نریندر مودی کے لئے ایک سنہرا موقع

نریندر مودی کو ایشور نے، اللہ نے، گاڈ نے، واہے گرو نے یا دوسرے لفظوں میں کہیں تو، وقت نے تاریخ کا سب سے اہم موقع فراہم کیا ہے۔ نریندر مودی کے سامنے گزشتہ 64 سالوں کی کامیابیوں اور ناکامیوں کے تجربات ہیں۔ کس پارٹی نے یا کس وزیر اعظم نے لوگوں کے لیے کیا کیا، کیا نہیں کیا، اس کی فہرست ہے اور آج نریندر مودی کے سامنے یہ ملک مواقع کی ایک کھلی کتاب بن کر سامنے کھڑا ہوا ہے۔ نریندر مودی کو ملے اس موقع کے پیچھے ملک کے عوام کی مثبت حمایت ہے اور یہ مثبت حمایت ان کے حق میں جب بن رہی تھی، تو اس کو ملک کا کوئی صحافی، کوئی دانشور، کوئی سروے کرنے والا کسی بھی طرح سمجھ نہیں پایا۔ شاید اس بنتی حمایت کو نریندر مودی بھی سمجھ نہیں پائے ہوں گے اور وہ بھی کہیں نہ کہیں ایشور کو یا وقت کو مبارکباد دے رہے ہوں گے اور اس بے پناہ حمایت کو سلام کر رہے ہوں گے۔
اس بے پناہ حمایت کی تعمیر جن اسباب سے ہوئی، ان اسباب کو پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے ہر شخص کو جاننا چاہیے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو تو ضرور جاننا چاہیے۔ وجہ، غصہ اور اس سے نکلی ہوئی حمایت دراصل ایک شیر ہے، جس کے اوپر آج نریندر مودی سوار ہوئے ہیں۔ منموہن سنگھ جب وزیر اعظم بنے تھے، تو ملک کے سامنے مسائل کا پہاڑ تھا۔ وہ مسائل دو وجہوں سے پیدا ہوئے تھے۔ پہلا مسئلہ، آزادی کے بعد ملک کے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کو ترجیح نہ ملنا۔ اس وجہ سے لوگ ترقی کے دائرے سے دھیرے دھیرے باہر ہونے لگے اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ملک کا ایک بڑا طبقہ خود کو اقتدار سے محروم سمجھنے لگا، جس کا نتیجہ ملک میں خانہ جنگی بھی ہو سکتی تھی۔

Read more

ترقی یا تباہی، نریندر مودی اپنی ترجیحات طے کریں

اس وقت ملک کے ہر نیوز چینل پر نریندر مودی کا انٹرویو آ رہا ہے۔ مودی وزیر اعظم بننے والے ہیں، یہ ٹی وی چینلوں نے مان لیا ہے۔ اسی انداز میں انٹرویو لینے والے سوال کر رہے ہیں، گویا وہ نریندر مودی سے کتنا رحم و کرم چاہتے ہیں، یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ اخباروں کے انٹرویو ای میل سے ہو رہے ہیں اور اخبار یہ لکھ رہے ہیں کہ مودی کے جواب بہت بے باک اور صاف ہیں۔
اگر ٹی وی چینل اور اخبار یہ دعویٰ کریں، تو اس سے اتفاق کیسے نہیں کیا جا سکتا ہے، لیکن ان سارے سوالوں میں ملک کے غریب، محروم اور مسلمان غائب ہیں۔ ان طبقات کی حالت کیسے سدھاری جائے، اس کے بارے میں نہ کوئی سوال ہے اور نہ وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار کا کوئی بیان ہے۔ ایک اور طبقہ غائب ہے، اعلیٰ طبقہ، جن میں برہمن، ٹھاکر، کایستھ اور تاجر طبقہ آتا ہے۔

Read more

صحافت کا معیار تیزی سے گر رہا ہے

دو ہزار نو سے لے کر 2014 تک کا وقت اگر سب سے زیادہ کسی کے لیے امتحان کا ثابت ہونے والا ہے، تو وہ ہندوستان کا میڈیا ہے۔ افواہیں بھی ہیں، واقعات بھی ہیں اور سچائیاں بھی ہیں۔ اس لیے صحیح وقت ہے کہ ایک بار ان ساری چیزوں کا ہم لوگ جائزہ لیں۔

Read more

جو بھی جیتے، اسے ملک کے لئے کام کرنا چاہئے

دس اپریل کو دہلی اور مغربی اترپردیش کے انتخابات ہوئے۔ 6 سیٹوں پر بہار میں بھی ووٹ پڑے۔ کل ملا کر تقریباً 91 سیٹوں پر ووٹ پڑے۔ ووٹوں کا فیصد شاندار رہا۔ اس کی جڑ میں الیکشن کمیشن کا پرچار، اس کی کوشش کہ لوگ زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالیں، تو تھی ہی اور گزشتہ چند انتخابات میں نوجوان ووٹرس میں ووٹ ڈالنے کا زیادہ جوش دکھائی دے رہا ہے۔ 18 سال سے 24 سال کے نوجوان اچانک الیکشن کو سب سے اہم ماننے لگے ہیں۔ پہلے انتخابات میں کارکن ہوا کرتا تھا۔ اس کے بعد پچھلے 10-15 برسوں میں کارکن کی جگہ روزانہ خرچے پر کام کرنے والے نوجوان الیکشن میں استعمال ہونے لگے۔ لیکن، دہلی اسمبلی کے پچھلے الیکشن کے بعد پورے ملک میں نئے سرے سے نوجوان کارکن پارٹیوں کو ملنے لگے اور لوک سبھا کے اس الیکشن میں تو نوجوان کارکنوں نے بھی اپنی اپنی پارٹیوں میں، الیکشن میں حصہ لیا۔ووٹروں کی نوجوان حصہ داری نے بڑھ چڑھ کر اپنا رول ادا کیا۔

Read more

مودی کے ساتھ عوام کا بھی امتحان

بات بھارتیہ جنتا پارٹی کی آج کی حالت کی کرنی چاہیے، نریندر مودی کی نہیں۔ آج ہندوستان میں 35 ریاستیں اور یونین علاقے ہیں۔ ان میں سے کچھ ریاستوں کے آج لوک سبھا میں کتنے ایم پی ہیں، اس کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ آندھرا پردیش سے 42، کیرالہ سے 20، اڑیسہ سے 21، تمل ناڈو سے 39، دہلی سے 7 اور جموں و کشمیر سے 6 لوک سبھا کے اراکین منتخب ہوتے ہیں۔ ان ساری ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی صفر ہے۔ اسے ایک بھی سیٹ اِن ریاستوں میں، موجودہ لوک سبھا میں، جو معطل ہو چکی ہے، نہیں مل پائی۔ جب کہ یہاں پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے جیتنے کی اور اپنی موجودگی درج کرانے کی جی جان سے کوشش کی تھی۔

Read more

کمال کا کھیل ہے 2014 کا الیکشن

مان لینا چاہیے کہ نریندر مودی ملک کے اگلے وزیر اعظم بنیں گے۔ جس طرح ان کی ریلیوں میں بھیڑ جمع ہو رہی ہے اور جس طرح کا ان کا پرچار چل رہا ہے، وہ ظاہر کرتا ہے کہ سارا ملک ان کے ساتھ ہے، بس تھوڑی سی کسر سروے رپورٹس بتا رہی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اکیلے 170 سے 180 سیٹیں اور حلیفوں کے ساتھ این ڈی اے کی کل سیٹیں 220 سے 230۔ کوئی بھی سروے 230 سے آگے نریندر مودی کے این ڈی اے کو نہیں لے جا پا رہا ہے۔ دراصل، یہ این ڈی اے بی جے پی کا نہیں ہے، یہ نریندر مودی کا این ڈی اے ہے اور این ڈی اے کے سیٹوں کی تعداد بڑھتی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ جو پارٹیاں این ڈی اے کے ساتھ جڑی ہیں، ان میں شو سینا اور اکالی دَل کو چھوڑ دیں، تو ایک یا دو سیٹیں بھی شاید ہی انہیں مل پائیں۔

Read more

ایم جے اکبر کا بی جے پی میں جانا ایک اچھا اشارہ

آج میری شری ایم جے اکبر سے ملاقات ہوئی۔ ایم جے اکبر ابھی کچھ دن پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوئے اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے فوری طور پر انہیں اپنا ترجمان مقرر کر دیا۔ اکبر صاحب کا شمار صحافت کی مثالی شخصیات میں رہا ہے اور شاید وہ ان چند زندہ شخصیات میں سے ہیں، جنہیں دیکھ کر انگریزی اور کچھ ہندی کے صحافی بھی اپنا کریئر ویسا ہی بنانا چاہتے ہیں۔ میرے من میں سوال تھا کہ آخر ایم جے اکبر نے کیوں بھارتیہ جنتا پارٹی میں جانا پسند کیا۔ میں جن ایم جے اکبر کو جانتا ہوں، ان کے سکھائے ہوئے راستے پر میرے سمیت چلنے والے بہت سارے لوگ ہیں اور بہتوں کے من میں یہ سوال کھڑا ہوا کہ ایم جے اکبر کیا بھارتیہ جنتا پارٹی میں صرف راجیہ سبھا میں جانے کی لالچ میں شامل ہوئے، کیا وہ مودی سرکار میں وزیر بننا چاہتے ہیں، کیا ان کے من کی یہ دونوں خواہشیں دبی رہ گئیں، جن میں سے ایک خواہش راجیو گاندھی نے پوری نہیں کی اور اس کے بعد راجیو گاندھی کی جگہ سنبھالنے والے نرسمہا راؤ اور سونیا گاندھی نے ایم جے اکبر جیسی شخصیت کو بالکل کنارے کر دیا۔ ظاہر ہے، سوالات کبھی ختم نہیں ہوتے، لیکن جب ایم جے اکبر نے مجھے کافی پینے کے لیے مدعو کیا، تو میرے سامنے اس سچائی کو جاننے کا ایک موقع ہاتھ آ گیا۔

Read more

مسلمان اپنے حق کے لئے خود آگے آئیں

بھارتیہ جنتا پارٹی ملک میں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نریندر مودی کو امیدوار بناکر جتنے بھی سماج کے حصے ہو سکتے ہیں، انھیں جیتنے کی کوشش میں لگی ہے، لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ اس کام میں بھارتیہ جنتا پارٹی کوئی کوشش خود کرتی نہیں دکھائی دے رہی ہے، یہ ساری کوششیں نریندر مودی کے لیے خود نریندر مودی کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی سرکار کے سب سیبہترین دماغ کو انتخاب کے کام میں لگا دیا ہے اور جو بھی ممکن ہو سکتا ہے، اسے وہ انتخابی سمر میں مدد کے لیے تلاش بھی کر رہے ہیں اور پکار بھی رہے ہیں۔ اب کوئی کیا کرے، جب لوگوں کو نریندر مودی کے چہرے یا نریندر مودی کے جسم کی زبان میں ایک سخت اور مغرور شخص نظر آتا ہے۔ عام طور پر نریندر مودی کم مسکراتے ہیں اور اکیلے میں کھل کر زیادہ ہنستے ہیں۔

Read more

عظیم انا کی بڑی نا انصافی

میں محترم انا ہزارے کے ذریعے 14 مارچ کو لگائے گئے الزام کو اس لیے تسلیم کرتا ہوں، کیوں کہ یہ الزام ایک ایسے شخص کے ذریعے لگائے گئے ہیں، جن کا میں ہمیشہ احترام کرتا رہا ہوں۔ میں ہمیشہ سے مانتا رہا ہوں کہ انا ہزارے اس ملک کے غریب، محروم، اقلیت، خاص کر مسلمان اور اقتصادی طور پر پس ماندہ لوگوں کے تئیں حساس ہیں اور ان کی زندگی میں تبدیلی چاہتے ہیں۔میں ان کا احترام ان کی سادگی یا سفید کپڑے و ٹوپی، مندر میں رہنے کی وجہ سے نہیں کرتا ہوں بلکہ ان کے اقتصادی ایجنڈے کی وجہ سے میں ان کا احترام کرتا ہوں۔ انہوں نے جو 17 نکاتی اقتصادی ایجنڈا سبھی پارٹیوںکو بھیجا ۔وہ سماجی ترقیات کی کنجی ہے۔میں

Read more

سیاست کا یہ نیا طریقہ خطرناک ہے

جن لوگوں سے جان پہچان ہو، ان کے بارے میں کچھ بھی لکھنا بہت مشکل ہوتا ہے، لیکن چونکہ کہی ہوئی باتیں اور کیے ہوئے کام سیاست میں ایک روایت قائم کر رہے ہیں، اس لیے ان کے بارے میں بات کرنا ضروری ہے۔ سیاست میں اروِند کجریوال اور ان کے ساتھیوں نے کئی نئی باتوں کی شروعات کی ہے۔ جو باتیں دوسری سیاسی پارٹیاں پوشیدہ طور پر کرتی تھیں اور جن کی تنقید ہوتی تھی، آج وہ کام عام آدمی پارٹی کے ساتھی کرتے ہیں۔

Read more
Page 20 of 43« First...10...1819202122...3040...Last »