گدھا پولس کی حراست میں

منظور عثمانی

حراست کے معاملے میں پولس بڑی حریص واقع ہوئی ہے، اس کا بس چلتا ہے تو اپنے روزنامچے کی پورتی کے لیے وہ رستہ چلتے کو بند کر دیتی ہے۔ ہمارے ایک ہم جماعت کے والدِ محترم ریٹائرڈ تھانیدار تھے۔ انہیں ’’سالے بند کردوںگا‘‘ اور ’’کچھ دے دلا کے معاملہ رفع دفع کرو‘‘ کہنے کی ایسی عادت پڑ گئی تھی کہ ذرا سی ناگواری کی صورت میں اپنی اہلیہ تک کو بند کر دینے کی دھونس دینے سے بھی نہ چوکتے تھے۔ یہ الگ بات کہ اس کی پاداش الٹا بیگم ہی بند کردیتی تھیں ان کا حقہ پانی۔ بڑی منتوں کے بعد معاملہ ’’رفع دفع‘‘ ہوپاتا

Read more

دولت مشترکہ کھل:لاکھوں زندگیوں سے کھلواڑ

ششی شیکھر
ہندوستان آج دنیا کی ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے، اس لئے اگر یہاں دولت مشترکہ کھیل ہو رہے ہیں تو یہ خوشی اور فخر کی بات ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس کھیل کے پیچھے جو کھیل چل رہا ہے، وہ کتنا جائز ہے؟کھیل کے نام پر غریبوں کی زندگی سے آخر کیوں کھیلا جا رہا ہے؟ مثلاً دہلی مزدور یونین کے مطابق، 2003 سے 2008کے درمیان دہلی میں350ملن بستیوں کو جبراً اجاڑ دیا گیا۔ان 350ملن بستیوں میں تقریباً3لاکھ لوگ رہتے تھے۔اپنا آشیانہ کھو چ

Read more

رمضان کی عظمت ، اہمیت و حکمت

رضوان عابد
مومنو!تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلی امتوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار بنو۔‘‘ (سورہ البقر، آیت نمبر 183)
رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن نازل ہوا جولوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور جو (حق و باطل) کو الگ الگ کرنے والا ہے۔

Read more

جنگ آزادی اور تحریک ریشمی رومال

عبد اللہ عثمانی (دیوبند)
ہندوستان کی جنگِ آزادی کی جدو جہد میں ملک کے قریب سبھی فرقوں اور حلقوں نے اپنی حصہ داری نبھائی اور اپنے وطنِ عزیز کی عزت وحرمت کے لئے لاتعداد قربانیاں دیں ۔سعیٔ آزادی کی اس تاریخ میں مسلمانوں کے صبرواستقلال اور جواں مردی کے نقوش سدا روشن وتابندہ رہیں گے۔
انگریزوں کے ناپاک عزائم وقدم جس روز سے ہندوستان کی زمین پر پڑے ان کو اکھاڑنے کے لئے نواب حیدرعلی (1786)، شیرمیسور ٹیپوسلطان (1799)، نواب سراج الدولہ (1757)، حافظ رحمت خاں شہید (1774) کے علاوہ مسلمانوں کی ایک غیور جماعت ابتداء سے ہی سرگرم رہی ہے ۔یہ وہ افراد تھے جو فرنگی چالوں اور ارادوں سے بخوبی واقف تھے۔اس سلسلے کے سرخیل امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (1762) اور ان کے نامور صاحبزادگان تھے۔ شاہ صاحب اپنے عہد کے نہ صرف ممتاز عالم دین تھے

Read more

بہار اسمبلی انتخابات:پھر ذات پات کا سہارا

اشرف استھانوی
پارٹیاں ذات پات کے خلاف خواہ کتنی ہی بیان بازی کریں اور ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنائیں مگر وہ خود کبھی بھی ذات پات کی سیاست سے باز نہیں آتی ہیں۔ بلکہ اسی دائرے میں رہ کر کام کرنا پسند کرتی ہیں۔ بہار میں اسمبلی انتخابات کا وقت جیسے جیسے قریب آتا جا رہا ہے، سیاسی پارٹیوں کی طرف سے ذات پات کی بنیاد پر لوگوں کو اپنے حق میں ای

Read more

بایو ڈائیورسٹی قانون کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت

کانچی کوہلی
دوجون 2010کو ہندوستان کا گرین ٹریبیونل قانون وجود میں آگیا۔ 1992 میں رییو میں ہوئی گلوبل یونائیٹڈ نیشنز کانفرنس آن انوائرمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ کے فیصلے کو قبول کرنے کے بعد سے ہی ملک میں اس قانون کی ضرورت تھی۔ اس کے علاوہ پلاننگ کمیشن کو بھی اس کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی،حالانکہ گرین ٹریبیونل کی تشکیل کے سلسلہ میں پارلیمنٹ میں کئی طرح کے سوال اٹھائے گئے، آخر کار اس کی ضرورت کے پیش نظر اسے منظوری مل ہی گئی۔ اس قانون میں نیشنل گرین ٹریبیونل نامی ای

Read more

بہار:اردو کے ساتھ نا انصافی حکومت سے قانون سازیہ تک

اشرف استھانوی

بہار میں اردو کو گذشتہ 30 برسوں سے دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے، لیکن اس کی یہ حیثیت صرف کاغذی ہے۔ کیوں کہ اس کا عملی نفاذ آج تک ممکن نہیں ہو سکا۔ اور اب تو اسے سرکاری سطح پر بھی زندہ در گور کر دینے کی سازش شروع ہو گئی ہے جس کے خلاف محبان اردو اب سڑکوں پر اترنے لگے ہیں اور لگاتار دھرنوں، مظاہروں اور جلوسوں کا انعقاد کرکے اس سازش کے خلاف صدائے احتجاج

Read more