کرناٹک: ذات پر مبنی سیاست کا چہرہ

ملک کی سیاست پر ذات پر مبنی سیاست سب سے بڑا داغ ہے۔ انتخابی عمل میں اصلاح اور سپریم کورٹ کی کوششوں کے علاوہ عام سیاسی مباحثوں پر بھی غور کریں، تو ذات پر مبنی سیاست کو ملک کے لیے سب سے مشکل کڑی بتایا جاتا ہے۔ المیہ تو دیکھئے کہ گزشتہ تقریباً 60 برسوں سے اپنے مک کی پوری سیاسی تصویر ہی کم و بیش اسی بنیاد پر کھڑی ہے۔ شمالی ہند کے سیاسی منظر نامے میں یہ سوچ عام ہے، لیکن آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ جنوبی ہند کی ریاست کرناٹک کی پوری سیاسی جنگ ہی ذات کی بنیاد پر لڑی جاتی ہے۔ حالانکہ موجودہ وزیر اعلیٰ سدھا رمیا نے اس نظام کو توڑا اور وہ ریاست کے ایسے پہلے وزیر اعلیٰ بنے، جو کروبا فرقہ سے آتے ہیں۔ ذات پر مبنی بندھنوں سے بندھی اس سیاست کو سمجھنے کے لیے پہلے وہاں کے ذات پر مبنی نظام کو سمجھنا ضروری ہے۔

Read more

جموں و کشمیر کی دو راجدھانیاں : اس بدحال ریاست کے خزانہ پر یہ بوجھ کب تک؟

ریاست جموں و کشمیر کی حکومت ایک بار پھر سرمائی دارالحکومت جموں منتقل ہورہی ہے۔ سرینگر میں 25 اکتوبر کو دفاتر بند ہوگئے اور پھر یہ دفاتر 4 نومبر کو تین سو کلو میٹر دور سرمائی دار الحکومت جموں میں کھلیں گے۔ اگلے چھ ماہ تک سرینگر میں گورنر اور وزیر اعلیٰ کے دفاتر سمیت پورا سول سکریٹریٹ مقفل رہے گا۔ چھ ماہ بعد، یعنی اپریل کے ابتدائی ہفتے میں ایک بار پھر جموں میں تمام دفاتر کو بند کرکے اور لاکھوں سرکاری فائلوں کو ٹرکوں میں لاد کر واپس سرینگر لایا جائے گا۔ وادی سے تعلق رکھنے والے ملازمین کے لیے جموں میں سرکاری سطح پر رہائش کا انتظام کیاجاتا ہے اور جب حکومت سرینگر منتقل ہوجاتی ہے، تو جموں کے ملازمین کے لیے یہاں رہائش کا نظم ہوتا ہے۔ پچھلے 142

Read more

ووٹوں کی سیاست : اقلیتوں کو گمراہ کرتے سیاستداں

اتر پردیش کے مسلم ووٹرس کو متحد کرنے اور ان پر اپنا دبدبا بنائے رکھنے کے لئے۔ سماجوادی حکومت تنظیم کے سربراہان کے ذریعہ ’’شام ، دام ، دنڈ ، بھینٹ‘‘ جیسے تمام ہتھکنڈے اپنارہی ہے۔سماجوادی اعلیٰ کمان توقع تھی کہ مسلمانوں کے سہارے نیتا جی دلی میں اپنی دعویداری مضبوط کریں ، لیکن مظفر نگر فسادات نے ان کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔ فسادات نے ان کی حالت ’’خدا ہی ملا نہ وصال صنم ‘‘ جیسی کر دی ہے۔ سماجوادی پارٹی کسی بھی طرح یو پی میں کم سے کم 60سیٹیں جیتنے کے خواب پالے بیٹھی ہے۔ ادھر کانگریس مسلم ووٹروں میں پکڑ مضبوط کرنے کے لئے کوئی کثر باقی نہیں چھوڑ رہی ہے۔سماجوادی پارٹی کا مسلم عشق کانگریس کو راس نہیں آ رہا ہے۔ فسادوں نے اسے سماجوادی حکومت پر وار

Read more

کنٹرول رسک گروپ کی رپورٹ: ہندوستانی کمپنیوں میں کرپشن

ہندوستان میں کرپشن ہر سطح پر عام ہے۔ تبھی تو معروف سماجی و اصلاحی رہنما انا ہزارے نے اس کے خلاف پورے ملک میں مہم چھیڑ رکھی ہے اور اس تعلق سے جن لوک پال قانون کے لے تن، من، دھن سے لگے ہوئے ہیں۔ کرپشن قومی و بین الاقوامی سطح پر کاروبار کے سامنے سب سے اہم چیلنجز میں سے ایک ہے۔ اچھے انتظام والی کمپنیوں کے پاس اونچے قانونی و اخلاقی نکات کی پابندی کرنے کے علاوہ کوئی اور متبادل نہیں ہوتا ہے۔ حالانکہ کمزور انتظامیہ والے مارکیٹ میں ان کمپنیوں کا سامنا بھی اکثر ایسے حکام سے ہوتا ہے،

Read more

اپنی قیادت، اپنی سیاست اور اپنی پارٹی جنتا دل راشٹر وادی

عام انتخابات سے پہلے بہار میں ایک نئی سیاسی پارٹی، جنتا دل راشٹر وادی نے جنم لیا ہے۔ اس کا مقصد، پارٹی کے روحِ رواں اشفاق رحمان کے مطابق، محروم طبقات کو انصاف دلانا اور اقتدار میں حصہ داری دلانا ہوگا۔ ان میں مسلمان سر فہرست ہیں۔ ملک اور ریاست کی کسی حکومت نے مسلمانوں کو ان کا واجب آئینی حق دینا بھی ضروری نہیں سمجھا، لیکن ہر انتخاب میں بطور ووٹ بینک ان کا استعمال لازمی جانا۔ یہ سلسلہ اب نہیں

Read more

آندھرا پردیش کی سیاست انتشار کی شکار

آندھرا پردیش تقسیم کے مسئلہ سے دو چار ہے۔ جس علیحدہ ریاست کے مطالبہ کے لیے تقریباً پانچ دہائیوں سے تحریک چلائی جا رہی تھی، اس کی تشکیل کا اعلان ہو گیا ہے اور تقسیم کی مخالفت میں احتجاجی مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔ طویل عرصہ سے اٹھ رہے تلنگانہ کے مطالبہ کو دیکھتے ہوئے یو پی اے حکومت نے عام انتخابات سے عین پہلے علیحدہ تلنگانہ ریاست کا اعلان کر دیا۔ اب وہاں کی علاقائی پارٹیوں نے علیحدہ تلنگانہ ریاست کے قیام کی مخالفت کرنا شروع کر دی ہے۔ آندھرا پردیش میں علیحدہ ریاست کی تشکیل کے مسئلہ پر یہ بحران نیا

Read more

تلنگانہ کی بھول

بہت زمانے قبل ایک گائوں میں ایک براہمن لڑکا رہتا تھا۔ وہ کوئی کام نہیں کرتا تھا اور پورا دن گائوں میں ادھر ادھر گھومتا رہتا تھا۔ وہ اکثر ایک بیل کی تعریف کرتا تھا، جس کے سینگ بے حد خوبصورت تھے۔ لڑکے کو اس بیل کے سینگوں کے بیچ سے چھلانگ لگانے کی خواہش ہوئی ، لیکن وہ ایک عقلمند لڑکا تھا ، اس لئے اس نے فوراً اپنا ارادہ ترک کر دیا۔ بیل پر تقریباً ایک سال تک نگاہ رکھنے کے بعد اس نے ایک دن چھلانگ لگا دی۔ ایسا کرتے ہی بیل نے اسے پٹخ دیا اور تب تک مارتا رہا جب تک دوسرے نے اسے آکر بچایا نہیں۔ لوگوں نے

Read more

چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات: کانگریس میں اختلافات ہی رمن سنگھ کی طاقت ہے

چھتیس گڑھ میں اسمبلی الیکشن دونوں قومی پارٹیوں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان لڑا جانا ہے۔ بی جے پی قیادت بروقت دہلی سے رائے پور پہنچ گئی ہے۔ پارٹی نے ٹکٹ بھی تقسیم کر دیے ہیں اور منظم طریقے سے ریاست میں انتخابی تشہیر میں جُٹ گئی ہے، جبکہ کانگریس کے ساتھ اس کے برعکس ہوا ہے۔ چھتیس گڑھ کی کانگریسی قیادت انتخابی تیاریاں کرنے کی بجائے ا ٓپسی اختلاف میں الجھ گئی ہے۔ اجیت جوگی اور چرن داس مہنت کئی دنوں تک دہلی میں موجود رہے۔ دربھا میں اعلیٰ سطح کے کانگریسیوں کی ہلاکت سے جو ہمدردی انھیں مل سکتی تھی، وہ انھوں نے گنوادی ہے۔ اب کانگریس کو فائدہ تبھی ملے گا، جب بی جے پی عوام کی نگاہوں میں ناکام ثابت ہو۔ ریاستی کانگریس عوام کو یہ یقین دلانے میں ناکام ہے کہ وہ برسر اقتدار بی جے پی کی متبادل بن سکتی ہے۔

Read more