یو پی اےسرکار کو پسند نہیں سی بی آئی کی خود مختاری

ڈاکٹر قمر تبریز
ہندوستان کی مرکزی تفتیشی ایجنسی، سی بی آئی پر ہمیشہ یہ الزام لگتے رہے ہیں کہ وہ غیر جانبدار ہو کر کام نہیں کرتی، بلکہ زیادہ تر معاملوں میں مرکزی حکومت کے دباؤ میں آکر کام کرتی ہے۔ سرکار کی اس بیجا مداخلت کی وجہ سے خود سی بی آئی کے اہل کاروں کے درمیان بے چینی پائی جا تی رہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ساتھ ملک کے عوام بھی اب شدت سے یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ سرکار پہلے تو گھوٹالے کرتی ہے اور جب ان گھوٹالوں کی تفتیش کی ذمہ داری سی بی آئی کو سونپی جاتی ہے، تو اپنے گناہوں کو چھپانے کے لیے سرکار اس بات کی پوری کوشش کرتی ہے کہ سی بی آئی اپنی جانچ کے بعد اسے اور گھوٹالوں میں ملوث اس کے وزیروں کو کلین چٹ دے دے۔ سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹرس

Read more

این سی ای آر ٹی میں ایک بار پھر اردو کا قتل، بدعنوانیاں زوروں پر

چند ہفتوں قبل این سی ای آر ٹی میں نصابی کتابوں کی اشاعت کے لیے ذمہ دار یہاں کے پبلی کیشن ڈپارٹمنٹ میں پانچ خالی پوسٹ کے تحت سات افراد کی نئی تقرری کے لیے اشتہار دیا گیا۔ ان کی تفصیل یوں ہے : ایک چیف پروڈکشن آفیسر،دو ایڈیٹر، ایک بزنس منیجر، ایک اسسٹنٹ پروڈکشن آفیسراور دو اسسٹنٹ ایڈیٹر۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ اس میں سے کسی بھی پوسٹ کو اردو سے نہیں جوڑا گیا ہے، جب کہ اس حقیقت سے پورا ہندوستان واقف ہے کہ این سی ای آر ٹی میں اسکولی بچوں کے لیے جو نصابی کتابیں تیار ہوتی ہیں، وہ اردو، ہندی اور

Read more

یو این آئی کے مالی بحران کا انجام کیا ہوگا ؟

ڈاکٹر قمر تبریز
ہندوستان دنیا کے اُن چند جمہوری ممالک میں سے ایک ہے، جہاں پریس آزاد ہے۔ یہاں کے پریس کی تاریخ 203 برس پرانی ہے۔ مولوی اکرم علی کو یہ فخر حاصل ہے کہ انہوں نے اولین ہندوستانی کے طور پر 1810 میں کولکاتہ سے ’اردو اخبار‘ نکالا، جو کہ کسی بھی ہندوستانی زبان میں کسی ہندوستانی کے ذریعے شائع کیا گیا پہلا اخبار تھا۔ ہندوستانیوں کے ذریعے نکالے گئے زیادہ تر اخبارات محب وطن تھے۔ یہی وجہ ہے کہ 1857 کے واقعہ کے ایک سال بعد نئے برطانوی قانون ’پریس گیگنگ ایکٹ‘ کے تحت زیادہ تر اخبارات کو بند ہو جانا پڑا۔ 19 ویں صدی کے اواخر اور 20 ویں صدی کے نصف اول میں متعدد اخبارات مختلف زبانوں میں نکلے۔

Read more

ہندوراشٹر، مسلم راشٹر : کیا ہندوستان سیکولر ملک رہ پائے گا

ڈاکٹر قمر تبریز
اگلے لوک سبھا الیکشن کی آمد آمد ہے۔ ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنی اپنی کمر کس لی ہے۔ لوک سبھا کی سب سے زیادہ، یعنی 80 سیٹیں اتر پردیش سے آتی ہیں۔ اس لیے سخت گیر ہندوؤں اور سخت گیر مسلمانوں، دونوں نے ہی ملک کے اقتدار پر اپنا قبضہ جمانے کے لیے اتر پردیش کو اپنی سیاسی لڑائی کا میدان بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایک طرف جہاں اس ملک میں فرقہ واریت کے علم بردار نریندر مودی نے اپنے سپہ سالار امت شاہ کو یو پی میں بھیج کر ہندوؤں کی ذہن سازی کے کام میں لگا دیا ہے، وہیں دوسری طرف ندوۃ العلماء کے مولانا سید سلمان حسینی ندوی ایک بار پھر مسلمانوں کا سیاسی محاذ کھڑا کرنے کی فراق میں لگے ہوئے ہیں۔ مودی کے کام میں جہاں ایک طرف ملک کا پورا قومی میڈیا اپنا تعاون پیش

Read more

ان لیڈروں کو معلوم ہی نہیں کہ مسلمانوں کے مسائل کیا ہیں

ڈاکٹر قمر تبریز
آج ہندوستان میں مسلمانوں کے مسائل کیا ہیں؟ دہشت گردی کا الزام، بے گناہ مسلم نوجوانوں کی گرفتاری، فرقہ وارانہ فسادات میں جان و مال کا نقصان، ریزرویشن کا نہ ملنا، تعلیم کی کمی، پولس و دیگر سرکاری نوکریوں میں تین فیصد سے بھی کم نمائندگی، ملک کی سیاست میں معقول حصہ داری نہ ملنا، وقف املاک کی لوٹ یا کچھ اور؟دورِ حاضر کے اردو اخبارات اور سیاسی لیڈروں کی بیان بازیوں میں آج سب سے زیادہ زور صرف تین چیزوں پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہ تین چیزیں ہیں، دہشت گردی کے الزام میں معصوم مسلم نوجوانوں کی گرفتاری، ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات اور ریزرویشن۔ بقیہ مسائل، جیسے مسلمانوں میں تعلیم کی کمی، پولس

Read more

کوئلہ گھوٹالے کی جانچ: ایچ سی گپتا نے استعفیٰ دے دیا، وزیر اعظم کب دیں گے ؟

ڈاکٹر قمر تبریز
سال 2006 سے 2009 کے درمیان کوئلہ سکریٹری رہے، ایچ سی گپتانے گزشتہ 12 جون کو اپنے موجودہ عہدہ، یعنی کمپٹیشن کمیشن آف انڈیا کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ دراصل، سی بی آئی نے یو پی اے سرکار سے ایچ سی گپتا سے کوئلہ گھوٹالے کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔ شروع میں تو سرکار نے اس کی اجازت دینے سے منع کردیا تھا، جس سے یوں لگا تھا کہ شاید ایچ سی گپتا کے پاس ایسا کوئی نہ کوئی راز ضرور ہے، جس سے اگر وہ پردہ اٹھا دیں گے، تو منموہن سنگھ کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں، کیوں کہ جس وقت کوئلہ گھوٹالہ ہوا تھا، اُس وقت وہ خود کوئلہ وزارت کو دیکھ رہے تھے۔ لیکن جب کارپوریٹ افیئرس کی وزارت، جس کے تحت کمپٹیشن

Read more

مہاراشٹر: مسلمانوں کے مسائل جوں کے توں

ڈاکٹر قمر تبریز
گزشتہ لوک سبھا انتخابات اور اس کے بعد اب تک متعدد ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے نتائج نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا ووٹ کسی بھی سیاسی پارٹی کی جیت یا ہار میں فیصلہ کن رول ادا کرتا ہے۔ کچھ ہی دنوں بعد ملک میں اگلی لوک سبھا کے لیے عام انتخابات ہونے والے ہیں، لہٰذا تمام سیاسی پارٹیوں کی ایک بار پھر مسلم ووٹوں پر سب سے زیادہ نظر ہے۔ گزشتہ دنوں ہم نے بہار میں دیکھا کہ کیسے وہاں کے 17 فیصد مسلم ووٹ کو حاصل کرنے کی کوشش میں نتیش کمار کی سربراہی والی جنتا دل

Read more

عزیز برنی کا اخبار: کتنا عوامی اور کتنا غیر جانبدار ؟

ڈاکٹر قمر تبریز
صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ اسے سماج میں بہت ہی پر وقار مقام و حیثیت حاصل ہے۔یہی نہیں، ماضی میں ایک مظلوم کے لیے جب انصاف کی تمام راہیں بند ہو جاتی تھیں، تو وہ کسی اخبار کے ایڈیٹر سے ملتا تھا اور اس امید کے ساتھ اسے اپنی بات سناتا تھا کہ اخبار میں اس کی حقیقت سامنے آنے کے بعد اُسے انصاف ضرور مل جائے گا، لیکن اب لوگوں کا اعتماد صحافیوں پر سے اٹھنے لگا ہے۔ کسی بھی پیشہ میں اگر ایمانداری ختم ہو جائے، تو اس کے حاملین کا حشر ایسا ہی ہوتا ہے۔ اردو اخباروں کے بارے میں بھی لوگوں

Read more

آر ٹی آئی اور سیاسی پارٹیاں

ششی شیکھر
سینٹرل انفارمیشن کمیشن، سی آئی سی کا ایک حکم کیا آیا، گویا سیاسی گلیاروں میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ بڑی بڑی پارٹیوں کے لیڈروں کے ایسے ایسے بیان آنے لگے، گویا کوئی ان سے انفارمیشن نہیں مانگ رہا، بلکہ کسی نے ان کی عزت پر حملہ کر دیا ہو۔ دراصل، آر ٹی آئی کارکن سبھاش اگروال کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے سنٹرل انفارمیشن کمیشن نے یہ حکم دیا کہ سیاسی پارٹیاں آر ٹی آئی کے دائرے میں آتی ہیں۔اس فیصلہ کے پیچھے کمیشن نے یہ اسباب گنوائے تھے کہ سیاسی پارٹیاں بہت ہی کم قیمت پر زمین لیتی ہیں، انہیں بنگلہ ملتا ہے، انکم ٹیکس میں چھوٹ ملتی ہے، سیاسی پارٹیاں عوام کا کام کرتی ہیں، الیکشن کمیشن سے رجسٹرڈ ہوتی ہیں۔ کمیشن نے صاف لفظوں میں کہا کہ ہمارے جمہور

Read more

کوئلہ گھوٹالہ: کیا منموہن سنگھ جیل جا سکتے ہیں؟

ڈاکٹر قمر تبریز
پچھلے دنوں ہم نے دیکھا کہ کیسے یو پی اے سرکار کے وزیر قانون، اشونی کمار کو کوئلہ گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ رپورٹ میں چند تبدیلیاں کرنے اور وزیر اعظم منموہن سنگھ کا نام ہٹوانے کی کوششوں کی وجہ سے اپنے عہدہ سے ہاتھ دھونا پڑا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کس طرح سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں کانگریس کی قیادت والی مرکزی حکومت اور اس کے وزرا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو خاص ہدایت دی کہ اسے جانچ کی رپورٹ سرکار کے کسی بھی وزیر کو دکھانے کی ضرورت نہیں ہے اور ایسے کسی وزیر کو تو ہرگز بھی نہیں، جس کے خلاف خود معاملے کی جانچ چل رہی ہو۔

Read more
Page 5 of 9« First...34567...Last »