تلنگانہ کی تشکیل کے فیصلے کے بعد متحدہ آندھرا میں آخری پارلیمانی انتخابات

آندھرا پردیش تاریخی و جغرافیائی اعتبار سے ہندوستان کی بہت ہی اہم ریاست ہے۔ غیر منقسم آندھرا پردیش کی اسمبلی میں کل 294 ارکان کے علاوہ 42 پارلیمانی سیٹیں ہیں۔ یہاں مسلم آبادی کے لحاظ سے مسلم فیکٹر بھی اہمیت کا حامل ہے۔ فی الوقت ریاستی اسمبلی میں گیارہ ارکان ہیں، جن میں 6 آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سے ہیں، جب کہ پندرہویں لوک سبھا میں صرف ایک رکن تھا اور یہ تعداد قابل ذکر مسلم آبادی کے باوجود ایک سے زیادہ کبھی نہیں بڑھی۔ یہی وجہ ہے کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی اسمبلی میں 1962 سے ہنوز دو درجن بار سے زائد بار اس کے افراد ایم ایل اے رہے ہیں نیز ایک بار اس کے صدر سلطان صلاح الدین اویسی نے پروٹیم اسپیکر کا رول ادا کیا ہے اور 1984 سے لگاتار اب تک یکے بعد دیگرے اس قدیم مسلم سیاسی پارٹی کے صرف دو افراد صلاح الدین اویسی اور ان کے صاحبزادے اسد الدین اویسی نے پارلیمنٹ میں نمائندگی کی ہے اور وہاں مختلف ایشوز کو اٹھا کر فعال ارکان کی فہرست میں شامل ہوئے ہیں۔ 2004 میں مرکز میں قائم ہوئی یو پی اے کی مخلوط حکومت کو اس پارٹی نے حمایت دی تھی، مگر بعد میں اسے واپس بھی لے لیا تھا۔

Read more

حیران کن اور خوشنما لمحوں سے پُر 61واں نیشنل ایوارڈ

گزشتہ دنوں 61ویں نیشنل ایوارڈس کا اعلان کیا گیا۔ ہمیشہ کی طرح یہ کئی خوشخبریاں اور غیر متوقع سوغاتیں لے کر آیا ہے، لیکن بالی ووڈ اور علاقائی سنیما کی نمائندگی کے توازن کے باوجود کچھ فلموں کی غیر موجودگی ہونے کے سبب کئی لوگوں کو یہ راس نہیں آیا۔ آسکر میں نہ بھیج کر تنازعہ کرنے والی رتیش بترا کی ’’دی لنچ باکس‘‘ فاتح کی فہرست سے غائب تھی۔

Read more

گاندھی کی کرم بھومی چمپارن بھی: انجمن اسلامیہ بنا ہوا ہے سیاست کا اکھاڑہ

صدیوں سے مختلف مسائل میں گرفتار ہندوستانی مسلمان اپنے ہی سماج کے رہنماؤں کے ذاتی مفاد کے ناپاک سیاسی مکڑ جال میں چھٹپٹانے کو مجبور ہے۔ یہ معاملہ ہے بہار کے مشرقی چمپارن ضلع میں 1975میں قائم کیا گیا انجمن اسلامیہ کا، جو اپنے مقصد سے پوری طرح بھٹکا ہوا ہے۔ موجودہصورتحال یہ ہے کہ وقت کے تمام چیلنجوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلمانوں کے مسائل سے سروکار ختم کر کے یہ ادارہ سیاست کا اہم اکھاڑہ بن گیا ہے۔ اس کا مقصد اب صرف لاوارث لاشوں کو دفنانا ہی رہ گیا ہے۔ انجمن اسلامیہ کے قیام کے بعد مسلم دانشوروں نے جس طرح سے اس کی آبیاری کر کے اسے آگے بڑھایا، اس سے لوگوں میںبڑی امید جاگی اور انھیں

Read more

جموں و کشمیر انتخابات کے بیچ تشدد کی بڑھتی ہوئی وارداتیں

چودہ اپریل کی شام، جب لوگ طویل انتظار کے بعد ایک خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہورہے تھے اورہر سو زندگی کا سفر جوش و خروش کے ساتھ جاری تھا، سرینگر کے مضافاتی علاقے احمد نگر میں اچانک گولیوں کی گھن گرج شروع ہوگئی۔ طویل عرصے کے بعد شہر میں گولیوں کی آوازوں نے پہلے لوگوں کو ششدر کردیا اور اس کے بعد ہی بھاگم بھاگ شروع ہوگئی۔ چندگھنٹوں میں تفصیلات سامنے آگئی تھیں، جن کے مطابق فورسز نے ایک اطلاع ملنے پر احمد نگر کی بستی میں ایک مکان کو محاصرے میں لے لیاتھا اور مکان میں موجود جنگجوئوں نے اپنی بندوقوں کے دہانے کھول دیے۔ فورسز کی اضافی کمک منگائی گئی، جس نے گرد نواح کے ایک وسیع علاقے کو محصور کردیا۔ طرفین کے درمیان جھڑپ 20 گھنٹے تک جاری رہی اور بالآخر فورسز نے اعلان کیا کہ مکان کے اندر موجود لشکر طیبہ کے دو جنگجو مار گرائے گئے ہیں۔ فورسز کی

Read more

سب کے لئے روزگار والی اقتصادی پالیسی چاہئے

ہندوستانی الیکشن واقعی میں مزیدار ہوتے ہیں۔ رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس، صبرو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے قطاروں میں کھڑے ہوئے، ہنستے مسکراتے ہوئے لوگ اپنا ووٹ ڈالنے جاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے بھی شاندار انتظامات کیے جاتے ہیں اور ووٹوں کی گنتی تو گھنٹوں میں پوری جاتی ہے، یہ وہ کام ہے، جسے پورا کرنے میں برطانیہ اور امریکہ کو کئی دن لگ جاتے ہیں۔ اب سارے لوگ بے صبری سے انتخابی نتائج کا انتظار کر نے میں لگے ہوئے ہیں۔

Read more

مسلم عوام کی سوچ سے دور انتخابات پر مسلم تنظیمیں بے سمت و غیر واضح

حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ بیشتر مسلم تنظیمیں و شخصیات دعویٰ تو کرتی ہیں کہ وہ فاشسٹ و فرقہ وارانہ قوتوں کو اقتدار سے روک کر اپنا فریضہ نبھا رہی ہیں، مگر جب عملی طور پر اس کا مظاہرہ کرنے کا وقت آتا ہے، تو وہ غیر واضح اور مبہم موقف اختیار کرکے اصولی بننے کی کوشش کرنے لگتی ہیں۔ لہٰذا اگر وہ اس کاز میں واقعی سنجیدہ اور مخلص ہیں، تو انہیں واضح و غیر مبہم اپروچ اختیار کرنا چاہیے اور ابھی حال میں بنارس میں مختار انصاری کے انتخابی میدان سے مسلم ووٹ کو تقسیم سے روکنے کے لیے اپنی امیدواری کو واپس لینے کے فیصلے سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ پیش ہے اس تعلق سے تفصیلی جائزہ…

Read more

کتابوں کو سیاسی چشمے سے دیکھنا غلط ہے: پی سی پارکھ

’چوتھی دنیا‘ نے اپریل 2011 میں کوئلہ گھوٹالے کا پردہ فا ش کیا تھا۔ اس وقت نہ تو سی اے جی کی رپورٹ آئی تھی اور نہ ہی کسی نے یہ سوچا تھا کہ اتنا بڑا گھوٹالہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس وقت اس گھوٹالے پر کسی نے یقین نہیں کیا اور جنہیں یقین بھی ہوا تو پورا نہیں۔ ’’چوتھی دنیا‘‘ نے آپ سے اپریل 2011 میں جو باتیں کہیں، اس پر وہ آج بھی قائم ہے۔ ہماری تحقیقات کے مطابق یہ کوئلہ گھوٹالہ کم سے کم 26 لاکھ

Read more

الزامات کا کھیل

لیور پول فٹ بال کلب کے مشہور منیجر رہے بل سینکلی سے ایک بار یہ پوچھا گیا کہ جب مخالف ٹیم کے کھلاڑی بہت زیادہ فاؤل کرتے ہیں، تو ایسے میں اپنے کھلاڑیوں کے لیے ان کی صلاح کیا ہوتی ہے؟ اس کے جواب میں سینکلی نے کہا کہ میں انہیں صلاح دیتا ہوں کہ اپنے اوپر فاؤل ہونے سے پہلے ہی تم اپنے بالمقابل کھلاڑیوں پر حملے شروع کر دو۔

Read more

مرکز میں اس بار کون این ڈی اے یا تھرڈ فرنٹ؟

ہندوستان میں مسلمان اقلیتی کمیونٹی ہونے کے باوجود کل 1.2 بلین آبادی کا 13.4 فیصد ہیں، جب کہ یہ جموں و کشمیر میں اکثریت میں ہیں اور آسام، مغربی بنگال اور کیرل میں وہاں کی آبادی کے ایک چوتھائی ہیں۔ لوک سبھا کی کل 543 سیٹوں کا پانچواں حصہ، یعنی 18 فیصد اتر پردیش میں ہیں۔ ان دنوں مختلف مرحلوں میں 543 پارلیمانی حلقوں میں منعقد ہو رہے انتخابات میں 35 حلقوں میں یہ آبادی کے 30 فیصد، 38 حلقوں میں 21 سے 30 فیصد، 145 حلقوں میں 11 سے 20 فیصد اور 325 حلقوں میں 10 فیصد سے کچھ کم ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ان حلقوں میں جہاں مسلمان کل آبادی کے 20 فیصد سے زیادہ ہیں، وہاں مسلم

Read more

کشمیر کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی سیاست میں دلچسپی بہتر مستقبل کی عکاس

وادیٔ کشمیر میں معاملہ مزاحمت کا ہو یا مصالحت کا، نوجوان ہمیشہ ایک کلیدی رول نبھاتے نظر آتے ہیں۔ سال 2008، 2009 اور 2010 کی خونیں ایجی ٹیشن میں بھی نوجوان مرکزی کردار نبھاتے نظر آئے۔ ان ایجی ٹیشنز کے دوران سرینگر اور دیگر قصبوں کی سڑکوں اور گلی کوچوں میں سینکڑوں نوجوان مارے گئے۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط پر تشدد دور دیکھنے کے بعد ملک کے سیاسی نظام پر کشمیری نوجوانوںکا اعتماد بڑھتا جارہا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان مین اسٹریم سیاست میں داخل ہوچکے ہیں۔

Read more