فیصلے کے بعد ماتم منا رہا ہے ہاشم پورہ

ہاشم پورہ فساد کیس میں 28 سال کی لمبی عدالتی کارروائی کے بعد فیصلہ آیا ہے۔ یہ فیصلہ دہلی کی تیس ہزاری کورٹ نے گزشتہ 21 مارچ کو سنایا۔ فیصلہ میں عدالت نے پی اے سی کے ان سبھی 16 ملزمین کو بری کردیا، جن پر 22 مئی، 1987 کو ہاشم پورہ کے 42 مسلم نوجوانوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے اور ان کی لاشیں گنگ نہر اور ہنڈن ندی میں پھینکنے کا الزام ہے۔ اس فیصلہ کے بعد ہاشم پورہ کے لوگ ماتم منا رہے ہیں، اپنے مرنے والوں کا نہیں، بلکہ ہندوستانی عدلیہ اور اس کے انصاف کرنے کے طریقوں کا۔ ’چوتھی دنیا‘ کی ٹیم نے فیصلہ آنے کے اگلے ہی دن ہاشم پورہ کا دورہ کرکے وہاں کے لوگوں کا ردِ عمل جاننے کی کوشش کی۔

Read more

ہاشم پورہ کا ہمدرد کوئی نہیں

ہاشم پورہ کے لیے آنسو بہانے والا تو دور، کوئی ہمدرد بھی نہیں مل پا رہا ہے۔ بڑی حیرانی کی بات ہے کہ 21 مارچ، 2015 کو تیس ہزاری کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد میڈیا کے لوگ تو میرٹھ شہر کے اُس ہاشم پورہ محلہ کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں 28 سال پہلے پی اے سی کے جوانوں نے موت کا کھیل کھیلا تھا، لیکن خود کو عوام کا رہنما کہنے والے سیاست دانوں میں سے کسی ایک کو بھی اب تک وہاں جانے کی توفیق نہیں ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہاشم پورہ کے بے گناہوں کو ملی اس نا انصافی میںسبھی پارٹیاں شامل ہیں، اسی لیے کسی بھی پارٹی کا لیڈر وہاں جانے کی ہمت نہیں جٹا پا رہا ہے۔ حالانکہ، ایسا نہیں ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے کارکن یا عہدیدار اپنے اپنے قائدین کی توجہ اس جانب مبذول نہیں کرا رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی میرٹھ کے نائب صدر، محمد عمران نے کانگریس پارٹی کی ص

Read more

نئی تعلیمی پالیسی بنانا بی جے پی سرکار کی اچھی کوشش

نریندر مودی کی قیادت والی موجودہ مرکزی سرکار 29 سال کے بعد ملک میں ایک نئی تعلیمی پالیسی بنانے جا رہی ہے۔ اس کے لیے اس نے تعلیم سے متعلق 33 مختلف موضوعات کے تحت ملک و بیرونِ ملک کے دانشوروں، ماہرین تعلیم، صنعت کاروں اور ملک کے عام شہریوں سے مشورے طلب کیے ہیں۔ ان سبھی 33 موضوعات کو مرکزی سرکار کی ویب سائٹ www.mygov.in پر گزشتہ 25 جنوری کو اَپ لوڈ کیا گیا ہے، تاکہ لوگ سرکار کو براہِ راست اپنے مشورے اور تجویزیں بھیج سکیں۔ سرکار اِن سبھی مشوروں اور تجویزوں کو اسی سال جون میں قومی تعلیمی کمیٹی کے سامنے رکھے گی۔ اس کے بعد کمیٹی ان سبھی رائے مشوروں اور تجویزوں کی روشنی میں ایک نئی تعلیمی پالیسی بنائے گی، جسے آنے والے دنوں میں ملک میں نافذ کیا جائے گا۔ فی الحال ہندوستان بھر میں راجیو گاندھی حکومت کے ذریعے 1986 میں بنائی گئی قومی تعلیمی پالیسی نافذ ہے، جس میں 1992 میں تھوڑی بہت ترمیم کی گئی تھی۔ اس سے پہلے، آزاد ہندوستان میں پہلی بار 1968 میں اندرا گاندھی کی حکومت نے پہلی قومی تعلیمی پالیسی بنائی تھی۔ نئی تعلیمی پالیسی سے متعلق مودی سرکار کی اس پہل پر بات کرنے سے پہلے، آئیے دیکھتے ہیں کہ آزادی سے پہلے انگریزوں کے دور میں ہندوستان میں تعلیم کی کیا صورتِ حال تھی۔

Read more

کیا دہلی میں کانگریس واپسی کر سکتی ہے؟

دہلی کی 70 سیٹوں والی اسمبلی کے لیے ووٹنگ میں اب کچھ ہی دن بچے ہیں۔ ہر پارٹی اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے محنت کر رہی ہے۔ لیکن ایک غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اس الیکشن میں کانگریس پارٹی اتنی سرخیوں میں نہیں ہے، جتنی کہ عام آدمی پارٹی یا بھارتیہ جنتا پارٹی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے تو یہ لڑائی دہلی میں اگلی سرکار بنانے کو لے کر ہے، لیکن کانگریس کے لیے یہ اپنے وجود کو بچانے کی لڑائی ہے۔ کانگریس اس بات کو اچھی طرح جانتی ہے کہ اگر اس نے اس بار اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا، تو پھر اگلے 10-

Read more

دہلی اسمبلی انتخاب میں کیا ہوگا مسلمانوں کا رخ

دہلی میں اسمبلی انتخاب کی تاریخوں کا ابھی اعلان نہیں ہوا ہے، لیکن سبھی پارٹیوں نے اپنی طرف سے انتخابی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ پوسٹر اور اشتہار بازی میں اس وقت جہاں عام آدمی پارٹی دوسری پارٹیوں سے آگے دکھائی دے رہی ہے، وہیں کانگریس اور بی جے پی بھی الیکشن جیتنے کے لیے اپنی اپنی حکمت عملیاں بنانے میں مصروف ہیں۔ ان تیاریوں کے بیچ، تمام سیاسی پارٹیوں کی نظر دہلی میں رہنے والے مسلمانوں کے ووٹوں پر بھی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جہاں ایک طرف مسلمانوں کے گھر گھر جاکر انہیں پارٹی میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، وہیں عام آدمی پارٹی کو لگتا ہے کہ پچھلی بار کی طرح اس بار بھی مسلمانوں کا زیادہ تر ووٹ اسے ہی ملنے جا رہا ہے۔ لیکن ان سب کے بیچ، دہلی کے 11 فیصد مسلم ووٹر کیا سوچتے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں سروے پر مبنی اس رپورٹ میں……

Read more

کیا ہاشم پورہ کے متاثرین کو انصاف مل پائے گا؟

ستائس سال پہلے پیش آنے والے میرٹھ کے ہاشم پورہ معاملے میں عدالت کا فیصلہ کسی بھی وقت سامنے آ سکتا ہے۔ ’’چوتھی دنیا‘‘ ہندوستان کا وہ پہلا اخبار ہے، جس نے سب سے پہلے اس واقعہ کی خبر ملک اور دنیا کو دی تھی، جس میں پی اے سی کے جوانوں نے ہاشم پورہ کے 42 مسلم نوجوانوں کو گولی مار کر ان کی لاشیں نہر میں بہا دی تھیں اور جس کی سرخی ’’لائن میں کھڑا کیا، گولی ماری اور لاشیں نہر میں بہا دیں‘‘ نے اس وقت بھی دھوم مچا دی تھی اور آج بھی لوگ اس کو یاد کرتے ہیں۔ ان میں سے تین نوجوان کسی طرح زندہ بچ گئے، جنہوں نے بعد میں پی اے سی کے ذریعے کیے گئے اس بر بریت اور ظلم کی کہانی دنیا کو بتائی۔ ہندوستان کا شاید یہ پہلا واقعہ ہے، جس میں عدالت کو کسی نتیجہ تک پہنچنے میں اب تک 27 سال کا وقت لگ چکا ہے۔ عدالت کا فیصلہ کیا ہوگا، یہ ابھی کسی کو معلوم نہیں ہے، لیکن جن لوگوں کی نظر اس معاملے کو لے کر عدالت کی

Read more

کیا پی ڈی پی بن پائے گی جموں و کشمیر کے عوام کی پہلی پسند

ریاست جموں و کشمیر میں 87 اسمبلی سیٹوں کے لیے ووٹنگ کا سلسلہ 25 نومبر سے شروع ہونے والا ہے۔ ہر سیاسی پارٹی، چاہے وہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہو، کانگریس ہو، نیشنل کانفرنس یا پھر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)، سبھی اس بار اپنی حکومت بنانے کا دعویٰ کر رہی ہیں۔ ان پارٹیوں کے لیے دعوے کرنا جتنا آسان ہے، وہاں کے عوام کا اعتماد حاصل کر پانا اتنا ہی مشکل۔ پچھلی بار کے اسمبلی انتخابات کی بات کریں، تو 2008 کے الیکشن میں 28 سیٹوں کے ساتھ نیشنل کانفرنس سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی، جب کہ 21 سیٹوں کے ساتھ پی ڈی پی دوسرے نمبر پر، 17 سیٹوں کے ساتھ کانگریس تیسرے نمبر پر اور 11 سیٹوں کے ساتھ بی جے پی چوتھے نمبر پر تھی۔ نیشنل کانفرنس نے کانگریس کے ساتھ مل کر حکومت بنائی اور عمر عبداللہ کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا۔ عمر عبداللہ نے اپنے 6 سالہ دورِ حکومت میں جو کام کیے، اس سے ریاست کے عوام کو بہت زیادہ خوشی حاصل نہیں ہو سکی اور ان کی حکومت کا دور ختم ہوتے ہوتے اب ایسا لگنے لگا ہے کہ وہاں کے لوگ حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں، یعنی وہ نیشنل کانفرنس کی جگہ اب اقتدار میں کسی اور پارٹی کو دیکھنا چاہتے ہیں۔

Read more

صفائی ملازمین کو آخر کب ملے گا انصاف؟

تصور کیجیے، اگر آپ کے گھر کا کوڑا اٹھانے والا ملازم ایک ہفتہ تک نہ آئے، تو آپ کے گھر کا کیا حال ہوگا؟ آپ جس علاقے میں رہتے ہیں، وہاں کی سڑکوں کی ہفتہ بھر صفائی نہ ہو اور ادھر ادھر پڑے ہوئے کوڑے نہ اٹھائے جائیں، گندگیاں صاف نہ کی جائیں، تو آپ کو یا آپ کے محلے میں رہنے والے لوگوں کو کیسا لگے گا؟ ظاہر ہے، ہر کوئی اپنی ناک پہ رومال ڈال کر چلے گا، بیماریوں کا چاروں طرف راج ہوگا اور جو بھی اُدھر سے گزرے گا، صفائی ملازمین کو گالیاں دیتا ہوا چلے گا۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ صفائی کرنے والے یہ ملازمین کس حالت میں اپنی زندگی گزارتے ہیں؟ شاید نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جب بھی سو کر اٹھتے ہیں، تو ہمارے گھروں کے کوڑے دان ہمیں صاف ملتے ہیں۔ جس سڑک پر چل کر ہم اپنے دفتروں کو جاتے ہیں، وہ سڑکیں ہمیں صاف ستھری ملتی ہیں، اس لیے ہمارا دھیان کبھی ادھر گیا ہی نہیں کہ اگر ان گلی محلوں اور سڑکوں کی صفائی نہ ہو اور صفائی ملازمین ایک ہفتہ کی ہڑتال پر چلے جائیں، تو کیا حال ہوگا۔ لیکن اب ہم سب کو ہوشیار ہو جانا چاہیے، کیوں کہ صفائی ملازمین کے درمیان اب یہ احساس زور پکڑنے لگا کہ صدیوں سے ان کا استحصال ہو رہا ہے اور سرکار ان کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ بھی نہیں کر رہی ہے۔

Read more

کانگریس کی ہار کا سبب مسلم نوازی نہیں، مسلمانوں کو بے وقوف سمجھنے کی بھول تھی

سابق وزیر دفاع اور کانگریس کے سینئر لیڈر اے کے انٹونی، جو خود اقلیتی طبقہ، یعنی عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، نے حال ہی میں ایک متنازع بیان دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2014 کے عام انتخابات میں کانگریس پارٹی کو شرمناک شکست کا سامنا اس لیے کرنا پڑا، کیوں کہ پارٹی کا جھکاؤ مسلم طبقہ کی طرف زیادہ تھا۔ اس کی وجہ سے دوسری قوموں میں یہ پیغام گیا کہ کانگریس پارٹی پوری طرح سے مسلم نواز ہے اور اسی وجہ سے کانگریس کی سیکولر شبیہ پر لوگوں نے شک کرنا شروع کر دیا۔

Read more

تعلیمی ڈگری پر توجہ ہو رہی ہے ، داغی وزرائ پر کیوں نہیں؟

لوک سبھا انتخابات ختم ہو گئے اور نتائج آنے کے بعد مودی سرکار کی کابینہ بھی بن گئی۔ مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے سرکار کے وزراء نے اپنا اپنا قلمدان بھی سنبھال لیا اور اب ان کے کام کی شروعات بھی ہو چکی ہے۔ نئی کابینہ کی تشکیل کے بعد میڈیا میں سب سے زیادہ بحث وزیر برائے فروغِ انسانی وسائل اسمرتی ایرانی کی تعلیمی ڈگری کو لے کر چلی۔ اس کے بعد جموں و کشمیر کے اودھم پور سے منتخب ہونے والے ایم پی ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے آرٹیکل 370 پر دیے گئے بیان نے بھی سیاسی بحثوں کو گرما دیا۔ لیکن حیرانی کی بات ہے کہ آج کل نہ تو میڈیا اور نہ ہی بی جے پی مخالف دیگر سیاسی پارٹیوں کے لیڈر

Read more
Page 1 of 912345...Last »