۔ مودی وزیر اعظم بننے والے ہیں، یہ ٹی وی چینلوں نے مان لیا ہے۔ اسی انداز میں انٹرویو لینے والے سوال کر رہے ہیں، گویا وہ نریندر مودی سے کتنا رحم و کرم چاہتے ہیں، یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ اخباروں کے انٹرویو ای میل سے ہو رہے ہیں اور اخبار یہ لکھ رہے ہیں کہ مودی کے جواب بہت بے باک اور صاف ہیں۔
اگر ٹی وی چینل اور اخبار یہ دعویٰ کریں، تو اس سے اتفاق کیسے نہیں کیا جا سکتا ہے، لیکن ان سارے سوالوں میں ملک کے غریب، محروم اور مسلمان غائب ہیں۔ ان طبقات کی حالت کیسے سدھاری جائے، اس کے بارے میں نہ کوئی سوال ہے اور نہ وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار کا کوئی بیان ہے۔ ایک اور طبقہ غائب ہے، اعلیٰ طبقہ، جن میں برہمن، ٹھاکر، کایستھ اور تاجر طبقہ آتا ہے۔

Read more