مودی جی! مسلمانوں میں اعتماد سازی کا یہ بہترین موقع ہے

مرکزی حکومت کسی بھی پارٹی یا اتحاد کی ہو، اس کے نزدیک ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت13.4 فیصد مسلم آبادی کی ترقی کا ایشو اہم ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں صدر جمہوریہ ہند پرنب مکھرجی کے خطبہ میں مسلمانوں سمیت اقلیتوں کی عصری اور دینی دونوں تعلیم پر خاص توجہ کی بات کرتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت اقلیتوںکو ترقی میں برابر کی پارٹنرس ماننے کی پابند ہے اور یہ اقلیتی فرقوں میں جدید و تکنیکی تعلیم کو آگے بڑھانے کے لئے کیے جارہے اقدامات کو مستحکم کرے گی۔ نیز اسی کے ساتھ ساتھ نیشنل مدرسہ موڈرنائزیشن پروگرام کو شروع کرے گی۔ پھر جب مذکورہ خطبہ پر بحث کے دوران پارلیمنٹ کے اراکین نے اظہار خیال کرتے ہوئے مسلمانوں کی بحیثیت مجموعی ترقی سے متعلق متعددسوالات اٹھائے تو بی جے پی قیادت والی این ڈے اے حکومت کے سربراہ نریندر مودی نے کھل کرجواب دیے

Read more

یو پی میں اچھے دن آنے والے ہیں

لاء اینڈ آرڈر کو لے کر مخالفین کے نشانے پر اتر پردیش کی اکھلیش سرکار کو جب کہیںسے اچھی خبر سنائی نہیں دے رہی تھی، تب سرمایہ کاروں نے اتر پردیش کو اپنی’ کرم بھومی‘ بنانے کا بڑافیصلہ کرکے اتر پردیش کے عوام کے ساتھ ساتھ سماجوادی پارٹی کے لیڈروں کو بھی اس بات کا احساس کرادیاکہ اچھے دن آنے والے ہیں۔ 54ہزار کروڑکی سرمایہ کاری ہونے سے سرکار کے مکھیا اکھلیش یادو بھی خوش ہیں۔ امید ہے کہ بدلے ماحول میں یوپی کو ترقی کی اڑان بھرنے میں آسانی ہوگی۔ اس کے علاوہ سماجوادی سرکار کے لیے اچھی خبر یہ بھی ہے کہ انتخابی نوک جھونک ، طنز اور ماضی میں پارلیمنٹ میں ایس پی کے سُپریمو ملائم سنگھ یادو اور مودی کے بیچ ریپ او رلاء اینڈ آرڈر کے ایشوپر طنزیہ تیروں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو اور وزیر اعظم نریندر مودی کے بیچ دہلی میں ہوئی ملاقات کو ریاست کی ترقی کے لیے اہم مانا جارہا ہے۔
کہا جارہا ہے کہ صوبہ کی اکھلیش سرکار، وزیر اعظم نریندر مودی کے اتر پردیش (وارانسی)سے رکن پارلیمنٹ ہونے کا بھی مائلیج اٹھانا چاہتی ہے۔ ایس پی کے پالیسی سازوں کو لگتا ہے کہ یو پی میں بی جے پی نے جو جڑیں مضبوط کی ہیں، اسے برقرار رکھنے کے لیے مودی یو پی کو دیگر ریاستوں کے مقابلے زیادہ اہمیت دیں گے۔ یو پی سے اگر بی جے پی اتحاد کو 73سیٹیں نہیں ملتیں، تو مرکز میں بی جے پی کی اکثریت والی سرکار بننا مشکل تھی۔

Read more

ایف ڈی آئی سے کیا اثر پڑے گا؟

راست گیر ملکی سرمایہ کاری کا مدعا ایک بار پھر موضوع بحث ہے۔ اس سے قبل جب یو پی اے کی حکومت تھی ، تو رٹیل سیکٹر میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو منظوری دی گئی تھی۔ اس وقت بی جے پی نے اس کی سخت مخالفت کی تھی۔ اب حکومت بدل چکی ہے اور بی جے پی مرکز میں بر سر اقتدار ہے۔ وہ دفاع سمیت میڈیا اور زراعت جیسے اہم شعبوں میں ایف ڈی ا ٓئی لانے پر غور کر رہی ہے۔ حقیقت میں ایف ڈی آئی کو لے کر آج جو بھی ہو رہا ہے، اس کی بنیاد 1991میں ہی رکھ دی گئی تھی۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کی پالیسیوں کو لبرل بنانے کے نظریہ سے 1991میں ہی ایف ڈی آئی کی بنیاد رکھی گئی تھی ، جس کا پورا اثر عام آدمی کو آج نظر آ رہا ہے اور اب جو ہوگا ، اس کا اثر ایسے ہی کئی سالوں بعد نظر آئے گا۔ اگر غلط یا برے نتائج آئے، تو اس وقت ہندوستان کے پاس پچھتانے کو کچھ نہیں ہوگا، کیونکہ غیر ملکی کمپنیوں کے پاس پارلیمنٹ کی منظوری

Read more

بے مثال ملکی ایجادات جنہیں نہیں ملی پہچان

ہندوستان میں ایسی کئی ایجادات ہوئی ہیں، جو ملک میں نیا انقلاب لا سکتی ہیں، لیکن حکومت کے بے اعتنائی کے سبب انہیں کوئی پہچان نہیں مل سکی۔ان ایجادات کو حکومتیں منظوری دینے سے بھی بچتی ہیں۔ ملک میں کئی موجدوں نے توانائی کے شعبہ میں نئی نئی ایجادات کی ہیں، لیکن ملک کے لوگ ہی اسے نہیں آزماتے ہیں۔ تمل ناڈو کے ایک موجد رام پلئی نے ہربل ایندھن کی ایجاد کی ۔ اس کے بعد انہیں دھوکہ دہی کے الزام میں جیل ہو گئی ، وہ ایک بار پھر واپس آئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس ایندھن کو بنانے میں صرف پانچ روپے کا خرچ آئے گا، جس سے گاڑی کا خرچ بہت کم ہو جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ 15گرام امونیم کلورائڈ ، 15گرام برادہ

Read more

تلنگانہ اور آندھرا پردیش: نئی ریاستوں کو درپیش چیلنجز اور امکانات

گزشتہ 2 اور 8جون2014 کو ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد دو نئی ریاستیں وجود میں آچکی ہیں اور ان کے وجود میں آتے ہی جنوبی ہند کے اس خطہ میں سب کچھ تبدیل بھی ہوگیا ہے۔ سیاست بدل گئی ہے، اقتدار تبدیل ہوگیا ہے، ملازمین کا مستقبل دونوں ریاستوں کے درمیان جھول رہا ہے، بڑے اور پرانے تعلیمی اداروں کے تلنگانہ میں رہ جانے کے سبب آندھرا پردیش میں معیاری اداروں کی سخت کمی ہوگئی ہے، دونوں ریاستوں میں پاور سپلائی کی تقسیم پر کشیدگی پائی جارہی ہے، تقسیم ریاست سے منقسم پولس فورس کو چیلنجز درپیش ہیں اور نئی ریاست آندھرا پردیش کو 15ہزار کروڑ روپے کا خسارہ اور زبردست مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Read more

جموں کشمیر میں بی جے پی کا مشن 44 خود فریبی یا سیاسی حکمت عملی

اٹھارہ سو ستاون گو کہ جموں کشمیر کے اسمبلی انتخابات میں ابھی بھی کم از کم پانچ ماہ کا عرصہ باقی ہے، لیکن ریاست میں سیاسی گہما گہمی اور جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔اس ضمن میں فی الوقت سب سے زیادہ متحرک جموں کشمیر نیشنل کانفرنس اور بی جے پی نظر آرہی ہیں۔پارلیمانی انتخابات میں ملک بھر میں غیر متوقع طور پر فتح حاصل کرنے کے بعد بی جے پی کے حوصلے کس قدر بلند ہوگئے ہیں ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پارٹی نے جموں و کشمیر میں ’’مشن44‘‘ کے نام سے ریاست میں اقتدار کی مسند پر فائز ہوجانے کیلئے ایک ہمہ گیر مہم شروع کردی ہے۔قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کی اسمبلی 87نشستوں پر مشتمل ہے ۔ یعنی کسی بھی پارٹی کو اپنے بل پر حکومت قائم کرنے کیلئے کم ازکم 44سیٹیں حاصل کرنا ناگزیر ہے۔حالانکہ جموں کشمیر جیسی ریاست میں بھاجپا کیلئے اتنی بڑی تعداد میں اسمبلی سیٹیں حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ناممکنات میں ہے۔ لیکن چونکہ پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے بیشتر مبصرین اور تجزیہ نگاروں کی آراء دھری کی دھری رہ گئیں اور بھاجپا کی غیر معمولی فتح کے بعد اب مصرین سیاسی معاملات میں پیش گوئیاں کرتے ہوئے کافی احتیاط برتتے نظر آتے ہیں۔ریاست کے سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار طاہر محی الدین نے’’ چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک بات چیت میں کہا،’’ بی جے پی کا ریاست میں حکومت بنانا تویقینا ایک ناممکن بات ہے، لیکن لگتا ہے کہ ’’مشن44‘‘ کا اعلان کرکے اس پارٹی نے اسمبلی انتخابات میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں بٹورنے کیلئے ہر حربہ اور ہر چال چلنے کی ٹھان لی ہے۔

Read more

اتر پردیش میں بڑھتی لاقانونیت

لیڈروں اور مجرموں کی ملی بھگت کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کی اس سب سے بڑی ریاست میں عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ عورتیں اور لڑکیوں کی آبرو قدم قدم پر خطرے میں ہے۔ پولیس کی بھلا کیا مجال کہ وہ مجرموں اور دبنگوں پر ہاتھ ڈال دیں، کیونکہ جن آقائوں کے ہاتھ میں اس کی نوکری ہے، وہ مجرموں اور دبنگوں کے سرپرست ہیں۔

اتر پولیس کی سست چال مجرموں کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے۔ پہلے مجرم پولیس سے گھبراتے تھے، اب پولیس مجرموں سے گھبراتی ہے۔ اسے اپنی وردی چھن جانے کا ڈر ہمیشہ لگا رہتا ہے۔ ڈرے بھی کیوں نہ، کیونکہ مجرموں کے تار ایسے طاقتور لیڈروں اور افسروں سے جڑے ہوتے ہیں ، جو کہیں نہ کہیں داغدار ثابت ہوتے ہیں۔ اس سے مجرموں کے حوصلے بڑھے ہوئے ہیں۔انہیں وردی کا قطعی خوف نہیں ہے۔ غلطی ہونے کے بعد بھی وہ الٹے پولیس پر رعب جماتے ہیں۔ پولیس سب کچھ جانتے ہوئے بھی ان پر ہاتھ ڈالنے سے کتراتی ہے۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ اگر پولیس اپنے پر آ جائے تو وہ کیا نہیں کرسکتی ۔لیکن پچھلے کچھ وقت سے ریاست کی

Read more

تین سو ستر کو ختم نہیں، مضبوط کرنا ہوگا

جو ایشو مجھے سب سے زیادہ پریشان کر رہا ہے، وہ آرٹیکل 370 ہے۔ یہ کہنا ٹھیک ہے کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ یہی لمبے وقت سے ہندوستان کا موقف ہے۔ حالانکہ، یہ بات تاریخی طور پر سچ ہے کہ کشمیر ہندوستان کی دیگر ریاستوں جیسا نہیں ہے۔ کشمیر کچھ شرطوں کے ساتھ ہندوستان میں شامل ہوا تھا، وہ بھی 15 اگست، 1947 کو نہیں، 26 اکتوبر، 1947 کو۔ ناجائز طریقے سے کشمیر کے زیادہ تر حصے پر پاکستان نے قبضہ کر لیا تھا۔ جب آدھے سے بھی کم کشمیر ہندوستان کے ساتھ آیا، تب کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے کچھ خاص شرطوں کے ساتھ ہندوستان میں شامل ہونے کے میثاق پر دستخط کیے۔ ان شرطوں کو آرٹیکل 370 میں شامل کیا گیا ہے۔

Read more

ہندوستان، پاکستان میں بیٹیوں کے اچھے دن کب آئیں گے؟

بدایوں میں 2نابالغ لڑکیوں سے اجتماعی عصمت دری اور پھر ان کی لاشوں کو پیڑ سے لٹکا دینا، اٹاوہ میں ایک یا دو کے ہاتھوں ایک لڑکی کی عصمت دری اور پاکستان کی فرزانہ کو عدالت کے سامنے اسی کے باپ بھائیوں کے ہاتھوں اینٹوں سے پیٹ پیٹ کر ماڈالنا، کتنا دردناک اور شرمناک ہے یہ سب۔ کیا ہم 21ویں صدی کے اس دور میں یہ باتیں کر رہے ہیں جبکہ خبر سے پہلے ہی خبر سوشل نیٹ ورکنگ کے ذریعہ دنیا میں پھیل جاتی ہے جبکہ مریخ پر رہنے والے خواہشمندوں کی بکنگ کی جا رہی ہے۔

Read more

پارلیمنٹ میں کون نبھائے گا اپوزیشن کا رول؟

سیاسیجمہوریت کی تاریخ جتنی پرانی ہے، اتنا ہی پرانا ہے سرکار اور اپوزیشن کے درمیان کافرق ۔ ہندوستان کی بات کریں، تو یہاں کے سیاسی نظام میں شروع سے ہی ایک مضبوط اپوزیشن کا تصور رہا ہے۔ اس کی روایت آزادی کے بعد پڑی۔ چاہے چکرورتی راج گوپال آچاریہ ہوں یا ہرین مکھرجی، رام منوہر لوہیا ہوں یا ناتھ پائی، جے بی کرپلانی ہوں یا مدھو لمیے، ان کی سیاست ہی اس دور کی حکومتوں کے کام کاج، پالیسیوں کی نگرانی کرنے پرمبنی تھی۔ویسے آزادی کے فوراً بعد جب اپوزیشن کی آواز مضبوط نہیں تھی، تب کانگریس کے اندر کے بعض افراد یہ رول ادا کرتے تھے، جن میں وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے داماد اور اندرا گاندھی کے شوہر فیروز گاندھی پیش پیش تھے۔ پریس کو قابو میں رکھنے کے لیے جب نہرو حکومت نے کوئی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا، تو ان ہی فیروز گاندھی نے ایوان میں اینٹ سے اینٹ بجادی اور قانون بننے نہیں دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی بحث کے دوران انھوں نے پریس کو جمہوریت کا ’چوتھا ستون‘ کہا تھا، جو کہ بعد میں باضابطہ اصطلاح بن گیا۔ دلچسپ بات تویہ ہے کہ خود ’چوتھی دنیا‘ کا نام اسی اصطلاح سے منسوب ہے۔

Read more