آئی پی ایس افسران کا فقدان

دلیپ چیرین
دہشت گردی اور نکسل ازم جیسے سنگین مسائل سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ کئی دیگر پریشانیوں سے نبرد آزما ہندوستان جیسے ملک میں آئی پی ایس افسران کی کمی ایک بڑی تشویش کا سبب ہو سکتی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق موجودہ وقت میں پورے ہندوستان میں آئی پی ایس افسران کے630عہدے خالی پڑے ہیں۔ ویسے تو ہر ریاست میں پولس افسران کارپوریٹ دنیا کی جانب رخ کر رہے ہیں، راجدھانی نئی دلی بھی اس سے مبرا نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق راجدھانی میںآئی پی ایس افسران کے کل 4013 عہدے ہیں، لیکن اس سال کی شروعات میں

Read more

شفافیت سے گھبرائے نوکرشاہ

دلیپ چیرین

آرٹی آئی قانون کے تحت اس دور میں جب سرکاری کام کاج میں شفافیت کے لیے عام لوگوں کا دبائو مسلسل بڑھ رہا ہے،تو نوکر شاہوں کے لیے اس نئے چیلنج سے نمٹنا خاصا مشکل ثابت ہو رہا ہے، لیکن مرکزی وزراء اور سپریم کورٹ کے ججوں کے ذریعہ آرٹی آئی قانون کے تحت اپنی ملکیت کی تفصیل بتانے کے لیے راضی ہونے کے بعد اب نوکرشاہوں پر بھی اس کے لیے دبائو بڑھتا جا رہا ہے۔ چیف انفارمیشن کمشنر کے ذریعہ مانگ کیے جانے کے بعد حکومت نے چار ماہ قبل آئی اے ایس، آئی پی ایس اور آئی ایف ایس افسران کی ملکیتوں کی تفصیل عام کیے جانے کے تعلق سے ان کی رائے پوچھی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی پی ایس اور آئی ایف ایس افسران کی تنظیمیں جہاں اس کے لیے راضی ہو گئیں وہیں آئی اے ایس ایسو سی ایشن اب تک اس کا کوئی جواب دینے سے بچ رہی ہے۔ سرکاری طور پر آئی اے ایس ایسو سی ایشن کہنا ہے کہ اس نے اپنی ریاستی اکائیوں سے اس سلسلے میں مشورے مان

Read more

دبائو میں ہیں نوکرشاہ

دلیپ چیرین
آدرش ہاؤسنگ گھوٹالے نے ایک وزیراعلیٰ کی بلی لے لی، لیکن سوسائٹی کو گرین سگنل دینے والے نوکر شاہ بے داغ بچ نکلنے میں کامیاب رہے، البتہ اس ایشو کے حوالے سے جتنا شور شرابا مچا ہواہے، اسے دیکھتے ہوئے ایسا نہیں لگتا کہ حکومت اس میں شامل افسران کو اتنی آسانی سے چھوڑ دے گی۔ وزیراعلیٰ کی کرسی سنبھالتے ہی پرتھوی راج چوہان نے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ میں اسے واضح کردیا۔ ریاست کے نوکرشاہوں کے لیے ان کا ایک ہی پیغام تھا، کام کرو یا دفع ہو جاؤ۔ لوگ اسے چوہان کا وقتی رد عمل یا گیدڑ بھبکی کا نام دے سکتے ہیں، لیکن ان کے کام کرنے کا جو طر

Read more

عہدہ پانے کی دوڑ

دلیپ چیرین
ملک کی اعلیٰ جانچ ایجنسی سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن(سی بی آئی) آج کل کافی مصروف ہے۔ حال ہی میں جس طرح ایک کے بعد ایک گھوٹالے سامنے آرہے ہیں، سی بی آئی کے افسران جانچ کے کاموں میں بری طرح الجھے ہوئے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سی بی آئی کے اندر ایک اور چیز کی گہما گہمی ہے۔ اس ادارہ کے موجودہ ڈائریکٹر اشونی کمار نومبر کے آخر میں ریٹائر ہو رہے ہیں اور نئے ڈائریکٹر کی تلاش کا کام زوروں پر ہے۔ دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ حکومت انٹیلی جنس بیورو(آئی بی) اور ریسرچ اینڈ انالیسس ونگ(ر

Read more

سیاست میں الجھے نوکر شاہ

دلیپ چیرین
سیاست کی کشتی میں نوکرشاہوں کی طرفداری کرنا اکثر ان کے لئے مہلک ثابت ہوتا ہے۔ پنجاب کے دو سینئر آئی پی ایس افسروں کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل، ان کی بیوی اور بیٹے سکھ بیر سنگھ بادل کے خلاف آمدنی سے زیادہ دولت رکھنے کے معاملے میں انہوں نے گواہوں کو ڈرایا دھمکایا اور ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔ غور طلب ہے کہ بادل اور ان کے اہل خاندان کو عدالت نے الزامات سے بری کردیا تھا، لیکن یہ دونوں پولس افسران اب جانچ ایجنسیوں کے نشانے پر ہیں۔ دونوں افسران، ایس پی (نگرانی) سریندر پال سنگھ اور ڈی آئی جی بی کے اُپل نے بادل خاندان کے خلاف مقدمے کی مخالفت کی تھی۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ پنجاب میں اس طرح کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ریاست میں بدعنوان بابوؤں کی تو جیسے شامت آگئی ہے۔ ر

Read more

پی ایم او اور انفارمیشن کمیشن میں تصادم

دلیپ چیرین
حق اطلاعات قانون کے تحت داخل کی گئی عرضیوں کی وجہ سے وزیر اعظم کا دفتر (پی ایم او) جائداد کی تفصیل فراہم کرنے پر اگرچہ مجبور ہوگیاہو، لیکن نوکرشاہی 2004کے پدم ایوارڈ سے متعلق معلومات عام کرنے کے معاملے میں ابھی بھی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔سینٹرل انفارمیشن کمیشن نے اس سال اپریل میں ہی وزیر اعظم کے دفتر کو یہ معلومات مہیا کرانے کے احکامات جاری کردئے تھے، لیکن یہ اب تک نہیں ہوپایا ہے۔ پی ایم او کے رویے سے ناراض سینٹرل انفارمیشن کمشنر اے این تیواری نے اب اس بابت وزارت کی ڈپٹی سکریٹری کو ایک مکت

Read more

حکومت کو لگا جھٹکا

دلیپ چیرین
سینئر نوکر شاہوں سے متعلق دو معاملوں میں عدلیہ کے رخ سے سرکاری نظام کو یکے بعد دیگرے دو جھٹکے لگ چکے ہیں۔ پہلے معاملے میں چنئی ہائی کورٹ نے تمل ناڈو کی دراوڑ مونیتر کڑگم سرکار کے ذریعہ لتیکا شرن کے پولس ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر تقرری کے فیصلے کو مسترد کردیا۔ ہائی کورٹ نے ریاستی پولس سربراہوں کی تقرری کے معاملے میں سپریم کورٹ کی ہدایتوں کو نظر انداز کرنے کے لئے ریاستی حکومت کو پھٹکار بھی لگائی ۔ ذرائع کے مطابق کئی سینئر افسروں کو نظر انداز کرکے شرن کو اس عہدے پر مقرر کیا گیا تھا۔ مانا جارہا

Read more

نوکر شاہوں سے الجھے موئلی

دلیپ چیرین
وزیرقانون ویرپا موئلی اور افسر شاہوں کے درمیان کے رشتے گزشتہ کچھ وقت سے ٹھیک نہیں چل رہے ہیں۔ سابق چیف ویجلینس کمشنر پرتیوش سنہا نے سبکدوشی کے وقت اپنے کام کو تھینک لیس جاب کہا تو موئلی نے کھلے عام ان کی تنقید کی۔ اب ایسا لگ رہا ہے کہ موئلی وزارت قانون کے افسران سے بھی لڑائی مول لینے میں کوئی کوتاہی نہیں کر رہے ہیں۔ کم سے کم کنٹرولراور آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کے کردار کے حوالے سے وزیر اور ان کے ماتحت افسران کے درمیان کے تنازعہ سے تو ایسا ہی ظاہر ہوتا ہے۔ وزارت قانون کے افسران کا خیال ہے کہ سی اے جی حکومت کے فیصلوں کو چیلنج نہیں کرسکتا ہے۔ 2جی لائسنس کے معاملے میں وزارت مواصلات نے اسی بنیاد پر سی اے جی کی ہدایات کو خارج کر دیا تھا، لیکن موئلی کا خیال ہے

Read more

روایت کا خاتمہ

دلیپ چیرین
اب تک یہ روایت تھی کہ جواہر لال نہرو پورٹ ٹرسٹ کا سربراہ مہاراشٹر کیڈر کا کوئی آئی اے ایس افسر ہی ہوتا تھا، لیکن حال ہی میں کیرلا کیڈر کے ایل رادھا کرشنن کی اس عہدہ پر تقرری کے ساتھ ہی یہ روایت ٹوٹ گئی۔ حکومت نے رادھا کرشنن کے نام پر مہر لگانے سے پہلے چند مہینوں تک غور کیا۔ پورٹ کے سابق چیئرمین ایس ایس حسین مارچ میں ہی سبکدوش ہوئے تھے۔ اس کے بعد حکومت نے حکومت مہاراشٹر کے ذریعہ تجویز کیے گئے کئی ناموں پر غور کیا، جن میں سکریٹری برائے اطلاعات اجے بھوشن پانڈے اور محکمہ برائے قبائلی ترقیات کے سکریٹری اتم کھوب

Read more

حکومت کی بے رخی

دلیپ چیرین
ایسا لگتا ہے کہ جموں و کشمیر میں انصاف کا پہیہ بے حد آہستہ آہستہ گھومتا ہے۔ خود ریاستی حکومت بھی یہ قبول کرتی ہے کہ ریاست میں سول افسران کے خلاف 600سے بھی زیادہ معاملے زیر التوا ہیں۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ان میں کئی معاملے ایسے ہیں، جن میں وزیر اور بڑے نوکر شاہ ملزمین میں شامل ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ریاستی ویجلینس کمیشن فی الحال سیاست دانوں اور نوکرشاہوں کے خلاف بدعنوانی کے تقریباً 125معاملوں کی جانچ کر رہی ہے۔ ان میں سینٹرل ایڈمنسٹریٹو سروسیز اور اسٹیٹ سروسیز کے کئی ایسے افسر ہیں جو سبکدوش

Read more