میرے زمانہ کی دلی

سید ضمیر حسن دہلوی
دلی کے سیلانی جوڑے بڑے مشہور تھے۔ یہاں کے لوگوں کو سیر سپاٹے بڑے عزیز تھے۔ ایمانداری سے کمانا اور کھانا اڑانا دلی والوں کی زندگی کا بنیادی اصول تھا۔ کرخندار جب تک اپنی کمائی کا پیسہ پیسہ خرچ نہ کردیتے تھے کارخانے کا رخ نہیں کرتے تھے۔ عرس، فاتحہ، میلے ٹھیلے، بسنت، پھول والوں کی سیر، سلطان جی کی سترہویں، اوکھلے اور محلدار خاں کی ٹر سب شاہی زمانے کی طرز پر کل تک برقرار تھے۔ سڑکوں پر موٹریں تو کم دکھائی دیتی تھیں تانگے اور ریڑھ

Read more

ہاکی کو آئی پی ایل کیسے بنائیں

پرینکا پریم تیواری
اس بات سے تو سبھی واقف ہیں کہ ہندوستان میں ہاکی کو کیا حیثیت حاصل ہے، لیکن سننے میں آ رہا ہے کہ ہاکی کی حالت کو بہتربنانے کے لئے کئی منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ ان میں سب سے پر کشش منصوبہ یہ ہے کہ اب ہاکی بھی آئی پی ایل کی طرز پر پیشہ ور لیگ کی شکل میں کھیلی جائے گی۔یعنی اب ہاکی کے فارمیٹ میں کئی ضروری تبدیلیاں ہوں گی اور اگر یہ کہا جائے کہ اب پیسوں کی برسات ہوگی تو غلط نہ ہوگا، لیکن یہ بھی ہوا میں محل بنانے جیسا ہے۔ دراصل، ہ

Read more

اسامہ کا قتل اور ہندوستانی میڈیا کا پروپیگنڈہ

عابد انور
ہندوستانی میڈیا کا رویہ مسلمانوں کے تئیں ہمیشہ معاندانہ رہا ہے۔ وہ مسلمانوں کی دل آزاری کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ ہمیشہ اس تاک میں رہتا ہے کہ کوئی ایسا موضوع ہاتھ لگ جائے جس سے مسلمانوں کو بدنام کرنے میں اسے لطف آئے اور ذہنی تسکین ہو۔ مسلمانوں پر مظالم، وقف املاک کی لوٹ کھسوٹ، فسادات میں مسلمانوں کی تباہ حالی، مسلمانوں کے تئیں پولس کا دہشت گردانہ رویہ اور بے قصور مسلمانوں کو کسی جعلی معاملے میں ملوث کرنے کی بات اور بال کی کھال نکالنے والا ہندوستانی میڈیا کبھی غیر جانبدار نظر نہیں آتا۔ گزشتہ دنوں جب جنگ پورہ بھوگل میں نور مسجد کی شہادت عمل میں آئی تھی تو اس وقت میڈیا کو سانپ سونگھ

Read more

میرے زمانہ کی دلی

سید ضمیر حسن دہلوی
مجالس عزا اور محفل میلاد، عورتوں کی سماجی اور تہذیبی زندگی کی عکاسی کرتی ہیں۔ دلی میں یہ تقریبات بہت دھوم دھام سے منائی جاتی تھیں۔ میں اس سے پہلے عرض کرچکا ہوں کہ دلی میں عورتوں کے لیے گھر سے باہر کی زندگی بالکل نہیں تھی، مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ پنجرے کے پنچھی کی طرح جیتی تھیں۔ اکثر ایسے میلے ٹھیلے اور عرس ہوتے تھے جن میں عورتیں بھی گھر سے سب افراد کے ساتھ شریک بزم رہتی تھیں۔ اعلیٰ خاندان کی عورتیں رتھ، یکے اور تانگے میں پورے اہتمام کے ساتھ سفر کرتی تھیں اور ان کے ٹھہرنے کا بھی باقاعدہ انتظام کیا جاتا تھا۔ غریب غرباء کی عورتیں شاہی عمارتوں، آستانوں اور تاریخی مہمان

Read more

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

عابد انور
سننے میں شاید یہ بات عجیب سی لگے خصوصاً مغربی فکر کے حامل افراد کویہ دن میںدیکھا ہوا خواب یا شیخ چلی کے حسین سپنے کی طرح معلوم ہوگالیکن یہ اسی طرح حقیقت سے پراور سچ ہے جس طرح سورج کی روشنی، چاندکی چاندنی، سمندر کی گہرائی و گیرائی اور کائنات کی حقیقت کہ امریکہ روز بروز اپنے ملک و قوم کو تباہی کے دہانے پر پہنچا رہا ہے۔ امریکہ پوری دنیا کے لئے بدی کا محور بن گیا ہے۔ اس سے نہ اس کا دوست ملک محفوظ ہے اور نہ ہی دشمن ملک۔ امریکہ نے جس سے دوستی کی اسی کی پیٹھ میں خنجر اتار دیا۔نہ اس کے قول کا بھروسہ ہے اور نہ فعل پر اعتبار۔ اس کے سامنے دنیا کا ہر قانون اور اقوا م متحدہ کا ہر منشور ہیچ ہ

Read more

اسامہ کی موت نے پاکستان کی پول کھول دی

سدھارتھ رائے
فرض کیجئے کہ اسامہ پاکسان میں نہیں دہلی میں مارا گیا ہوتا تو عوام کا ردعمل کیا ہوتا؟ جواب یہ ہے کہ ہمارے ہاتھ لیڈران کے گریباں تک ہوتے اور حکومت کو استعفیٰ دینا پڑگیا ہوتا، لیکن پاکستان میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ کیونکہ پاکستان میں جمہوریت تو ہے لیکن اس کے پاس نہ ہی کوئی اختیار ہے اور نہ ہی ملک کے لوگوں کی حمایت۔
لیڈران اپنے حکمرانوں کے سامنے بے بس ہیں اور حکمرانوں کی حکمراں پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی ہیں۔ پاکستان حاشیہ پر تو تھا ہی، اب ایسا نہ ہو کہ وہ دوسرا افغانستان

Read more