کیا کانگریس کوئی رول ادا کر پائے گی؟

کانگریس کوئی چھوٹی پارٹی نہیں ہے۔ یہ صرف ہندوستان کی ہی سب سے قدیم پارٹی نہیں ہے، بلکہ پوری دنیا میں جمہوری طریقے سے کام کرنے والی سب سے پرانی سیاسی پارٹیوں میں سے بھی ایک ہے۔ آزادی کے بعد سے اب تک لوک سبھا کے لیے ہونے والے کل 16 عام انتخابات میں سے 7 میں جہاں اس نے اپنے دَم پر مکمل اکثریت حاصل کی، وہیں اس نے اپنی قیادت میں ملک میں 2 بار مخلوط حکومت بھی چلائی۔ اس طرح مجموعی طور پر ہندوستان میں سرکار چلانے کا اس کے پاس 55 سالوں کا ریکارڈ ہے۔ اندرا گاندھی کے ذریعے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی وجہ سے کانگریس کو پہلی بار 1977 کے عام انتخابات میں شکست سے دو چار ہونا پڑا تھا، جب اسے لوک سبھا کی صرف 153 سیٹیں ہی مل سکی تھیں اور سرکار اس کے ہاتھوں سے چلی گئی تھی۔ اس کے بعد 1989 میں نویں لوک سبھا کے الیکشن میں بھی اس کی ہار ہوئی اور اسے

Read more

مسلم ووٹنگ پیٹرن : اسٹریٹجی کو بدلنے کی ضرورت

لوکسبھامیں مسلمانوں کی مسلسل گھٹتی تعداد کے لیے جہاں ایک طرف کانگریس پارٹی ذمہ دار رہی، وہیں اس بار عام آدمی پارٹی کو اگر اس کے لیے قصوروا ٹھہرایا جائے، تو بے جا نہ ہوگا۔ پہلے کانگریس پارٹی اس لیے ذمہ دار تھی، کیوں کہ اس نے ہندوستان کے مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرنے یا انہیں بیوقوف بنانے کا کوئی بھی موقع نہیں چھوڑا۔ اسی طرح اس بار کے عام انتخابات میں ہندوستانی مسلمانوں کو یہ غلط فہمی پیدا ہوگئی کہ قومی سطح پر صرف عام آدمی پارٹی ہی ہے، جو انہیں بی جے پی یا نریندر مودی سے نجات دلا سکتی ہے۔ حالانکہ انتخابی نتائج کو دیکھا جائے، تو قومی سطح پر عام آدمی پارٹی اتنا بھی ووٹ حاصل

Read more

انتخابات پر ’نوٹا‘ کے اثرات ، ابھی منزل دور ہے

ہندوستانی میں ایک طویل عرصے سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ ملک کی تقریباً سبھی سیاسی پارٹیاں ایسے امیدواروں کو بھی میدان میں کھڑا کردیتی ہیں، جن کا ماضی داغدار رہا ہے۔ ان امیدواروں میں چور، ڈکیت، لٹیرے، قاتل، زانی یا ریپسٹ، اسمگلر سبھی شامل ہیں۔ اسی لیے جہاں سے یہ امیدوار الیکشن میں کھڑے ہوتے ہیں، وہاں کے عوام کا ایک طبقہ انہیں ناپسند کرنے کی وجہ سے یا تو ووٹنگ کے دن اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ بوتھ تک جاتا ہی نہیں یا پھر چاہتا ہے کہ اسے کوئی ایسی سہولت ملے، جہاں پر وہ اپنی اس خواہش کا اظہار کر سکے کہ وہ اس سیٹ کے لیے جتنے بھی امیدوار ہیں، ان

Read more

انتخابی دور میں کتابوں کی سیاست

اس انتخابی دورمیں جہاں میڈیا پر یہ الزام لگ رہا ہے کہ وہ مودی کی حمایت میں متحد نظر آر ہا ہے، وہیں دوسری طرف اب یو پی اے سرکار کے رکن رہے بعض اعلیٰ پایے کے افسران بھی کتابوں کی شکل میں بہت سے چونکانے والے انکشافات کر رہے ہیں۔ اس کی شروعات سب سے پہلے کوبرا پوسٹ کی طرف سے ’آپریشن جنم بھومی‘ نامی سی ڈی عوام کے سامنے پیش کرکے کی گئی تھی۔ اس میں کوبرا پوسٹ نے اپنے مختلف اسٹنگ آپریشنز کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ بابری مسجد کو منہدم کرنے کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس نے ایک منظم سازش کی تھی۔ اس نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ سی بی آئی، جسے اس منظم سازش کا پردہ فاش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، اس نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور اسے اس سلسلے میں کوئی ثبوت نہیں مل رہا ہے۔

Read more

مسلم ووٹوں کی تقسیم کے درمیان سیاسی پارٹیوں کے انتخابی منشور

سولہویں لوک سبھا کے لیے ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس ملک کا مسلمان ذہن بنا چکا ہے کہ وہ یا تو عام آدمی پارٹی کو ووٹ ڈالے گا یا پھر کانگریس کو۔ علاقائی سطح پر مسلمانوں کے ووٹ بی ایس پی، ایس پی، ٹی ایم سی، آئی یو ایم ایل، یو ڈی ایف، ایم آئی ایم، ویلفیئر پارٹی آف انڈیا اور ایس ڈی پی آئی وغیرہ کو بھی ملنے کی امید ہے۔ لیکن مجموعی طور پر مسلمانوں کا ووٹ بری طرح تقسیم ہونے کی وجہ سے اس کا فائدہ بی جے پی کو ہوتا نظر آ رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چند نام نہاد مسلم رہنما مسلمانوں سے کسی مخصوص پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کرکے خود تو تنقید کا نشانہ بن ہی رہے ہیں، ساتھ ساتھ پوری

Read more

چور دروازے سے ملت کو بیدار کرنے کا مطلب ؟

ہندوستانی مسلمان پچھڑا ہوا ہے۔ دیگر قوموں کی طرح اسے بھی ملک کے آئین نے پورا تحفظ فراہم کر رکھا ہے۔ اس بات کو یہاں کی مختلف سیاسی پارٹیاں سمجھتی ہیں، لیکن ان کی نیت صاف نہ ہونے کے سبب مسلمانوں کو ان کا آئینی حق دینے میں یہی سیاسی پارٹیاں مختلف طریقوں سے رکاوٹیں بھی ڈالتی رہی ہیں۔ سیکولر ازم کا لبادہ اوڑھے کانگریس پارٹی جہاں مسلمانوں پر رنگناتھ مشرا کمیشن اور سچر کمیٹی کی تشکیل کرکے ان پر احسان جتاتی ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہے اور مختلف ادوار میں اپنی مرکزی و ریاستی حکومتوں کے دوران ہوئے فرقہ وارانہ فسادات نیز ملیانہ اور ہاشم پورہ کے سرکار کی سرپرستی میں ہوئے قتل عام کو بھول جاتی ہے۔ وہیں مسلم مخالف بھارتیہ جنتا پارٹی پہلے ان کا قتل عام کرکے اور ملک کے مختلف خطوں میں فرقہ وارانہ فساد برپا کرکے انتخابات کے وقت اب چور دروازے سے ان کی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے۔

Read more

پاکستان کے بعد ہندوستانی سیاست میں سعودی عرب کی دلچسپی کا کیا مطلب؟

گزشتہ 17 فروری، 2014 سے ہندوستان میں سعودی وزراء اور دیگر سرکاری اہل کاروں کے علاوہ دینی و علمی شخصیات بشمول امامِ مسجد نبوی، مدینہ منورہ کے لگاتار کئی دورے ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ کچھ دورے تو سرکاری سطح پر ہو رہے ہیں، لیکن ان میں سے زیادہ تر دورے نجی ہیں۔ سعودی عرب کے یہ حضرات جس طرح سے ہندوستان میں مختلف جلسے جلوسوں میں شریک ہو رہے ہیں یا پھر مختلف ہوٹلوں یا مدرسوں وغیرہ میں ہندوستانی سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں، اس سے یہ اندیشہ پیدا ہونے لگا ہے کہ کیا سعودی عرب ہندوستانی سیاست میں مداخلت کرنا چاہتا ہے؟ یہ اندیشہ اس وقت اور گہرا ہوجاتا ہے، جب پاکستان کو حال ہی میں سعودی عرب کے ذریعے دی گئی 1.5 بلین امریکی ڈالر کی رقم پر ہنگامہ مچا ہوا ہے۔

Read more

اتحادِ ملک و ملت یا انتشارِ ملک و ملت

ملک کے اوپر سولہویں لوک سبھا الیکشن کا بخار چڑھا ہوا ہے۔ ہر لیڈر اپنے طریقے سے ڈاکٹر بننے اور عوام کے مسائل کو حل کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ اس کوشش میں کچھ لوگ تو ایسے ہیں، جو وزارتِ عظمیٰ کی کرسی تک پہنچنا چاہتے ہیں اور زیادہ تر ایسے ہیں، جو لوک سبھا تک پہنچ کر اپنا اُلّو سیدھا کرنا چاہتے ہیں۔ چونکہ انتخابات سر پر ہیں، اس لیے سبھی کو عوام کی فکر ہونے لگی ہے، ورنہ پچھلے پانچ سال تک کسی نے اس عوام کی خبر خیریت تک لینے کی زحمت نہیں کی، جنہوں نے انہیں اپنا قیمتی ووٹ دے کر ایوانِ اقتدار تک پہنچایا تھا۔ چناوی تہوار میں کوئی چائے بیچ کر لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کی کوشش کر رہا ہے، تو کوئی اسے الٹے سیدھے الفاظ سے نواز کر خود کو اس سے بڑا بننے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ سبھی پارٹیاں اپنے اپنے طریقے سے ووٹروں کو لبھانے کا کام کر رہی ہیں۔

Read more

دو ہزار چودہ پارلیمانی انتخابات :مسلم سیاسی پارٹیاں اثردار یا بے اثر؟

چیف الیکشن کمشنر وی ایس سمپت نے گزشتہ 5 مارچ کو سولہویں لوک سبھا کے لیے انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر دیا۔ ووٹ ڈالنے کا سلسلہ 7 اپریل سے شروع ہو کر 12 مئی تک 9 مرحلوں میں چلے گا۔ ملک کی دو بڑی پارٹیوں، کانگریس اور بی جے پی کے ساتھ ساتھ علاقائی سطح کی بڑی بڑی پارٹیوں نے بھی سال 2014 کے شروع ہوتے ہی انتخابی ریلیوں، روڈ شوز اور دیگر سیاسی سرگرمیوں کی شروعات کردی تھی۔ ایک طرف جہاں بی جے پی کے وزیر اعظم عہدہ کے امیدوار نریندر مودی گجرات سے نکل کر پورے ملک میں اپنی ریلیاں زور شور سے کر رہے ہیں، وہیں کانگریس کی طرف سے راہل گاندھی بھی اب پوری طرح چناوی موڈ میں آ چکے ہیں۔ اسی طرح تمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ جے للتا کی پارٹی اے آئی ڈی ایم کے اور کروناندھی کی ڈی ایم کے، آندھرا پردیش میں کے

Read more