تاریخ کو لے کر جنگ

ڈاکٹر جیمس اَشر بائبل کے ایک بڑے مشہور اسکالر تھے۔ تخلیق کے باب میں جن نسلوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان کی گنتی کرنے کے بعد انہوں نے بتایا کہ خدا نے اس دنیا کو 4004 قبل مسیح میں بنایا۔ بائبل کے مطابق اپنی اس گنتی میں تو وہ بالکل صحیح تھے، لیکن تاریخ کے بارے میں غلط تھے۔ آج بھی وہ عیسائی، جو ڈاروِن (کی تھیوری) کو نہیں مانتے، ڈاکٹر اَشر کا حوالہ دیتے ہیں۔

Read more

مودی کا سازش بھرا استقبال

امریکی صدر براک اوبامہ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک طرف امریکہ آنے کی دعوت دے رہے ہیں، تو دوسری طرف مودی کے راستے میں کشمیر کا کانٹا بھی بچھا رہے ہیں۔ یہ متضاد کردار امریکہ کی فطرت میں ہمیشہ سے شامل رہا ہے۔ وہ قطعی نہیں چاہتا کہ ہندوستان اور پاکستان کے رشتے بہتر ہوں اور اس رشتے کی سب سے بڑی رکاوٹ، یعنی کشمیر مسئلہ کا کوئی حل نکلے۔ کشمیر میں حالات بدلیں اور وادی سے بھگائے گئے شہریوں کو عزت کے ساتھ ان کے اپنے گھروں میں بسایا جائے، یہ بھی امریکہ نہیں چاہتا۔ امریکی خفیہ ایجنسی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کی رپورٹ کی ہندوستانی خفیہ ایجنسی ’ریسرچ اینڈ اینا لیسس وِنگ‘ (رائ) کے افسر جو تجزیہ کر رہے ہیں، وہ کافی چونکانے والا ہے۔ راء اسے وزیر اعظم کے دفتر کو بریف بھی کر رہا ہے۔ دہلی کے اقتدار پر نریندر مودی قابض نہ ہو پائیں، اس کی امریکہ نے کافی کوششیں کیں اور کافی پیسے بھی خرچ کیے، لیکن آخرکار مودی کی شاندار جیت کے آگے امریکہ نے گھٹنے ٹیک دیے۔ ایسا دکھائی تو دیتا ہے، لیکن اصلیت میں ایسا ہے نہیں۔ امریکہ گھٹنے ٹیکنے کے بجائے لومڑی جیسی چالاکی دکھا رہا ہے۔ کشمیر کو لے کر نریندر مودی کے امریکی دورے سے قبل ہی امریکہ نے خطرناک تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ یہ اتنا ہی خطرناک ہے کہ اسے آپ جانیں گے، تو اس کے دور رس منفی نتائج کے بارے میں آسانی سے اندازہ لگا لیں گے۔

Read more

کانگریس کا ساتھ چھوڑنے سے نیشنل کانفرنس کی مشکلات میں اضافہ

جموں وکشمیر میںنئے ابھرتے ہوئے سیاسی منظر نامے سے یہاں کی سب سے قدیم جماعت نیشنل کانفرنس کی بری حالت کوبھانپتے ہوئے کانگریس پارٹی نے اپنی اس حلیف جماعت کے ساتھ گٹھ جوڑ ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ پارلیمانی انتخابات میں کراری شکست سے دوچار ہونے کے بعد ویسے بھی نیشنل کانفرنس کی قیادت اور اس کے کارکنان پست ہمت ہوچکے ہیں۔ کانگریس نے ایک ایسے وقت میں نیشنل کانفرنس کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جب ریاست کے اسمبلی انتخابات کے لیے تقریباً تمام سیاسی جماعتیں تیاریوں میں جٹ چکی ہیں۔ کانگریس نے نیشنل کانفرنس کے ساتھ گٹھ جوڑ ختم کرنے کا اعلان سینئر پارٹی لیڈر غلام نبی آزاد اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت کے ساتھ خفیہ میٹنگ کرنے کے انکشاف ہونے کے دو ہفتے بعد کیا ۔

Read more

پناہ گزینوں کی آماجگاہ ہندوستان

ہندوستان کا مہاجرت سے گہرا رشتہ ہے۔ تقسیم وطن کے وقت اسے خود ایک سے دوسرے ملک کے شہریوں کی ہجرت کے بڑے بھیانک مسئلہ سے نمٹنا پڑا، جس کے اثرات ہندوستان کی معیشت، سیاست اور معاشرت پر آج بھی دیکھے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہندوستان سے پاکستان گئی، تو پاکستان سے ہندوستان بہت سارے ہندو اور سکھ آئے۔ ہندوستان سے پاکستان ہجرت کے سبب ہندوستان میں متعدد روایتی صنعتیں متاثر ہوئیں اور بند بھی ہوئیں۔ چونکہ ہندوستان نے خود اپنے لوگوں کی ایک ملک سے دوسرے ملک مہاجرت کو بھگتا ہے، اس لیے وہ اس درد سے خوب واقف ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب تبت، سری لنکا، افغانستان، بنگلہ دیش اور میانمار کے افراد اپنے وطن میں زمین تنگ ہونے پر ہندوستان آئے، تو اس نے انسانی جذبہ سے سرشار ہو کر انہیں پناہ دی۔ تبتی رفیوجیوں کو تو سرکاری مدد تک ملی اور ابھی حال میں بنگلہ دیشی رفیوجیز کے لیے مرکز کی نریندر مودی حکومت نے رلیکسڈ ویزا فراہم کرنے کی بات کی اور ریاست آسام کی حکومت نے انہیں شہریت دینے کا فیصلہ کیا، جس سے وہاں 85 لاکھ بنگلہ دیشی رفیوجیز امن و سکون کی سانس لیں گے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ سرکاری نظر کرم سری لنکائی تمل، افغانی اور میانمار کے روہنگیائی مہاجرین کے لیے آخر کیوں نہیں ہے؟ لہٰذا، اس سلسلے میں ضرور ت ہے یکساں رفیوجی پالیسی کی، تاکہ سبھی مہاجرین کی برابری کے ساتھ انسانی جذبہ کا بلا تفریق اظہار ہو سکے۔

Read more

ویاپم گھوٹالہ: شیوراج کا سخت امتحان

مدھیہ پردیش تجارتی امتحان ڈویژن (ویاپم) گھوٹالہ دن بدن وسعت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ گورنر، وزیر اعلیٰ اور کئی اعلیٰ افسران کے بعد اس کی زد میں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے لوگوں کا نام بھی جڑتا نظر آ رہا ہے۔ آخر کار وزیر اعلیٰ نے بھی اسمبلی میں قبول کر لیا کہ ہاں گھوٹالہ تو ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق ایک ہزار عہدوں کو بھرنے میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ا س معاملہ کی تفتیش مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی زیر نگرانی ایس ٹی ایف (اسپیشل ٹاسک فورس) کر رہی ہے۔ اب تک گھوٹالہ سے جڑی جو بھی معلومات ہیں، ان کے مطابق ویاپم گھوٹالے کی شروعات سال 2004میں ہوئی تھی۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ بی جے پی حکومت کے ناک کے نیچے ریاست کے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا تھا اور حکومت کو کانوں کان خبربھی نہیں تھی۔ یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت نے جان بوجھ کر اسے نظر انداز کیا۔ داخلہ جاتی امتحانات میں ہونے والی دھاندلی یہیں پر تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے، مدھیہ پردیش پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ منعقد کئے گئے داخلہ جاتی امتحانات کی جانچ بھی کروانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ مسلسل ویاپم معاملہ کی تفتیش سی بی آئی (مرکزی تفتیشی ایجنسی) سے یا سپریم کورٹ کی نگرانی میں بنی ایس آئی ٹی سے کرانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

Read more

ریئل اسٹیٹ کی بڑھتی ہوئی قیمت ، عام آدمی فلیٹ کیسے حاصل کرے

ہندوستان وہ ملک ہے جہاں’ روٹی، کپڑا اور مکان‘ کا نعرہ لگتا رہا ہے اور غربت کی شرح کم ہوتے ہوتے بھی اس ملک میں آج بھی اتنی ہے کہ اسے دنیا کے غریب ترین ممالک میں ہی شمار کیا جاتا ہے۔ اس ملک کے عام شہری کے لیے روٹی، کپڑا اور مکان آج بھی مسئلہ ہے، جبکہ یہ یقیناً بنیادی ضرورتیں ہیں۔ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری ان بنیادی ضرورتوں کے حصول میں رکاوٹ تو ضروربنتی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حکومت کی پالیسیاں ہی اس کی ذمہ دار ہیں۔ وی پی سنگھ اور چندر شیکھر کے ادوار کے بعد سے ملک میں نافذ بازار پر مبنی اقتصادی پالیسی نے اسے ہر حال میں بڑھایا ہے۔

Read more

غلط پالیسیوں نے بڑھائی مہنگائی

کانگریس اتحادی سرکار (یو پی اے) کا دس سالہ دور اقتدار مہنگائی کے لئے ہمیشہ یا د کیا جاتا رہے گا۔ایک ماہر اقتصادیات وزیر اعظم کے ہوتے ہوئے بھی مہنگائی پر قابو نہیں کیا جا سکا۔عوام پریشان رہے ۔مگر سرکار کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔سرکار کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا کہ مہنگائی کب اور کیسے کم ہوگی۔ملک کے لئے اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی؟سرکار کے وزیر لگاتار مہنگائی بڑھنے کی پیش گوئی کرتے رہے، لیکن ان کے پاس مہنگائی پر لگام لگانے کا کوئی فارمولہ نہیں تھا۔
کانگریس کا ہاتھ عام آدمی کے ساتھ جیسے نعرے کے سہارے اقتدار پر قابض ہوئی کانگریس پارٹی نے صرف عوام کو لبھانے والی پالیسی جاری رکھی۔ اس نے ملک کی اقتصادیات کو مضبوط کرنے کے بجائے اعدا دو شمار سے کھیلنے کی کوشش کی۔ سرکار نے ہر ہفتہ ہول سیل پرائز انجیکٹ کی بنیاد پر مہنگائی ناپنے کا سلسلہ جاری رکھا اور سی پی آئی یعنی کنزیومر پرائز انڈیکس لاگو کیا، جس میں ماہانہ بنیاد پر مہنگائی ناپی جاتی ہے۔

Read more

وعدہ کاروبار : جو مہنگائی بڑھانے کا وعدہ کرتا ہے

وعدہ کاروبار بازار سے جڑا ایک ایسا اقتصادی فریق ہے، جسے عام آدمی سمجھتا نہیں یا سمجھنا نہیں چاہتا، لیکن اس کاروبار کا اثر اس کی زندگی پر شاید سب سے گہرا پڑتا ہے۔ یہ کاروبار جڑا ہے آپ کے، ہمارے گھر سے۔ دال، چاول، چینی، آلو، پیاز جیسی روزمرہ کی ضرورتوں کی بڑھتی قیمت سے۔ کل ملاکر اس کاروبار کی کہانی کو ایک لائن میں ایسے سمجھا جا سکتا ہے کہ جب ہم یا آپ بازار میں اپنے کھانے کا سامان خریدنے جاتے ہیں اور ان سامانوں کی آسمان چھوتی قیمتوں کو دیکھتے ہیں، تو اس کے پیچھے سب سے بڑا رول اسی وعدہ کاروبار کا ہوتا ہے۔ یہ دنیا کا اکیلا ایسا کاروبار ہے، جہاں ٹھوس طور پر نہ کسی چیز کو خریدا جاتا ہے اور نہ بیچا جاتا ہے۔ اصل میں، یہاں سب کچھ منھ زبانی خریدا اور بیچا جاتا ہے۔ مطلب، آلو کی فصل آپ کے کھیت میں بھلے نہ تیار ہوئی ہو، لیکن وہ وعدہ بازار میں کئی بار خریدی اور بیچی جا چکی ہوتی ہے۔ اب، جس نے بھی اسے خریدا، اسے منافع کمانا ہوتا ہے اور اگر بدقسمتی سے آلو کی فصل کم ہوئی، تو منافع کمانے کے لیے جمع خوری اور کالا بازاری ان کا سب سے آسان ہتھیار ہوتا ہے۔

Read more

گڈ گورننس کے لئے کڑوی گولیاں چبانی ہوں گی

انیس سو تیس کی دہائی میں ارجنٹینا 5امیر ترین ممالک میں سے ایک ہوا کرتا تھا۔ آج جب یہ قرض کی ادائیگی نہ کیے جانے کے سبب سخت امتحان سے گزر رہا ہے، یہ شہرت اور تحفظ کے سہارے اپنی نچلی سطح کی معاشی خوشحالی کو برقرار رکھ پایا ہے۔ اس نے یہ سب کچھ اس وقت کیا، جب جوآن پیرون اور ان کی اہلیہ جیسے مقبول عام سیاست داں اقتدار میں تھے۔ ان لوگوں نے ووٹروں کو رشوت دی، ٹریڈ یونینوں اور کسانوں کو خوش رکھااور قدرتی وسائل کو لوٹا۔

Read more

جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کا زوال اور اس کے محرکات

کیا جموں و کشمیر میں سب سے قدیم اور تاریخی اہمیت کی حامل سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس، جو ان دنوں کانگریس کے ساتھ ریاست میں برسر اقتدار ہے، زوال پذیر ہے؟ یہ سوال ان دنوں سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا محبوب موضوع ہے۔ اس کے ساتھ ہی جڑا ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر نیشنل کانفرنس واقعی زوال پذیر ہے، تو اس کے زوال کے محرکات کیا ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ پارلیمانی انتخابات میں نیشنل کانفرنس اور اس کی اتحادی جماعت کانگریس کو جس ہزیمت اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، اس کی مثال دونوں جماعتوں کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی ہے۔ دونوں اتحادیوں نے پارلیمانی انتخابات میں مشترکہ طور پر امیدوار کھڑے کیے تھے۔ اتحادیوں نے تمام چھ کی چھ نشستیں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ( وادی میں) اور بھارتیہ جنتا پارٹی ( جموں اور لداخ میں) کے مقابلے میں کھودیں۔ کراری شکست کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 87 اسمبلی حلقوں پر مشتمل چھ پارلیمانی نشستوں میں محض چند ایک اسمبلی حلقوں میں ہی نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو ووٹوں کی سبقت حاصل ہوئی، یعنی اگر یہ پارلیمانی انتخابات کے بجائے اسمبلی انتخابات ہوتے، تو دونوں جماعتیں ریاست کے سیاسی منظر نامے سے تقریبا ً غائب ہوگئی ہوتیں۔ ریاست میں کانگریس کی تو بہر حال زمینی سطح پر کوئی قابل ذکر ساکھ نہیں تھی، لیکن نیشنل

Read more