پاکستان میں صحافت

سہیل انجم
صحافت یوں تو متاع حیات کو ہتھیلی پر لے کر چلنے کا نام ہے ۔ لیکن اگر حالات سازگار نہ ہوں اوراس متاع حیات کے قدم قدم پر لٹنے کے خطرات موجود ہوں تو ان حالات میں صحافت کا چراغ جلائے رکھنا کوہکن کے جوئے شیر نکالنے سے بھی کہیں زیادہ خطرناک اور مشکل ہے۔ لیکن آفریں ہے پاکستان کے ان صحافیوں کو جو کوچہ قاتل میں بھی شاہانہ انداز میں نقد جاں لے کرچلنے اور اپنے خون سے شمع مقتل کی لوکو تیز کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان جس قسم کی اندرونی وبیرونی سازشوں کا شکار ہے اور جس نوعیت کی جنگوں میں ملوث ہے وہ نہ تو کسی تعمیری کاز کے لیے سازگار ہیں اور نہ ہی صحافتی فرائض کی ادائیگی کے لیے معاون۔ لیکن ا

Read more

سیاست کا فریبی اور بناوٹ چہرہ

میگھناد دیسائی
کہتے ہیں، جنگ کے وقت سب سے زیادہ نقصان سچ کا ہی ہوتا ہے۔ ہندوستانی سیاست میں سچ کی شمولیت نہیں رہی۔اس لیے ہم اسے لے کر زیادہ فکر مند بھی نہیں رہتے، لیکن گزشتہ دنوں ہمیں زبردست طور پر فریب، بناوٹی پن، الزام در الزام اور تشہیری باتیں دیکھنے سننے کو ملیں۔ یہ پہلا موقع تھا جب رام دیو ایشو پر حکومت نے پلٹی ماری۔ پہلے وزیر خوشامد کرنے اور بابا رام دیو کے دیدار کرنے ایئر پورٹ پہنچے۔ جس کسی نے بھی بابا رام دیو کی کارگزاریوں کو نزدیک سے دیکھا اس

Read more

پاکستان کی بقا کے لئے دہشت گردوں پر لگام کسنا ضروری

راجیو رنجن تیواری
پہلے القاعدہ سربراہ اسامہ بن لا دن ، پھر اس کے ایک اہم ممبر الیاس کشمیری کا مارا جانااوراب پاکستان میں یکے بعد دیگرے ہو رہے بم دھماکے نے سب کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔ پتہ نہیں پاکستان کو اب بھی اس بات کا احساس ہے یا نہیں کہ اس نے جو برسوں پہلے ہند مخالف دہشت گردی کی فصل بوئی تھی، اب وہی پھل پھول رہی ہے۔ وہاں کے سیاست دانوں کو کم سے کم اب تو سمجھ ہی جانا چاہیے، تاکہ پاکستان کا مستقبل بہتر ہو سکے۔ ویسے موجودہ حالات کو دیکھ کر یہ نہیں لگتا کہ وہاں کے حالات اتنی جلدی بدلنے والے ہیں، کیوں کہ خون خرابے کی جڑیں پاکستان

Read more

مسائل بہت سے، حل صرف ایک

آج ملک کے اندر ایک عام تصور یہ پایا جانے لگا ہے کہ کسی بھی سرکاری دفتر میں رشوت دیے بغیر کوئی کام نہیں کرایا جاسکتا۔ بہت حد تک یہ رائے صحیح بھی ہے کیوں کہ بدعنوانی یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک ایماندار آدمی کا ایماندار بنا رہنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ لیکن بد عنوانی کے اس دور میں ب

Read more

بھاگلپور فساد: زخم ہیں کہ بھرنے کا نام نہیں لیتے

آویش تیواری
اکیس سال، ایک مہینہ اور ایک دن! کہہ سکتے ہیں کہ اتنا وقت کوئی بھی زخم بھرنے کے لیے کافی ہوتا ہے، مگر کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں، جن کے بھرنے میں نسلیں گزر جاتی ہیںاور کچھ ناسور بھی بن جاتے ہیں۔ بہار کے بھاگلپور شہر کو بھی ایک ایسا ہی زخم ملا ۔ کبھی مسجد کی اذان سے، کبھی مندروں کی گھنٹیوں سے، کبھی عدالت کے فیصلہ سے یہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ بُنّی بیگم کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھائے اتنا ہی وقت ہو گیا ہے، جتنا اس شہر کو درد سہتے ہوئے۔انہیں آج بھی یہ ڈر ستاتا ہے کہ کسی دن بوکھلائی بھیڑ ایک بار پھر آئے گی اور ان کے باقی ماندہ خوابوں کوروندتے ہوئے چلی جائے گی۔ بھاگلپور

Read more

کیا یمن پھر سے دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا؟

سدھارتھ آغا
ایک جان لیوا حملے میں بال بال بچے یمن کے صدر علی عبداللہ صالح اپنی چھاتی پر آنے والے زخموں کے علاج کے لیے سر دست سعودی عرب کے ملٹری اسپتال میں بھرتی ہیں۔ یمن کی راجدھانی صنعا میں جشن کا ماحول ہے جہاں ہزاروں مخالفین سڑکوں پر یمنی پرچم لہراتے ہوئے اور صدر صالح کی حکمرانی کے خاتمے کی خوشی مناتے ہوئے پائے جا رہے ہیں۔ اگرچہ صدر صالح کے ہمراہ ان کی اہلیہ اور خاندان کے 35 اراکین سعودی عرب پہنچے ہیں، لیکن معاملے کے واقف کار ایک سعودی اہل کار نے واضح کیا ہے کہ صدر کا اقتدار سے دست بردار ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ صحت یاب ہونے کے بعد یمن واپس لوٹ جائیں گے۔ ان کی غیر م

Read more

اسلام مخالف سائبر وار سے مقابلہ کرنے کے لئے عصری تعلیم ضروری

سید اسحاق گورا
اگرمدارس اسلامیہ میں مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیوی تعلیم کا بھی انتظام ہو ، تو یہ بھی مذہب اسلام کے لیے تر قی کا باعث ہوگا۔آج ہمارے مدارس کے طلبہ مذہب کی تمام تعلیم حاصل کر لیتے ہیں،مگر دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیوی تعلیم سے غافل رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج انٹرنیٹ کے ذریعہ نہ جانے کتنے ایسے بدبخت لوگ بیٹھے ہیں جنھوں نے مذہب اسلام کو بدنام کرنا اپنا پیشہ سمجھ رکھا ہے اور نہ جانے ایسے ایسے گستاخانہ کارنامے کرتے رہتے ہیںجو مذہب اسلام کے لیے چیلنج ہیں۔ وہ دنیوی تعلیم سے غافل ہونے کی وجہ سے بے خبر ر ہتے ہیں ۔ اگر ہم کچھ دیر کے لیے مان لیں کہ مدارس سے فارغ ایک طالب علم جو مذہب کی تمام تعلیم س

Read more

صنف نازک اسلام کی نظر

محمد احمد اللہ کلیم
زمانۂ جاہلیت میںعورتوں کی حیثیت ایک گھریلو استعمال کی شے سے زیادہ نہ تھی، چوپایوں کی طرح اس کی خرید وفروخت ہوتی تھی، اس کو اپنی شادی بیاہ میں کسی قسم کاکوئی اختیار نہ تھا ، عورت کو اپنے رشتہ داروں کی میراث میں کوئی حصہ نہ ملتا تھا بلکہ وہ خود گھریلو اشیاء کی طرح مالِ وراثت سمجھی جاتی تھی، وہ مردوں کی ملکیت تصور کی جاتی تھی ، اس کی ملکیت کسی چیز پر نہ تھی اور جوچیزیں عورت کی ملکیت کہلاتی تھیں ان میں بھی مردوں کی اجازت کے بغیر کسی قسم کاتصرف کا اختیار نہ تھا، اس کے شوہر کو ہر قسم کا اختیار ہوتا تھاکہ اس کے مال کوجہاں چاہے اورجس طرح چاہے خرچ کر ڈالے ، اس کو پوچھنے کا

Read more
Page 414 of 485« First...102030...412413414415416...420430440...Last »