جموںو کشمیر: نیشنل کانفرنس اور کانگریس میں سیٹوں کے بٹوارے پر ان بن

سولہویں لوک سبھا کے انتخاب کی تاریخوں کا اعلان ہوتے ہی ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح جموں و کشمیر میں بھی سیاسی جماعتوں نے خم ٹھونک کر میدان میں اترنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔فی الوقت پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر کی کل 6، یعنی سرینگر، بارہمولہ، اننت ناگ، لداخ، اودھم پور اور جموں نشستوں پر نیشنل کانفرنس کے تین (وادی کی تین نشستوں)، کانگریس کے 2 (جموں، اودھم پور) اور ایک آزاد امیداوار (لداخ سیٹ ) پر براجمان ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اب کی بار بھی انتخابات میں یہی صورتحال ابھر کر سامنے آنے کا قوی امکان ہے، یعنی نیشنل کانفرنس وادی کی تین نشستوں اور کانگریس جموں اور اودھم پور کی سیٹوں کو جیتنے کی پوزیشن میں ہیں۔ لیکن، ظاہر ہے کہ اس ضمن میں وثوق کے ساتھ ابھی کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے۔

Read more

تمام مسائل کی جڑ ہے موجودہ اقتصادی پالیسی: رام چندر راہی

حال میں دہلی کے ’’ گاندھی پیس فائونڈیشن ‘‘ میں گاندھی وادیوں کی دو روزہ نشست کے بعد جس طرح عام آدمی پارٹی کو حمایت دینے کی خبر عام کی جارہی ہے، اس سے یہ جاننے کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ حقیقت میں اس کے پیچھے کی سچائی کیا ہے۔ کیا واقعی گاندھی وادیوں نے اروند کجریوال کو حمایت دی ہے یا کچھ لوگوں کے ذریعہ یہ افواہ پھیلائی گئی ہے؟ انہی تمام ایشوز پر ’’چوتھی دنیا‘‘ کے نمائندہ ابھشیک رنجن سنگھ نے گاندھی میموریل فنڈ کے سکریٹری رام چندر راہی سے تفصیلی بات چیت کی …

Read more

بدحال مسلمان: نئی اقتصادی پالیسی کے خلاف آواز کیوں نہیں؟

کسی بھی ملک و ملت کی ریڑھ کی ہڈی اس کی معیشت ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے ہمارے ملک و ملت کی بھی ریڑھ کی ہڈی یقینا اس کی معیشت ہے۔ 1991 میں پی وی نرسمہا راؤ کی سربراہی والی کانگریس کی اقلیتی حکومت کے زمانے میں اس وقت کے وزیر خزانہ اور فی الوقت وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ذریعے بازار پر مبنی نئی اقتصادی پالیسی کا ہندوستان میں نفاذ شروع ہوا۔ 1996 میں کانگریس کی اقلیتی حکومت تو رخصت ہوگئی اور پھر پہلے ایچ ڈی دیوے گوڑا اور بعد میں اندر کمار گجرال کی یونائٹیڈ فرنٹ حکومت میں بھی یہ پالیسی چلتی رہی۔ حتی کہ 1998 سے لے کر 2004 تک اٹل بہاری واجپئی کی سربراہی میں بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت بھی اسی پالیسی پر کاربند رہی۔ 2004 سے 2014 تک اس پالیسی کے خالق ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سربراہی میں کانگریس قیادت والی یو پی اے حکومت میں تو اس پالیسی کو تقویت ملنی ہی تھی اور خوب ملی بھی۔

Read more

کیا نواز شریف پاکستان میں’ گڈ گورننس ‘ لا پائیں گے

پاکستان میں جب سے موجودہ حکومت یعنی میاں نواز شریف کی حکومت برسر اقتدار آئی ہے، وہ توانائی کے بحران کے خاتمے کے یک نکاتی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ حکومت لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے میں جزوی طور پر کامیاب ہوئی ہے لیکن سبسڈی ختم کرنے پر عوام نالاں ہیں۔ اسی طرح گیس کی بھی بدستور قلت ہے جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ مہنگائی میں بھی بے پنا اضافہ ہوا ہے۔ جب میاں نواز شریف نے اقتدار سنبھالا تو ڈالر 98روپے کا تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی روپے کی قدر میں کمی کا باعث بنی اور زرمبادلہ کے ذخائر 4ڈالر ارب رہ گئے تو ڈالر کی

Read more

جمہوریت کو بچانے کی ضرورت

اس لوک سبھا کا آخری سیشن ختم ہو گیا ۔ اس کے ساتھ ہی یو پی اے 1اور 2کے بھی آخری سیشن کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ انتخاب کون جیتتا ہے، یہ ایک کھلا سوال ہے۔ کسی بھی حکومت کی کارکردگی کا مشاہدہ کرنے کے لئے دس سالوں کا وقت کافی ہے۔ پیچھے مڑ کر گزشتہ دس سالوں کو دیکھیں۔ میں حکومت کو اقتصادی محاذ پر پچھڑنے کے لئے زیادہ ذمہ دار نہیں ٹھہرانا چاہتا، جیسا کہ کئی لوگ کرتے ہیں۔ امریکہ بحران میں ہے، متوقع طور پر ہندوستان کم بحران میں ہے۔وزیر خزانہ پر الزام عائد کرنے کے معنی کیا ہیں؟ انھوں نے وہ نہیں کیا ، جو کرنا چاہئے تھا۔ انھوں نے جو کیا، وہ ہمیں کہیں نہیں لے

Read more

آئین کے خلاف ہے ہماری موجودہ اقتصادی پالیسی

ہم ہندوستان کے لوگوں سے بنا ہندوستانی آئین واضح طور پر ایک عوامی فلاحی مملکت کی بات کرتا ہے۔ لوگوں کی بہتری کے لیے ہمارا آئین کچھ ایسے ذرائع بتاتا ہے، جن کے استعمال سے مملکت ایک ایسی عوامی فلاحی مملکت کی تعمیر کرے، جہاں ہر ایک آدمی کو یکساں سماجی، سیاسی اور اقتصادی حقوق ملیں، یکساں ترقی ہو۔ لیکن گزشتہ 24 برسوں کی اقتصادی پالیسیوں کی ہی دین ہے کہ ایک طرف گوداموں میں اناج سڑتا رہا اور دوسری طرف کالا ہانڈی کے غریب آم کی گٹھلی کھا کر مرتے رہے۔ یہ ہماری اقتصادی پالیسی ہی ہے، جس کی وجہ سے ہندوستان کی حالت، ہنگر ایڈیکس 2013 کی

Read more

الیکشن کی گونج: ممبئی میں یو پی ، بہار کے ووٹروں کی قدر بڑھی

ووٹ کی قدر و قیمت کیا ہوتی ہے، اس کا احساس گرام پنچایت کے الیکشن میںہوتا ہے۔ عام طور سے دیکھا گیا ہے کہ جب گرام پنچایتوں کے الیکشن ہوتے ہیں، تو گرام پردھان کے عہدے کے امیدوار ووٹر لسٹ کو دیکھ کر سب سے پہلے ان لوگوں کے ووٹوں کی فکر کرتے ہیں، جو تلاشِ معاش کی خاطر گاؤں سے دور دراز علاقوں میںجا کر بس گئے ہیں اور اگر مثبت کوشش کی جائے، تو وہ الیکشن کے موقع پر گاؤں آسکتے ہیں۔ چنانچہ گرام پردھان عہدے کے امیدوار نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو الیکشن کے بارے میں مطلع کرتے ہیں اور ان سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنے گاؤں کی فلاح و بہبود

Read more

مارچ کا مہینہ : ایسے بھریں انکم ٹیکس ریٹرن

اکتیس مارچ کو مالی سال ختم ہونے کے بعد ٹیکس ایبل آمدنی والے ہر شخص کو انکم ٹیکس محکمہ میں ایک فارم بھر کر دینا ہوتا ہے۔ اس فارم میں یہ بتانا ہوتا ہے کہ گزشتہ مالی سال میں اسے کل کتنی آمدنی ہوئی ہے اور اس نے اس آمدنی پر کتنا ٹیکس ادا کیا ہے۔ اسے انکم ٹیکس رٹرن کہا جاتا ہے۔

Read more

اتر پردیش میں الیکشن کی پچ پر سوغاتوں کے چھکے

اتر پردیش کی سماجوادی سرکار عام انتخابات کے لیے ضابطۂ اخلاق نافذ ہونے سے پہلے اپنے سبھی مورچے مضبوط کر لینا چاہتی ہے، تاکہ انتخابی میدان میں عوام کے سامنے سماجوادی پارٹی کے حق میں مضبوطی کے ساتھ پیش بندی کی جاسکے۔ اس کے لیے ایک طرف نئے منصوبوں کے لیے سنگِ بنیاد رکھے جارہے ہیں، تو دوسری طرف تمامتر سوغاتیں بھی بانٹی جارہی ہیں۔ اسیسبب ایس پی کے تئیں وفادار نوکر شاہوں کی بجائے، اچھا کام کرنے والے، ایماندار اور محنتی بیورو کریٹس کو اہم عہدوں پر مامور کیا جارہا ہے۔ حکومت، انتظامیہ کا حساب کتاب درست کرنے کے لیے درجنوں آئی اے ایس، پی سی ایس اِدھر سے اُدھر کیے جاچکے ہیں۔ پی سی ایس سے ترقی پا کر آئی اے ایس بنے افسروں کو اہم عہدوں پر بیٹھا کر ان پر اعتمادکیا جا رہا ہے۔ سرکاری، نیم سرکاری، تربیتی اداروں اور باڈیز کے افسروں، ملازمین اور اساتذہ کو پروموشن، ایریر کی بقایا جات کی ادائیگی کر کے ریگولرائزیشن کے سہارے لبھایا جارہا ہے۔ سرکار سے لیکر تنظیم تک کی شبیہ کو بھی سلیقے کے ساتھ نکھارا جارہا ہے۔

Read more