جموں و کشمیر انتخابات کے بیچ تشدد کی بڑھتی ہوئی وارداتیں

چودہ اپریل کی شام، جب لوگ طویل انتظار کے بعد ایک خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہورہے تھے اورہر سو زندگی کا سفر جوش و خروش کے ساتھ جاری تھا، سرینگر کے مضافاتی علاقے احمد نگر میں اچانک گولیوں کی گھن گرج شروع ہوگئی۔ طویل عرصے کے بعد شہر میں گولیوں کی آوازوں نے پہلے لوگوں کو ششدر کردیا اور اس کے بعد ہی بھاگم بھاگ شروع ہوگئی۔ چندگھنٹوں میں تفصیلات سامنے آگئی تھیں، جن کے مطابق فورسز نے ایک اطلاع ملنے پر احمد نگر کی بستی میں ایک مکان کو محاصرے میں لے لیاتھا اور مکان میں موجود جنگجوئوں نے اپنی بندوقوں کے دہانے کھول دیے۔ فورسز کی اضافی کمک منگائی گئی، جس نے گرد نواح کے ایک وسیع علاقے کو محصور کردیا۔ طرفین کے درمیان جھڑپ 20 گھنٹے تک جاری رہی اور بالآخر فورسز نے اعلان کیا کہ مکان کے اندر موجود لشکر طیبہ کے دو جنگجو مار گرائے گئے ہیں۔ فورسز کی

Read more

سب کے لئے روزگار والی اقتصادی پالیسی چاہئے

ہندوستانی الیکشن واقعی میں مزیدار ہوتے ہیں۔ رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس، صبرو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے قطاروں میں کھڑے ہوئے، ہنستے مسکراتے ہوئے لوگ اپنا ووٹ ڈالنے جاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے بھی شاندار انتظامات کیے جاتے ہیں اور ووٹوں کی گنتی تو گھنٹوں میں پوری جاتی ہے، یہ وہ کام ہے، جسے پورا کرنے میں برطانیہ اور امریکہ کو کئی دن لگ جاتے ہیں۔ اب سارے لوگ بے صبری سے انتخابی نتائج کا انتظار کر نے میں لگے ہوئے ہیں۔

Read more

مسلم عوام کی سوچ سے دور انتخابات پر مسلم تنظیمیں بے سمت و غیر واضح

حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ بیشتر مسلم تنظیمیں و شخصیات دعویٰ تو کرتی ہیں کہ وہ فاشسٹ و فرقہ وارانہ قوتوں کو اقتدار سے روک کر اپنا فریضہ نبھا رہی ہیں، مگر جب عملی طور پر اس کا مظاہرہ کرنے کا وقت آتا ہے، تو وہ غیر واضح اور مبہم موقف اختیار کرکے اصولی بننے کی کوشش کرنے لگتی ہیں۔ لہٰذا اگر وہ اس کاز میں واقعی سنجیدہ اور مخلص ہیں، تو انہیں واضح و غیر مبہم اپروچ اختیار کرنا چاہیے اور ابھی حال میں بنارس میں مختار انصاری کے انتخابی میدان سے مسلم ووٹ کو تقسیم سے روکنے کے لیے اپنی امیدواری کو واپس لینے کے فیصلے سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ پیش ہے اس تعلق سے تفصیلی جائزہ…

Read more

کتابوں کو سیاسی چشمے سے دیکھنا غلط ہے: پی سی پارکھ

’چوتھی دنیا‘ نے اپریل 2011 میں کوئلہ گھوٹالے کا پردہ فا ش کیا تھا۔ اس وقت نہ تو سی اے جی کی رپورٹ آئی تھی اور نہ ہی کسی نے یہ سوچا تھا کہ اتنا بڑا گھوٹالہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس وقت اس گھوٹالے پر کسی نے یقین نہیں کیا اور جنہیں یقین بھی ہوا تو پورا نہیں۔ ’’چوتھی دنیا‘‘ نے آپ سے اپریل 2011 میں جو باتیں کہیں، اس پر وہ آج بھی قائم ہے۔ ہماری تحقیقات کے مطابق یہ کوئلہ گھوٹالہ کم سے کم 26 لاکھ

Read more

الزامات کا کھیل

لیور پول فٹ بال کلب کے مشہور منیجر رہے بل سینکلی سے ایک بار یہ پوچھا گیا کہ جب مخالف ٹیم کے کھلاڑی بہت زیادہ فاؤل کرتے ہیں، تو ایسے میں اپنے کھلاڑیوں کے لیے ان کی صلاح کیا ہوتی ہے؟ اس کے جواب میں سینکلی نے کہا کہ میں انہیں صلاح دیتا ہوں کہ اپنے اوپر فاؤل ہونے سے پہلے ہی تم اپنے بالمقابل کھلاڑیوں پر حملے شروع کر دو۔

Read more

مرکز میں اس بار کون این ڈی اے یا تھرڈ فرنٹ؟

ہندوستان میں مسلمان اقلیتی کمیونٹی ہونے کے باوجود کل 1.2 بلین آبادی کا 13.4 فیصد ہیں، جب کہ یہ جموں و کشمیر میں اکثریت میں ہیں اور آسام، مغربی بنگال اور کیرل میں وہاں کی آبادی کے ایک چوتھائی ہیں۔ لوک سبھا کی کل 543 سیٹوں کا پانچواں حصہ، یعنی 18 فیصد اتر پردیش میں ہیں۔ ان دنوں مختلف مرحلوں میں 543 پارلیمانی حلقوں میں منعقد ہو رہے انتخابات میں 35 حلقوں میں یہ آبادی کے 30 فیصد، 38 حلقوں میں 21 سے 30 فیصد، 145 حلقوں میں 11 سے 20 فیصد اور 325 حلقوں میں 10 فیصد سے کچھ کم ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ان حلقوں میں جہاں مسلمان کل آبادی کے 20 فیصد سے زیادہ ہیں، وہاں مسلم

Read more

کشمیر کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی سیاست میں دلچسپی بہتر مستقبل کی عکاس

وادیٔ کشمیر میں معاملہ مزاحمت کا ہو یا مصالحت کا، نوجوان ہمیشہ ایک کلیدی رول نبھاتے نظر آتے ہیں۔ سال 2008، 2009 اور 2010 کی خونیں ایجی ٹیشن میں بھی نوجوان مرکزی کردار نبھاتے نظر آئے۔ ان ایجی ٹیشنز کے دوران سرینگر اور دیگر قصبوں کی سڑکوں اور گلی کوچوں میں سینکڑوں نوجوان مارے گئے۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط پر تشدد دور دیکھنے کے بعد ملک کے سیاسی نظام پر کشمیری نوجوانوںکا اعتماد بڑھتا جارہا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان مین اسٹریم سیاست میں داخل ہوچکے ہیں۔

Read more

بنگلہ دیش میں ایمر جنسی جیسا ماحول

ایک محاورہ بہت مشہور ہے کہ مصیبت کے وقت میں پڑوسی ہی کام آتا ہے ۔اس محاورے کی اہمیت ہر سطح پر ہے،چاہے انفرادی ہو ، اجتماعی ہو یا قومی ہو۔یہ اور بات ہے کہ قومی سطح پر ہم اس محاورے پر عمل درآمد کرنے میں ناکام ہیں۔ تقریباً تمام ہی پڑوسی ملکوں کے ساتھ ہمارے تعلقات کشیدہ ہیں۔پڑوس کے ملکوں میں سے کسی ملک کے ساتھ سرکاری طور پر اچھے تعلقات ہیں تو وہاں کے عوام ہم سے ناراض ہیں اور کہیں عوامی و سرکاری دونوں ہی سطحوں پر ہماری خارجہ پالیسی ناکام ہے۔ ایسے ہی ملکوں میں ایک ملک بنگلہ دیش بھی ہے۔یہ ہمارا ایک ایسا پڑوسی ملک ہے جس کے 4092 اسکوائرکلو میٹر میں ہماری سرحدیں تین طرف سے ملی ہوئی ہیں۔سرحد کے اتنے بڑے دائرے میں ہم ایک ساتھ ہونے کے باوجود 54 ایسی انٹرنیشنل ندیاں جو ہندوستان سے بنگلہ دیش کی طرف بہہ کر جاتی ہیں ،ان پر ہمارا ختلاف چل رہا ہے۔ہم اس مسئلے کو حل نہیں کر پارہے

Read more

جنہیں اپنے ہی ملک میں ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں

مئگھالیہ کو مکمل ریاست کا درجہ ملے ہوئے چالیس سال گزر گئے، لیکن ریاست کے ایک گروپ کو آج بھی انتخابات میں ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس سال گاروقبائلی گروپ کے 272لوگ پارلیمانی انتخابات میں پہلی بار حصہ لیں گے، حالانکہ وہ اس سے پہلے ریاستی اسمبلی اور خود مختار کونسل کے انتخابات میں حق رائے دہی کا استعمال کر چکے ہیں۔واضح ہو کہ لوک سبھا کے انتخابات میں پہلی بار ووٹ دینے جا رہا گارو قبائلی گروپ مشرقی کھاسی ہلز ضلع میں بسا ہوا ہے۔ اس گروپ کے 7000لوگوں نے آزادی کے بعد سے ابھی تک کسی الیکشن میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال نہیں کیا ، کیونکہ اس گروپ کے لوگوں کے نام ریاست کی ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہیں۔ ووٹ دینے کے حق سے محروم مبینہ سبھی لوگ ہند ، بنگلہ دیش سرحد پرواقع تقریباً 14گاؤں میں گزشتہ کئی سالوں سے رہ رہے ہیں۔ ان میں سے صرف 272لوگوں کے نام ووٹر لسٹ

Read more

بہار میں سوشل میڈیا اشتہاری مہم کا ذریعہ بنا

تکنیک اور سیاست کا رشتہ ویسے تو بہت پرانا ہے لیکن انتخابی موسم میں اس کا بہتر استعمال کیسے ہو، اس کا ایک نمونہ نریندر مودی نے گجرات اسمبلی انتخابات کے موقع پر دکھایا تھا۔ تھری ڈی تکنیک کی بنیاد پر پورے ملک کے کروڑوں ووٹروں سے ایک ہی جگہ سے خطاب کے ذریعہ روبرو ہونے کا احساس نریندر مودی نے ملک کو کرایا تھا۔ اس کے علاوہ فیس بک اور ٹویٹر جیسی سوشل میڈیا کی سہولتوں کا استعمال لیڈروں نے اپنے ووٹروں تک پہنچنے کے لئے خوب زور و شور سے کرنا شروع کیا۔ عام آدمی پارٹی نے تو اس کا پورا فائدہ دہلی کے اسمبلی الیکشن میں اٹھایا۔بہار میں بھی ان دنوں تقریباً سبھی پارٹیوں نے سوشل میڈیا کو اپنی تشہیر کے

Read more