کنٹرول لائن پر گولہ باری سے سرحدی آبادیوں کا امن و سکون غارت

ہندو پاک کی افواج کے درمیان مسلح تصادم آرائیوں اور ایک دوسرے پر خونیں حملوں کا آغاز اس سال پونچھ سے اس وقت ہوا تھا، جب 8 جنوری کو ایک مسلح پاکستانی دستے نے دراندازی کرتے ہوئے دو ہندوستانی سپاہیوں کو ہلاک کردیا تھا۔ اس واقعہ میں حملہ

Read more

ہماری آزادی ختم ہوگئی ہے

ملک میں ہوئی تبدیلیوں نے ایک بنیادی سوال پوچھنے کے لیے مجبور کر دیا ہے۔ سوال ہے کہ آخر یہ ملک کس کا ہے؟ سرکار کے ذریعے ملک کے لیے بنائی گئی اقتصادی پالیسیاں اور سیاسی ماحول سماج کے کس طبقہ کے لوگوں کے فائدے کے لیے ہونا چاہیے؟ معقول جواب ہوگا کہ سرکار کو ہر طبقہ کا خیال رکھنا چاہیے۔ آج بھی ملک کے 60 فیصد لوگ کھیتی پر انحصار کر تے ہیں۔ عام طور سے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں کام کر رہا غیر منظم مزدور طبقہ بھی اہم ہے۔ بدقسمتی سے 1991 کی اقتصادی اصلاحات کے بعد سرکار کا سارا دھیان کارپوریٹ سیکٹر، غیر ملکی کمپنیوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر مرکوز ہو گیا۔ زرعی شعبہ کو لگاتار نظر انداز کیا گیا اور اگر ایسا ہی آنے والے 20 سالوں تک چلتا رہا، تو

Read more

تقسیم وطن کا تجزیہ

ہندوستان میں اس وقت ایک عجیب و غریب صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔ ایک طرف جہاں جموں و کشمیر میں ایل او سی پر سرحدی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں، تو وہیں دوسری طرف ریاست کے اندر فرقہ وارانہ فساد بھی برپا ہو گیا ہے۔ عین 66 ویں یومِ آزادی کے وقت آزادی اور تقسیم سے پیدا شدہ تمام ناقابل حل ایشوز ایک ساتھ درپیش ہیں۔ یہ سب کچھ اس طرح ہیں کہ گویا برطانوی ریفریوں کے تحت ایک بار پھر نئے سیٹلمنٹ پر مذاکرات کا ماحول تیار ہے۔ مگر ایسا نصیب کہاں!

Read more

شادی کی رسم و رواج : پر نالہ تو بے چاری بچیوں پر گرتاہے

آج کا معاشرہ تو کہنے کو کمپیوٹرکا معاشرہ ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ جب کسی لڑکے اور لڑکی کی شادی کا موقع آتا ہے تو وہ رسم و رواج کے بندھن میں جکڑا ہوا نظر آتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ جہیز تِلک کی بیماری کا بھی یہ شکار ہوتاہے جوکہ کبھی کبھی دولہن کے مستقل ذہنی تنائو اور کبھی کبھی اسے جلا کر مارنے کا سبب بھی بنتا ہے۔ کسی بھی شہری علاقے میں گھوم جائیے، غیر شادی شدہ خواتین کی قابل ذکر تعداد دیکھنے کو مل جائے گی جو دولہن اس لئے نہیں بن سکیں کہ ان کے والدین جہیز دین

Read more

مہنگی پیاز کا ذمہ دار کون؟ خراب موسم، قحط ، بچولئے یا سرکار

کون نہیں جانتا کہ 1980میں ہندوستان کی اولین غیر کانگریسی حکومت کو ہی پیاز لے ڈوبی تھی اور تب اندرا گاندھی اور ان کی کانگریس ،جنہیں1977میں ایمر جنسی کے ختم ہونے کے بعد منعقد عام انتخابات میں مسترد کر دیا تھا، ایک بار پھر مرکز میں اقتدار میں آ گئی تھیں۔ تب یہ انتخابات ’پیاز والے انتخابات ‘ سیمنسوب کئے گئے تھے۔پیاز مہنگی ہونے کے بعد بھی سیاسی زلزلے آئے۔ 1998میں پیاز کی قیمت 60روپے فی کلو گرام تک بڑھ جانے سے اس وقت کی دہلی کی سشما سوراج کی سربراہی والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)

Read more

کثیر سونے والا ملک مالی :انتخابات کے بعد امکانات و اندیشے

جمہوریہ مالی مغربی افریقہ کا ایک ایسا غریب ملک ہے جہاں کی 90 فیصد آبادی سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔1992 کے ایک ریفرنڈم کے مطابق یہاں ہر پانچ سال پر الیکشن ہوتا ہے اور صدر کو جزوی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔مغربی افریقہ کا یہ سب سے بڑا ملک ہے جس کی کل آبادی 14.5 ملین ہے ،جن میں 80

Read more

شفافیت کی حامی نہیں ہے سرکار

پہلی بات تو یہ ہے کہ حق اطلاع قانون سی بی آئی جیسی جانچ ایجنسی کو اس کے دائرے سے باہر رکھنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر ایک جانچ ایجنسی کو اس سے چھوٹ ملی تو کیا مستقبل میں سی آئی ڈی پولیس یا دیگر جانچ ایجنسیوںکو بھی آرٹی آئی کے دائرے سے باہر رکھنے کا ارادہ ہے؟ ایسی ہی مانگ اگر ریاستی سرکار کی جانچ ایجنسیوں کی طرف سے اٹھنے لگے تو اس کی اطلاع کے بعد حق اطلاع قانون میں کیا بچے گا؟معاملہ چاہے لوک پال کا ہو یا پھر بدعنوانی کا، سب کے پیچھے اصل وجہ سرکاری کام کاج میں

Read more

جموں و کشمیر میں کشتواڑ فساد کے بعد فرقنہ وارانہ خلیج کو پاٹنے کی ضرورت

جموں و کشمیر کا کشتواڑ خطہ صدیوں سے آپسی مذہبی رواداری کی علامت رہا ہے۔ مگر گزشتہ دنوں موٹر سائیکل کے ایک معمولی حادثہ اور عید کی نماز ادا کرتے اجتماع پر پتھراؤ کے بعد شروع ہوئے ہند و مسلم فرقہ وارانہ فساد میں چند افراد کی ہلاکت اور سینکڑوں کے زخمی ہونے سے وہاں کا فرقہ وارانہ ماحول بگڑ گیا ہے۔ ضرورت ہے کہ جہاں ریاستی حکومت مہلوکین کے ورثاء کو مناسب ہرجانہ اور زخمیوں کی طبی امداد میں پورا تعاون دے، وہیں اس کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرکے انہیں سخت سے

Read more