کون ہوگا رالوسپا کااصلی وارث

بات اتنی آگے نکل چکی ہے کہ اب واپس لوٹنے کی گنجائش بے حد کم لگتی ہے۔ راشٹریہ لوک سمتا پارٹی یعنی کہ رالوسپا کے دونوں بڑے لیڈر کھل کر تال ٹھونک رہے ہیں اور یہ ثابت کرنے میں لگے ہیں کہ لالو اور نتیش کے خلاف بنی اس پارٹی کے اصلی وارث وہی ہیں۔ دونوں ہی لیڈروں کے حامیوں کے بیانوں کا سلسلہ جاری ہے اور یہ طے کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ حقیقت میں رالوسپا پر پہلا حق کس کا ہے۔ غور طلب ہے کہ ’’چوتھی دنیا ‘‘نے پہلے بھی ’’ارون کی شہہ اور اوپندر کی مات‘‘ کے عنوان سے مضمون میں یہ بات اجاگر کر دی تھی کہ ان دونوں ہی لیڈروں کی دوستی اب زیادہ دن چلنے والی نہیں ہے۔ حالانکہ اس وقت دونوں ہی لیڈروں نے یہ بات کہہ کر اس سچائی سے منہ موڑ لیا تھا کہ بات اتنی نہیں بگڑی ہے۔لیکن حالیہ واقعات اور بیانوں سے صاف ہے کہ دوستی میں درار پڑ چکی ہے اور دونوں ہی بڑے لیڈروں کے راستے الگ الگ ہو چکے ہیں۔ لیکن اب لاکھ ٹکے کا سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس کے بعد کا راستہ جاتا کہاں ہے؟

Read more

انتخاب میں یو پی کے آدیواسیوں کی بھی نمائندگی ہو،وزیر اعظم کو خط آدیواسی جمہوری حقوق سے محروم

اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب کا وقت جیسے جیسے نزدیک آرہا ہے، کئی مسئلوں پر عوامی اختلاف بھی سامنے آرہا ہے۔ کئی ایسے مسئلے بھی سامنے آرہے ہیں، جن پر عام طور پر لوگوں کا دھیان نہیں جاتا۔ ایسا ہی ایک مسئلہ پارلیمانی اور اسمبلی حلقوں میں شیڈولڈ کاسٹ اور شیدولڈ ٹرائبس کی نمائندگی ری ایڈجسٹمنٹ بل (تیسرا) 2013 کے واپس لئے جانے کاہے۔ اس کے برعکس اتر پردیش کے جنگلاتی علاقوں اور آدیواسی اکثریتی علاقوں میں شدید اختلاف ہو رہاہے اور سماجی اور سیاسی تنظیمیں اس مسئلے کو لے کر سڑک پر اتر رہی ہیں۔اس مسئلے پر آل انڈیا پیپلز فرنٹ ( آئی پی ایف) نے وزیر اعظم نریندرمودی کو خط لکھ کر بل لاگو کرنے کی مانگ کی ہے۔ بل لاگو نہیں ہونے پر آئی پی ایف نے سپریم کورٹ میں کونٹیپٹ پٹیشن(توہین پٹیشن )داخل کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ لاکھوں آدیواسیوں کے دستخط کے ساتھ عرضی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجا جائے گا۔

Read more

سماج وادی پارٹی لیڈروں کی بے جا حرکتوں پر پھر غرائے ملائم بولتے ہیں ،کچھ کرتے کیوں نہیں

ملائم سنگھ یادو صرف بول رہے ہیں، کچھ کر نہیں رہے ہیں۔سماج وادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو نے ایک بار پھر اپنی پارٹی کے لیڈروں کی غیر قانونی کارروائیوں پر حملہ کیا اور عام کارکنوں کی تالیاں بٹوریں۔ ملائم کے جارحانہ تیور اور بیباک بیان پر سماج وادی پارٹی کے لوگ تھوڑی دیر کے لئے حوصلہ مند ہوجاتے ہیں،لیکن کچھ دیربعد ہی ان کے دماغ میں یہ سوال گونجنے لگتا ہے کہ نیتا جی اتنا بولتے ہیں تو کچھ کرتے کیوں نہیں۔کچھ لوگ تو بیباک ہوکر بول بھی اٹھتے ہیں۔ایک کارکن نے کہا کہ اگر اکھلیش یادو کی قیادت کی ریاستی سرکار اور ریاستی یونٹ اتنی ہی بے بس ہو گئی ہے تو پارٹی کے قومی صدر ہونے کے ناطے نیتا جی بد عنوان اور ضابطہ شکن لیڈروں کے خلاف سیدھی کارروائی کیوں نہیں کرتے؟کارروائی کرتے بھی ہیں،تو بیٹے کی محبت میں اسے پھر واپس کیوں لے لیتے ہیں؟اب سماج وادی پارٹی کے عام کارکنوں سے لے کر عام شہری تک اسے ملائم کا سیاسی ڈرامہ ہی بتاتے ہیں۔

Read more

وزیروں کو ہائی کورٹ کا نوٹس بار کونسل کے رول سے بے فکر ہیں کئی وزیر

کرناٹک ہائی کورٹ کا ایک فیصلہ وکالت کے پیشے سے جڑے مرکزی و ریاستی سرکار میں وزیروںکے لیے پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے 22 جون کو بار کونسل کے رولز کی خلاف ورزی کے معاملے میں کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدھارمیا، سابق مرکزی وزیر قانون سدانند گوڑا سمیت نو وزیروںکو نوٹس جاری کیا ہے۔ اگر اس معاملے میں وکالت کے پیشے سے جڑے وزیروںکو مجرم قرار دیا جاتا ہے، تو اس کے دائرے میں مودی سرکار کے ایک تہائی وزیروں کے آنے کا بھی امکان ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے جس طرح اس معاملے کو بادی النظر

Read more

آسمانی بجلی صحیح معلومات ہی اس قہر سے بچاسکتی ہے

مانسون کے آتے ہی ایک آسمانی قہر ٹوٹتا ہے،جس کا نام ہے بجلی۔ایک بجلی جہاںزندگی میں روشنی لاتی ہے،وہیںیہ آسمانی بجلی انسانی زندگی میں اندھیرا لانے کاکام کرتی ہے۔عام لوگ اسے آسمانی آفت سمجھ کر چپ رہ جاتے ہیں،جبکہ یہ ایک سائنسی حقیقت ہے۔ بجلی بننے کا عمل، اس کے گرنے کا عمل وغیرہ پوری طرح سے ایک سائنسی حقیقت ہے۔ اس بارے میںدنیا بھر میںمطالعے بھی ہورہے ہیں، اس سے بچاؤ کے بارے میںسائنسداں طریقے بتاتے ہیں۔ حال ہی میںبجلی گرنے کے سبب بہار، جھارکھنڈ اور مدھیہ پردیش میں قریب 80 لوگوں کی موت ہوگئی۔ بہار کے پٹنہ، نالندہ، پورنیہ، بھوجپور، روہتاس، بکسر اور اورنگ آباد میںیہ اموات ہوئیں اور 24 لوگ زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ 13 جانوروں کی موت بھی واقع ہوئی۔ جھارکھنڈ اور اترپردیش میںبھی الگ الگ جگہوںپر بجلی گرنے سے کئی لوگوںکی موت ہوئی۔

Read more

عبد الستار ایدھی: آہ مسیحا چلا گیا

اللہ نے انسان کو انسان کا دُکھ درد بانٹنے کے لئے ہی پیدا کیا ہے۔ اس کا مقصد انسان کو پیدا کرنے کا اپنی عبادت کرانا نہیں تھا۔ اس کی عبادت کے لئے تو سینکڑوں فرشتے رات دن حمدو ثنا میں لگے رہتے ہیں۔ وہ صرف انسان کو آپسی محبت ،پیار اور دکھ بانٹنے کا پیغام دینا چاہتا تھا اور اس مقصد کو اگر کسی نے پورا کیا تو وہ سرزمین پاکستان پر رہنے والے عبد الستار ایدھی تھے۔ ایک ایسا شخص

Read more

ہمالیہ کی وارننگ ہے اتراکھنڈ کا سیلاب

اتراکھنڈ میں ایک بارپھرتیز بارش اور بادل پھٹنے کی وجہ سے جان و مال کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ ریاست کے پتھورا گڑھ اورچمولی ضلعوں میں گزشتہ ایک جولائی کو مسلسل بارش، بادل پھٹنے اور زمین کھسکنے کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 20 تک پہنچ گئی۔ حالانکہ کچھ رپورٹوں میںمرنے والوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ بتائی جارہی ہے۔ چونکہ سب سے زیادہ بارش چمولی

Read more

مدھوبنی ضلع: خطرے میں دولہے کے بازار کا وجود

مدھوبنی ضلع کے سوراٹھ میں سجتا ہے دولہے کا بازار۔ یہاں آپ بغیر جہیز کے دولہا کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ وقت کے ساتھ اس بازار کی کشش کم ہورہی ہے۔ لیکن یہ آج بھی لوگوںکو اپنے وجود کا احساس کرا رہا ہے۔ متھلانچل کی اس انوکھی روایت کو زندہ رکھنے کے لئے آج بھی کئی لوگ سرگرم ہیں۔ جدیدیت کا اثر دولہے کے اس بازار پر بھی پڑا ہے۔ آج یہ بازار اپنا وجود بچائے رکھنے کے لئے لڑ رہاہے۔

Read more

ذات پر مبنی مردم شماری کا جن باہر نکلنے کو بیتاب ہے

ذات پر مبنی مردم شماری اور ریزرویشن کا جن بوتل سے باہر نکلنے کو تیار ہے۔ بہار میں برسراقتدار مہا گٹھ بندھن کی دونوں پارٹیاں جنتا دل یونائیٹڈ اور راشٹریہ جنتا دل کے سپریمو نتیش کمار اور لالو پرساد نئے سرے سے اسے بوتل سے باہر نکالنے کی تیاری میںہیں ۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے سماجی شماریات کے موضوع پر پٹنہ میں منعقد ایک بین الاقوامی سیمنار میں ذات پر مبنی مردم شماری کی رپورٹ جاری کرنے کی پُرزور مانگ کی ، تو راشٹریہ جنتا دل (آرجے ڈی) کے سپریمو

Read more

بہار : شراب کی اسمگلنگ زوروں پر پانی کے راستے آرہی ہے شراب

بہار میں سرکاری سختی کے بعد اب شراب کے اسمگلروں کے ذریعہ گنگا اور کوسی ندی کے ساتھ ساتھ دیگر ندیوں کے راستے بنگال، جھارکھنڈ، اترپردیش اور نیپال سے شراب کی کھیپ بہار منگائی جانے لگی ہے۔ ایسی بات نہیں ہے کہ آبی گزرگاہوں سے اسمگلنگ کئے جانے کا معاملہ پہلی بار سامنے آیا ہے۔ منشیات کی اسمگلنگ کے لئے گنگا اور کوسی اسمگلروں کے لئے ہمیشہ آسان مانی جاتی رہی ہیں۔ لیکن بہار میں مکمل شراب بندی کے بعد سے شراب اسمگلروں کے ذریعہ جم کر آبی گزرگاہوں کا استعمال کیا جانا انتظامیہ اور حکومت کے لئے تشویش کا موضوع بنتا جارہا ہے ۔ حالات کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شام ڈھلتے ہی گنگا ، کوسی سمیت دیگر ندیوں کے آس پاس بنائی گئی ’پیشہ گھاٹ ‘مطلب دھندہ کے لئے بنائی گئی گھاٹ پر دھندے بازوں کے جمع ہونے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور صبح تک شراب ڈھوئے جانے کا کھیل بدستور جاری رہتا ہے۔ شراب سے بھرا کنٹینر تو منزل تک پہنچایا ہی جارہا ہے،شراب سے لدی چھوٹی

Read more