جن لوک پال کے لئے وزیر اعظم کو انا کا تازہ خط

آپ کے دفتر سے محترم وی نارائن سامی کے ذریعہ 24 جولائی، 2013 کو تحریر کردہ خط موصول ہوا۔ مانسون اجلاس میں پارلیمنٹ میں لوک پال بل لانے کی یقینی دہانی آپ نے کرائی ہے۔ ٹھیک ہے۔ مانسون اجلاس میں اگر بل پاس نہیں ہو پایا، تو مجبوراً سرمائی اجلاس کے پہلے دن سے رام لیلا میدان میں میرا اَنشن شروع

Read more

پدم ایوارڈس کا معاملہ: قومی انعامات میں شفافیت کا سوال

پدم ایوارڈ کے پیچھے کا کھیل ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ لیکن سرخی اس بار کسی ایوارڈ یافتہ کی قابلیت کو لے کر نہیں، بلکہ اس کے انتخاب کے عمل کو عام کرنے کی مانگ کو لے کر ہے۔ ملک کے چیف انفارمیشن کمشنر ستیانند مشرا نے حال ہی میں مرکزی وزیر داخلہ کو اس سلسلے میں ایک خط لکھا ہے کہ کئی برسوں سے ملک کے عوام اس بات کو لے کر غصے کا اظہار کر رہے ہیں کہ پدم ایوارڈس کے امیدواروں کی فہرست، ان کے انتخاب کے عمل، ان کے منتخب ہونے کی اہلیت اور اس سے وابستہ دیگر معلومات ایوارڈ دینے سے پہلے وزارتِ داخلہ کی ویب سائٹ پر اَپ ڈیٹ کرکے فراہم کی جائیں، تاکہ عام عوام کو بھی یہ سب معلوم ہو سکے۔ باوجود اس کے وزارتِ داخلہ نے اس بابت ابھی تک کوئی بھی جانکاری اپنی ویب سائٹ پر اَپ ڈیٹ نہیں کی ہے۔

Read more

اقتدار کے متوازی چلتا ہے مافیا راج

اجے کمار
اتر پردیش میں مائننگ مافیا کا طلسم کبھی کوئی سرکار نہیں توڑ پائی یایہ کہا جائے کہ سیاسی جماعتوں کے آقاؤں نے جان بوجھ کر اس طرف سے اپنی آنکھیں بند کر کے رکھیں تو غلط نہیں ہوگا۔ بھلے ہی ناجائز کانکنی کے معاملے میںیو پی کئی دیگر ریاستوں سے تھوڑا پیچھے ہو، لیکن یہاں بھی وقت کے ساتھ یہ دھندہ بڑھتا جارہا ہے۔ ندی کنارے اور پہاڑی علاقوں کا کوئی بھی ضلع ایسا نہیں بچا ہے، جو مافیا سیاست دانوں سے بچا ہو۔ بات یہیں تک محدود نہیں ہے، اس سے آگے جاکر دیکھا جائے، تو کانکنی مافیا، سیاست دانوں کی ہی سرپرستی میں پھل پھول رہے ہیں۔ وائن کنگ کے نام سے دولت اور شہرت بٹورنے والے پونٹی چڈھا نے ملائم اور مایا کی مہربانی سے ناجائز کانکنی میں خوب نام کمایا تھا۔ آج بھی اس کے ہی

Read more

کیا ہے پارلیمانی خصوصی اختیارات اور آر ٹی آئی

سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔امریکہ سے ایٹمی ڈیل کے دوران یو پی اے سرکار کو جب ہائوس میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا تھا، اس کے کچھ گھنٹے پہلے ہائوس میں ہندوستان کی پارلیمانی تاریخ کا سب سے شرمناک حادثہ پیش آیا۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے تین ممبروں نے پارلیمنٹ ہائوس میں نوٹوں کی گڈیاں لہراتے ہوئے سماجوادی پارٹی اور کانگریس پر یہ الزام لگایا کہ یہ نوٹ انہیں سرکار کے حق میں اعتماد کا ووٹ دینے کے دوران رشوت کے طوپر دئے گئے ہیں، جسے ایک میڈیا چینل نے اسٹنگ آپریشن کے دوران اپنے کیمرے میں قید کر لیا تھا اور اسے لوک سبھا اسپیکر سومناتھ چٹرجی کو سونپ دیا تھا۔ بعد میں کچھ غیر سرکاری تنظیموں اور لوگوں نے جب آر ٹی آئی کے تحت درخواست دے کر ویڈیو ٹیپس عام کرنے کی مانگ کی تو لوک سبھا نے ان ٹیپس کو عام کرنے سے منع کردیا۔ لوک سبھا نے بتایا کہ ویڈیو ٹیپ ابھی پارلیمنٹ کمیٹی کے

Read more

سائبر کھڑکی کے پیچھے کھڑا ووٹر

ہندوستانی سیاست کے کچھ پہلوؤں پر غور کرنے پر صاف پتہ چلتا ہے کہ ملک کی سیاست اچانک بعض تبدیلیوں کے ساتھ نئے روپ میں سامنے آ رہی ہے۔ اس کے اس نئے پن پر سب سے زیادہ اثر سوشل میڈیا کا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ جملہ ایک لمبے عرصے سے ہوا میں ہے کہ 2014 کا لوک سبھا الیکشن سوشل میڈیا کے توسط سے لڑا جائے گا، لیکن اس سوچ کو لے کر جس طرح سے پارٹیاں سنجیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہیں، تب اس بات کو سمجھنا موزوں ہو جاتا ہے کہ کیا سوشل میڈیا ’ہر ایک فرینڈ ضروری ہوتا ہے‘ کے دائرے سے نکل کر ملک کی سیاسی عبارت

Read more

وادی ٔ کشمیر میں مسئلہ ایک فوجی تربیت گاہ کا : آبادی کے قریب مشقین وبالِ جان

محمد ہارون
وادی کشمیر کے وسطی ضلع بڈگام میں فوج کی تحویل میں تین ہزار کنال اراضی پر قائم ایک فوجی تربیت گاہ ان دنوں تنازعے کا باعث بنی ہوئی ہے۔ 1964 میں ریاستی حکومت اور وزارتِ دفاع کے درمیان ایک معاہدے کی رو سے یہ زمین فوج کو پچاس سال کے لیے لیز (رہن) پر ملی تھی۔ اب اس زمین کی لیز اگلے سال، یعنی 2014 میں ختم ہو رہی ہے۔ فوج حکومت پر اس لیز کی مدت میں اضافہ کرنے کے لیے دبائو ڈال رہی ہے، لیکن بڈگام کی مقامی آبادی اور کشمیر کی سول سوسائٹی لیز کی مدت میں اضافہ کرنے کے مبینہ منصوبے

Read more

لداخ خطے کو مزید اختیارات دینا: ایک سیاسی چال یا دفاعی مجبوری؟

ریاستی سرکار نے حال ہی میں ایک انتہائی اہم فیصلے میں جموں کشمیر کے لداخ خطے میں لیہہ اور کرگل خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسلوں، جو پہلے ہی براہِ راست مرکزی سرکار سے جڑے ہوئے ہیں، کومزید اختیارات تفویض کرنے کا اعلان کیا۔ حکومت نے نہ صرف ان ہل کونسلوں کو مزید اختیارات دینے کا اعلان کیا، بلکہ دور رس نتائج کے حامل اقدام کرتے ہوئے لداخ خطے کے لیے علیحدہ پولس رینج قائم کرنے کا غیر معمولی فیصلہ بھی کیا۔

Read more